1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مصیب زدوں سے

'قدر وجبر' میں موضوعات آغاز کردہ از ام کشف, ‏فروری 16، 2013۔

  1. ‏فروری 16، 2013 #1
    ام کشف

    ام کشف رکن
    جگہ:
    islamabad
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2013
    پیغامات:
    124
    موصول شکریہ جات:
    382
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    مصیب زدوں سے​


    حدیث قدسی میں وارد ہے دنیا میں جس کے محبوب کو میں نے لے لیا ہو پھر وہ ثواب کی اُمید میں صبر کرے تو اُس کے بدلے میں اُسے جنت دوں گا (بخاری)۔

    شاعر کہتا ہے!۔
    تمہاری زندگی بھی میری لئے عبرت ونصیحت تھی لیکن مرنے کے بعد اب تم اور بڑے واعظ ہوگئے ہو۔

    ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ جس کی دو پیاری چیزیں یعنی آنکھیں میں نے لے لیں اُن کے بدلے اسے جنت دوں گا نگاہیں اصل میں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سینوں میں رہنے والے دل اندھے ہوجاتے ہیں۔

    ایک صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب کسی مومن بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لیتا ہے تو ملائکہ سے کہتا تم نے میرے مومن بندے کے بیٹھے کی روح قبض کرلی؟ وہ کہتے ہیں جی ہاں! تو اللہ فرماتا ہے تم نے اس کے جگر کا ٹکڑا لے لیا؟ کہتے ہیں جی ہاں! تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں اس نے تیری حمد کی اور اناللہ پڑھا۔ تب اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے کے لئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو (ترمذی)۔

    ایک اثر میں یہ بھی آیا ہے کہ مصیبت زدوں کے ثواب اور اچھے انجام کو دیکھ کر قیامت کے دن لوگ یہ تمنا کریں گے کہ انہیں قینچیوں سے کاٹ دیا جاتا صبر کرنے والوں کا اجر بغیر حساب کے پورا پورا دیا جاتا ہے تم نے جو صبر کیا ہے اس پر تمہیں سلام ہو اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر انڈیل دے صبر کرو اور صبر اللہ کے ذریعہ ہو صبر کرو بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے۔

    حدیث میں آیا ہے کہ جتنی بڑی آزمائش ہوگی اتنا ہی اجر ملے گا اللہ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اُن کو ابتلاء میں ڈالتا ہے جو راضی ہوجائے اس سے اللہ راضی ہوگا جو ناراض ہو اس سے اللہ ناراض ہوگا (ترمذی)۔

    مصائب میں صبر، تقدیر اور اجر تین چیزیں ہیں آدمی کو جاننا چاہئے کہ جس نے دیا اُسی نے لے لیا جس نے لیا اُسی نے دیا تھا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو لوٹا دو۔

    بقول شاعر!ِ
    مال اور اہل وعیال سب امانت ہیں اور ایک دن سب امانتیں واپس ہونی ہیں۔

    اقتباس
    غم نہ کریں
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 16، 2013 #2
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    بہت بہترین شیئرنگ بہنا
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 21، 2014 #3
    مہوش حمید

    مہوش حمید مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 31، 2013
    پیغامات:
    43
    موصول شکریہ جات:
    66
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏جنوری 21، 2014 #4
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    یہ حدیث پہلی بار میری نظر سے گزری۔۔۔
    کوئی بھائی مکمل حدیث پیش کر دیں۔۔۔۔جزاک اللہ خیرا
    ابو عکاشہ
     
  5. ‏جنوری 21، 2014 #5
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310


    واللہ اعلم جی مجھے تو یہ حدیث اس ترجمہ کے ساتھ نہیں ملی البتہ یہ بات موجود ہے کہ
    عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ يُرِيدُ عَيْنَيْهِ.
    صحیح بخاری کتاب المرضی حدیث 5653
    مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جس اپنے بندے کو میں نے اس کی دو محبوب چیزوں(آنکھوں) کی طرف سے آزمائش میں ڈالا اور اس نے صبر کیا تو اس کے عوض میں اسے جنت عطا کرونگا۔۔۔

    باقی اگر محترمہ ام کشف صاحبہ وضاحت کر دیں کہ انہوں نے یہ مضمون کہا سے لیا تو مزید تحقیق کی جا سکتی ہے۔۔
     
  6. ‏جنوری 21، 2014 #6
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    یہ حدیث ایسے بھی ہے صحیح بخاری میں اور شائد اوپر مذکور بھی یہی حدیث ہے۔۔
    لیکن ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پوسٹ میں ہے
    یہاں محبوب سے مراد عام اشیاءبھی ہیں اردو والا خاص محبوب نہیں ہے۔ اور اکثر محدثین نے اس سے مراد اولاد لی ہے جسکی وضاحت دوسری احادیث سے بھی ہو جاتی ہے
    حدیث یہ ہے۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ إِلاَّ الْجَنَّةُ.
    ((صحیح بخاری کتاب الرقاق حدیث 6424))
    اللہ تعالی فرماتے ہیں میرے اس بندے کیلئے میرے پاس جنت کے علاوہ کوئی جزا نہیں جس کی کوئی محبوب چیز میں دنیا سے مین اٹھا لیتا ہوں تو وہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے صبر کرتا ہے۔
     
  7. ‏جنوری 21، 2014 #7
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    عمدہ وضاحت ہو گئی۔۔۔۔جزاک اللہ خیرا کثیرا۔۔۔
     
  8. ‏جنوری 21، 2014 #8
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں