1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معاشرے میں خرابیوں کی وجہ سے بچوں کے بگڑنے کا خدشہ ہے، تو کیا خاندانی منصوبہ بندی جائز ہے؟

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اپریل 11، 2015۔

  1. ‏اپریل 11، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    معاشرے میں خرابیوں کی وجہ سے بچوں کے بگڑنے کا خدشہ ہے، تو کیا خاندانی منصوبہ بندی جائز ہے؟

    سوال:

    کیا ہر پانچ سال کے وقفے سے خاندانی منصوبہ بندی جائز ہے اس بنا پر کہ معاشرہ بہت بگڑ چکا ہے، اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا بہت مشکل ہے۔


    الحمد للہ:

    ہم نے یہ سوال شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کے سامنے پیش کیا، تو آپ نے جواب دیا:

    "اگر نیت یہی ہے تو اس طرح کی منصوبہ بندی کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالی سے بد ظنی پر مبنی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت سے بھی متصادم ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (محبت کرنے والی ، زیادہ بچے جننے والی سے شادی کرو)"۔۔۔ اور اگر خاندانی منصوبہ بندی کی وجہ عورت کی صحت ہو کہ حمل برداشت نہیں کر سکتی، تو اس کے بارے میں کہیں گے کہ یہ جائز ہے، اگرچہ بہتر یہی ہے کہ ایسی صورت میں بھی منصوبہ بندی نہ کی جائے۔

    سوال: یعنی: عورت کی حالت کا خیال کرنا معاشرے کی خرابی کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے؟

    جواب: یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ بچوں کے بارے میں یقینی بات نہیں کی جاسکتی کہ وہ بگڑ جائیں گے، کیونکہ بچے نیک بھی ہو سکتے ہیں، اور معاشرے کیلئے مثبت کردار بھی پیش کرسکتے ہیں۔

    واللہ اعلم.

    شیخ محمد بن صالح عثیمین

    http://islamqa.info/ur/7205
     
  2. ‏اپریل 11، 2015 #2
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    پوچھنا تو یہ چاہئے کہ ہماری باتین نفس کی آسانی والی کیوں ہوتی ہیں بھائی یہ فتنے تب ختم ہوں گے جب ہم کچھ اس طرح سوچیں گے کہ
    ٹی وی پر بے حیائی کی وجہ سے گھر میں ٹی وی نہ رکھنا جائز ہے تاکہ فتنہ سے بچ سکیں
    باہر مردوں کی وجہ سے اپنی عورتوں کو دستانے اور مکمل برقع پہنانا جائز ہے تاکہ فتنہ سے بچ سکیں
    باہر نکلتے ہوئے فاحشہ عورتوں کی بھرمار ہوتی ہے تو کیا ہم گھر میں بیٹھے رہیں یا نگاہ نیچی کر کے نکلیں تاکہ فتنہ سے بچ سکیں
    بینک وغیرہ کی نوکری میں سود کا خطرہ ہے تو کیا ہم سبزی کی ریڑھی لگا لیں تاکہ فتنہ سے بچ سکیں
    دودھ میں ملاوٹ کرنے میں آخرت بگڑنے کا خطرہ ہے تو کیا ہم پانی نہ ملا کر نقصان برداشت کر لیں تاکہ فتنہ سے بچ سکیں
    اور سب سے بڑی بات کہ توحید الوہیت میں شرک کرنے سے سب اعمال غارت ہونے کا خطرہ نہیں بلکہ یقین ہے تو کیا ہم شرک ترک نہ کر دیں
     
  3. ‏فروری 06، 2016 #3
    salfi

    salfi مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 29، 2016
    پیغامات:
    16
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    Asalam u aliakum sheikh mera sawal hain ki agar ladki deen daar ho aur agr ussay koi rishta aayega magar usko ghar valay bolayghy hum aap ko is kay saat nikah nahi karayghy magar ladki ki chahat ho (ladki kehti hain ki ladka deen daar hain mai ise liye karugi magar ghar valay vaisa ladka nahi chahitay hain ) ab is haalat mai ladki kya karay ghe
     
  4. ‏فروری 07، 2016 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  5. ‏فروری 08، 2016 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,189
    موصول شکریہ جات:
    2,367
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    پہلے آپ کے سوال کو اردو میں درج کرتا ہوں ،
    سوال :اگر لڑکی دین دار ہو ، اور اس کیلئے کوئی رشتہ آئے ،مگر اس گھر والے والے اس سے اس کا رشتہ کرنے سے انکار کردیں ۔
    مگر لڑکی چاہتی ہو کہ اس لڑکے سے اس کی شادی ہو جائے کیونکہ وہ لڑکا اس لڑکی کی نظر میں دین دار ہے، اس لئے وہ اس سے شادی کی خواہش رکھتی ہے ۔
    مگر اس کے گھر والے ویسا (یعنی مذہبی ٹائپ ) لڑکا نہیں چاہتے ، اب اس صورت میں لڑکی کیا کرے ۔؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    شادی میں لڑکا اور لڑکی دونوں کی رضا و پسند کا ہونا ضروری ہے ۔
    قال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لا تُنْكَحُ الأَيِّمُ ( وهي التي فارقت زوجها بموت أو طلاق ) حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ( أي يُطلب الأمر منها فلا بدّ من تصريحها ) وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ( أي حتى توافق بكلام أو سكوت ) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا ( أي لأنها تستحيي ) قَالَ أَنْ تَسْكُتَ رواه البخاري 4741

    (طلاق یافتہ اور بیوہ کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا ، اورکنواری عورت سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے گی ، صحابہ کرام کہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( کنواری ) کی اجازت کس طرح ہوگی ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی خاموشی ہی اجازت ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4741 ) ۔
    اورتستامر کا معنی ہے کہ اس سے اجازت کی جائے گی جس میں اس کی جانب سے صراحب ہونا ضروری ہے ، ۔

    لیکن نکاح بہرحال ولی کی اجازت سے ہوگا
    ثانیا : أن يعقد للمرأة وليّها لأنّ الله خاطب الأولياء بالنكاح فقال : ( وأَنْكِحوا الأيامى منكم ) ولقوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ " رواه الترمذي 1021 وغيره وهو حديث صحيح .
    عورت کا نکاح اس کا ولی کرے گا : کیونکہ اللہ تعالی نے عورت کے نکاح میں ولی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے :
    { اوراپنے میں سے بے نکاح عورتوں اورمردوں کا نکاح کردو } ۔
    اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے :
    ( جس عورت نے بھی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کانکاح باطل ہے )
    سنن ترمذی حديث نمبر ( 1021 ) اس کے علاوہ اورمحدیثین نے بھی اسے روایت کیا ہے یہ حدیث صحیح ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور لڑکی اپنی رضا اور پسند کا اظہار مناسب طریقے سے کر سکتی ہے
    عن ثابت البناني قال : كنتُ عند أنس بن مالك وعنده ابنة له قال أنس : جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تَعرض عليه نفسها ، قالت : يا رسول الله ألك بي حاجة ؟ فقالت بنت أنس : ما أقلَّ حياءها ، وا سوأتاه ، وا سوأتاه ، قال : هي خير منكِ ، رغبت في النبي صلى الله عليه وسلم فعرضتْ عليه نفسَها . رواه البخاري ( 4828 ) .
    وقد بوَّب عليه الإمام البخاري بقوله : باب " عرْض المرأة نفسَها على الرجل الصالح " .


    وقال الحافظ ابن حجر :
    قال ابن المنيِّر في " الحاشية " : من لطائف البخاري أنه لما علم الخصوصية في قصة الواهبة استنبط من الحديث ما لا خصوصية فيه وهو جواز عرض المرأة نفسها على الرجل الصالح رغبة في صلاحه ، فيجوز لها ذلك ، وإذا رغب فيها تزوجها بشرطه ....
    وفي الحديثين – أي : حديث سهل وحديث أنس وكلاهما في التي عرضت نفسها على النبي صلى الله عليه وسلم - : جواز عرض المرأة نفسها على الرجل ، وتعريفه رغبتها فيه ، أن لا غضاضة عليها في ذلك ، وأن الذي تعرض المرأة نفسها عليه بالاختيار ـ له أن يقبل أو يرفض ـ ، لكن لا ينبغي أن يصرح لها بالرد بل يكتفي السكوت . " فتح الباري " ( 9 / 175 )

    ثابت البنانى رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ ميں انس رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس تھا اور ان كے پاس ان كى بيٹى بھى تھى انس رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے:
    " ايك عورت نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پاس آئى اور اپنے آپ كو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر پيش كيا اور كہنے لگى: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيا آپ كو ميرى ضرورت ہے ؟
    تو انس رضى اللہ تعالى عنہ كى صاحبزادی كہنے لگى:
    ہائے افسوس ! ہائے افسوس ! وہ كتنى بے شرم و حياء ہے ،
    جناب انس رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: وہ تجھ سے بہتر تھى اس نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ميں رغبت كى تو اپنے آپ كو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر پيش كر ديا "
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 4828 ).
    امام بخارى رحمہ اللہ نے باب باندھتے ہوئے كہا ہے:
    " كسى نيك و صالح شخص پر عورت كا اپنے آپ كو پيش كرنے كے بارہ ميں باب "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کی شرح میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :
    کہ ابن المنیر نے اس حدیث کے حاشیہ میں فرمایا ہے :
    امام بخاری کے لطیف استدلال کی جھلک یہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ اس حدیث میں چونکہ ایک عورت کا اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کو ہبہ کرنے کا بیان ہے اور ایسا کرنا صرف انہی سے خاص ہے توامام بْخاری ؒ نے اس سے حدیث سے یہ مسئلہ اخذ کیا کہ کوئی عورت کسی شخص سے اس کے نیک ہونے کی وجہ سے شادی کی خواہش کا اظہار کرسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اسلئے اس لڑکی کو اس دین دار سے شادی کی خواہش کے اظہار کا حق ہے
    اگر والدین یہ رشتہ بلا وجہ رد کریں ،تو لڑکی کو چاہیئے کہ دیگر محارم کے ذریعے والدین کو اس رشتہ پر راضی کرے ۔
    اور اگر اس کے گھروالے دینی اورعقلی اعتبار سے صحیح ہوں تو وہ اپنے گھر والوں کی رائے سے باہر نہ جائے بلکہ ان کی رائے قبول کرلے ، لیکن اگر عورت کےولی بغیر کسی صحیح سبب کے رشتہ رد کریں یا ان کا رشتہ اختیار کرنے میں معیار ہی غیر شرعی ہو مثلا اگر وہ صاحب دین اوراخلاق والے شخص پر کسی مالدار فاسق کو مقدم کریں ۔

    تو اس حالت میں لڑکی کےلیے جائز‌ ہے کہ وہ اپنا معاملہ شرعی قاضی تک لے جائے تا کہ اسے شادی سے منع کرنے والے ولی کی ولایت ختم کرکے کسی اورکو ولی بنایا جائے ۔
    https://islamqa.info/ur/6398
     
  6. ‏فروری 08، 2016 #6
    salfi

    salfi مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 29، 2016
    پیغامات:
    16
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    اس کے گهر والے صرف ذات یٰنعی کاست سیستم
    پر انکار کرتے هے
     
  7. ‏فروری 19، 2016 #7
    salfi

    salfi مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 29، 2016
    پیغامات:
    16
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    ASALAM U ALIAKUM JAB HUM MOOZU PAR MASAH KARTAY HAIN U KA TAREEKA KYA HAIN
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں