1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلمان ہر سال مکہ مدینہ جاتے ہیں اور کسی غیرمسلم کو اجازت نہیں،

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏اکتوبر 02، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 02، 2017 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    مسلمان ہر سال مکہ مدینہ جاتے ہیں اور کسی غیرمسلم کو اجازت نہیں، ہم غیرمسلم لوگ وہاں کیوں نہیں جا سکتے؟ آگرہ کے سابق میئر کی اہلیہ کے سوال پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کا ایسا جواب کہ ہر کسی کا دل جیت لیا

    آگرہ (ویب ڈیسک) مذہب اسلام میں ہرصاحب حیثیت مسلمان پر زندگی میں ایک بار حج فرض کیا گیا ہے اور مخصوص حدود کے اندر کسی غیرمسلم کو جانے کی اجازت نہیں جس کو بنیاد بنا کر غیرمسلم پراپیگنڈا بھی کرتے ہیں ، ایسا ہی ایک سوال ایک ہندو خاتون کے ذہن میں بھی گردش کرتا رہا لیکن بالآخر معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے سوال کر دیا تو انہوں نے ایسا جواب دیا کہ ہال میں موجود ہرشخص اتفاق کرنے پر مجبور ہو گیا۔

    آگرہ کے سابق میئر کی اہلیہ ڈاکٹر ورما نے آگرہ میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ’’ایک سوال بہت دنوں سے کھٹکھٹتا ہے کہ آپ لوگ ہر سال مکہ مدینہ جاتے ہیں اور وہاں ہندو کو، عیسائی کو اور بہت دھرموں کے لوگوں کو کیوں نہیں جانے کی اجازت جیسے آپ لوگ جاتے ہو تو کیا ہم لوگ نہیں جا سکتے؟ جب آپ ہندو مسلمان میں کوئی فرق نہیں سمجھتے تو وہاں جانا ہمارے لیے پرامیٹنگ نہیں ہونا چاہیے ؟‘‘

    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے جواباً کہا کہ ڈاکٹر ورما صاحبہ نے بہت اچھا سوال پوچھا، دراصل ہر دیش کے اپنے اپنے رولز ہوتے ہیں مثال کے طور پر میں ہندوستانی ہوں لیکن میں کچھ ہندوستان کے علاقے میں جانے کی اجازت نہیں جسے کہتے ہیں کنٹونمنٹ ایریا صرف ملٹری کے لوگ جو دیش کی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں وہ لوگ کینٹونمنٹ ایریا میں جا سکتے ہیں، میں نہیں جا سکتا ہوں میں اس دیش کا ناگرک ہوں مجھے کیوں نہیں جانے دیتے، نہیں یہ گورنمنٹ کا رول ہے کہ یہ کنٹونمنٹ ایریا ہے ، اسی طریقے سے مکہ اور مدینہ میرے حساب سے اسلام کا کنٹونمنٹ ایریا ہے وہ لوگ، وہ انسان جو اسلام کیلئے جان دینے کو تیار ہے وہ لوگوں کو اجازت ہے، باقی لوگوں کو نہیں۔

    ہم مانتے ہیں کہ سب انسان ہمارے بھائی ہیں، اس کا ہم اعتراض نہیں کرتے لیکن صرف وہ بھائی لوگوں کو اجازت ہے جو اسلام کیلئے جان دینے کو تیار ہے اور اس کا جواب ہے کہ جب بھی آپ کسی ملک میں جاتے ہیں، اس کیلئے آپ کو ویزا لینا پڑتا ہے اور سب سے مشکل ہے امریکا کا ویزا، خصوصاً 11 ستمبر کے بعد 50 سوالات پوچھتے ہیں، جب میں سنگاپور میں پہلی بار گیا تھا وہاں امیگریشن فارم پر لکھا تھا جو بھی ڈرگ سمیت پکڑا گیا ،اسے سزائے موت، اگر مجھے سنگاپور میں جانا ہے تو مجھے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر میرے پاس ڈرگز ہے تو مجھے سزائے موت ہونی ہے، اتنی خطرناک سزا نہیں مانتے تو سنگاپور میں آنا ممنوع ،

    اسی طریقے سے مکہ اور مدینہ جانے کا ویزا ہے آپ صرف اپنی زبان سے کہو ’لا إله إلا الله محمد رسول الله‘ اگر کوئی بھی انسان اپنی زبان سے کہتا ہے کہ ’لا إله إلا الله محمد رسول الله‘ کہ ’نہ کوئی معبود ہے اللہ کے سوا اور محمدﷺ اس کے پیغمبر ہیں‘ تو کوئی بھی آپ کو روک نہیں سکتا ، پھر کوئی بھی آپ کو یا کسی اور کو بھی روک نہیں سکتا۔

    26 ستمبر 2017

    ح
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 03، 2017 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 03، 2017 #3
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں