1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مظلوم کی دعا اور موجودہ حالات

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏اپریل 13، 2019۔

  1. ‏اپریل 13، 2019 #1
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    اسحاق سلفی صاحب
    السلام علیکم
    محترم ،
    یہ ارشاد فرمائیں کہ درج ذیل حدیث اور اس مضمون سے ملتی جلتی کئی احادیث ہیں ۔ جن سے میں نے یہ مفہوم اخذ کیا ہے کہ مظلوم کی دعا جلد قبول ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔
    لیکن جب کشمیر، فلسطین اور شام کے مسلمانوں پر ظلم اور ان کی دعاؤں پر نظر ڈالتا ہوں تو اس کے برعکس حالات نظر آتے ہیں ۔
    عرصہ دراز سے کشمیر اور فلسطین پر ظلم ہورہا ہے شام میں بھی کچھ عرصے سے یہ سلسلہ جاری ہے بچوں کو بھی نہیں چھوڑا جارہا ہے ۔
    ا ن سب کے تناظر میں یہ سوال ہے کہ کیا حدیث کا مفہوم کچھ اور ہے ۔ یا یہ حدیث اور اس ضمن کی باقی احادیث کی صحت صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ بات تو اظہرمن الشمس ہے کہ یہ سب مظلوم ہیں اور بہت گڑگڑا کر رب سے دعا مانگتے ہیں لیکن کوئی رزلٹ نہیں آرہاہے۔
    عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کو (حاکم بنا کر) یمن روانہ کرتے وقت فرمایا: مظلوم کی دعا سے ڈرو، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ آڑے نہیں آتا۔
     
  2. ‏اپریل 14، 2019 #2
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

  3. ‏اپریل 14، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی !
    آپ نے جو سوال کیا ہے ،اس کا تعلق اصل میں "نصرت الہی " سے ہے ،
    یعنی موجودہ مظلوم مسلمان اللہ تعالی کی نصرت سے کیوں محروم نظر آتا ہے ؟
    تو عرض ہے کہ :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک مومن کا اس بات پر ایمان ہونا چاہئے کہ ہمارا اصل مددگار صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے، اس کے علاوہ کوئی مدد گار نہیں جیساکہ خود کلام رب اس کی گواہی دیتا ہے۔
    وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (آل عمران:126)
    ترجمہ: اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمتوں والا ہے۔
    اسی طرح دوسری جگہ فرمان الہی ہے :
    بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖوَهُوَخَيْرُالنَّاصِرِينَ (آلِ عمران :150)
    ترجمہ: بلکہ اللہ ہی تمہارا خیرخواہ ہے اور وہی سب سے بہتر مدرگارہے۔

    جس کا مددگار اللہ ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچاسکتی، یہ ضمانت بھی اللہ تعالی نے خود دی ہے، فرمان پروردگار ہے :
    إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (160)
    (آل عمران :160)
    ترجمہ: اگر اللہ تعالی تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، اگر وہ تمہیں چھوڑدے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے، ایمان والوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔

    لیکن یہاں ایک بات خوب اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (سورۃ محمد ،آیت 7)
    اے ایمان والو ! اگر تم اﷲ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جما دے گا "
    یعنی نصرت الہی حاصل کرنے کیلئے یہ شرط ہے کہ : بندہ نہ صرف خودصاحب ایمان ہو ،بلکہ اللہ کے دین کیلئے کمر بستہ ہو ،اس کی عملی صورت قرون اولیٰ کے اہل ایمان کے کردار میں دیکھی جاسکتی ہے ،

    جو مادی وسائل کی فراوانی نہ ہونے کے باوجود دنیا پر چھا گئے ، اور صدیوں سب پر غالب رہے ۔
    اسلام کے ان سنہری ادوار کے بعد بتدریج پستی اور تنزلی کا سفر ہوا ۔
    اور علم و عمل میں بگاڑ اور تبدیلی آئی ،قرآن و سنت کی جگہ فلسفہ و اعتزال اور تصوف نے لے لی ، محدثین و مفسرین کی جگہ صوفی ،فلسفی ،اور تقلید کے مرض میں مبتلا فقہاء آگئے ،اور ان کی بلے بلے ہونے لگی ،
    شرعی عبادات کی جگہ قوالی ،سماع ،قصہ گوئی ،اور کرامات کے نام پر شعبدہ بازیوں نے لے لی ،
    دن کو جہاد اور رات کو تہجد کی جگہ وجد و حال نامی مرض لا علاج پھیلتا گیا ،
    نصرت الہی کیلئے جہاد اور شرعی عبادات کی حیثیت اس کیبل،تار کی تھی جو پاور ہاؤس اورصارف کے گھر میں لگے بلب کے درمیان ہوتی ہے ،
    اب پاور ہاؤس اور بلب دونوں موجود ہیں لیکن ان کے درمیان کیبل موجود نہیں ،
    یعنی اللہ رب العزت اور اس کی قدرت لا زوال اور نصرت بے مثال تو اب بھی بکمالہ موجود ہے ،اور اس کی مدد و نصرت کی توقع رکھنے والے بھی موجود ہیں لیکن نصرت الہیہ ان تک پہنچنے کا سبب اور ذریعہ (جہاد ،عبادات شرعیہ ) موجود نہیں ۔
    آج اللہ کی نصرت کی توقع رکھنے والےلوگوں کی اکثریت غیراللہ کو مدد کے لئے پکارتے ہیں، ایسے لوگ شرک وکفر میں مبتلا ہیں ۔ دراصل یہ بڑی وجہ ہے جس سے اللہ کی مدد آنی بند ہوگئی۔
    یعنی یہ مسلمان ایک طرف مظلوم ہیں کہ کفار کے ظلم وستم کا شکار ہیں ،لیکن دوسری طرف یہ خود شرک میں مبتلا ہو کر ظالم ہیں کیونکہ :ان الشرک لظلم عظیم "

    تو یہ سوال کہ دنیا کے کئی خطوں میں اہلِ اسلام اللہ کی مدد سے کیوں محروم ہیں؟
    اس سلسلہ میں آپ اہل اسلام کی اپنی موجودہ عملی صورت حال سامنے رکھیئے:
    ۱:- اس وقت مسلمان من حیث القوم مجموعی اعتبار سے تقریباً بدعملی کا شکار ہوچکے ہیں۔
    2:- اس وقت مسلمان عقیدہ و فکر کے لحاظ سے اسلام سے کتنے دور ہیں !
    3۔اس وقت مسلمانوں میں ذوقِ عبادت اور شوقِ شہادت کا فقدان ہے، بلکہ مسلمان بھی ... الا ماشاء اللہ ... کفار و مشرکین کی طرح موت سے ڈرنے لگے ہیں۔
    4:- اس وقت تقریباً مسلمانوں کو دین، مذہب، ایمان، عقیدہ سے زیادہ اپنی، اپنی اولاد اور اپنے خاندان کی دنیاوی راحت و آرام کی فکر ہے۔
    5:- آج کل مسلمان...الا ماشاء اللہ...موت، مابعد الموت، قبر، حشر، آخرت، جہنم اور جنت کی فکر و احساس سے بے نیاز ہوچکے ہیں اور انہوں نے کافر اقوام کی طرح اپنی کامیابی و ناکامی کا مدار دنیا اور دنیاوی اسباب و ذرائع کو بنالیا ہے، دوسرے لفظوں میں مادہ پرستی میں مبتلا ہیں ، اس لئے تقریباََ سب ہی اس کے حصول و تحصیل کے لئے دیوانہ وار دوڑ رہے ہیں۔
    6:- اس وقت ...الا ماشاء اللہ... مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد، بھروسہ اور توکل نہیں رہا، اس لئے وہ دنیا اور دنیاوی اسباب و وسائل کو سب کچھ باور کرنے لگے ہیں۔
    7:- جب سے مسلمانوں کا اللہ کی ذات سے رشتہ عبدیت کمزور ہوا ہے، انہوں نے عبادات و اعمال کے علاوہ قریب قریب سب ہی کچھ چھوڑ دیا ہے، حتی کہ بارگاہ الٰہی میں رونا، بلبلانا اور دعائیں مانگنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
    ۷:- جس طرح کفر و شرک کے معاشرے اور دین بے زار قوموں میں بدکرداری، بدکاری، چوری، ڈکیتی، شراب نوشی، حرام کاری ، حرام خوری، جبر ، تشدد، ظلم اور ستم کا دور دورہ ہے، ٹھیک اسی طرح نام نہاد مسلمان بھی ان برائیوں کی دلدل میں سرتاپا غرق ہیں۔

    مادیت پسندی نے نام نہاد مسلمان کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ اب اس کو حلال و حرام کی تمیز تک نہیں رہی، چنانچہ ...الا ماشاء اللہ ... اب کوئی مسلمان حلال و حرام کی تمیز کرتا ہو، اس لئے مسلم معاشرہ میں بھی، سود، جوا، رشوت، لاٹری، انعامی اسکیموں کا دور دورہ ہے۔
    8:- جو لوگ سود خوری کے مرتکب ہوں، اللہ تعالیٰ کا ان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ ظاہر ہے جو مسلمان سود خور ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے حالت جنگ میں ہیں، اور جن لوگوں سے اعلانِ جنگ ہو، کیا ان کی مدد کی جائے گی؟
    9:- جو معاشرہ عموماً چوری ڈکیتی، مار دھاڑ، اغوا برائے تاوان، جوئے، لاٹری، انعامی اسکیموں اور رشوت پر پل رہا ہو، اور جہاں ظلم و تشدد عروج پر ہو، جہاں کسی غریب کی عزت و ناموس اور مال و دولت محفوظ نہ ہو، وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوگی یا اللہ کا غضب؟ پھر یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کفر کے ساتھ حکومت چل سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی، اس لئے کہ اللہ کی مدد مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ظالم چاہے مسلمان ہی کیوں نہ ہو، اللہ کی مدد سے محروم ہوتا ہے۔

    ۱۴:-
    جس قوم اور معاشرہ کی غذا، لباس، گوشت، پوست حرام مال کی پیداوار ہوں، ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں،جیساکہ حدیث شریف میں ہے:
    ”عن ابی ھریرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلى الله عليه وسلم : ان اللّٰہ طیب لا یقبل الا طیباََ، وان اللّٰہ امرالموٴمنین بما امربہ المرسلین فقال: ”یاایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا“ وقال تعالیٰ: ”یا ایھا الذین آمنوا کلوا من طیبات ما رزقناکم“ ثم ذکر الرجل یطیل السفر اشعث اغبر یمد یدیہ الیٰ السماء یارب، یارب، ومطعمہ حرام، ومشربہ حرام، وملبسہ حرام، وغذی بالحرام فانیٰ یستجاب لذالک، رواہ مسلم.“ (مشکوٰة،ص:۲۴۱)
    ترجمہ: ”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی مکرم صلى الله عليه وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاک، پاکیزہ ہیں اور پاک، پاکیزہ ہی قبول فرماتے ہیں، اور بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا، پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اے رسولوں کی جماعت! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور اعمال صالحہ کرو“ اسی طرح مومنوں سے فرمایا: ”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں“ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو طویل سفر کی وجہ سے غبار آلود اور پراگندہ بال ہے اور دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاکر کہتا ہے: اے رب! ،اے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا اور اس کی غذا حرام کی ہے، تو اس کی دعا کیونکر قبول ہوگی؟“

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ کی مدد اور نصرت حاصل کرنے کے چند اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے یا یہ کہیں جن کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔
    (1) اللہ پر صحیح ایمان : جو لوگ اللہ پر صحیح معنوں میں ایمان لاتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے وہ اس کی طرف سے مدد کے مستحق بن جاتے ہیں یعنی اللہ ایسے لوگوں کا مددگار بن جاتا ہے اور ایسے ایمان داروں کی مدد کرنا اللہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (الروم:47)
    ترجمہ: اور ہم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہے۔
    اللہ کا فرمان ہے : إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ(الحج :38)
    ترجمہ: بے شک اللہ تعالی سچے مومن کی (دشمنوں کے مقابلے میں ) مدافعت کرتا ہے، کوئی خیانت کرنے والا ناشکرا اللہ تعالی کو ہرگز پسند نہیں ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے : إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ (غافر:51)
    ترجمہ: یقینا ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد دنیاوی زندگی میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے۔
    آج ایمان کے دعویداروں کی بہتات ہے مگراکثرلوگ شرک کے دلدل میں پھنسے ہیں ، رب پر صحیح سے ایمان نہیں لاتے، یا ایمان لاکر شرک وبدعت کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے نصرت الہی بند ہوگئی۔
    رب العزت کا فرمان ہے : وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ (یوسف:106)
    ترجمہ: ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ۔
    (2) عمل میں اخلاص : ہماری جدوجہد اور عمل میں اخلاص وللہیت ہو تو نصرت الہی کا حصول ہوگا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    إنَّما يَنصرُ اللَّهُ هذِهِ الأمَّةَ بضَعيفِها، بدَعوتِهِم وصَلاتِهِم، وإخلاصِهِم(صحيح النسائي:3178)
    ترجمہ: بیشک اللہ اس امت کی مدد کرتا ہے کمزور لوگوں کی وجہ سے، ان کی دعاوں ، ان کی عبادت اور ان کے اخلاص کی وجہ سے۔
    اس حدیث میں نصرت الہی کے تین اسباب بیان کئے گئے ہیں ۔ دعا، نماز، اخلاص۔
    ہمارے عملوں میں اخلاص کا فقدان ہے جو اللہ کی ناراضگی اور اس کی نصرت سے محرومی کا سبب بناہوا ہے۔ اور عملوں میں کوتاہی اس پر مستزاد اخلاص کی کمی یا فقدان۔ شہرت، ریا، دنیا طلبی نے ہمارے عملوں کو اکارت کردیا اور ساتھ ساتھ نصرت الہی سے محروم بھی ہوگئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وقت کی کمی اور اپنی محدود علمی صلاحیت کے سبب یہ چند کلمات رقم کردیئے ،ویسےیہ بہت وسیع موضوع ہے ،ہم نے معدودے چند نکات آپ کے سامنے رکھے ہیں ،
    باقی آپ ماشاء اللہ سمجھدار ہیں ،دعائیں قبول نہ ہونے اور اللہ کی مدد سے محرومی کےمزید اسباب سامنے لاسکتے ہیں ؛
    ہذا ما عندی واللہ اعلم​
     
    Last edited: ‏اپریل 14، 2019
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 17، 2019 #4
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم
    اللہ آپ کے علم نافع میں برکت عطا فرمائے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں