1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

مشرک اور بدعتی کو زکوۃ، فطرہ اور صدقہ دینا کیسا ہے؟

'زکوۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏جون 25، 2017۔

  1. ‏جون 25، 2017 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,727
    موصول شکریہ جات:
    971
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

    مشرک اور بدعتی کو زکوۃ، فطرہ اور صدقہ دینا کیسا ہے؟
    اگر سب کا حکم الگ الگ ہے تو الگ الگ بیان کریں.
    جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏جون 25، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    تفصیل کیلئے وقت نہیں ،اجمالاً عرض ہے کہ :

    قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله :
    "ولا ينبغي أن تعطى الزكاة لمن لا يستعين بها على طاعة الله ، فإن الله تعالى فرضها معونة على طاعته لمن يحتاج إليها من المؤمنين ، كالفقراء والغارمين ، أو لمن يعاون المؤمنين . فمن لا يصلي من أهل الحاجات لا يُعطى شيئاً حتى يتوب ، ويلتزم أداء الصلاة في أوقاتها" . ))انتهى من "الاختيارات" ص 154 .
    امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں :
    جو آدمی زکاۃ کے مال اللہ تعالی کی اطاعت کیلئے مدد نہیں لیتا ، اسے زکوٰۃ نہیں دینا چاہیئے ، کیونکہ اللہ عزووجل نے زکوٰۃ اسی لئے فرض کی ہے کہ
    مالی لحاظ سے محتاج اہل ایمان جیسے فقراء و قرض دار یا وہ لوگ جو اہل ایمان کے مددگار بنیں ان کیلئے ہے ،
    اس لئے جو ضرورت مند تو ہو لیکن بے نماز ہو اسے اس وقت تک زکاۃ نہ دی جائے جب تک توبہ نہ کرے اور مقررہ اوقات میں نماز کا التزام نہ کرلے ۔ ( الاختیارات الفقہیہ )
    والله أعلم
     
  3. ‏جون 25، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    غیر مسلموں کو صدقہ دینا
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    کیا غیر مسلموں کو صدقہ دینا جائز ہے ؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    کافروں کو زکوۃ دینا تو جا ئز نہیں اور نفل صدقہ دینا مکرو ہ ہے کیونکہ اس طرح کفر پر ان کی عانت ہے اور فر ما ن با ر ی تعا لیٰ ہے :
    ﴿وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدونِ...٢﴾... سورة المائدة

    "اور گناہ اور ظلم کی باتو ں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کیا کر و۔"
    لیکن اس طرح اگر غیر مسلم کے مسلما ن ہو نے کی امید ہو تو پھر اسے صدقہ دینے میں کو ئی حرج نہیں اسی طرح اگر کا فر کے بھوک سے مر نے کا ڈر ہو تو پھر بھی اس کی جا ن بچا نے کے لئے اس پر صدقہ کر نا جا ئز ہے تا کہ اسے اسلام کی خو بیوں کا بھی پتہ چل جا ئے ۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
     
  4. ‏جون 27، 2017 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,727
    موصول شکریہ جات:
    971
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    شیخ محترم!
    ہر کسی کا الگ الگ حکم بیان کر دیں. بڑی مہربانی ہوگی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں