1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معاشرہ میں خرابیوں کے اسباب

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 23، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 23، 2017 #1
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    معاشرہ میں خرابیوں کے اسباب
    انسان شر اور خیر کا مجموعہ ہے۔ شر سے بچنے اور خیر کو اپنانے کا اسے حکم ہے۔ انسان جب خیر پر ہوتا ہے تو مخلوقات میں الیٰ مقام پر فائز ہو جاتا ہے اور جب بگڑتا ہے تو جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے خیر پر اجر رکھا اور برائی پر سزا۔ اللہ تعالیٰ نے خیر کے کاموں میں ایک دوسرے کا معاون بننے کی تلقین کی اور برائی کی معاونت سے منع فرمایا۔
    معاشرہ میں برائی کی وجوہات
    معاشرہ میں برائی کی جڑ غیبت، کن سوئیاں لینا، ادھر کی ادھر اور ادھر کی ادھر بتانا، ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارنا، دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنا، متکبر ہونا وغیرہ۔
    برائی کی جڑ
    تمام برائیوں کی جڑ حقیقتاً تکبر ہے۔ جو بھی برائی جنم لیتی ہے اس کے پیچھے تکبر مخفی طور پر کارفرما ہوتا ہے۔
    تدارک
    اللہ تعالیٰ نے اس کے تدارک کے لئے کچھ احکامات دیئے۔
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (11) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ (12)۔ سورۃ الحجرات
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑاؤ، ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ،ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، بدگمانی نہ کرو، کسی کی ٹوہ میں نہ لگو، کسی کی غیبت نہ کرو۔
    اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرہ میں یہ تمام برائیاں موجود ہیں۔ جب ایسا ہے تو فساد کیسے ختم ہو، ہمارے دل آپس میں کیسے جڑیں، ہماری پریشانیاں کیسے ختم ہوں، آپس کے لڑائی جھگڑے کیسے ختم ہوں۔ معاشرہ میں جب ہر کوئی چودھری بننے کے چکر میں ہو تو بھائی چارہ اور یکجہتی کیسے آئے۔
     
  2. ‏اکتوبر 24، 2017 #2
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,246
    موصول شکریہ جات:
    686
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    مثلا : انٹرنٹ سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسی چیزیں لانا جن سے کسی بھی طرح اہل حدیث ، وھابی یا غیر مقلد وغیرہ کو اھل سنت سے خارج باور کروایا جائے جیسے ، نقشے اور نماز کے وقت ھاتھ باندھنے کی تصویریں وغیرہ - اپنی اکثریت کا غرور بھی جس کے بل بوتے پر تقاضہ اور ضد کی جائے کہ اہل حدیث ، وھابی یا غیر مقلد وغیرہ دوران نماز اپنے ھاتھوں کو احناف کی طرح ہی باندھیں !!

    جی ھاں ، 2 باتیں کہتا ھوں :
    1۔ اکثریت کو جاھلیت سے نکالیں ، اکثریت کے علماء کے پاس وسائل ہیں اگر وہ چاہتے تو اتنے برسوں میں عوام کو اس مقام تک ضرور لے آتے کہ کم از کم عوام نماز کی ادائیگی کے طریقوں میں احناف ، شوافع اور حنابل کے مواقف سے اتنی ضرور واقف ھو جاتی کہ ان پر جھگڑتی نا ، انھیں اتحاد کے لئے "خطرہ" نا سمجھتی - جبکہ واقعہ یہ ھے کہ عوام بے چاری کو دعاء تک مانگنا نا سکھا سکے ۔ آج بھی امام دعاء مانگتا ھے بقیہ زور شور سے آمین آمین کہتے ہیں اکثر تو معانی و مطالب سمجھے بغیر ہی آمین کی گردان جاری رکھتے ہیں ، ھاتھوں کو چہرہ پر پھیرنے تک ! اکثریت کے اھل علم اب تک کیوں نا سکھا سکے عوام کو؟

    2: یہ فساد ختم کیا جاسکتا ھے ، عوام کو صحیح بھی کیا جاسکتا ھے ، تقاریر ، کتب سے ۔ ان سب سے پہلے جو واقعی غلط ھے کتابوں میں ، جو واقعی سبب ھے جملہ مشاکل کا کم از کم انکو تو حرف غلط کیطرح کتابوں سے مٹا دیں ۔ ایک طرف صحیح معلومات ، دوسری طرف غلط اور قابل اعتراض معلومات ، آخر عوام جو بیچاری دعاء تک مانگ نہیں سکتی وہ صحیح اور غلط کا انتخاب بھلا کس طرح کر سکتی ھے؟

    امید کے آپ غور فرمائینگے - آپ کی اکثر باتیں عمدہ بھی ھوتی ہیں ، کم از کم شروعات میں ، لیکن آگے چل کر کس سبب یا وجہ سے آپکی تمھیدیں مطابقت نہیں رکھ پاتی ہیں تفاصیل سے ۔ اس فرق کو ختم کرنیکی کوشش کریں - آپ اپنے حاصل کردہ علم کو مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ دوسروں کے لئیے منافع بخش بن سکے۔

    والسلام
     
  3. ‏اکتوبر 31، 2017 #3
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    اکثریت اگر سنت کے موافق ہو تو اس قسم کا تقاضا کوئی بری بات نہیں۔
    صحیح حدیث مبارکہ ہے کہ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھے جائیں۔

    ٹھیک ہے لوگوں کو جہالت نکالنا چاہیئے اور یہ کا علماء کا ہے کہ پہلے وہ مل بیٹھیں اور آپس میں مذاکرہ کریں اور اصلاح امت کا لائحہ عمل طے کریں۔ عوام کو متوحش نہ کریں۔ ایک کہتا تمہاری نماز نہیں دوسرا کہتا ہے تمہاری نہیں۔ اس فتنہ اور فساد کی جڑ در اصل وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کو معاش کا ذریعہ بنالیا ہے۔ مختلف انواع کی کتب مارکیٹ میں لائی جا رہی ہیں۔ ایک کمیٹی بننی چاہیئے جو کتب کی چھپائی کی اجازت دے کہ کونسی کتاب چگاپنے کے قابل ہے کونسی نہیں۔
     
  4. ‏نومبر 11، 2017 #4
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    آئیے فساد کی جڑ کاٹیں
    قرآن نے فساد کی جڑ کاٹنے کے لئے قواعد بتلا دیئے۔ آئیے ان قواعد کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں
    قواعد
    إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (10) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (11) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ (12) سورة الحجرات
    مؤمنو کوئی مرد کسی مرد سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ (عند اللہ) تم سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عوتوں سے ممکن ہے کہ وہ (عند اللہ) ان سے اچھی ہوں۔ اور (ایک دوسرے پر) عیب نہ لگاؤ اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارو۔ایمان لانے کے بعد ایسا کرنا برا کام ہے۔ اور جو باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں۔
    اے اہل ایمان کہ بہت گھمان کرنے سئ پرہیز کرو کہ بعض گھمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگو اور نہ ہی کسی کی غیبت کرو۔ کیا تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کروگے؟ (یقیناً) تم اسے پسند نہیں کروگے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
    [49:11]
    O you who believe, no men should ever scoff at other men. May be, the latter are better than the former. Nor should women (ever scoff) at other women. May be, the latter women are better than the former ones. And do not find fault with one another, nor call one another with bad nicknames. Bad is the name of sinfulness after embracing Faith. If anyone does not repent, then such people are the wrongdoers.
    [49:12]
    O you who believe, abstain from many of the suspicions. Some suspicions are sins. And do not be curious (to find out faults of others), and do not backbite one another. Does one of you like that he eats the flesh of his dead brother? You would abhor it. And fear Allah. Surely Allah is Most-Relenting, Very-Merciful.​
     
  5. ‏نومبر 21، 2017 #5
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    آئیے اس بات کا تہیہ کریں کہ آج کے بعد کسی کو غلط نام سے نہیں پکاریں گے۔ کسی کی غیبت نہیں کریں گے۔
    ایک دوسرے کا تمسخر نہ اڑاؤ۔ اہل حدیث بھائیوں سے امید رکھتا ہوں کہ وہ خواہ مخواہ کسی کو جاہل جیسے القابات سے نہ نوازیں۔ یہ ممکن ہے کہ جسے تم جاہل کہہ رہے ہو وہ تم سے بڑا عالم ہو۔
     
  6. ‏نومبر 21، 2017 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,185
    موصول شکریہ جات:
    1,057
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ
     
  7. ‏نومبر 22، 2017 #7
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    آپ کی مثال تو ایسی ہے کہ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ۔ میں اگر اپنے کو بھولا ہوتا تو یہاں کس مقصد کے لئے آیا؟
     
  8. ‏نومبر 22، 2017 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,185
    موصول شکریہ جات:
    1,057
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

     
  9. ‏نومبر 22، 2017 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,185
    موصول شکریہ جات:
    1,057
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    یہ تو صرف ایک نمونہ ہے.
    اسی لئے کہا تھا:
     
  10. ‏نومبر 22، 2017 #10
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جاہل دو قسام ہوتے ہیں۔
    لاعلم جاہل
    علم رکھنے والا جاہل
    قرآن نے خواہ مخواہ یا بطور تمسخر ایسا کہنے سے منع کیا۔
    لہٰذا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ کا اطلاق ہر جگہ فٹ کرنا اس کے مصداق ہوگا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں