1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلہ،فتوی اور فیصلے میں فرق۔ایک انتہائی ضروری وضاحت۔

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏اپریل 13، 2013۔

  1. ‏اپریل 13، 2013 #1
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    یہ ایک بدیہی حقیقت ہےکہ آج پوری دنیامیں صحیح اسلامی خطوط پر استوار ایک بھی معاشرہ نہیں ۔جس کی وجہ سے کچھ ایسی اسلامی اصطلاحات الجھ کر رہہ گئی ہیں جن کا درست مفہوم اسلامی معاشرےمیں خود بخود سمجھ آجاتاہے۔ ان میں سے یہ تین اصطلاحات بھی ہیں یعنی مسلہ فتوی اور حکم(فیصلہ)اس وضاحت کچھ یوں ہےکہ :
    مسلہ:مسلہ ہوتاہے کسی شرعی حکم کوبیان کرنا۔
    فتوی:فتوی کہتےہیں جب کسی شرعی حکم کو عملی صورتحال پر کوئی فقیہ لاگوکرے۔
    فیصلہ:فیصلہ ہوتاہے جب کسی شرعی حکم کو عملی صورتحال پر کوئی قاضی(جج)لاگو کرے۔
    نوٹ:اس ضمن میں واضح رہے کہ فتوی کسی فقیہ کی ذاتی رائے یااجتہاد ہوتاہےاسے تسلیم کرنااسلامی معاشرے یاحکومت پر ضروری نہیں ہوتا۔جبکہ فیصلہ عدالت کی طرف سے سنایاجاتاہے اسے مانناایک اسلامی حکومت اورمعاشرےپرواجب ہوتاہے۔آج کل عام طور پر غلطی یہ کی جاتی ہےکہ لوگ فتوےکو فیصلے کےطرح سمجھ لیتےہیں۔جس کی وجہ سے ہمارامعاشرہ کئی طرح کے انتشارات اور فتنوں کاشکارہے۔اس لیےخدارا فتوےکوہمیشہ فتوی ہی رہنےدیں اسےفیصلہ نہ بنائیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں