1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشرکین کا ہدیہ قبول کرلینا

'ہبہ اور عطیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 20، 2012۔

  1. ‏مئی 20، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,951
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وقال أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هاجر إبراهيم ـ عليه السلام ـ بسارة فدخل قرية فيها ملك أو جبار فقال أعطوها آجر ‏"‏‏.‏ وأهديت للنبي صلى الله عليه وسلم شاة فيها سم‏.‏ وقال أبو حميد أهدى ملك أيلة للنبي صلى الله عليه وسلم بغلة بيضاء،‏‏‏‏ وكساه بردا،‏‏‏‏ وكتب له ببحرهم‏.‏
    اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ کے ساتھ ہجرت کی تو وہ ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک کافر بادشاہ یا (یہ کہا کہ) ظالم بادشاہ تھا۔ اس بادشاہ نے کہا کہ انہیں (ابراہیم علیہ السلام کو) آجر (ہاجرہ) کو دے دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (خیبر کے یہودیوں کی طرف سے دشمنی میں) ہدیہ کے طور پر بکری کا ایسا گوشت پیش کیا گیا تھا جس میں زہر تھا۔ ابوحمید نے بیان کیا کہ ایلہ کے حاکم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفید خچر اور چادر ہدیہ کے طور بھیجی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھوایا کہ وہ اپنی قوم کے حاکم کی حیثیت سے باقی رہے۔ (کیونکہ اس نے جزیہ دینامنظور کر لیا تھا)۔


    حدیث نمبر: 2615
    حدثنا عبد الله بن محمد،‏‏‏‏ حدثنا يونس بن محمد،‏‏‏‏ حدثنا شيبان،‏‏‏‏ عن قتادة،‏‏‏‏ حدثنا أنس ـ رضى الله عنه ـ قال أهدي للنبي صلى الله عليه وسلم جبة سندس،‏‏‏‏ وكان ينهى عن الحرير،‏‏‏‏ فعجب الناس منها فقال ‏"‏ والذي نفس محمد بيده لمناديل سعد بن معاذ في الجنة أحسن من هذا ‏"‏‏.‏

    ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ آپ اس کے استعمال سے (مردوں کو) منع فرماتے تھے۔ صحابہ کو بڑی حیرت ہوئی (کہ کتنا عمدہ ریشم ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (تمہیں اس پر حیرت ہے) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔


    حدیث نمبر: 2616
    وقال سعيد عن قتادة،‏‏‏‏ عن أنس،‏‏‏‏ إن أكيدر دومة أهدى إلى النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏

    سعد نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ دومہ (تبوک کے قریب ایک مقام) کے اکیدر (نصرانی) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا تھا۔


    حدیث نمبر: 2617
    حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب،‏‏‏‏ حدثنا خالد بن الحارث،‏‏‏‏ حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن هشام بن زيد،‏‏‏‏ عن أنس بن مالك ـ رضى الله عنه ـ أن يهودية،‏‏‏‏ أتت النبي صلى الله عليه وسلم بشاة مسمومة،‏‏‏‏ فأكل منها فجيء بها فقيل ألا نقتلها‏.‏ قال ‏"‏ لا ‏"‏‏.‏ فما زلت أعرفها في لهوات رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏

    ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ہشام بن زید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا (لیکن فوراً ہی فرمایا کہ اس میں زہر پڑا ہوا ہے) پھر جب اسے لایا گیا (اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کر لیا) تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیا۔


    حدیث نمبر: 2618
    حدثنا أبو النعمان،‏‏‏‏ حدثنا المعتمر بن سليمان،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن أبي عثمان،‏‏‏‏ عن عبد الرحمن بن أبي بكر ـ رضى الله عنهما ـ قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثين ومائة فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هل مع أحد منكم طعام ‏"‏‏.‏ فإذا مع رجل صاع من طعام أو نحوه،‏‏‏‏ فعجن ثم جاء رجل مشرك مشعان طويل بغنم يسوقها،‏‏‏‏ فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بيعا أم عطية ـ أو قال ـ أم هبة ‏"‏‏.‏ قال لا،‏‏‏‏ بل بيع‏.‏ فاشترى منه شاة،‏‏‏‏ فصنعت وأمر النبي صلى الله عليه وسلم بسواد البطن أن يشوى،‏‏‏‏ وايم الله ما في الثلاثين والمائة إلا قد حز النبي صلى الله عليه وسلم له حزة من سواد بطنها،‏‏‏‏ إن كان شاهدا أعطاها إياه،‏‏‏‏ وإن كان غائبا خبأ له،‏‏‏‏ فجعل منها قصعتين،‏‏‏‏ فأكلوا أجمعون،‏‏‏‏ وشبعنا،‏‏‏‏ ففضلت القصعتان،‏‏‏‏ فحملناه على البعير‏.‏ أو كما قال‏.‏

    ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک سفر میں) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا کسی کے ساتھ کھانے کی بھی کوئی چیز ہے؟ ایک صحابی کے ساتھ تقریباً ایک صاع کھانا (آٹا) تھا۔ وہ آٹا گوندھا گیا۔ پھر ایک لمبا تڑنگا مشرک پریشان حال بکریاں ہانکتا ہوا آیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ بیچنے کے لیے ہیں۔ یا کسی کا عطیہ ہی یا آپ نے (عطیہ کی بجائے) ہبہ فرمایا۔ اس نے کہا کہ نہیں بیچنے کے لیے ہیں۔ آپ نے اس سے ایک بکری خریدی پھر وہ ذبح کی گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی بھوننے کے لیے کہا۔ قسم خدا کی ایک سو تیس اصحاب میں سے ہر ایک کو اس کلیجی میں سے کاٹ کے دیا۔ جو موجود تھے انہیں تو آپ نے فوراً ہی دے دیا اور جو اس وقت موجود نہیں تھے ان کا حصہ محفوظ رکھ لیا۔ پھر بکری کے گوشت کو دو بڑی قابوں میں رکھا گیا اور سب نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ جو کچھ قابوں میں بچ گیا تھا اسے اونٹ پر رکھ کر ہم واپس لائے۔ او کما قال۔


    کتاب الہبہ صحیح بخاری
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 27، 2013 #2
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    مذکورہ جملے کو میں غالباً صحیح نہیں سمجھ رہا ہوں ۔ کیا یہ جملہ اس طرح نہیں ہے ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 27، 2013 #3
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ دینا بھی جائز ہے لیکن میرا ایک سوال ہے کہ اگر اسرائیل کاظالم و جابر حکمران کسی مسلمان کو تحفہ بھیجے اور وہ اس کو قبول کر لے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا خیا ل ہے ؟ کیا سب مشرکوں کا تحفہ قبول کر لیا جا ئے یا ان میں فرق کیا جاے گا؟ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ آپ کی بات ادھوری ہے ،اس کو پورا کریں


    «إني لا أقبل هدية مشرك»[طب] عن كعب بن مالك. الصحيحة 1727: البزار، هق في [الدلائل]
    وَكُنْتُ حَرْبًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَيْتُ إِلَيْهِ نَاقَةً، قَبْلَ أَنْ أسلم، فلم يقبلها، " إِنِّي أَكْرَهُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ" (صحیح الادب المفرد:حدیث:۳۳۱)
    أخرجه الحاكم (3 / 484 - 485) وأحمد (3 / 401) عن ليث بن سعد حدثني عبيد
    الله بن المغيرة عن عراك بن مالك أن حكيم بن حزام قال:كان محمد صلى الله
    عليه وسلم أحب رجل في الناس إلي في الجاهلية، فلما تنبأ وخرج إلى المدينة شهد
    حكيم بن حزام الموسم، وهو كافر، فوجد حلة لذي يزن تباع، فاشتراها بخمسين
    دينارا، ليهديها لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقدم بها عليه المدينة،
    فأراده على قبضها هدية، فأبى - قال عبيد الله حسبت أنه قال: (فذكره) ولكن
    إن شئت أخذناها بالثمن، فأعطيته حين أبى علي الهدية ". وقال الحاكم: " صحيح
    الإسناد ". ووافقه الذهبي، وهو كما قالا. وله شاهد من حديث عياض بن حمار
    بإسناد صحيح عنه نحوه، وهو مخرج في " الروض النضير " (741)


    ان دلائل سےمیرا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ مشرکین سے ہدیہ قبول نہین کیا جاے گا بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ ہر مشرک کا تحفہ قبول نہیں کیا جاے گا و اللہ اعلم بالصواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں