1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شکایت مسلکی اختلافات اور حامی اراکین!

'تجاویز، آراء اور شکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏مئی 15، 2014۔

  1. ‏مئی 15، 2014 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ،
    پچھلے کچھ دنوں سے اراکین کی جانب سے اختلافات اور بحث و مباحثہ اب شدت اختیار کر چکے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کا غم و غصہ اور شکایات مختلف مقامات پر ظاہر ہونے لگیں ہیں۔
    اس سے قبل بارہاں انتظامیہ اور دیگر سینیئر اراکین ان کی تسلی و تشفی کے لیے احسن انداز سے سمجھا چکے ہیں۔
    لیکن اس وقت ہمیں یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ آیا ان معزز اراکین کے فورم اور نظام سے متعلق اختلافات ہیں کیا ؟؟ اس مقصد کے لیے میں یہاں محترم شاہد نذیر ، محترم محمد ارسلان اور محترم لولی آل ٹائم کو مدعو کر رہی ہوں کہ وہ صاف طور پر بیان کر دیں کہ آخر کار وہ کیا چاہتے ہیں؟؟
    1۔مجموعی طور پر ماحول سے متعلق ؟؟ تبلیغ ، دعوت دین ، اشاعت اسلام سے متعلق وہ کس قسم کا سیٹپ چاہتے ہیں؟؟ بشرطیکہ یہ کہ احکامات اسلام کے عین مطابق ہو!

    کیا آپ اراکین کو بھرپور طعنہ بازی ، طنز کے تیر برسانے کی اجازت دے دی جائے ؟؟
    کیا حق واضح کرتے وقت نیچا دکھانا لازمی کر دیا جائے؟؟
    اگر کوئی علمی سطح سے اتر کر نازیبا گفتگو کرے تو سب بھی کریں ، تاکہ کم از کم جواب تو پہنچ جائے؟؟
    ان اشکال پر اپنی رائے بیان کر دیں۔ایسی رائے جو ٹھوس ، واضح اور قابل عمل ہو۔
    مجھے امید ہے ان شاء اللہ تعاون کیا جائے گا۔

    نوٹ
    آپ تینوں اپنا اپنا موقف بیان کر دیں ، نہ کہ فلاں فلاں پر تنقید اور طنز!
    حتی کہ اس پوسٹ کا بھی اقتباس لے کر نکتہ چینی نہ کریں ، کیونکہ ہم سب آپ کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔برائے مہربانی اس حسن ظن پر ٹو دی پوائنٹ رہیں!
     
  2. ‏مئی 15، 2014 #2
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,942
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    ہماری چاہت پوچھنا تو بے کار کی بات ہے کیونکہ فورم کا انتظام تو اسی طرح متساہلانہ انداز اور باطل پرستوں سے محبت کے طریقہ پر چلتا رہے گا۔ میں تو محدث فورم کے قیام کے اول دن سے ہی بخوبی جانتا ہوں کہ یہ کیسا فورم ہے۔ یہ جیسا فورم ہے ویسا ہی رہے گا ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔میں اہل حدیث فورم کا جیسا سیٹ اپ چاہتا ہوں ویسا سیٹ اپ اللہ کے فضل سے موجود ہے۔ دیکھئے: http://www.ahlulhdeeth.com/vb/forum.php
    باطل پرستوں سے محبت کی پینگیں بڑھائے بغیر اور انکا ناحق احترام اور تعظیم کئے بغیر جو شخص دو ٹوک انداز میں حق بیان کرنا چاہتا ہے اہل الحدیث فورم انکے لئے آئیڈیل فورم ہے۔

    محدث فورم کے بارے میں، میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ یہاں دیوبندی جو کبھی ڈھکے چھپے اور کبھی واضح الفاظ سے احادیث کا مذاق اڑاتے اور اہل حدیث کی آڑ لیتے ہوئے قرآن وحدیث پر تنقید کرتے ہیں انکی حوصلہ شکنی کریں۔ ہم تو اس وقت کچھ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں جب انتظامیہ بھی اپنے دیوبندی بھائیوں کی ان حرکات پر کوئی ایکشن نہیں لیتی نہ انتظامیہ کا کوئی شخص انکو مناسب جواب دیتا ہے۔ ایک اہل حدیث کو کم از کم اتنی غیرت کا مظاہر ضرور کرنا چاہیے کہ وہ اپنے مسلک پر تنقید برداشت کرے لیکن اس حد تک نہیں کہ اعتراض کی زد قرآن وحدیث یا اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ تک پہنچ جائے۔
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  3. ‏مئی 15، 2014 #3
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,942
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    دعا بہن آپ شاید یہ سمجھتیں ہیں کہ یہ مخصوص انداز صرف میرا یا ارسلان بھائی یا لولی آل ٹائم بھائی کا ہی ہے۔ لیکن آپکی معلومات میں اضافہ کے لئے عرض ہے کہ دوسرے فورمز پر کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ اور رفیق طاہر حفظہ اللہ کی تحریریں پڑھیں تو آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ یہ وہی ہیں جو محدث فورم پر بھی رجسٹرڈ ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ وہ محدث کے قوانین جانتے ہیں اس لئے کسی اختلاف سے بچنے کے لئے صرف وہی بات کرتے ہیں جو محدث فورم کے قوانین کی زد میں نہ آئے۔ اس سے یہ سمجھنا خوش فہمی ہے کہ محدث فورم کا اس سلسلے میں موقف علمی یا جائز ہے اور تمام علماء اس فورم کے اصولوں کے ہم نوا ہیں۔ اور ہم اپنے موقف پر بے دلیل ہیں۔
     
    • پسند پسند x 7
    • زبردست زبردست x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 15، 2014 #4
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    عزیز محترم محمد ارسلان آپ کے حقوق اور تحفظات میں کی گئی پوسٹ بھی غیر متفق۔۔۔۔!
    پلیز آپ بھی اپنا موقف بیان کر دیں۔

    یاد دہانی!!!
    نوٹ
    آپ تینوں اپنا اپنا موقف بیان کر دیں ، نہ کہ فلاں فلاں پر تنقید اور طنز!
    حتی کہ اس پوسٹ کا بھی اقتباس لے کر نکتہ چینی نہ کریں ، کیونکہ ہم سب آپ کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔برائے مہربانی اس حسن ظن پر ٹو دی پوائنٹ رہیں!
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 15، 2014 #5
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,942
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    ارسلان بھائی نے آپ کی پوسٹ کو اس لئے غیر متفق ریٹ کیا ہے کہ آپکی یہ پوسٹ ہم پر تنقید اور محدث انتظامیہ کے حقوق کے تحفظ کی نمائندہ ہے۔
    آپ کی پوسٹ سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارا طرز عمل غلط اور محدث انتظامیہ کا صحیح ہے۔ اس لئے آپ نے ہمارا موقف جاننے کی درخواست کی ہے۔ اگر آپ کو انتظامیہ کے موقف سے اختلاف ہوتا تو آپکا انکا بھی موقف جاننے کی کوشش کرتیں۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 15، 2014 #6
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بھائیوں اختلافات آپ لوگوں کو ہیں ، اس لیے اپنا موقف پہلے بیان کر دیں۔
    مزید انتظامیہ بھی بھی واضح کر دے گی۔ان شاء اللہ
    میں تو چاہتی ہوں کہ مبہم باتیں نہ ہوں بلکہ واضح بیان کر دیں سب۔ جیسے آپ نے کیا ہے۔اس سے ہمیں بھی آگاہی ہوئی ہے ، جو اس سے قبل نہیں تھی۔
    پلیز مثبت رہیں!
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 15، 2014 #7
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    میرے بھایئو اور بہنوں . میری وجہ سے اگر کسی کو کوئی پریشانی اٹھانی پڑی تو میں معذرت چاہتا ہوں ​

    آج سچ سچ کہنا چاہوں گا ​​


    میرا یہاں آنے کا مقصد کوئی لڑائی کرنا نہیں تھا​
    بلکہ قرآن اور صحیح احادیث پیش کرنا تھا . ​
    اور جو آج کل باطل فرقے پیدا ھو گۓ ہیں​
    ان کے بارے میں عوام کو بتانا تھا ​

    میں نے اپنا کام کر دیا ہے . ​


    سمجھنے والے سمجھ گۓ اور ناراض ہونے والے ناراض ھو گۓ ​
    ​​
    لکن میرے لیے کوئی اہمیت نہیں کون ناراض ہوتا ہے اور کون راضی . اہمیت ہے تو صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وسلم کے حکم کی ​

    میرے بھائی خضر حیات نے بھی گلا کیا کہ میں اختلافی پوسٹ کرتا ہوں​



    کیا نماز کے بارے میں صحیح احادیث لگانا اختلافی پوسٹ ہے ​

    کیا اللہ کے بارے میں صحیح احادیث لگا کر بتانا کہ اللہ اپنے عرش پر ہے اختلافی پوسٹ ہے ​

    کیا مدت رضاعت دو سال ہے قرآن سے بتانا اختلافی پوسٹ ہے ​

    نماز وتر کا طریقہ بتانا اختلافی پوسٹ ہے ​

    کیا تقلید کے بارے میں لوگوں کو بتانا کہ یہ صحیح نہیں ہے اختلافی پوسٹ ہے​

    کیا دیوبند بریلویوں اور اہلحدیثوں نے کتابوں سے جو احادیث اپنے اپنے اماموں کو بچانے کی خاطر نکال دی ہیں اس کے بارے میں بتانا اختلافی پوسٹ ہے ​

    کیا لوگوں کو یہ بتانا کہ علم غائب صرف اللہ کے پاس ہے اختلافی پوسٹ ہے ​

    کیا لوگوں کو بتانا کہ حضور صلی اللہ وسلم نے اللہ کو نہیں دیکھا کیا یہ اختلافی پوسٹ ہے ​

    کیا لوگوں کو یہ بتانا کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں . جو کرتا ہے اس کو ثواب ملے گا اور جو نہیں کرتا اس کو کوئی گناہ نہیں ​

    کیا لوگوں کو یہ بتانا کہ عورت اور مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں اختلافی پوسٹ ہے​

    کیا لوگوں کو بتانا کہ حلالہ حرام ہے اختلافی پوسٹ ہے ​

    کیا لوگوں کو یہ بتانا کہ دیہاتوں اور بستیوں اور شہروں میں جمعہ کی نماز جائز ہے اختلافی پوسٹ ہے​

    کیا لوگوں کو یہ بتانا کہ ننگے سر نماز پڑھنا بھی ثابت ہے اختلافی پوسٹ ہے ​

    کیا لوگوں کو بتانا کہ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھا کردعا مانگنا جائز ہے اختلافی پوسٹ ہے​

    کیا لوگوں کو یہ بتانا کہ حضور صلی اللہ وسلم کا سایہ مبارک تھا اختلافی پوسٹ ہے ​

    کیا لوگوں کو یہ بتانا کہ حضور صلی اللہ وسلم نور نہیں بلکہ بشر تھے اختلافی پوسٹ ہے ​


    میرے بھایئو اگر یہ ا ختلافی پوسٹس ہیں تو پھر اسلام میں ان چیزوں کی کیا ضرورت ہے ​
    ​​
    میرے بھائی گلا کر رھے ہیں کہ یہ اختلافی پوسٹس ہیں اور بین کرنے کی دھمکی بھی دے رھے ہیں ​
    کر دیں بین کیا بین کرنے سے سچائی کو چھپایا جا سکتا ہے ​
    میرے بھائی یہ بتا دیں کہ اگر یہ پوسٹس اختلافی ہیں ​
    تو وہ پوسٹس کون سی ہیں جو اختلافی نہیں ​



    عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔​

    ((لاتمنعوا نساء کم المساجد اذا استأذنتکم الیھا))​

    ''اپنی عورتوں کو مسجد جانے سے مت روکو جب و ہ تم سے اجازت مانگیں تو بلال بن عبداﷲ رحمہ اﷲ نے کہا ۔(واﷲ لنمنعھن) ''اﷲ کی قسم ہم تو ان کو روکیں گے'' سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ​
    عبداﷲ بن عمررضی اﷲ عنہ ان کی طرف متوجہ ہوئے انہیں بہت برا بھلا کہا اتنا کہ میں نے انہیں کبھی ایسا کہتے نہیں سنا تھا اور پھر کہا کہ میں تمہیں رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تو کہہ رہا ہے کہ ہم روکیں گے؟''


    بخاری ومسلم میں ہے کہ عبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کنکریاں مار رہا تھا تو عبداﷲ رضی اﷲعنہ نے کہا کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے کنکریاں مارنے سے منع کیا ہے یا اسے ناپسند کیاہے اس لیے کہ اس سے نہ تو شکار کیا جاسکتا ہے نہ دشمن کو مارا جاسکتا ہے ۔سوائے اس کے کہ کسی کی آنکھ پھوڑی جائے یا دانت توڑ دیا جائے اس کے بعد دوبارہ اس شخص کو کنکریاں مارتے دیکھا تو عبداﷲ رضی اﷲعنہ نے کہا کہ میں تمہیں رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث کے بارے میں بتا رہا ہوں کہ وہ کنکریاں مارنے سے منع کرتے تھے یا ناپسند کرتے تھے اور تم پھر بھی کنکریاں مارہے ہو ۔میں تم سے اتنی مدت تک بات نہیں کروں گا۔​

    بخاری میں زبیر بن عربی رحمہ اﷲ سے روایت ہے کہتے ہیں :ایک شخص نے ابن عمررضی اﷲ عنہ سے سوال کیا حجر اسود کو چھونے کا ابن عمررضی اﷲ عنہ نے کہا میں نے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ اس کو ہاتھ لگاتے تھے اوربوسہ دیتے تھے اس شخص نے کہا اگر بھیڑ ہو اور مجھے موقع نہ مل سکے تو ابن عمررضی اﷲ عنہ نے کہا یہ اگر مگر یمن میں ہی رکھو میں نے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ابن حجر رحمہ اﷲ 'فتح الباری 'میں کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اﷲ عنہ نے اس کو یہ جو کہا کہ اگر مگر یمن میں ہی رکھو تو یہ اس لیے کہا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو اس شخص کی باتوں سے حدیث سے اعراض کا پتہ چل رہاتھا اس لیے ابن عمر رضی اﷲ عنہ نے اس بات کو ناپسند کیا اور اس شخص کو حکم دیا کہ جب حدیث سن لو تو اسے اپناؤ اور اپنی رائے کو چھوڑ دیا کرو ۔ابن عباس رضی اﷲعنہ نے ایک مرتبہ حدیث سنائی تو لوگوں نے ابوبکررضی اﷲ عنہ اورعمر رضی اﷲ عنہ کا قول اس حدیث کے خلاف پیش کردیا ۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے کہاکیا بات ہے کہ تم باز نہیں آتے جب تک کہ اﷲ تم پر عذاب نہ نازل کردے؟میں تمہیں رسول صلی اﷲعلیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تم ہمیں ابوبکر وعمر رضی اﷲ عنہما کی بات بتا رہے ہو؟​

    علامہ سلیمان بن عبداﷲ بن محمد بن عبدالوہاب رحمہ اﷲ فرماتے ہیں:کہ جب ابن عباس رضی اﷲعنہ ابوبکروعمررضی اﷲ عنہما جیسے اشخاص کے قول کے بارے میں یہ فرمارہے ہیں تو پھر اس شخص کوکیا کہا جائے گا جو اپنے امام کے قول کی وجہ سے یا اپنے مذہب کی بناپر حدیث کو چھوڑ رہا ہو امام کے قول کو حدیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے پرکھنے کے لئے معیار بنارہا ہو جو حدیث امام کے قول کے موافق ہو اسے لے رہا ہو اور جو مخالف ہو اسے چھوڑ رہا ہو ؟ایسے شخص کے بارے میں ہم اﷲ کا یہ قول ہی پیش کرسکتے ہیں۔​

    اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ ​

    (التوبۃ:۳۱)​

    ''ان لوگوں نے اپنے علماءاور درویشوں کو رب بنالیا ہے اﷲ کو چھوڑ کر''۔​

    (تیسیرالعزیزالحمید:۵ ۴۴،۵۴۵)​

    ابوالسائب رحمہ اﷲ فرماتے ہیں:کہ ہم ایک مرتبہ وکیع رحمہ اﷲ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک آدمی کو مخاطب کرکے کہا (جو اہل الرائے میں سے تھا)کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے شعار کیا ہے(چھری یا کسی نوکدار چیز سے اونٹ یا قربانی کے جانور کو زخمی کرکے نشان لگانا کہ یہ بیت اﷲکے لئے وقف ہے) اور ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ مثلہ ہے ؟(مثلہ کہتے ہیں جنگ میں دشمن کے کسی آدمی کے ہاتھ پاؤں، کان، ناک کاٹنا اس سے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع کیا ہے) اس شخص نے جواب میں کہا کہ ابراہیم نخعی رحمہ ا ﷲ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں شعار مُثلہ ہے ۔ابوالسائب رحمہ اﷲ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ وکیع رحمہ اﷲ کو سخت غصہ آیا اور اس شخص سے کہا کہ میں تمہیں رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان سنا رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ابراہیم نخعی رحمہ اﷲ نے کہا ہے ؟تم اس بات کے مستحق ہو کہ تمہیں اس وقت تک قید میں رکھا جائے جب تک تم اپنے اس قول سے رجوع نہ کرلو۔​

    (جامع الترمذی :۳/۲۵۰،والفقیہ والمتفقہ۱/۱۴۹)​

    آج کے دور میں بہت سے لوگ ہیں جو قید کیے جانے کے قابل ہیں ۔اس لیے کہ جب انہیں حدیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سنائی جاتی ہے توکہتے ہیں کہ فلاں عالم نے اس طرح کہا ہے ،فلاں نے یہ فتوی دیا ہے۔یعنی ان کے نزدیک افراد ہی شریعت کے ماخذہیں ) جو لوگ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث کے مقابلے پر افراد واشخاص کے اقوال پیش کرتے ہیں ان کو قید کردینا چاہئے جب تک کہ وہ اپنی روش سے توبہ نہ کرلیں ۔​

    ابویعلی رحمہ اﷲ نے( طبقات الحنابلہ :۱/۲۵۱) میں فضل بن زیاد رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا ہے وہ امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ سے نقل کرتے ہیں کہ ابن ابی ذئب رحمہ اﷲ کو خبر ملی کہ امام مالک رحمہ اﷲ''البیعان بالخیار''والی حدیث نہیں لیتے ،تو ابن ابی ذئب رحمہ اﷲنے کہا کہ ان سے توبہ کروائی جائے اگر توبہ نہیں کرتے تو ان کی گردن کاٹ دی جائے (امام مالک رحمہ اﷲ نے حدیث رد نہیں کی تھی بلکہ ا س کی تاویل کرکے دوسرا مطلب لیتے تھے) سلف صالحین رحمہم اﷲ حدیث کی مخالفت کرنے والوں کی اس طرح مذمت کرتے تھے چاہے یہ مخالفت قیاس کی بناپر ہوتی یا استحسان واستصواب کے نام پر یا کسی عالم کے قول وفتوی کی وجہ سے ہوتی سلف رحمہم اللہ ایسے لوگوں سے ترک تعلق کرتے تھے جب تک کہ ایسے لوگ اپنے عمل سے رجوع نہ کرلیں ،حدیث کومکمل طور پر تسلیم کرکے اس کی پیروی نہ شروع کردیتے وہ اس شخص کو بھی ناپسند کرتے تھے جو اس بنا پر حدیث کو لیتے ہیں جب وہ قیاس کے موافق ہو یا کسی امام یا عالم کے قول وفتوی کے موافق ہووہ تو اﷲ کے اس فرمان پر عمل پیرا تھے ​

    وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ​

    (احزاب:۳۶)​

    ''جب اﷲ اور اس کارسول (صلی اﷲ علیہ وسلم)کسی امر کا حکم دیں تو پھر کسی مومن مرد یا مومنہ عورت کو اپنے معاملہ کا کوئی اختیارنہیں رہتا''۔​

    دوسری جگہ اﷲ کا ارشاد ہے ۔​

    فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ​

    (النساء:۶۵)​

    ''تیرے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے ۔جب تک تجھے (اے محمد صلی اﷲعلیہ وسلم) اپنے تنازعات میں فیصل نہ مان لیں اور پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے فیصلے سے اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں اسے مکمل طور پر تسلیم کرلیں''۔​

    مگر ہم اب ایسے دور میں جی رہے ہیں جب کسی سے کہاجاتا ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے تو وہ کہتا ہے کس نے کہا ہے ؟یعنی یہ جاننا ہی نہیں چاہتا کہ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا قول ہے خود کو بے خبر رکھ کر حدیث کی مخالفت یا اس پر عمل نہ کرنے کا بہانہ تلاش کرتا ہے حالانکہ ایسے لوگ اگر اپنے آپ سے مخلص ہوں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا اس طرح انجان بن کر حدیث پر عمل نہ کرنا باطل کی طرف جاتا ہے ۔ اعلام الموقعین میں کسی عالم کا قول مذکور ہے جس نے کہا تھا کہ ہم حدیثِ رسول پر اس وقت تک عمل نہیں کریں گے جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس حدیث پر ہم سے پہلے کسی نے عمل کیا ہے اگر کسی کے پاس حدیث پہنچ گئی مگر اسے معلوم نہ تھا کہ اس پر کسی نے عمل کیا ہے (یا نہیں ) تو اس کے لئے حدیث پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔​

    (اعلام الموقعین :۴/۲۵۴،۲۴۴)​


    دو باتیں اگر کوئی شخص پہچان لے تو اس نے پورے دین کو پہچان لیا ۔ پورا دین اس کے پاس محفوظ ہوگیا ۔ ایک یہ کہ عبادت کس کی کرنی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ، کسی حجر و شجر کی نہیں ، قبے اور مزار کی نہیں اور نہ ہی کسی نبی ، ولی اور فرشتے کی ۔ دوسرا یہ کہ کس طرح کرنی ہے ؟ جیسے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ۔ پس جو شخص ان دو باتوں کو پہچان لے اس نے سارے دین کو پہچان لیا اور یہ پورے دین کی اساس و بنیاد ہے ۔​

    اس لئے ہمیں اپنا عقیدہ ، عمل ، منہج ، معیشت و معاشرت ، سیاست سمیت دیگر تمام امور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق بنانا ہوں گے تب اللہ رب العالمین انہیں شرف قبولیت سے نوازیں گے ۔ بصورت دیگر تمام اعمال ، عبادتیں اور ریاضتیں برباد ہو جائیں گی اور کسی عمل کا فائدہ نہ ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔​

    ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ تصلیٰ ناراً حامیۃ ​

    ( الغاشیۃ : 1-4 )​

    قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل و رسوا ہونگے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ عمل نہیں کرتے تھے ، محبت اور کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ عمل کرتے تھے اور بہت زیادہ کرتے تھے عمل کرتے کرتے تھک جایا کرتے تھے لیکن یہ دھکتی ہوئی جہنم کی آگ کا لقمہ بن جائیں گے ۔ بے تحاشا عمل کرنے والے محنتیں اور ریاضتیں کرنے والے ، صبح و شام سفر کرنے والے جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے ۔ کیوں ! اس لئے کہ ان کا عمل اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقے کے مطابق نہ تھا ۔ قرآن و حدیث کے مطابق نہ تھا ۔ اگر عمل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو اور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کو بلا جھجک اور بلا چوں و چراں تسلیم کر لیا جائے تو یہی کامیابی ہے اور یہی ایمان ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدے ، عمل اور منہج کو کتاب و سنت کے مطابق بنا دے ۔ تا کہ ہم قرآن و حدیث کو ہی اپنا مرکز اطاعت ٹھہرا لیں ۔ ​

    ( آمین )​


    وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلیٰ اٰلہ وصحبہ اجمعین ۔ ​
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 5
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 15، 2014 #8
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    720
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہُ
    دعا باجی آپ کے مخاطبین تو دوسرے بھائی ہیں لیکن آپ کے موضوع کی مناسبت سے ایک سوچ میرے ذہن میں آئی تو آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا مناسب سمجھا۔
    لہٰذا دخل در معقولات کے لیے معذرت۔۔۔۔۔
    آپ کے ہائلائٹ کردہ مسئلے کو میں ایک دوسرے زاویے سے دیکھتا ہوں۔
    محمد ارسلان -------- شمولیت: مارچ 09، 2011
    شاہد نذیر --------- شمولیت: فروری 17، 2011
    لولی آل ٹائم ------- شمولیت: مارچ 28، 2012
    دیکھیں اگر مسئلہ ان لوگوں کی طرف سے ہوتا تو یہ بہت پہلے پیدا ہوچکا ہوتا لیکن یہ مسئلہ پچھلے کچھ مہینے سے زیادہ شدت اختیار کیے ہوئے ہے تو آپ ذرا ان لوگوں کو دیکھیں جو اس عرصے میں فورم میں رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور فورم کا ماحول خراب کرنے کے لیے الٹے سیدھی باتیں کرتے ہیں۔
    اشماریہ ------------ شمولیت: دسمبر 15، 2013
    شاد ------------- شمولیت: مئی 03، 2014
    مثال کے طور پر اشماریہ صاحب (ان لوگوں کو پلائی گئی "افضل العلماء" کی گھٹی کے زیر اثر) بات بات پر لوگوں کو علمی باتیں کرنے کا مشورہ دے کر طیش دلواتے ہیں یا حلالہ والی پوسٹ میں اشماریہ جب وکالت میں بہت آگے چلے گئے تو اگر ایک بھائی نے ان سے یہ بات اپنی بہن کے لیے پسند کرنے کا پوچھا (جو کہ زنا کی اجازت مانگنے والے نوجوان صحابی سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوال جواب والی حدیث کی مناسبت سے صحیح تھا) تو اشماریہ نے اسے اپنی بہن کے لیے ناپسند کیا۔۔۔۔۔ لیکن بعد میں شاد نے اسی بات کو اٹھا کر انتہائی غیر مناسب انداز اختیار کیا حتیٰ کہ اپنے مسلکی بھائی بند اشماریہ کی بات کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا کہ میرا تو مزاج ہی یہ ہے۔
    لہٰذا ہمارے ان بھائیوں کا قصور نکالنا قطعی مناسب نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب


    جزاک اللہ خیرا

    نوٹ: اگر آپ چاہیں تو میری یہ پوسٹ ڈیلیٹ کرسکتی ہیں، کیونکہ میرا مقصد صرف اپنا نقطہ نظر آپ تک پہنچانا تھا۔
     
    • زبردست زبردست x 7
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  9. ‏مئی 15، 2014 #9
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    متفق کسی اور حد تک!
    ان تین اراکین کی شمولیت کافی پہلے کی ہے ، اور اس سے قبل ایسے کئی رکن آئے ، جن کے ساتھ انھوں نے ایسے مختلف موضوعات پر بات چیت کی ہے۔
    لہذا یہ ان کے لیے کوئی نیا مسئلہ نہیں تھا۔سہج بھائی کے ساتھ ماضی کی بحثیں آج بھی موجود ہیں۔
    مگر اس وقت مسائل شدت اختیار کرنے کی اور بھی بہت وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن کا سامنا میں نے بھی پہلے نہیں کیا تھا۔
    یہاں پر نوٹ میں لکھی گئی بات سے میں موجودہ کیفیت اور خدشات کا اندازہ کر سکتی ہوں۔۔۔!

    بہرحال محمد ارسلان آپ بھی اپنا موقف بیان کر دیں۔

    تاکہ کسی نتیجے تک بھی پہنچایا جائے!
     
    • مفید مفید x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏مئی 15، 2014 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ۔۔۔
     
    • پسند پسند x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں