1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسند احمد (مسند الخلفاء الراشدین) یونیکوڈ

'یونیکوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏ستمبر 28، 2016۔

  1. ‏ستمبر 28، 2016 #1
  2. ‏ستمبر 28، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    (1) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ - عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَؤونَ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] ، وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغيِّرُوهُ، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابِهِ " أخرجه الحميدي (3)، وأبو داود (4338) والترمذي (2168)
    (1) قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو۔
    ( يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 5-المآئدہ:105) اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
    اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا۔
    تحقیق وتخریج: إسناده صحيح على شرط الشيخين. قيس: هو ابن أبي حازم. وأخرجه ابن أبي شيبة 15 / 174 - 175، وعنه ابن ماجه (4005) ، والمروزي في " مسند أبى بكر " (88) عن عبد الله بن نمير، بهذا الإسناد.
    وأخرجه الحميدي (3) ، وأبو داود (4338) ، والمروزي (86) و (87) ، والبزار (65) ، وأبو يعلى (132) ، وابن حبان (304) من طرق عن إسماعيل بن أبي خالد، به.
    وسيأتي برقم (16) و (29) و (30) و (53).


    (2) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ، وَإِذَا حَدَّثَنِي عَنْهُ غَيْرِي اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي - وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ - أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، قَالَ مِسْعَرٌ: وَيُصَلِّي، وَقَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَيَسْتَغْفِرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا غُفَرَ لَهُ " أخرجه الطيالسي (1 و 2)، وأبو داود (1521) والترمذي (406)
    (2) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تھا تو اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا تھا، مجھے اس سے فائدہ پہنچاتا تھا، اور جب کوئی دوسرا شخص مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتا تو میں اس سے اس پر قسم لیتا، جب وہ قسم کھا لیتا کہ یہ حدیث اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تب کہیں جا کر میں اس کی بات کو سچا تسلیم کرتا تھا ۔
    مجھ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ یہ حدیث بیان کرنے میں سچے ہیں کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو یقینا معاف فرمادے گا۔
    تحقیق وتخریج: إسناده صحيح، عثمان بن المغيرة الثقفي من رجال البخاري، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير أسماء بن الحكم الفزاري، فقد روى له أصحاب السنن، قال الحافظ في " التقريب ": صدوق، وقال العجلي: كوفي تابعي ثقة، وذكره ابن سعد 6 / 157 في طبقة التابعين الذين رووا عن علي رضي الله عنه، وقال: كان قليل الحديث، وصحح حديثه هذا ابن حبان، وحسنه الترمذي وابن عدي، وجوّد إسناده الحافظ ابن حجر في " تهذيب التهذيب " في ترجمة أسماء بن الحكم. وكيع: هو ابن الجراح بن المليح الرؤاسي، ومسعر: هو ابن كدام، وسفيان: هو ابن سعيد بن مسروق الثوري.
    وأخرجه الحميدي (4) ، وابن أبي شيبة 2 / 387، وعنه ابن ماجه (1395) ، والمروزي (9) عن وكيع، بهذا الإسناد.
    وأخرجه ابن ماجه (1395) ، والمروزي (9) ، والبزار (9) ، وأبو يعلى (12) ، والطبري 4 / 96 من طرق عن وكيع، به.
    وأخرجه الحميدي (1) ، والنسائي في " عمل اليوم والليلة " (415) ، والطبراني في " الدعاء " (1842) من طرق عن مسعر، به.
    وأخرجه أبو يعلى (15) ، والطبراني (1842) من طرق عن سفيان، به.
    وأخرجه البزار (11) ، وأبو يعلى (1) ، والطبراني (1842) من طريقين عن عثمان بن المغيرة، به.
    وأخرجه الحميديُّ (5) ، والبزار (6) و (7) ، والطبري 4 / 96 من طريق أبي سعيد المقبري، عن علي بن أبي طالب، عن أبي بكر. وسيأتي برقم (47) و (48) و (56) .


    (3) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ - يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ - قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ سَرْجًا بِثَلاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا. قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِلَى مَنْزِلِي، فَقَالَ: لَا، حَتَّى تُحَدِّثَنَا كَيْفَ صَنَعْتَ حِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَجْنَا فَأَدْلَجْنَا، فَأَحْثَثْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا، حَتَّى أَظْهَرْنَا، وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، فَضَرَبْتُ بِبَصَرِي: هَلْ أَرَى ظِلًّا نَأْوِي إِلَيْهِ؟ فَإِذَا أَنَا بِصَخْرَةٍ، فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا فَإِذَا بَقِيَّةُ ظِلِّهَا، فَسَوَّيْتُهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَرَشْتُ لَهُ فَرْوَةً، وَقُلْتُ: اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَاضْطَجَعَ، ثُمَّ خَرَجْتُ أَنْظُرُ: هَلْ أَرَى أَحَدًا مِنَ الطَّلَبِ؟ فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلامُ؟ فَقَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ. فَسَمَّاهُ فَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: قُلْتُ: هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَمَرْتُهُ فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْهَا، ثُمَّ أَمَرْتُهُ فَنَفَضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ فَنَفَضَ كَفَّيْهِ مِنَ الْغُبَارِ، وَمَعِي إِدَاوَةٌ عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ، فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنَ اللَّبَنِ، فَصَبَبْتُ عَلَى الْقَدَحِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللهِ. فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، ثُمَّ قُلْتُ: هَلْ أَنَى الرَّحِيلُ. قَالَ: فَارْتَحَلْنَا، وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَا، فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا. فَقَالَ: " لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا " حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَّا فَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قَدْرُ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا. وَبَكَيْتُ، قَالَ: " لِمَ تَبْكِي؟ " قَالَ: قُلْتُ: أَمَا وَاللهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيْكَ. قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اللهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ ". فَسَاخَتْ قَوَائِمُ فَرَسِهِ إِلَى بَطْنِهَا فِي أَرْضٍ صَلْدٍ، وَوَثَبَ عَنْهَا، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ، فَادْعُ اللهَ أَنْ يُنْجِّيَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ، فَوَاللهِ لَأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ، وَهَذِهِ كِنَانَتِي فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا، فَإِنَّكَ سَتَمُرُّ بِإِبِلِي وَغَنَمِي فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا ". قَالَ: وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُطْلِقَ، فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ. وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّاهُ النَّاسُ، فَخَرَجُوا فِي الطَّرِيقِ، وَعَلَى الْأَجَاجِيرِ، فَاشْتَدَّ الْخَدَمُ وَالصِّبْيَانُ فِي الطَّرِيقِ يَقُولُونَ: اللهُ أَكْبَرُ، جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ مُحَمَّدٌ. قَالَ: وَتَنَازَعَ الْقَوْمُ أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْزِلُ اللَّيْلَةَ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ، أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لِأُكْرِمَهُمْ بِذَلِكَ " فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا حَيْثُ أُمِرَ. قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ: أَوَّلُ مَنْ كَانَ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى أَخُو بَنِي فِهْرٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ رَاكِبًا، فَقُلْنَا مَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: هُوَ عَلَى أَثَرِي، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ. قَالَ الْبَرَاءُ: وَلَمْ يَقْدَمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَرَأْتُ سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، قَالَ إِسْرَائِيلُ: وَكَانَ الْبَرَاءُ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ
    صححه البخاري (3615) ومسلم (2009) وابن حبان (6281)
    (3) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے میرے والد حضرت عازب رضی اللہ عنہ سے تیرہ درہم کے عوض ایک زین خریدی اور میرے والد سے فرمایا کہ اپنے بیٹے براء سے کہہ دیجئے کہ وہ اسے اٹھا کر میرے گھر تک پہنچادے، انہوں نے کہا کہ پہلے آپ وہ واقعہ سنائیے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی اور آپ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
    حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ شب ہجرت ہم لوگ رات کی تاریکی میں نکلے اور سارا دن اور ساری رات تیزی سے سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہوگیا، میں نے نظر دوڑا کر دیکھا کہ کہیں کوئی سایہ نظر آتا ہے یا نہیں؟ مجھے اچانک ایک چٹان نظر آئی، میں اسی کی طرف لپکا تو وہاں کچھ سایہ موجود تھا، میں نے وہ جگہ برابر کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے لئے اپنی پوستین بچھادی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! کچھ دیر آرام فرما لیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے۔
    ادھر میں یہ جائزہ لینے کے لئے نکلا کہ کہیں کوئی جاسوس تو نہیں دکھائی دے رہا؟ اچانک مجھے بکریوں کا ایک چرواہا مل گیا، میں نے اس سے پوچھا بیٹا! تم کس کے ہو؟ اس نے قریش کے ایک آدمی کا نام لیا جسے میں جانتا تھا ، میں نے اس سے فرمائش کی کہ کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، میں نے اس سے دودھ دوہ کر دینے کی فرمائش کی تو اس نے اس کا بھی مثبت جواب دیا، اور میرے کہنے پر اس نے ایک بکری کو قابو میں کرلیا۔
    پھر میں نے اس سے بکری کے تھن پر سے غبار صاف کرنے کو کہا جو اس نے کردیا، پھر میں نے اس سے اپنے ہاتھ جھاڑنے کو کہا تاکہ وہ گردوغبار دور ہوجائے چنانچہ اس نے اپنے ہاتھ بھی جھاڑ لیے، اس وقت میرے پاس ایک برتن تھا، جس کے منہ پر چھوٹا ساکپڑا لیپٹا ہوا تھا، اس برتن میں اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا اور میں نے اس پر پانی چھڑک دیا تاکہ برتن نیچے سے ٹھنڈا ہوجائے۔
    اس کے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوچکے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ دودھ نوش فرمانے کی درخواست کی، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کرلیا اور اتنا دودھ پیا کہ میں مطمئن اور خوش ہوگیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اب روانگی کا وقت آگیا ہے اور اب ہمیں چلنا چاہئے؟
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایماء پر ہم وہاں سے روانہ ہوگئے، پوری قوم ہماری تلاش میں تھی، لیکن سراقہ بن مالک بن جعشم کے علاوہ جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا ہمیں کوئی نہ پاسکا، سراقہ کو دیکھ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ جاسوس ہم تک پہنچ گیا ہے، اب کیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ غمگین اور دل برداشتہ نہ ہوں، اللہ ہمارے ساتھ ہے، ادھر وہ ہمارے اور قریب ہو گیا اور ہمارے اور اس کے درمیان ایک یا دو تین نیزوں کے بقدر فاصلہ رہ گیا، میں نے پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ توہمارے قریب پہنچ گیا ہے اور یہ کہہ کر میں رو پڑا۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے رونے کی وجہ پوچھی تو میں نے عرض کیا بخدا! میں اپنے لئے نہیں رو رہا، میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رو رہا ہوں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا گیا تو یہ نجانے کیا سلوک کریں گے؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ کے لئے بد دعاء فرمائی کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے، اس سے ہماری کفایت اور حفاظت فرما۔
    اس وقت اس کے گھوڑے کے پاؤں پیٹ تک زمین میں دھنس گئے، حالانکہ وہ زمین انتہائی سپات اور سخت تھی، اور سراقہ اس سے نیچے گر پڑا اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! میں جانتاہوں کہ یہ آپ کا کوئی عمل ہے، آپ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ کی تلاش میں اپنے پیچے آنے والے تمام لوگوں پر آپ کو مخفی رکھوں گا اور کسی کو آپ کی خبر نہ ہونے دوں گا، نیز یہ میرا ترکش ہے، اس میں سے ایک تیر بطور نشانی کے آپ لے لیجئے، فلاں فلاں مقام پر آپ کا گذر میرے اونٹوں اور بکریوں پر ہوگا، آپ کو ان میں سے جس چیز کی جتنی ضرورت ہو، آپ لے لیجئے گا۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اسے رہائی مل گئی، اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس لوٹ گیا اور ہم دونوں اپنی راہ پر ہو لئے یہاں تک کہ ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچ گئے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے، کچھ اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرنے لگے، اور راستے ہی میں بچے اور غلام مل کر زور زور سے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر لوگوں میں یہ جھگڑا ہونے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس قبیلے کے مہمان بنیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جھگڑے کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا آج رات تو میں خواجہ عبدالمطلب کے اخوال بنو نجار کا مہمان بنوں گا تاکہ ان کے لئے باعث عزت و شرف ہوجائے، چنانچہ ایساہی ہوا اور جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے جہاں کا آپ کو حکم ملا ۔
    حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین میں سے ہمارے یہاں سب سے پہلے حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ اللہ عنہ ”جن کا تعلق بنو عبدالدار سے تھا“ تشریف لائے تھے، پھر بنو فہر سے تعلق رکھنے والے ایک نابینا صحابی حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیس سواروں کے ساتھ ہمارے یہاں رونق افروز ہوگئے۔
    جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ بھی پیچھے پیچھے آرہے ہیں، چنانچہ کچھ ہی عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ منورہ میں جلوہ افروز ہوگئے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ آئے۔
    حضرت براء رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل ہی میں مفصلات کی متعدد سورتیں پڑھ اور یاد کرچکا تھا، راوی حدیث اسرائیل کہتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو حارثہ سے تھا۔
    تحقیق وتخریج: إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عمرو بن محمد العنقزي، فمن رجال مسلم.
    إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي، وسماعه من جده أبي إسحاق - عمرو بن عبد الله - في غاية الإتقان للزومه إياه، وكان خصِّيصاً به. قاله الحافظ ابن حجر في " الفتح " 1 / 351.
    وأخرجه البزار (50) عن حوثرة بن محمد المنقري، عن عمرو بن محمد العنقزي، بهذا الإسناد.
    وأخرجه ابن أبي شيبة 14 / 327 - 330، والبخاري (3615) و (3652) ومسلم 4 / 2310، والمروزي (62) و (65) ، والبزار (51) ، وأبو يعلى (116) ، وابن حبان (6281) و (6870) ، والبيهقي في " دلائل النبوة " 2 / 483 - 484 من طرق عن إسرائيل، به.
    وأخرجه البخاري (3615) ، ومسلم 4 / 2309، والبيهقي 2 / 485 من طريق زهير بن معاوية، عن أبي إسحاق، به مختصراً. وسيأتي برقم (50) .
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 28، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    (4) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: قَالَ إِسْرَائِيلُ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٌ لِأَهْلِ مَكَّةَ: لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّةٌ فَأَجَلُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَاللهُ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ. قَالَ: فَسَارَ بِهَا ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: " الْحَقْهُ فَرُدَّ عَلَيَّ أَبَا بَكْرٍ، وَبَلِّغْهَا أَنْتَ " قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ بَكَى، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَدَثَ فِيَّ شَيْءٌ؟ قَالَ: " مَا حَدَثَ فِيكَ إِلَّا خَيْرٌ، وَلَكِنْ أُمِرْتُ أَنْ لَا يُبَلِّغَهُ إِلَّا أَنَا أَوْ رَجُلٌ مِنِّي " [اسناده ضعيف، وقال احمد: هذا حديث منكر، وقال ابن تيمية في المنهاج (5/63): قوله (لا يؤذي عني الا علي) من الكذب]
    (4) حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امیر حج بنا کر بھیجتے وقت اہل مکہ سے اس برائت کا اعلان کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا، کوئی آدمی برہنہ ہو کر طواف نہیں کرسکے گا، جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوسکے گا جو مسلمان ہو، جس شخص کا پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی خاص مدت کے لئے کوئی معاہدہ پہلے سے ہوا ہو، وہ اپنی مدت کے اختتام تک برقرار رہے گا، اور یہ کہ اللہ اور اس کا پیغمبر مشرکین سے بری ہیں ۔
    جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس پیغام کو لے کر روانہ ہوگئے اور تین دن کی مسافت طے کرچکے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے جاؤ اور انہیں میرے پاس واپس بلا کر لاؤ، اور امارت حج نہیں لیکن صرف پیغام تم نے اہل مکہ تک پہنچانا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ روانہ ہوگئے، جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میرے بارے کوئی نئی بات پیش آگئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کے بارے تو صرف خیر ہی پیش آسکتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ اس پیغام کو اہل عرب کے رواج کے مطابق اہل مکہ تک یا خود میں پہنچا سکتا تھا یا میرے خاندان کا کوئی فرد، اس لئے میں نے صرف یہ ذمہ داری حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کردی۔


    (5) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَوْسَطَ، قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي هَذَا عَامَ الْأَوَّلِ، وَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَلُوا اللهَ الْمُعَافَاةَ - أَوْ قَالَ: الْعَافِيَةَ - فَلَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ قَطُّ بَعْدَ الْيَقِينِ أَفْضَلَ مِنَ الْعَافِيَةِ - أَوِ الْمُعَافَاةِ - عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ، وَلا تَحَاسَدُوا، وَلا تَبَاغَضُوا، وَلا تَقَاطَعُوا، وَلا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللهُ تَعَالَى
    [صححه ابن حبان (952) والحاكم (1/529) قال الالباني: صحيح (ابن ماجة: 3849) (انظر: 17، 34، 44)]
    (5) اوسط کہتے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ اس جگہ گذشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تھے، یہ کہہ کر آپ رو پڑے، پھر فرمایا اللہ سے درگذر کی درخواست کیا کرو، کیونکہ ایمان کے بعد عافیت سے بڑھ کر نعمت کسی کو نہیں دی گئی، سچائی کو اختیار کرو، کیونکہ سچائی کا تعلق نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں چیزیں جنت میں ہوں گی، جھوٹ بولنے سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ کا تعلق گناہ سے ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنم میں ہوں گی، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بغض نہ کرو، قطع تعلقی مت کرو، ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو، اور اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔

    (6) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو عَامِرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ -، عَنْ عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ -، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَا الْقَيْظِ عَامَ الْأَوَّلِ: " سَلُوا اللهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ، وَالْيَقِينَ فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولَى "
    [قال الترمذي: حديث حسن غريب قال الباني: حسن صحيح (الترمذي: 3558) قال شعيب: اسناده حسن (راجع: 5)]
    (6) حضرت رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو منبر رسول پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر کے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر گریہ طاری ہوگیا اور وہ روپڑے، پھر جب حالت سنبھلی تو فرمایا کہ میں گذشتہ سال اسی جگہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ سے اس کے عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو، اور دنیا و آخرت میں یقین کی دعا مانگا کرو۔

    (7) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ -، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ "
    [قال شعيب: صحيح لغيره (انظر: 62]
    (7) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور پروردگار کی خوشنودی کا سبب ہے۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 29، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    (8) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاتِي. قَالَ: " قُلِ: اللهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" [انظر: 28] وقَالَ يُونُسُ (2) : كَبِيراً. حَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ، عَنْ ابْنِ (1) لَهِيعَةَ (2) قَالَ قَالَ: كَبِيراً. [صححه البخاري (834) ومسلم (2705) وابن خزيمة (845) وابن حبان (1976)]
    (8) ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں نماز میں مانگ لیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعاء تلقین فرمائی کہ اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا، تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا، اس لئے خاص اپنے فضل سے میرے گناہوں کو معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما، بے شک تو بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔


    (9)حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكَ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو بَكْرٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ " وَإِنِّي وَاللهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ.
    [صححه البخاري (4035) ومسلم (1759) وابن حبان (4823) (انظر: 25، 55 ،58)]
    (9) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ لے کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے، اس وقت ان دونوں کا مطالب ارض فدک اور خیبر کا حصہ تھا، ان دونوں بزرگوں کی گفتگو سننے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، بلکہ جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ سب صدقہ ہوتا ہے، البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال میں سے کھا سکتی ہے، اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کرتے ہوئے دیکھاہے، میں اس طریقے کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا۔


    (10) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ عَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ اسْتَعْبَرَ أَبُو بَكْرٍ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَمْ تُؤْتَوْا شَيْئًا بَعْدَ كَلِمَةِ الْإِخْلاصِ مِثْلَ الْعَافِيَةِ، فَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ ". [صححه ابن حبان (950) قال شعيب: صحيح لغيره (انظر: 5)]
    (10) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آج ہی کے دن گذشتہ سال میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا، اور یہ کہہ کر آپ رو پڑے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، تھوڑی دیر کے بعد فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کلمہ توحید واخلاص کے بعد تمہیں عافیت جیسی کوئی دوسری نعمت نہیں دی گئی، اس لئے اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو۔
     
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 29، 2016 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    (11) حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْغَارِ - وَقَالَ مَرَّةً: وَنَحْنُ فِي الْغَارِ - لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ. قَالَ: فَقَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا". [صححه البخاري (3653) ومسلم (2381) وابن حبان (6278)]
    (11) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے شب ہجرت کی یاد تازہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس وقت ہم لوگ غارثور میں تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھ لیا تو نیچے سے ہم نظر آجائیں گے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا "اللہ" ہو۔


    (12) حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا: خُرَاسَانُ، يَتَّبِعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ". قال الترمذي: حسن غريب، قال الالباني: صحيح، [الترمذي(2237) ابن ماجة (4072) (انظر: 33)]
    (12) حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج مشرق کے ایک علاقے سے ہوگا جس کا نام خراسان ہوگا اور اس کی پیروی ایسے لوگ کریں گے جن کے چہرے چپٹی کمان کی طرح محسوس ہوں گے۔


    (13) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى صَاحِبُ الدَّقِيقِ، عَنْ فَرْقَدٍ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَخِيلٌ وَلا خَبٌّ وَلا خَائِنٌ وَلا سَيِّئُ الْمَلَكَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ الْمَمْلُوكُونَ؛ إِذَا أَحْسَنُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَوَالِيهِمْ". قال الترمذي: غريب، قال الالباني: ضعيف [الترمذي (1946، 1963)] [انظر: 31، 32]
    (13) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بخیل کوئی دھوکہ باز، کوئی خیانت کرنے والا اور کوئی بداخلاق شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا، اور جنت کا دروازہ سب سے پہلے کھٹکھٹانے والے لوگ "غلام" ہوں گے، لیکن اس سے مراد وہ غلام ہیں جو اللہ اور اپنے آقاؤں کے معاملے میں اچھے ثابت ہوں یعنی حقوق اللہ کی بھی فکر کرتے ہوں اور اپنے آقا کی خدمت میں بھی کسی قسم کی کمی نہ کرتے ہوں اور ان کے حقوق بھی مکمل طور پر ادا کرتے ہوں ۔


    (14) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ - وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدُ اللهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ: أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ أَهْلُهُ؟ قَالَ: فَقَالَ: لَا، بَلْ أَهْلُهُ. قَالَتْ: فَأَيْنَ سَهْمُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طُعْمَةً، ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ "فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. قَالَتْ: فَأَنْتَ، وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ. [قال ابن كثير: ففي لفظ هذا الحديث غرابة و نكارة. قال الالباني: حسن (ابوداؤد: 2973)] [راجع: 9]
    (14) ابوالطفیل کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث آپ ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ؟ انہوں نے جواباً فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ ہی ان کے وارث ہیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ کہاں ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی چیز کھلاتا ہے، پھر انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے تو اس کا نظم ونسق اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو خلیفہ وقت ہو، اس لئے میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس مال کو مسلمانوں میں تقسیم کردوں، یہ تمام تفصیل سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے جو سناہے، آپ اسے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیا۔


    (15) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ الْمَازِنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ وَالَانَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَلَسَ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى الْأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ، كُلُّ ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ: أَلا تَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ، قَالَ: فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: "نَعَمْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا، وَأَمْرِ الْآخِرَةِ، فَجُمِعَ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَفَظِعَ النَّاسُ بِذَلِكَ، حَتَّى انْطَلَقُوا إِلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ، فَقَالُوا: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، وَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، قَالَ: قَدْ لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ، انْطَلِقُوا إِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ، إِلَى نُوحٍ: {إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ} [آل عمران: 33] ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللهُ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ، وَلَمْ يَدَعْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، انْطَلِقُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَهُ خَلِيلًا، فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا، فَيَقُولُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى، فَيَقُولُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى سَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَشْفَعَ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: فَيَنْطَلِقُ، فَيَأْتِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ رَبَّهُ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِ جِبْرِيلُ فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ، وَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، قَالَ: فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا نَظَرَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، قَالَ: فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِضَبْعَيْهِ فَيَفْتَحُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، خَلَقْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ، وَلا فَخْرَ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلا فَخْرَ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَكْثَرُ مِمَّا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُوا الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُوا الْأَنْبِيَاءَ، قَالَ: فَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُوا الشُّهَدَاءَ فَيَشْفَعُونَ لِمَنْ أَرَادُوا، قَالَ: فَإِذَا فَعَلَتِ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ، قَالَ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا، قَالَ: فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ. قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا فِي النَّارِ: هَلْ تَلْقَوْنَ مِنْ أَحَدٍ عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ؟ قَالَ: فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلًا، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَسْمِحُوا لِعَبْدِي كَإِسْمَاحِهِ إِلَى عَبِيدِي. ثُمَّ يُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ رَجُلًا فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا، غَيْرَ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُ وَلَدِي: إِذَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ، ثُمَّ اطْحَنُونِي، حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ، فَاذْهَبُوا بِي إِلَى الْبَحْرِ، فَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ، فَوَاللهِ لَا يَقْدِرُ عَلَيَّ رَبُّ الْعَالَمِينَ أَبَدًا، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ مَخَافَتِكَ، قَالَ: فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرْ إِلَى مُلْكِ أَعْظَمِ مَلِكٍ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ، قَالَ: فَيَقُولُ: لِمَ تَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ قَالَ: وَذَاكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى". [صححه ابن حبان (6476) نقل عن اسحاق قوله: هذا من اشرف الحديث]
    (15) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح فجر کی نماز پڑھائی، اور نماز پڑھا کر چاشت کے وقت تک اپنے مصلی پر ہی بیٹھے رہے، چاشت کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ضحک کے آثار نمودار ہوئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ ہی تشریف فرما رہے، تآنکہ ظہر، عصر اور مغرب بھی پڑھ لی، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کوئی بات نہیں کی، حتیٰ کہ عشاء کی نماز بھی پڑھ لی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے۔
    لوگوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آج کے احوال سے متعلق کیوں نہیں دریافت کرتے؟ آج تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کام کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا؟ چنانچہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے متعلق دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں بتاتا ہوں۔
    دراصل آج میرے سامنے دنیا و آخرت کے وہ تمام امور پیش کئے گئے جو آئندہ رونما ہونے والے ہیں، چنانچہ مجھے دکھایا گیا کہ تمام اولین و آخرین ایک ٹیلے پر جمع ہیں، لوگ پسینے سے تنگ آکر بہت گھبرائے ہوئے ہیں، اسی حال میں وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں، اور پسینہ گویا ان کے منہ میں لگام کی طرح ہے، وہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام سے کہتے ہیں کہ اے آدم! آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو اپنا برگزیدہ بنایا ہے اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے۔
    حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ میرا بھی وہی حال ہے جو تمہارا ہے اپنے باپ آدم کے بعد دوسرے باپ "ابوالبشر ثانی" حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں بھی اپنا برگزیدہ بندہ قرار دیا ہے، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کردیجئے، اللہ نے آپ کو بھی اپنا برگزیدہ بندہ قرار دیا ہے، آپ کی دعاؤں کو قبول کیا ہے، اور زمین پر کسی کافر کا گھر باقی نہیں چھوڑا، وہ جواب دیتے ہیں کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔
    چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاتے ہیں، لیکن وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، البتہ تم حضرت موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کر رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتے تھے، لیکن حضرت عیسی علیہ السلام بھی معذرت کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ تم اس ہستی کے پاس جاؤ جو تمام اولاد آدم کی سردار ہے وہی وہ پہلے شخص ہیں جن کی قبر قیامت کے دن سب سے پہلے کھولی گئی، تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ تمہاری سفارش کریں گے۔
    چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ خداوندی میں جاتے ہیں، ادھر سے حضرت جبرائیل بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوتے ہیں، اللہ کی طرف سے حکم ہوتا ہے کہ میرے پیغمبر کو آنے کی اجازت دو اور انہیں جنت کی خوشخبری بھی دو، چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ پیغام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاتے ہیں جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور متواتر ایک ہفتہ تک سر بسجود رہتے ہیں، ایک ہفتہ گذرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر تو اٹھائیے، آپ جو کہیں گے ہم اسے سننے کے لئے تیار ہیں، آپ جس کی سفارش کریں گے، اس کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔
    یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھاتے ہیں اور جوں ہی اپنے رب کے رخ تاباں پر نظر پڑتی ہے، اسی وقت دوبارہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور مزید ایک ہفتہ تک سر بسجود رہتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اپنا سر تو اٹھائیے، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہوگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ریز ہی رہنا چاہیں گے لیکن حضرت جبرائیل علیہ السلام آکر بازو سے پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب منور پر ایسی دعاؤں کا دروازہ کھولتا ہے جو اب سے پہلے کسی بشر پر کبھی نہیں کھولا تھا۔
    چنانچہ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پروردگار! تونے مجھے اولاد آدم کا سردار بنا کر پیدا کیا اور میں اس پر کوئی فخر نہیں کرتا، قیامت کے دن سب سے پہلے زمین میرے لئے کھولی گئی، میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آنے والے اتنے زیادہ ہیں جو صنعاء اور ایلہ کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ جگہ کو پر کئے ہوئے ہیں۔
    اس کے بعد کہا جائے گا کہ صدیقین کو بلاؤ وہ آکر سفارش کریں گے پھر کہا جائے گا کہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کو بلاؤ چنانچہ بعض انبیاء علیہم السلام تو ایسے آئیں گے جن کے ساتھ اہل ایمان کی ایک بڑی جماعت ہوگی، بعض کے ساتھ پانچ چھ آدمی ہوں گے بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوگا، پھر شہداء کو بلانے کا حکم ہوگا چنانچہ وہ اپنی مرضی سے جس کی چاہیں گے سفارش کریں گے۔
    جب شہداء بھی سفارش کر چکیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں ارحم الرحمین ہوں، جنت میں وہ تمام لوگ داخل ہوجائیں جو میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، چنانچہ ایسے تمام لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! جہنم میں کوئی ایسا آدمی تو نہیں ہے جس نے کبھی کوئی نیکی کا کام کیا ہو؟ تلاش کرنے پر انہیں ایک آدمی ملے گا، اسی کو بارگاہ الٰہی میں پیش کردیا جائے گا۔
    اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کیا کبھی تو نے کوئی نیکی کا کام بھی کیا ہے؟ وہ جواب میں کہے گا نہیں! البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں بیع وشراء اور تجارت کے درمیان غریبوں سے نرمی کرلیا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جس طرح یہ میرے بندوں سے نرمی کرتا تھا، تم بھی اس سے نرمی کرو، چنانچہ اسے بخش دیا جائے گا۔
    اس کے بعد فرشتے جہنم سے ایک اور آدمی کو نکال کر لائیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے بھی یہی پوچھیں گے کہ تو نے کبھی کوئی نیکی کا کام کیا ہے؟ وہ کہے گا کہ نہیں! البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں نے اپنی اولاد کو یہ وصیت کی تھی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا کر میری راکھ کا سرمہ بنانا اور سمندر کے پاس جا کر اس راکھ کو ہوا میں بکھیر دینا، اس طرح رب العالمین مجھ پر قادر نہ ہوسکے گا، اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ تونے یہ کام کیوں کیا؟ وہ جواب دے گا تیرے خوف کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ سب سے بڑے بادشاہ کا ملک دیکھو، تمہیں وہ اور اس جیسے دس ملکوں کی حکومت ہم نے عطاء کردی، وہ کہے گا کہ پروردگار! تو بادشاہوں کا بادشاہ ہو کر مجھ سے کیوں مذاق کرتا ہے؟ اس بات پر مجھے چاشت کے وقت ہنسی آئی تھی اور میں ہنس پڑا تھا۔
     
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 29، 2016 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    (16) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ - يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ - قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَإِنَّكُمْ تَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهَا، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ، لا يُغَيِّرُوهُ، أَوْشَكَ اللهُ أَنْ يَعُمَّهُمْ بِعِقَابِهِ ". قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ مُجَانِبٌ لِلْإِيمَانِ. [قال شعيب: اسناده صحيح] [راجع: 1]
    (16) قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کرنے کے بعد فرمایا اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو۔
    ( يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 5-المآئدہ:105)
    ”اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“
    لیکن تم اسے اس کے صحیح مطلب پر محمول نہیں کرتے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا نیز میں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا کہ جھوٹ سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ ایمان سے الگ ہے۔


    (17) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ - رَجُلًا مِنْ حِمْيَرَ - يُحَدِّثُ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ الْبَجَلِيِّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّهُ سَمِعَهُ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ مَقَامِي هَذَا - ثُمَّ بَكَى - ثُمَّ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ، وَسَلُوا اللهَ الْمُعَافَاةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ رَجُلٌ بَعْدَ الْيَقِينِ شَيْئًا خَيْرًا مِنَ الْمُعَافَاةِ " ثُمَّ قَالَ: " لَا تَقَاطَعُوا، وَلا تَدَابَرُوا، وَلا تَبَاغَضُوا، وَلا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا". [قال شعيب: اسناده صحيح] [راجع: 5]
    (17) اوسط کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس جگہ گذشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، یہ کہہ کر آپ روپڑے، پھر فرمایا سچائی کو اختیار کرو، کیونکہ سچائی کا تعلق نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں چیزیں جنت میں ہوں گی، جھوٹ بولنے سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ کا تعلق گناہ سے ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنم میں ہوں گی، اور اللہ سے عافیت کی دعاء مانگا کرو کیونکہ ایمان کے بعد عافیت سے بڑھ کر نعمت کسی کو نہیں دی گئی، پھر فرمایا کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بغض نہ کرو، قطع تعلقی مت کرو، ایک دوسرے سے منہ مت پھیرو، اور اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔


    (18) حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي طَائِفَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَجَاءَ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: فِدًى لَكَ أَبِي وَأُمِّي، مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا، مَاتَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ...فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَتَقَاوَدَانِ حَتَّى أَتَوْهُمْ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا أُنْزِلَ فِي الْأَنْصَارِ وَلا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَأْنِهِمْ، إِلَّا وَذَكَرَهُ، وَقَالَ: وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا، سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ ". وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا سَعْدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَأَنْتَ قَاعِدٌ: " قُرَيْشٌ وُلاةُ هَذَا الْأَمْرِ، فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّهِمْ، وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِهِمْ". قَالَ: فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: صَدَقْتَ، نَحْنُ الْوُزَرَاءُ، وَأَنْتُمُ الْأُمَرَاءُ. [قال شعيب: صحيح لغيره]
    (18) حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ جس وقت حضور نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے قریبی علاقے میں تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سنتے ہی تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور سے کپڑا ہٹایا، اسے بوسہ دیا، اور فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ زندگی میں اور اس دنیوی زندگی کے بعد بھی کتنے پاکیزہ ہیں، رب کعبہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔
    اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تیزی کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں تمام انصار مسئلہ خلافت طے کرنے کے لئے جمع تھے، یہ دونوں حضرات وہاں پہنچے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی، اس دوران انہوں نے قرآن کریم کی وہ تمام آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تمام احادیث جو انصار کی فضیلت سے تعلق رکھتی تھیں، سب بیان کردیں اور فرمایا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ اگر لوگ ایک راستے پر چلتے اور انصار دوسرے پر تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کا راستہ اختیار کرتے۔
    پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ سعد! آپ بھی جانتے ہیں کہ ایک مجلس میں جس میں آپ بھی موجود تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ خلافت کے حقدار قریش ہوں گے، لوگوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ قریش کے نیک افراد کے تابع ہوں گے اور جو بدکار ہوں گے وہ بدکاروں کے تابع ہوں گے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ سچ کہتے ہیں، اب ہم وزیر ہوں گے اور آپ امیر یعنی خلیفہ۔
     
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 29، 2016 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    (19) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ أَنَّ أَبَاهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ، وَهُوَ يَقُولُ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَعْمَلُ عَلَى مَا فُرِغَ مِنْهُ، أَوْ عَلَى أَمْرٍ مُؤْتَنَفٍ؟ قَالَ: "بَلْ عَلَى أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: "كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ". [قال شعيب: حسن لغيره]
    (19) ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ! ہم جو عمل کرتے ہیں، کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے؟ فرمایا نہیں! بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر عمل کا کیا فائدہ؟ فرمایا جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے اسباب مہیا کردیئے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کردیا جاتا ہے۔
    (فائدہ : اس حدیث کا تعلق مسئلہ تقدیر سے ہے، اس کی مکمل وضاحت کے لئے ہماری کتاب الطریق الاسلم الی شرح مسند الامام الاعظم کا مطالعہ کیجئے )


    (20) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ: أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِنُوا عَلَيْهِ، حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوِسُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ مِنْهُمْ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي ظِلِّ أُطُمٍ مِنَ الْآطَامِ مَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ، فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ مَرَّ وَلا سَلَّمَ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا يُعْجِبُكَ أَنِّي مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ؟ وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي وِلايَةِ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَتَّى سَلَّمَا عَلَيَّ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: جَاءَنِي أَخُوكَ عُمَرُ، فَذَكَرَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْكَ، فَسَلَّمَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ، فَمَا الَّذِي حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: بَلَى وَاللهِ لَقَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنَّهَا عُبِّيَّتُكُمْ يَا بَنِي أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ بِي، وَلا سَلَّمْتَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ عُثْمَانُ، وَقَدْ شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ؟ فَقُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: مَا هُوَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَوَفَّى الله عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي، فَرَدَّهَا عَلَيَّ، فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ". [قال شعيب: المرفوع منه صحيح بشواهد]
    (20) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بہت سے صحابہ کرام عنہم غمگین رہنے لگے بلکہ بعض حضرات کو طرح طرح کے وساوس نے گھیرنا شروع کردیا تھا، میری بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی، اسی تناظر میں ایک دن میں کسی ٹیلے کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا، انہوں نے مجھے سلام کیا، لیکن مجھے پتہ ہی نہ چل سکا کہ وہ یہاں سے گذر کر گئے ہیں یا انہوں نے مجھے سلام کیا ہے۔
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہاں سے ہو کر سیدھے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، اور ان سے کہا کہ آپ کو ایک حیرانگی کی بات بتاؤں؟ میں ابھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا تھا، میں نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے میرے سلام کا جواب ہی نہیں دیا؟ یہ خلافت صدیقی کا واقعہ ہے، اس مناسبت سے تھوڑی دیر بعد سامنے سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دئیے، ان دونوں نے آتے ہی مجھے سلام کیا۔
    اس کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میرے پاس ابھی تمہارے بھائی عمر آئے تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ ان کا آپ کے پاس سے گذر ہوا، انہوں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا کہ میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیوں نہیں! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ نے ایسا کیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ اے بنو امیہ! آپ لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھتے ہیں، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھے آپ کے گذرنے کا احساس ہوا اور نہ ہی مجھے آپ کے سلام کرنے کی خبر ہو سکی۔
    حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عثمان ٹھیک کہہ رہے ہیں، اچھا یہ بتائیے کہ آپ کسی سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ کن خیالات میں مستغرق تھے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اپنے پاس بلا لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی نہ پوچھ سکا کہ اس حادثہ جانکاہ سے صحیح سالم نجات پانے کا کیا راستہ ہوگا؟
    حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے متعلق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کرچکا ہوں، یہ سن کر میں کھڑا ہوگیا اور میں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ہی اس سوال کے زیادہ حقدار تھے، اس لئے اب مجھے بھی اس کا جواب بتادیجئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا یا رسول اللہ! اس حادثہ جانکاہ سے نجات کا راستہ کیا ہوگا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف سے وہ کلمہ توحید قبول کر لے ”جو میں نے اپنے چچا ابوطالب پر پیش کیا تھا اور انہوں نے وہ کلمہ کہنے سے انکار کردیا تھا“ وہ کلمہ ہی ہر شخص کے لئے نجات کا راستہ اور سبب ہے۔
     
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 29، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    (21) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حِينَ بَعَثَنِي إِلَى الشَّامِ: يَا يَزِيدُ، إِنَّ لَكَ قَرَابَةً عَسَيْتَ أَنْ تُؤْثِرَهُمْ بِالْإِمَارَةِ، وَذَلِكَ أَكْبَرُ مَا أَخَافُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَحَدًا مُحَابَاةً فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلا عَدْلًا حَتَّى يُدْخِلَهُ جَهَنَّمَ، وَمَنْ أَعْطَى أَحَدًا حِمَى اللهِ فَقَدِ انْتَهَكَ فِي حِمَى اللهِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ، أَوْ قَالَ: تَبَرَّأَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ". [اسناده ضعيف، صححه الحاكم (4/93)]
    (21) حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جب شام کی طرف روانہ فرمایا تو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا یزید! تمہاری کچھ رشتہ داریاں ہیں، ہوسکتا ہے کہ تم امیر لشکر ہونے کی وجہ سے اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دو، مجھے تمہارے متعلق سب سے زیادہ اسی چیز کا اندیشہ ہے، کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص مسلمانوں کے کسی اجتماعی معاملے کا ذمہ دار بنے، اور وہ دوسروں سے مخصوص کر کے کسی منصب پر کسی شخص کو مقرر کردے ، اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ اس کی کوئی فرض اور کوئی نفلی عبادت قبول نہیں کرے گا، یہاں تک کہ اسے جہنم میں داخل کردے۔
    اور جو شخص کسی کو اللہ کے نام پر حفاظت دینے کا وعدہ کرلے اور اس کے بعد ناحق اللہ کے نام پر دی جانے والے اس حفاظت کے وعدے کو توڑ دیتا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہے یا یہ فرمایا کہ اللہ اس سے بری ہے۔


    (22) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُعْطِيتُ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَقُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَاسْتَزَدْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِينَ أَلْفًا "قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ آتٍ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى، وَمُصِيبٌ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِي". [اسناده ضعيف]
    (22) حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اپنی امت میں ستر ہزار آدمی ایسے بھی عطاء کئے گئے ہیں جو بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ہر طرح کی بیماری سے پاک ہونے میں ایک شخص کے دل کی طرح ہوں گے۔
    میں اپنے رب سے اس تعداد میں اضافے کی درخواست کی تو اس نے میری درخواست کو قبول کرتے ہوئے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار کا اضافہ کردیا (گویا اب سترہزار میں سے ہر ایک کو ستر ہزار سے ضرب دے کر جو تعداد حاصل ہوگی، وہ سب جنت میں مذکورہ طریقے کے مطابق داخل ہوں گے) حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے کے مطابق یہ وہ لوگ ہوں گے جو بستیوں میں رہتے ہیں یا کسی دیہات کے کناروں پر آباد ہوتے ہیں۔
     
  9. ‏ستمبر 29، 2016 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    (23) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ زِيَادٍ الْجَصَّاصِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فِي الدُّنْيَا". [قال الترمذي: غريب، وفي اسناده مقال، قال الالباني: ضعيف الاسناد (الترمذي: 3039) قال شعيب: صحيح بطرقه وشواهده]
    (23) حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص برے اعمال کرے گا، اسے دنیا میں ہی اس کا بدلہ دیا جائے گا۔


    (24) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارٍ غَيْرُ مُتَّهَمٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِنُوا عَلَيْهِ، حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُوَسْوِسَ. قَالَ عُثْمَانُ: فَكُنْتُ مِنْهُمْ... فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ. [قال شعيب: صحيح بشواهده] [راجع: 20]
    (24) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بہت سے صحابہ کرام عنہم غمگین رہنے لگے، بلکہ بعض حضرات کو طرح طرح کے وساوس گھیرنا شروع کردیا تھا، میری بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی جس کا ترجمہ حدیث نمبر21 کے ذیل میں گزر چکا ہے۔
     
  10. ‏ستمبر 30، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    (25) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلامُ، فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، قَالَ: وَعَاشَتْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ. قَالَ: وَكَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكَ، وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ، إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ. فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ، فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ، وَنَوَائِبِهِ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ. قَالَ: فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ الْيَوْمَ. [صححه البخاري (3092) ومسلم (1759)] [راجع: 9]
    (25) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ مال غنیمت میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ترکہ بنتا ہے، اس کی میراث تقسیم کردیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اپنے ذہن میں اس پر کچھ بوجھ محسوس ہوا، چنانچہ انہوں نے اس معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بات کرنا ہی چھوڑ دی اور یہ سلسلہ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات تک رہا، یاد رہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چھ ماہ ہی زندہ رہیں۔
    اصل میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارض خیبر وفدک میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ کا مطالبہ کر رہی تھیں، نیز صدقات مدینہ میں سے بھی اپنا حصہ وصول کرنا چاہتی تھیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس مطالبے کو پورا کرنے سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح جو کام کرتے تھے، میں اسے چھوڑ نہیں سکتا بلکہ اسی طرح عمل کروں گا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، اس لئے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عمل اور طریقے کو چھوڑا تو میں بہک جاؤں گا۔
    بعد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صدقات مدینہ کا انتظام حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا تھا، جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر غالب آگئے، جبکہ خیبر اور فدک کی زمینیں حضرت عمر فارو ق رضی اللہ عنہ نے خلاف کے زیر انتظام ہی رکھیں اور فرمایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہیں، اور اس کا مصرف پیش آمدہ حقوق اور مشکل حالات ہیں اور ان کی ذمہ داری وہی سنبھالے گا جو خلیفہ ہو، یہی وجہ ہے کہ آج تک ان دونوں کی یہی صورت حال ہے۔


    (26) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ، قََالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا تَمَثَّلَتْ بِهَذَا الْبَيْتِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْضِي [البحر الطويل]:
    وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ رَبِيعُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ
    فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ذَاكَ وَاللهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
    [اسناده ضعيف]
    (26) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس دنیوی فانی زندگی کے آخری لمحات گذار رہے تھے تو میں نے ایک شعر پڑھا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ ایسے خوبصورت چہرے والا ہے کہ جس کے روئے انور کی برکت سے طلب باران کی جاتی ہے، یتیموں کا سہارا اور بیواؤں کا محافظ ہے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شان ہے۔


    (27) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي: أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَقْبُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَنْ يُقْبَرَ نَبِيٌّ إِلَّا حَيْثُ يَمُوتُ". فَأَخَّرُوا فِرَاشَهُ، وَحَفَرُوا لَهُ تَحْتَ فِرَاشِهِ. [قال شعيب: قوي بطرقه]
    (27) ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے یہ حدیث سنائی کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو لوگوں کے علم میں یہ بات نہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کہاں بنائی جائے؟ حتی کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کی قبر وہیں بنائی جاتی ہے جہاں ان کا انتقال ہوتا ہے، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر مبارک اٹھا کر اس کے نیچے قبر مبارک کھودی اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔


    (28) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاتِي، قَالَ: "قُلْ: اللهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ". [صححه البخاري (834) ومسلم (2705)] [راجع: 8]
    (28) ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یار سول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعاء سکھا دیجئے جو میں نماز میں مانگ لیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعاء تلقین فرمائی کہ اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا، تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا، اس لئے خاص اپنے فضل سے میرے گناہوں کو معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما، بے شک تو بڑ ابخشنے والا، مہربان ہے۔


    (29) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ} [المائدة: 105]- حَتَّى أَتَى عَلَى آخِرِ الْآيَةِ - أَلا وَإِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ لَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، أَوْشَكَ اللهُ أَنْ يَعُمَّهُمْ بِعِقَابِهِ، أَلا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُول ُ: " إِنَّ النَّاسَ ... ". وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [قال شعيب: اسناده صحيح] [راجع: 1]
    (29) قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو
    (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 5-المآئدہ:105)
    "اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتا۔"
    یاد رکھو! جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا۔ یاد رکھو! کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔


    (30) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: يا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابِهِ". [قال شعيب: اسناده صحيح] [راجع: 1]
    (30) قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا اے لوگو! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو
    (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 5-المآئدہ:105)
    "اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتا۔"
    میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں