1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسنون رکعات تراویح،احادیث صحیحہ کی روشنی میں

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏جولائی 07، 2014۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جولائی 21، 2014 #41
    یزید حسین

    یزید حسین رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 12، 2014
    پیغامات:
    226
    موصول شکریہ جات:
    66
    تمغے کے پوائنٹ:
    42

    جناب فیض الابرار صاحب کے جھوٹ پر جھوٹ !
    محترم پہلے آپ نے لکھا تھا کہ(سب سے پہلے امام کا نام تو میں بتا دیتا ہوں جو 17 ھجری سے 24 ھجری تک مسجد نبوی میں 8 تراویح پڑھاتا رہا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ)
    بندہ نے اس کے جواب میں جناب سے پوچھا تھا کہ(اپنے دعوی کے خظِ کشید الفاظ کو مد نظر رکھیں اور اس روایت میں اُن الفاظ کی نشاندہی کر دیں جس کا ترجمہ یہ بنتا ہوں کہ" حضرت ابی بن کعب 17ھ سے 24 ھ تک مسجد نبوی میں آٹھ رکعت تراویح پڑھاتے رہے؟)
    جناب نے اپنے اس جھوٹ پر خاموشی میں عافیت سمجھی کیوں؟؟؟اس جھوٹ سے بری الذمہ ہوں ،17ھ سے 24 ھ تک سیدنا ابی بن کعب کا آٹھ رکعت تراویح پڑھانا ثابت کریں

    اب جناب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے اور لکھا کہ (مسجد نبوی میں تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعت نماز کی امامت کی تین دن تک اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ نماز تراویح آٹھ رکعت مسنون ہے)
    محترم نبی اکرم نے رمضان المبارک کی آخری راتوں میں تین دن جو باجماعت نماز مسجد میں پڑھائی تھی ان تین دن کی نماز میں آٹھ رکعت پڑھانے کی صحیح سند نقل کر دیں ۔ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے سے توبہ کریں۔
    بھائی محمد باقر صاحب حفظہ اللہ تعالی نے ایک امیج لگائی ہے اور اس میں نامور محدثین سے ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح کا کوئی عدد معین نہیں ہے ،کیا ان محدثین کو آٹھ رکعت تراویح کی احادیث یاد نہیں تھی؟کیا یہ نبی اکرم کی اس سنت کو جانتے ہی نہیں تھے
     
  2. ‏جولائی 21، 2014 #42
    یزید حسین

    یزید حسین رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 12، 2014
    پیغامات:
    226
    موصول شکریہ جات:
    66
    تمغے کے پوائنٹ:
    42

    بندہ نے یہ نام کسی خاص وجہ سے رکھا ہے اگر جناب کو اس نام پر کوئی اعتراض ہے تو بتائیں ؟
     
  3. ‏جولائی 22، 2014 #43
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن آپ کی باتیں یہ بتا رہی ہیں کہ آپ کے پاس مجلسی علم ہے اور ہم عقلی دلائل کے مقابلے میں منقول کو راجح سمجھتے ہیں اور نقلی اور صریح دلائل کے مقابلے میں لا یعنی اور فضول سوالات کو صرف وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں
    اور یزید حسین کا نام تو کسی اور طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ؟؟؟؟؟؟؟؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 23، 2014 #44
    معاویہ زین العابدین

    معاویہ زین العابدین بین یوزر
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2014
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    44
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    فیض صاحب آپ نے لکھا ہے کہ
    "ورنہ صحابہ کرام سے تو بیس رکعت سے زیادہ بھی قیام اللیل کا ذکر ملتا ہے"

    اگر تراویح آٹھ رکعات مسنون ہیں تو کیا صحابہ کرام علیہم الرضوان بیس سے زیادہ پڑھ کر اس مسنون طریقہ کے خلاف چلتے رہے؟
     
  5. ‏جولائی 23، 2014 #45
    معاویہ زین العابدین

    معاویہ زین العابدین بین یوزر
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2014
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    44
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    محمد باقر بھائی : آپ نے اس دھاگہ کو غور سے نہیں پڑھا اس میں اور بھی کئی جھوٹ چھپے ہوئے ہیں ،عبارتوں کا من مانی ترجمہ کیا ہے ان لوگوں نے ،یہ فیض صاحب جنہیں "علمِ لدنی" کا دعوی ہے یہ خود اس دھاگہ میں جناب کفایت اللہ صاحب کے اندھے مقلد بنے ہوئے ہیں ۔اب انہیں تقلید کا شرک نظر نہیں آیا؟یہ کبھی صحابہ کرام پر جھوٹ بولتے ہیں اور کبھی خلفائے راشدین پر اور حد تو یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتے نہیں شرماتے اور دعوی ہے قرآن وسنت پہ چلنے کا
    آئیے دیکھتے ہیں اس دھاگہ کے جھوٹ و فریب:
    اس دھاگہ کو شروع کرتے ہوئے ہمارے اس فورم کے علمی نگران جناب کفایت اللہ صاحب نے بخاری کی ایک حدیث مبارکہ نقل کی جس میں ان الفاظ: كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ: کا ترجمہ کیا گیا کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے:
    ابو سلمہ نے تعداد کا پوچھا ہی نہیں نماز کی کیفیت کے متعلق سوال کیا تھا !کمیت کے متعلق نہیں تو یہ ترجمہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے:کیسے درست ہو سکتا ہے؟
    حدیث عائشہ صدیقہ سے تراویح پر استدلال ہی غلط ہے کیونکہ یہ تو گھر کی نماز ہے اور ہے بھی بلا جماعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھتے بھی رات کے آخری حصہ میں تھے اور وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے تھے جبکہ اہل حدیث حضرات ہمیشہ مسجد میں باجماعت تراویح پڑھتے ہیں رات کے اول حصہ میں پڑھتے ہیں وتروں سے پہلے سوتے بھی نہیں اور وتر بھی اول وقت میں پڑھتے ہیں تو یہ حدیث تو اِن کے عمل کے مکمل خلاف ہے تو یہ دلیل کیسے بن گئی؟ دلیل وہ پیش کریں جو ان کے عمل کے مطابق ہو۔
    اس حدیث میں رکعات کی تعداد کچھ اس طرح ہے آٹھ رکعات تھجد اور تین وتر جبکہ جناب کفایت اللہ صاحب نے جو دوسری حدیث مسلم سے پیش کی وہ اس حدیث کے بھی خلاف ہے اس میں دس رکعات تھجد اور ایک وتر کا ذکر ہے ۔ یہ بھی گھر کی بلاجماعت نماز ہےیہ حدیث بھی اِن کے مکمل عمل کے خلاف ہوئی تو یہ دلیل کیسے بن گئی؟
    ان دو احادیث کے بعد جناب کفایت اللہ صاحب نے دو احادیث نقل کی اور نقل کرنے کے بعد لکھا کہ :یہ حدیث بالکل صحیح ہے اس کے تمام راوۃ ثقہ ہیں تفصیل ملاحظہ ہو:
    مسند ابی یعلی میں یہ دونوں احادیث موجود ہیں ،مسند ابی یعلی میں ان احادیث کو نقل کرنے کے بعد "حسین سلیم اسد " نے ان پر ضعیف ہونے کا حکم لگایا ہے "موسوعۃ الحدیث الاصدار ثالث"

    1801 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ يَعْنِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟» ، قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي، قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
    [حكم حسين سليم أسد] :
    إسناده ضعيف (3/336)

    اس روایت میں بھی گھر کی نماز کا ذکر ہے اسے جناب نے کیسے دلیل بنایا؟پھر ہے بھی ضعیف




    1801 - حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا، فَلَمْ نَزَلْ فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا، ثُمَّ دَخَلْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ تُصَلِّيَ بِنَا، فَقَالَ: «إِنِّي خَشِيتُ أَوْ كَرِهْتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ»
    [حكم حسين سليم أسد] :
    إسناده ضعيف (3/336)



    ضعیف احادیث سے تراویح آٹھ رکعات ثابت نہیں ہوتی؟

    اب آتا ہوں جناب فیض صاحب کے جھوٹوں کی طرف جناب نے پوسٹ نمبر 23 میں دو جھوٹ لکھے کہ :الحمدللہ جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین سے ثابت ہے:
    فیض صاحب :باجماعت پورا رمضان مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعات تراویح پڑھبا ثابت نہیں ہے ،ہمت کریں ایک صحیح حدیث نقل کریں ورنہ اپنے اس جھوٹ پر شرمندہ ہو کر اللہ سے معافی مانگیں۔دوسری بات جناب نے لکھی کہ خلفائے راشدیں سے ثابت ہے ،جناب ہمت کریں اور سیدنا ابوبکر صدیق ،سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثان بن عفان، سیدنا علی المرتضی،سیدنا حسن بن علی،سیدنا معاویہ بن ابی سفیان سے آٹھ رکعات تراویح پڑھنے یا پڑھانے کا ثبوت فراہم کریں ،ورنہ اس جھوٹ پر بھی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ سے معافی مانگیں
    جھوٹ نمبر 3÷سب سے پہلے امام کا نام تو میں بتا دیتا ہوں جو 17 ھجری سے 24 ھجری تک مسجد نبوی میں 8 تراویح پڑھاتا:
    یہ بات لکھ کر جناب نے جناب کفایت اللہ صاحب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے یہ روایت لکھی
    کفایت اللہ صاحب کی پوسٹ سے حدیث اور استدلال نقل کر رہا ہوں
    امام مالك رحمه الله (المتوفى179)نے کہا:

    عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ: وَقَدْ «كَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ، حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعِصِيِّ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ»[موطأ مالك : 1/ 115واسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ومن طريق مالك رواه النسائی فی السنن الکبری 3/ 113 رقم 4687 و الطحاوی فی شرح معاني الآثار 1/ 293 رقم1741 وابوبکر النیسابوی فی الفوائد (مخطوط) ص 16 رقم 18 ترقیم الشاملہ و البیہقی فی السنن الكبرى 2/ 496 رقم 4392 کلھم من طریق مالک بہ]۔

    سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو گیارہ رکعات تراویح پڑھانے کا حکم دیا ، سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امام سوسو آیتیں ایک رکعت میں پڑھتا تھا یہاں تک کہ ہم طویل قیام کی وجہ لکڑی پر ٹیک لگا کرکھڑے ہوتے تھے اورفجرکے قریب ہی نماز سے فارغ ہوتے تھے۔

    اس روایت میں کہاں لکھا ہے کہ ابی بن کعب 17ھ سے 24ھ تک آٹھ رکعات تراویح پڑھاتے رہے؟ اس جھوٹ کو ثابت کریں یا اس پر بھی شرمندگی کرتے ہوئے اللہ سے معافی مانگیں ۔دوسری بات اس روایت میں رمضان کا ذکر نہیں ،تیسری بات یہ موجود ہے کہ حضرت عمر نے ابی بن کعب کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم کیا تھا جبکہ اہل حدیث آٹھ رکعات پڑھتے ہیں ؟ چوتھی بات یہ کہ امام سو سو ایات پڑھتا تھا اہل حدیث ایسا نہیں کرتے؟ پانچویں بات یہ کہ صحابہ فجر کے قریب اس نماز سے فارغ ہوتے تھے جب کہ اہل حدیث اول وقت پڑھ کر گھروں میں جاکر سو جاتے ہیں ؟یہ روایت اہل حدیث کے مکمل عمل کے خلاف ہے تو دلیل کیسے بن گئی؟
    جھوٹ نمبر 4:مسجد نبوی میں تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعت نماز کی امامت کی تین دن تک:

    تین دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قیام رمضان کیا تھا آخری عشرہ میں ان تین دن کی نماز میں آٹھ رکعات پڑھانے کی حدیث صحیح نقل کریں ،ورنہ رسول اللہ پر جھوٹ باندھنے کی سخت وعید سے نہ بچ سکیں گے یا اس جھوٹ سے بھی تائب ہوں اور اپنے اللہ سے معافی مانگیں؟
    جناب نے یزید حسین کو مخاب کر کے لکھا کہ:اور اگر آپ 17 ھجری سے پہلے کے اسلام کو مانتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے صریح فرامین کی موجودگی میں ایسے لایعنی سوالات نہ کرتے:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے با جماعت رمضان المبارک میں پورا مہینہ آٹھ رکعات پڑھانا ثابت نہیں ہے ، چہ جائیکہ کہ صریح فرامیں ہوں؟اگر صریح فرامین ہیں پیش تو کریں؟ جھوٹ پر جھوٹ نہ گھڑھیں؟
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 23، 2014 #46
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    یزید حسین صاحب آپ کو ایک دوسرے اسی طرح کے مشکوک نام سے فورم پر آنے کی ضرورت نہیں آپ یزید حسین کے نام سے ہی یہ اعتراضات اٹھائیں جوابات مل جائیں گے اب اس کے بعد آپ نے پھر مروان باقر کے نام سے فورم پر آنا ہے اور پھر عبدالمالک جعفر ، لاہور جانے کے لیے پشاور جانا ضروری نہیں
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 23، 2014 #47
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    یزید حسین المعروف معاویہ زین العابدین مجھے صرف یہ بتا دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے خلیفہ کے انتخاب کا جو طریقہ اختیار کیا تھا کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تھا یا انہوں نے سنت کی مخالفت کی تھی؟
    پھر میں آپ کو بتاوں گا کہ صحابہ کرام نے اگر بیس سے زائد پڑھی تو کیا سنت کی مٰخالفت کی تھی یا نہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 23، 2014 #48
    یزید حسین

    یزید حسین رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 12، 2014
    پیغامات:
    226
    موصول شکریہ جات:
    66
    تمغے کے پوائنٹ:
    42

    بھائی فیض الابرار صاحب : کیوں رمضان المبارک میں جھوٹ پر جھوٹ لکھنے پر لگے ہیں ،کیا جناب نے "زبان" کا روزہ ترک کیا ہوا ہے؟ یا اس کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے ،کبھی صحابہ کرام پر جھوٹ ،کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ،جناب نہ اپنے ان جھوٹوں کو ثابت کرتے ہیں اور نہ ہی توبہ کرتے ہیں ، کذاب راوی کی کوئی بات قابل قبول نہیں ہوتی اپنے پر سے کذب کی جرح اُٹھائیں ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب جناب نے ایک نیا شوشہ چھوڑا کہ مجھے معاویہ زین العابدین بنا دیا ۔(لعن۔۔۔۔۔۔۔۔ )یہ شوشہ چھوڑ کر جناب کی جان چھٹنے والی نہیں ،جواب نہیں دینا چاہتے تو صاف صاف انکار کر دیں ، اپنے جھوٹوں سے فرار کی کوشش نہ کریں ۔بندہ نے جناب کے جن جھوٹوں کی نشاندہی کی ہے اس سے بری الذمہ ہوں۔
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 23، 2014 #49
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    مجھے صرف یہ بتا دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے خلیفہ کے انتخاب کا جو طریقہ اختیار کیا تھا کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تھا یا انہوں نے سنت کی مخالفت کی تھی؟
    پھر میں آپ کو بتاوں گا کہ صحابہ کرام نے اگر بیس سے زائد پڑھی تو کیا سنت کی مٰخالفت کی تھی یا نہیں۔
     
  10. ‏جولائی 23، 2014 #50
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    استغفراللہ۔
    بحیثیت انتظامیہ ہم ہرممکن حد تک کوشش کرتے ہیں کہ اراکین کی ایسی باتوں پر پردہ پڑا رہے۔
    لیکن بعض اوقات ایسی مجبوری آن پڑتی ہے کہ اصل بات آشکارا کرنا، اس کو چھپانے سے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔
    عرض ہے کہ:
    @یزید حسین
    @محمد باقر
    @معاویہ زین العابدین
    @علی معاویہ بھائی بھائی

    یہ سب ایک ہی رکن کی آئی ڈیز ہیں۔
    آپ سے گزارش ہے کہ اپنی جو آئی ڈی برقرار رکھنا چاہیں وہ مجھے بتا دیں۔ دیگر آئی ڈیز کو ہم بلاک کر رہے ہیں۔ اور اس موضوع پر مزید کوئی بات اس دھاگے میں نہ کریں، مجھے ذاتی پیغام کر دیں یا شکایات و تجاویز سیکشن میں نیا دھاگا بنا لیں۔
     
    • زبردست x 5
    • شکریہ x 1
    • پسند x 1
    • متفق x 1
    • معلوماتی x 1
    • مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں