1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مصحف المدینۃ النبویۃکی اہمیت اور اس پر تحقیقی کام کا تعارف

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏دسمبر 20، 2011۔

  1. ‏دسمبر 20، 2011 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مصحف المدینۃ النبویۃکی اہمیت اور اس پر تحقیقی کام کا تعارف

    قاری محمد ادریس العاصم​

    اللہ وحدہ لا شریک نے جب انسان کوتخلیق فرمایا تواس کی روحانی اور اَخلاقی تربیت کے لیے اپنے برگزیدہ رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ان پیغمبروں میں سے صاحب شریعت رسولوں کو کتب سماوی بھی عطا فرمائی گئیں تاکہ اس زمانے کے لوگوں کی روحانی و اَخلاقی تربیت کا ایک دستور العمل ان کے درمیان موجود رہے۔
    آنحضرتﷺ سے قبل جس قدر بھی انبیاء و رسل مبعوث ہوئے وہ کسی خاص قوم اور ایک مخصوص مدت کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ مگر آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی وہ عالی مرتبت ہستی ہے جن کو قیامت تک کے انسانوں کی راہنمائی کے لیے مبعوث کیا گیااور یہی شان آپﷺ پرنازل ہونے والی کتاب قرآن حکیم کی ہے۔ ضروری تھا کہ آپﷺ پرنازل ہونے والے قرآن حکیم فرقان حمید کو بھی تاقیامت قائم و دائم رکھا جائے۔یقیناً حفاظت قرآن کااہم فریضہ انسان کے بس کا کام نہیں تھا۔
    چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ’’إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحٰفِظُوْنَ‘‘ (الحجر:۹)
    ’’یعنی بے شک ہم ہی نے قرآن نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
     
  2. ‏دسمبر 20، 2011 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اسی طرح اِرشاد الٰہی ہے:
    ’’لَا یَاتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہِ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ‘‘ (حم السجدۃ :۴۲)
    ’’یعنی اس پر جھوٹ کا دخل نہیں آگے سے اور نہ پیچھے سے اتاری ہوئی ہے حکمتوں والے، سب تعریفوں والے کی۔‘‘
    اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺکو یہ مذہب جلیلہ سونپا کہ وہ قرآن کی حفاظت، جمع اور اس کی نشرواشاعت کا اہتمام کریں۔ پس آپﷺ نے قرآن حکیم کے الفاظ کی تحریری، صوتی اورادائی ہر طریقے سے حفاظت کااہم فریضہ سرانجام دیا۔
    ’’إِقْرَأ وَرَبُّکَ الاَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ‘‘ (العلق :۳،۴)
    کے ذیل میں ڈاکٹر حمیداللہ رحمہ اللہ اپنے فرانسیسی ترجمہ قرآن میں تحریر فرماتے ہیں:
    ’’اس پہلی وحی کالب لباب انسانی علم کا ایک ذریعہ ہونے کے سبب قلم کی تعریف کرنا ہے جس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ نبی کریمﷺ کا ایک منصب جلیلہ قرآن کریم کو تحریری شکل میں محفوظ رکھنا بھی تھا۔‘‘ (ابتدائیہ ص:۱۶۰)
    ڈاکٹر حمید اللہ رحمہ اللہ کی اس بات کی مزید وضاحت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جوکہ الدیلمی ص۳۱۴، کنز العمّال، ج۱۰، اور الدّر المنثور: ۱؍۱ میں بیان ہوئی ہے کہ کاتب ِوحی حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا:
    (یا معاویۃ الق الدواۃ وحرف العلم وانصب البآء وفرق السین ولا تعور المیم وحسن اﷲ ومد الرحمن وجود الرحیم وضع قلمک علیٰ أذنک الیسریٰ فانہ أذکر لک)
    ’’یعنی اے معاویہ دوات کا منہ کھلا رکھو تاکہ تنگی کے سبب دقت نہ ہو اور قلم پرترچھا قط لگاؤ اور بسم اللہ کی باء کوخوب بڑا لکھو اور سین کے دندانوں کو بھی واضح کرو اور میم کی آنکھ کو خراب نہ کرو اور لفظ اللہ کو خوبصورت لکھو اور رحمن کے نون کو دراز کرو اور الرحیم کو عمدگی سے لکھو اور اپنے قلم کو اپنے بائیں کان پر رکھو وہ تمہیں بھولی چیز یاد کرادے گا۔‘‘
    غرض ان تمام انتظامات اوراہتمام کے ساتھ قرآن کو دورِ رسالتؐ میں محفوظ کیاجاتا رہا۔
    صحابہ کرام کو آپﷺ نے قرآن کو تحریری صورت میںلکھنے کی خاص تربیت دی جیساکہ یہ بات بیان کردہ حدیث سے بھی واضح ہے۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ [الاتقان فی علوم القرآن:۲؍۳۴۸] میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ امام بیہقی رحمہ اللہ نے کتاب شعب الایمان میں ابی حکیم العبدی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا حضرت علیؓ میرے پاس سے گزرے میں اس وقت مصحف کی کتابت کررہاتھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اپنے قلم کوجلی کرلو میں نے قلم پر ایک قط لگا لیا اور لکھنے لگا۔ حضرت علیؓ نے قلم کوملاحظہ کیااور فرمایاہاں اب تم کتابت قرآن کوروشن اور واضح کرو گے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے اسے روشن اور واضح بنایاہے جمہورعلماء رسم اس بات کے حامی ہیں کہ قرآن کا مخصوص رسم الخط اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھا اور قرآن کو اس مخصوص رسم الخط پر لکھنادراصل آنحضرت ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔
    جیساکہ امام ابوالقاسم بن فیرہ الشاطبی الاندلسی رحمہ اللہ (متوفی ۵۹۰ھ)فرماتے ہیں:
    وکل ما فیہ مشھور بسنتہٖ​

    ’’یعنی قرآن حکیم میں جس قدر بھی اوضاع ہی ںوہ سب آنحضرتﷺ کے حکم اور سنت سے شہرت یافتہ ہیں۔‘‘
    برہان الدین ابراہیم بن عمر خلیلالجعبریالسلفی رحمہ اللہ ’’روضۃ الطرائف فی رسم المصاحف‘‘ میں فرماتے ہیں:
    ’’رسم المصاحف توقیفی و واجب الاتباع بالاجماع وھو مذھب الائمۃ الاربعہ‘‘
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 20، 2011 #3
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    عربی رسم الخط میں نقط۔حرکات و سکنات نہ تھے، جیساکہ اس کی تصریح ڈاکٹر محمد بیوی مہران حفظہ اللہ نے اپنی کتاب ’دراسات فی تاریخ العربی القدیم‘میں ص۵۴ پر کی ہے۔جب تلفظ میں دشواریاں پیدا ہوئیں تو نقطے اورحرکات و سکنات وجود میں آئے۔
    نقط سے مراد حروف معجمہ اور مہملہ میں امتیازی علامات یعنی نقطے ہیں۔نقط پر سب سے پہلا کام حضرت عمررضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد رشید ابوالاسودالدؤلی رحمہ اللہ (م۶۹ھ) نے کیاجبکہ ابوالاسودرحمہ اللہ کے شاگردوں نصر بن عاصم لیثی رحمہ اللہ(م۸۹ھ) اور یحییٰ بن یعمر ابوسلیمان عدوانی رحمہ اللہ (م۹۰ھ)نے شکل و ضبط پرکام کیا۔ ان دونوں حضرات کا کام ابتدائی نوعیت کا تھا اور مزید تحقیق و تسہیل کا متقاضی تھا جس کو امام خلیل بن احمد فراہیدی بصری رحمہ اللہ (متوفی ۱۷۰ھ) نے مزید ترقی دی غرض آج تک جو کام ضبط و شکل میں موجود ہے وہ امام خلیل رحمہ اللہ ہی کا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے الشیخ عبدالفتاح القاضی مصری رحمہ اللہ کی’تاریخ المصحف الشریف‘ کا مطالعہ ازحد مفید ہوگا۔
    رسم عثمانی کو خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے دورِ خلافت میں مسلمانوں میں اختلاف قراء ات شاذہ و غیر فصیح کو ختم کرنے کے لیے بڑے اہتمام اور شان سے مصاحف تحریر کرائے اس لیے اس رسم کو آپ کے نام ’رسم عثمانی‘سے موسوم کیاگیا۔
    یہ مصاحف کتنے تھے۔علامہ جزری رحمہ اللہ (متوفی ۸۳۳ھ) ’النشر فی القراء ات العشر‘ میں فرماتے ہیں کہ ان کی تعداد آٹھ تھی جو مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ، بصرہ، کوفہ، دمشق، بحرین، یمن اور ایک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذاتی نسخہ مصحف امام تھا جبکہ ابن عاشررحمہ اللہ(متوفی ۷۶۵ھ) فرماتے ہیں کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ مصاحف تعداد میں چھ ہیں یعنی مکی، مدنی، شامی، بصری، کوفی اور مصحف امام۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 20، 2011 #4
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    آپ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ازمنہ وسطیٰ میں ہاتھ سے کتب لکھی جاتی تھیں اور پھر ان کی بہت سی نقول بڑی چابک دستی سے تیار کی جاتیں اور پورے عالم اسلام میں پھیل جاتی تھیں۔ قرآن حکیم کو بھی اسی طرح ہاتھ سے لکھا جاتا بڑے بڑے خوبصورت لکھنے والے کاتبین اس میں نمایاں ہوکر سامنے آئے جنہوں نے قرآن حکیم کی کتابت میں اپنے جوہر دکھائے۔ مگر پرنٹنگ مشین کی ایجادنے طباعت کے میدان میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ہاتھ سے لکھے جانے والے قرآن جو بمشکل سینکڑوں کی تعداد میں ہوتے تھے وہ پرنٹنگ مشین کی بدولت لاکھوں کی تعداد میں چھپنے لگے۔ قرآن حکیم پہلی مرتبہ پرنٹنگ مشین پر کب چھپا اس کے متعلق ڈاکٹر یحییٰ محمود جنید حفظہ اللہ اپنے مضمون ’’تاریخ طباعۃ القرآن الکریم باللغۃ العربیہ فی أوربا فی القرنین السادس عشر والسابع عشر المیلادیین‘‘ جو کہ مجلہ ’عالم کتب‘کے ستمبر ؍ اکتوبر ۱۹۹۴ء میں چھپا ہے، میں تحریر کرتے ہیں کہ پہلی مرتبہ قرآن حکیم ہمبرگ جرمنی میں۱۶۸۴ء میں چھپا۔
    قرآن کی اس پہلی مشینی طباعت میں رسم عثمانی کااہتمام نہیں کیاگیا تھا، اس لیے علماء اسلام کی متفقہ طورپر یہ رائے ہوئی کہ عامۃ المسلمین اس کے پڑھنے سے احتراز کریں اور اس کو اپنے زیرمطالعہ بالکل نہ رکھیں۔عامۃ المسلمین کی اس بے اعتنائی کی وجہ سے بعدازاں اس کو تلف کردیاگیا۔ اس کے بعد بھی دیارِ مغرب کے نام نہاد مفکر اور مستشرقین قرآن حکیم کو اپنی مرضی کے مطابق چھاپتے رہے، لیکن چونکہ وہ رسم عثمانی اور دیگر علماء رسم کی مقرر کردہ قواعد وضوابط کے مطابق نہیں ہوتے تھے لہٰذا عامۃ المسلمین میں پذیرائی حاصل نہ کرسکے۔ڈاکٹر یحییٰ محمود جنیدحفظہ اللہ اپنے اسی مضمون میں لکھتے ہیں کہ ۱۷۸۷ء میں روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میںمولائی عثمان نے قرآن کی طباعت کااہتمام کیا، جس کو پھر ۱۸۴۸ء میں قازان سے محمد شاکر مرتضیٰ اوغلی نے دوبارہ چھاپا۔ اس قرآن میں رسم عثمانی کاالتزام کیا گیا تھا۔ اس کے صفحات کی تعداد ۴۶۶ تھی، مگر اس میں بھی عدد آیات کااہتمام نہ کیاگیا اورعلامات وقف بھی بین السطور دی گئی تھیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 20، 2011 #5
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    فوزی سالم عفیفی حفظہ اللہ اپنی کتاب نشأۃ وتطور الکتابۃ الخطیۃ العربیۃ ودورھا الثقافی والاجتماعی میں اور عبدالعزیز الدالی حفظہ اللہ اپنی کتاب الخطاطۃ مطبوعہ مکتبہ الخانجی مصرمیں لکھتے ہیں کہ نپولین بونا پارٹ جب ۱۷۹۷ء میں مصر پرحملہ آور ہوا تو وہ اپنے ساتھ تین پرنٹنگ مشینیں بھی لایا، جس کے لانے کا بنیادی مقصد اپنے خیالات و افکار کی نشرواشاعت تھی۔ اس طرح مصر میں پرنٹنگ پریس کا رواج ہوا۔ بعدازاں مصرمیں بہت سے مطابع اور پریس وجود میں آئے، جن میں ایک مشہور اور نامور نام ’المطبعۃ الأمیریۃ‘ بھی تھا۔ اسی مطبع نے ایک مصحف رسم عثمانی اور دیگر اوضاع کتابت کے مطابق بڑے اہتمام سے چھاپا، جس کانام ’المصحف الأمیریۃ‘ تھا ۔ اس مصحف کی راقم نے اپنے استاد گرامی قدر استاذ القراء الشیخ قاری مقری اظہاراحمد تھانوی رحمہ اللہ سے بڑی تعریف سنی مگر نہ تو یہ باوجود تلاش بسیار کے دستیاب ہوا اور نہ ہی اس کے متعلق معلوم ہوا کہ اس پر تحقیقی کام کرنے والے کون حضرات تھے؟
    ڈاکٹر سہیل صابان حفظہ اللہ اپنی کتاب إنشاء المطبعۃ العربیۃ ومطبوعاتہمیں تحریر کرتے ہیں کہ ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۸۹۰ء میں’’المطبعۃ البھیۃ القاھرہ‘‘نے ایک مصحف بڑے اہتمام سے طبع کیا جس میں رسم عثمانی اور وقوف قرآنی کا بڑا اہتمام کیاگیاتھا اس مصحف میں رسم اور ضبط کے لیے امام ابوعمرو وعثمان دانی رحمہ اللہ (متوفی۴۴۴ھ) کی ’المقنع‘ اور امام ابوداؤدرحمہ اللہ (متوفی ۴۹۶ھ) کی ’کتاب التنزیل‘سے استفادہ کیاگیاتھا یہ تحقیقی کام مشہور ماہر رسم اورماہر تجوید و قراء ت الشیخ رضوان بن محمد الشہیر المخلِّلاتی رحمہ اللہ (متوفی ۱۳۱۱ھ) کی زیرنگرانی ہوا اور اس کی مجلس قائمہ میں الشیخ محمد علی خلف الحسینی المعروف الحداد، الشیخ حفنی ناصف رحمہ اللہ، الشیخ مصطفی عنانی رحمہ اللہ، الشیخ احمد الاسکندری رحمہ اللہ جیسے نامور ماہرین فن شامل تھے اور اس مصحف کی کتابت الشیخ محمد علی خلف الحسینی رحمہ اللہ نے کی۔
    بعداَزاں ایک مصحف مشائخ جامع ازہر کی تحقیق سے مراقبۃ البحوث الثقافۃ الاسلامیۃنے ۱۹۶۲ء میں شائع کیا جس کے رئیس لجنہ استاذ عظیم الشیخ عبدالفتاح القاضی رحمہ اللہ تھے اور ان کے معاونین میں الشیخ محمود خلیل حصری رحمہ اللہ، الشیخ علی مرعی رحمہ اللہ، الشیخ محمد سالم المحیسن رحمہ اللہ، الشیخ محمد سلیمان صالح رحمہ اللہ، الشیخ عبدالعظیم الخیاط رحمہ اللہ، الشیخ عبدالرؤف محمد سالم رحمہ اللہ اور محمدصادق القمحاوی رحمہ اللہ تھے۔ اس قرآن کے ۵۲۲ صفحات ہیں۔
    اس قرآن کی کچھ نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں: اس قرآن کریم کے ہر صفحہ میں پندرہ سطریں ہیں۔ ہرصفحہ پر آیت کے مکمل ہونے کا اہتمام کیاگیاہے۔
     
  6. ‏دسمبر 20، 2011 #6
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    سورۃ الرو م میں کلمہ ضُعفٍ جو پاکستانی مصاحف میں ضاد کے ضمہ سے ہے اس مذکورہ مصحف میں ضاد کے زبر سے ضَعفِ ہے۔یاد رہے کہ اگر کسی لفظ کی قراء ت میں دو وجوہ ہیں اور دونوں صحیح اور متواتر ہوں اور ان میں سے ایک قراء ت تو مشہور ہو اور دوسری قراء ت متروک عندالقراء ہوتو دوسری قرائٔ ت کالکھنا اور پڑھنا ضروری ہوتاہے۔
    نیز مذکورہ مصری مصحف میں پاروں کے افتتاح میں بھی درج ذیل اختلاف ہے۔
    پاکستان مصاحف میں چوتھا پارہ لَنْ تَنَالُوْا سے شروع ہوتاہے جبکہ مذکورہ مصری مصحف میں کُلُّ الطَّعَامِ سے شروع ہوتاہے۔ ساتواں پارہ پاکستانی مصاحف میں وَاِذَا سَمِعُوْا سے شروع ہوتاہے مذکورہ مصحف میں لَتَجِدَنَّ سے شروع ہوتاہے۔ گیارہواں پارہ پاکستانی مصاحف میں یَعْتَذِرُوْنَسے شروع ہوتاہے جبکہ مذکورہ مصحف میں إنَّمَا السَّبِیْلُ سے شروع ہوتاہے۔ بیسواں پارہ پاکستانی مصاحف میں أمَّنْ خَلَقَ سے شروع ہوتاکہ جبکہ مذکورہ مصحف میں فَمَا کَانَ جَوَابَ سے شروع ہوتاہے۔ اکیسواں پارہ پاکستانی مصاحف میں اُتْلُ مَا اُوْحِیَ سے شروع ہوتاہے جبکہ مذکورہ مصحف میں وَلَا تُجَادِلُوْا سے شروع ہوتاہے۔ تیئسواں پارہ پاکستانی مصاحف میں وَمَالِیَ سے شروع ہوتاہے جبکہ مذکورہ مصحف میں وَمَا اَنْزَلْنَا سے شروع ہوتاہے۔
    اسی طرح سورتوں کے ناموں میں بھی اختلاف ہے جو درج ذیل ہے:سورہ بنی اسرائیل کا نام سورۃ الاسراء درج ہے۔ سورۃ القصص کا نام سورۃ قصاص درج ہے۔ سورۃ الدھر کا نام سورۃ الانسان درج ہے۔ سورۃالزلزال کا نام سورۃ الزلزلہ درج ہے اور سورۃ اللَّہب کا نام سورۃ المسد درج ہے۔
    اس مصحف میں علامات وقوف ج، لا، ج، صلے، قلے اور وقف معانقہ کی علامت والے تین نقطے ( ، )کو اختیار کیا گیاہے۔نیز اس مصحف میں ہر سورت کے شروع میں سورت کا نام اور آیات کی تعداد، سورت کا مدنی یا مکی ہونا اور سورت کا نمبر شمار اور نزول کی ترتیب والا نمبر بھی بیان کیا گیا ہے نیز یہ بھی بتایاگیا ہے کہ یہ سورت کس سورت کے بعد نازل ہوئی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 20، 2011 #7
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    پھر ایک قرآن حکیم مجمّع البحوث والثقافۃ الاسلامیۃ ازھر والوں نے ہی ۱۹۷۹ء میں طبع کرایا جس میں جامع ازھرکے مشائخ نے کام کیا تھا۔ جن میں الشیخ محمود خلیل حصری رحمہ اللہ، رئیس الجنہ اور ان کے معاونین میں الشیخ احمدعلی مرعی رحمہ اللہ، الشیخ رزق حبہ رحمہ اللہ، الشیخ عبدالصبور سعدنی رحمہ اللہ، الشیخ محمد صادق القَمْحَاوی رحمہ اللہ، الشیخ محمود حافظ برانق رحمہ اللہ اور الشیخ محمود طنطاوی رحمہ اللہ شامل تھے۔
    اس قرآن حکیم کی کچھ نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ اس قرآن کریم کے ہر صفحہ میں بھی پندرہ سطریں ہیں، ہرصفحہ پر آیت کے مکمل ہونے کا اہتمام کیاگیا اس مصحف میں بھی ضَعْفٍ فتح کے ساتھ تحریر ہے۔
    اس مصحف میں بھی مذکورہ بالا مصحف کی طرح پاروں کے افتتاح میں وہی اختلاف ہے۔اسی طرح سورتوں کے اسماء میں بھی تقریباً وہی اختلاف ہے نیز علامات وقوف بھی مؤخرالذکر مصحف کے مانند ہی ہیں۔ اس مصحف کے کل صفحات ۵۲۸ ہیں۔ یہ مصحف سعودیہ میں بھی طبع ہوا اور بلا قیمت تقسیم کیاگیا۔
    سعودی عرب میں مصحف کی طباعت کا کام سب سے پہلے الاستاذ محمد سعید عبدالمقصودرحمہ اللہ جو مطبعۃ اُم القریٰ المکۃ المکرمۃ کے مدیر تھے، ان کی ذاتی دلچسپی سے شروع ہوا جس کومصحف مکۃ المکرمۃ کا نام دیاگیا۔ پھر ایک مصحف جس کی کتابت مشہور و معروف خطاط محمد طاہر الکردی رحمہ اللہ نے ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۵ء میں قواعد رسم عثمانی کو مدنظر رکھ کر کی تھی، تحریر کیا اس پرجس لجنہ نے کام کیا۔ اس میں الشیخ السید احمد حامد التجیی رحمہ اللہ، استاذ علم قراء ات مدرسۃ الفلاح مکہ مکرمہ، الشیخ عبدطاہر ابوالسمع رحمہ اللہ، امام و خطیب مسجد حرام، الشیخ محمد احمد شطاررحمہ اللہ اور الشیخ ابراہیم سلیمان النوری رحمہ اللہ شامل تھے۔ بعدازاں اس کی مزید تصدیق کے لیے اسے مشائخ ِازہر کے پاس روانہ کیا گیا اور اس وقت کے مشہور عالم ِرسم و قراء ات شیخ القراء والمقاری الشیخ علی محمدا لضبَّاع مصری رحمہ اللہ نے اس میں مزید تصحیح اور وضع رسم کااہتمام کیا۔ آخر کار یہ ۱۳۶۸ھ میں بڑے سائز میں طبع ہوا۔ بعدازاں اس کو چھوٹے سائز میں بھی طبع کیاگیا۔
    یہاں تک یہ ایک مختصر سا جائزہ آپ کے سامنے میں نے مختلف ادوار میں چھپنے والے مصاحف کا رکھا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏دسمبر 20، 2011 #8
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    محرم ۱۴۰۳ھ میں خادم الحرمین الشریفین الملک فہد بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک فرمان جاری کیا، جس میں کہا گیا تھاکہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے اوپر یہ ایک اہم دینی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم قرآن حکیم کی ایک ایسی طباعت کا اہتمام کریں جس میں قرآن حکیم کے شایان شان اور اغلاط سے بالکل مبرا اور رسم عثمانی اور دیگر فنی اوضاع کا اہتمام کیا جائے۔
    یہ ایک بڑا حسین اتفاق تھاکہ جس طرح خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مدینۃ الرسول کو قرآن کی نشر واشاعت کا مرکز بنایا، اسی طرح المملکۃ العربیۃ السعودیۃ نے بھی قرآن کی طباعت کے لیے مدینہ منورہ کا انتخاب کیا۔
    اس اِدارے کا ماہ صفر ۱۴۰۵ھ مطابق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۸۴ء کو شاہ فہدمرحوم نے سنگ بنیادرکھا، جس کا نام مجمع الملک فھد لطباعۃ المصحف الشریفرکھا گیا،جو وزارت حج و اوقاف کے ماتحت ایک ادارہ تھا۔اس ادارے کا اہم اور بنیادی ہدف یہ تھا کہ مختلف روایات و قراء ات متواترہ جو مختلف اسلامی ممالک میں پڑھی پڑھائی جاتی ہیں، ان کے مطابق مصاحف کی طباعت کااہتمام کیا جائے، چنانچہ سب سے پہلے روایت حفص کے مطابق قرآن پر کام ۱۴۰۴ھ میں شروع کیاگیا اور اس کے لیے جو لجنہ بنائی گئی اس کے رئیس ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبدالفتاح القاری حفظہ اللہ تھے اور نائب رئیس ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی حفظہ اللہ تھے، جبکہ معاونین میں الشیخ عامر بن السید عثمان رحمہ اللہ، ڈاکٹر عبدالعظیم بن علی الشناوی رحمہ اللہ، الشیخ محمود بن سیبویہ البدوی رحمہ اللہ، استاذی وشیخی عبدالفتاح بن السید بن عجمی المرصفی رحمہ اللہ، الشیخ محمود بن عبدالخالق جادو رحمہ اللہ، الشیخ عبدالرافع بن رضوان بن علی حفظہ اللہ، الشیخ عبدالرازق بن علی بن ابراہیم موسیٰ رحمہ اللہ، الشیخ عبدالحکیم بن عبدالسلام خاطررحمہ اللہ،ڈاکٹر عبدالعزیز بن محمد بن عثمان، الشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن البعادی، الشیخ رشاد بن مرسی طلبہ، الشیخ فرغل بن سید فرج، الشیخ عبداللہ بن ردن البداح اور الشیخ عبدالرحمن بن عبداللہ بن عقیل جیسی نامور ہستیاں شامل تھیں۔
    اس مصحف کو بعدازاں سرکاری طور پرمصحف المدینۃ النبویۃ کا نام دیا گیا۔ یہ مصحف ان حضرات کی شبانہ روز کوششوں سے جمادی الاولیٰ ۱۴۰۵ھ کو منظر عام پر آیا۔ اس مصحف کو لجنہ کے اراکین نے فرداً فرداً پانچ مرتبہ پڑھا، جس میں سے تین مرتبہ تو متن قرآنی کی صحت کا اہتمام کیاگیا، چوتھی مرتبہ رسم عثمانی کے خلاف رہ جانے والی اغلاط کو دور کرنے کااہتمام کیاگیااورپانچویں مرتبہ اس کے اَوقاف کو ترتیب دینے کے لیے پڑھا گیا۔ اس مصحف کا تعارف کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس مصحف کا ضبط روایت حفص بن سلیمان ابن مغیرہ الاسدی الکوفی رحمہ اللہ کے مطابق ہے، جو کہ امام عاصم بن ابی النجود الکوفی التابعی رحمہ اللہ کی قراء ت ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏دسمبر 20، 2011 #9
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مصحف المدینۃکی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
    اس قرآن کریم کے کل صفحات کی تعداد ۶۰۴ ہے، ہر صفحہ آیت پر شروع ہوتا ہے اور آیت پر ہی ختم ہوتا ہے، شروع میں سرورق کے تین صفحات بغیرنمبروں کے ہیں اور آخر میں بھی حروف ابجد کے حساب سے نمبر لگا کر سترہ اضافی صفحات لگائے گئے ہیں، جس میں اس مصحف کا تعارف، اس کی خصوصیات، اس مصحف کو خوب سے خوب تر کرنے کے لیے فن کی جن کتب اور مراجع سے رجوع کیا گیا کا مختصر بیان ہے۔ بعداَزاں پھر اِصلاحات ضبط کا بیان ہے، جس پر راقم آگے تفصیل سے روشنی ڈالے گا۔
    بعداَزاں علامات وقف کی تشریح و توضیح کی گئی ہے۔ اس کے بعد اس مصحف کی لجنہ کا تعارف کرایاگیا ہے اوراس تعارف کے آخر میں اراکین لجنہ کیے دستخط ثبت ہیں۔اس کے بعد دو صفحات پرفہرس اسماء سور بیان کی گئی ہے، جس میں ہر سورت کا مکی یا مدنی ہونابھی بیان کیاگیا ہے اور ان اضافی صفحات کے سب سے آخری صفحہ پر سن ِطباعت یعنی ۱۴۰۹ھ اور کاتب مصحف عثمان طہ کانام وغیرہ درج ہے۔
    پاکستانی مصحف سے پاروں کے ناموں میں اختلاف وہی ہے، جو اوپر مصاحف کے سلسلے میں بیان ہوا اور اسی طرح سورتوں کے اسماء کا اختلاف بھی وہی ہے جواوپر مذکور ہوچکاہے۔ کلمہ ضَعف ضاد مفتوحہ سے درج ہے۔ پاکستانی مصاحف میں رکوعات کا رواج ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں طبع ہونے والے قرآن کے تمام نسخوں میں احزاب درج کئے جاتے ہیں۔ مصحف مدینہ میں بھی پورے قرآن کوساٹھ احزاب میں تقسیم کیا گیا ہے پھر ہرحزب کے چار حصے مزید کئے گئے ہیں یعنی ربع الحزب، نصف الحزب اور ثلث الحزب‘‘
    اس کے حروف ہجاء کو امام ابوعمرو الدانی رحمہ اللہ اور امام ابوداؤد سلیمان بن نجاح رحمہ اللہ کے مطابق رکھا گیا ہے اور ساتوں مصاحف عثمانیہ، جو کہ خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بصرہ، کوفہ ، شام، مکہ اور مدینہ نیزوہ مصحف جو ان کااپنا ذاتی تھا اس کے مطابق رسم کا خیال رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے، جبکہ ضبط کے لیے ’’الطَّراز علی ضبط الخراز‘‘ از امام التنیسی رحمہ اللہ اور امام خلیل بن احمد فراہیدی رحمہ اللہ کی وضع کردہ علامات کو اختیارکیاگیاہے۔
     
  10. ‏دسمبر 20، 2011 #10
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں علم ضبط اور اس کی اصطلاحات کا بھی تعارف کرا دیاجائے۔
    ’علم رسم ‘ کے ساتھ ایک علم، ’علم ضبط‘ بھی ہے، جس کا لغوی مطلب ہے: ضبطہ،ضبطا وضباطۃًیعنی چمٹنا، غلبہ پانا، قوی ہونا، پوری طرح حفاظت کرنا، مضبوط کرنا، صحیح کرنا، کتاب پر حرکات لگانا۔
    کلمہ ضبط قرآن مجید کو پکا یاد کرنے میں بھی استعمال کیاگیا ہے اور قرآن کریم پر حرکات و سکنات مدات شدات لگانے کوبھی ضبط کہا گیا ہے ۔ علم الرسم توقیفی ہے۔ بخلاف علم الضبط کے کہ وہ توقیفی نہیں ہے۔ اسی لیے عرب وعجم و بلاد مغرب میں مروج ضبط کی بعض علامات ایک دوسرے سے مختلف بھی ہیں۔
    علم الرسم کے قواعد تو ان مصاحف سے حاصل کئے گئے ہیں، جو مصاحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں لکھوا کر یمن، بحرین، بصرہ، کوفہ، شام، مکہ، مدینہ بھجوائے اور ایک مصحف جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا ذاتی پڑھنے کے لیے رکھا تھا،مگر علم ضبط کے قواعد علماء نے’’الطَّراز علی ضبط الخراز‘‘ از امام التنیسی رحمہ اللہ کی کتاب سے حاصل کئے ہیں۔ مشارقہ اور مغاربہ اور اندلس وغیرہ اسی کتاب کے مطابق اپنے مصاحف کو ضبط کرتے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں