1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معاملہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ سے آگے بڑھ گیا!!

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اپریل 16، 2018۔

  1. ‏اپریل 16، 2018 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    30652998_1791833544209295_3350582881863860224_n.jpg


    معاملہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ سے آگے بڑھ گیا!!
    انصار عباسی

    APRIL 16, 2018

    کچھ عرصہ قبل مغربی ثقافت او رسوچ کو یہاں پھیلانے کے لیے کام کرنے والی کچھ این جی اوز نے پاکستان کے چند اہم شہروں میں خواتین کے حقوق اور اُن کی آزادی کے نام پر ایک مظاہرہ کا انعقاد کیا۔ اس مظاہرہ کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ عورت مکمل آزاد ہے اور وہ اپنے فیصلوں کے لیے کسی مرد چاہے وہ باپ ہو، بھائی یا شوہر کسی کے زیر اثر نہیں۔ اس مظاہرہ کا اہم نعرہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ تھا۔ اس نعرہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے بہت سے لوگوں کی توجہ حاصل کی اور بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے اپنے غم و غصہ کے ساتھ ساتھ تعجب کا اظہار کیا کہ یہ کون سی تعلیم دی جا رہی ہے اور یہ کیسے حقوق کی بات کی جا رہی ہے جن کا نشانہ شرم و حیا کے ساتھ ساتھ ہماری اسلامی و معاشرتی اقدار ہیں تاکہ مغرب کی طرح پاکستان میں بھی بے راہ روی کو پھیلا کر اس کو فری سیکس سوسائٹی بنایا جائے۔ اس مظاہرہ کے انعقاد کے ایک دو ہفتوں کے بعد پاکستان کے ایک انگریزی اخبار نے ایک خبر شائع کی جسے پڑھ کر محسوس ہوا کہ کس طرح پاکستان میں بے شرمی اور بے غیرتی کو بڑھانے کے لیے انتہائی منظم انداز میں کام ہو رہا ہے اور ہم بے فکرہو کر بیٹھے ہیں۔ خبر بہت خطرناک تھی لیکن اس کو بھی عمومی طور پر نظر انداز کیا گیا۔ خبر کے مطابق رضامندی سے زنا کو جائز قرار دینے کے لیے اقوام متحدہ کی ایک تنظیم کی سفارشات کو پاکستان نے رد کرنے کی بجائے ’’Noted‘‘ لکھا جس کا (خبر کے مطابق) مطلب یہ ہے کہ پاکستان ان سفارشات پر غور کرے گا۔ ان سفارشات میں یہ لکھا ہے کہ ایسے قوانین جو بغیر شادی کیے نا محرم عورت اور مرد کے جسمانی تعلق یعنی زنا پر پابندی لگاتے ہیں اور اُنہیں غیر قانونی تصور کرتے ہیں ، اُنہیں ختم کر دیا جائے تاکہ زنا کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے۔ خبر میں وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالہ سے لکھا گیا کہ انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی پاکستان نے ان سفارشات جن کا حوالہ (The UPR Recommendations- 2017) ہے، کے بارے میں اقوام متحدہ میںاپنا ردعمل "noted" کر کے دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ان سفارشات پر غور کرے گا۔ خبر کے مطابق ماضی میں بھی پہلے 2008 اور پھر 2012میں اسی تنظیم نے کچھ دوسری متنازع سفارشات کے ساتھ ساتھ رضا مندی سے زنا کے عمل کو جائز قرار دینے کی تجاویز دیں تھیں لیکن دونوں مرتبہ پاکستان نے ان سفارشات کو صاف صاف مسترد کیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم ان تجاویز پر غور بھی نہیں کریں گے۔ لیکن اس بار ایسا کیا اور کیوں ہوا کہ پاکستان نے ایسے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی عمل کو رد کرنے کی بجائے اس پر غور کرنے کا وعدہ کر لیا؟؟ اس بارے میں دفتر خارجہ میں بیٹھے افراد بھی حیران ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ عمل ممکنہ طور پر پاکستان کو بدنام کرنے کی بھی سازش ہو سکتی ہے۔ اس خبر کی سنگینی کے باوجود اس پر ابھی تک کوئی ایکشن کہیں سے بھی نہیں لیا گیا اور نہ ہی کسی انکوائری کا حکم سامنے آیا ہے۔ چلیں ٹی وی چینلز سے تو کوئی کیا توقع رکھے کہ اس معاملہ کو اٹھائیں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور یہ بھی پتا لگایاجائے کہ آخر اس عمل میں کون کون شریک ہے اور اُن کا مقصد کیا تھا، لیکن حیرانگی اس امر پر ہے کہ ایک انگریزی اخبار میں اس خبر کے شائع ہونے کے باوجود حکومت کے کان میں جوں تک نہیں رینگی۔ جس روز یہ خبر شائع ہوئی اُسی روز میں نے اُسے سوشل میڈیا میں ٹیوٹر کے ذریعے بھی شیئر کیا اور خصوصی طور پر وزیر خارجہ خواجہ آصف، مریم نواز اوراحسن اقبال کی توجہ کے لیے اُن کے ٹیوٹر ہینڈل کو بھی لنک کیا لیکن کسی نے اس بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا۔ اس معاملہ کو اس کالم کے ذریعے اٹھانے کا مقصد ریاستی ذمہ داروں کی توجہ حاصل کرنا ہے تاکہ اس سازش کو بے نقاب کیا جا سکے اور یہ بھی پتا لگایا جا سکے کہ کون کون سی این جی اوز اس قسم کے ایجنڈے پر یہاں کام کر رہے ہیں اور اُن کے خلاف حکومت کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچاہٹ کا شکار ہے.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 16، 2018 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    تمام تر پاکستان بازار حسن ہو گا اب ؟
    ابوبکر قدوسی

    ......
    غیرت ، حیاء ، شرم کب کی آپ کے دامن سے رخصت ہوئی - گو آپ یعنی ہمارے حکمران پہلے بھی ایسے ہی تھے لیکن اب تو شرم حیاء یوں رخصت ہوئی کہ واپس آئے تو خود بھی نہ جان سکے کہ کبھی یہاں کی مکین تھی -
    دیکھیے کینڈا اور چیک ریپبلک ، نے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان میں باہمی رضا مندی سے ہونے والی زنا کاری کو جرم نہ شمار کیا جائے - بلکہ اس کو " باعزت " تعلق قرار دے کر قانونی تحفظ دیا جائے ...... حیرت یہ نہیں کہ اہل مغرب نے ہم سے یہ فرمائش کی ، حیرت یہ ہے کہ ہمارے نمائندوں نے جواب میں کہا کہ " جی سوچتے ہیں " یا یوں کہیے کہ سوچ کر جواب دیتے ہیں ----
    کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ وہ کون سا وقت تھا جب ہم کبھی غیرت مند قوم ہوتے تھے ..کبھی کبھی تو خواب لگتا ہے - دیکھئے نا ایک بندہ اٹھتا ہے اور آ کر کے آپ کو کہتا ہے کہ آپ کے گھر کی خاتون اگر محلے کے کسی "شہزادے " ساتھ " انوالو " ہو جاتی ہے تو آپ اس کو قبول کیجئے .....
    آپ کے پاس دو آپشن ہوتے ہیں پہلا یہ کہ آپ اس کے منہ پر تھپڑ مار کے اسے دفان کرتے ہیں ....دوسرا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ آپ نیم مسکراہٹ سے اسے کہتے ہیں کہ
    "جی سوچتے ہیں "
    ممکن ہے صاحب آپ سوچتے ہوں ، یا آپ کو مجھ پر غصہ آ رہا ہو کہ یہ کیا طریقه تحریر ہے کہ
    "آپ ، آپ ، آپ "
    کر کے میں یہ مثالیں دے رہا ہوں ......لیکن سچ بتائیے کہ:
    کیا یہ پاکستان ہمارا گھر نہیں ؟
    کیا ہم اس کے مکین نہیں ؟
    جب ایسا ہی ہے تو جان لیجئے ہم سے اقوام متحدہ نے یہی فرمائش کی ہے کہ تمام پاکستان کو "قانونی طور پر " ہیرا منڈی قرار دیا جائے - جسی میں زنا کاری کی سہولت قانونی طور پر موجود ہو - اور ایسا کرنا جرم نہ ہو -
    کوئی صاحب اگر مجھ سے کہیں گے کہ میں ایک کم تر درجے کی بات کو بڑھا کر پیش کر رہا ہوں تو مجھے بتائیے کہ کیا کسی غیرت مند قوم کے نمائندے کا یہ جواب ہوتا ہے جو ہمارے نمائندے نے دیا ؟
    کیا ہمارا نمائندہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے .... اور اس ملک کا ایک آئین بھی ہے ، یہاں کوئی قانون بھی ہے ...جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ یہاں کوئی قانون خلاف اسلام نہیں بن سکتا ...لیکن جب قومیں اور ان کے نمایندے غیرت سے محروم ہو جائیں تو ایسے ہی جواب دیتے ہیں جیسا ہماری حکومت کی طرف سے دیا گیا کہ
    "جناب سوچتے ہیں "
    اچھا دوستو ! آپ سے پوچھنا تھا کہ جب تمام تر پاکستان کو بازار حسن قرار دیا جائے گا تو قانونی طور پر آبادی کا کتنا حصہ " دلال کہلائے گا اور کتنا گاہک ...
    اچھا غصہ نہ کیجیے گا ...گو یہ تجویز منظور نہیں ہو گی ..لیکن مجھے تو اس جواب نے تلخ تر کر رکھا ہے کہ
    "جناب ، وقت دیجیے ، کچھ سوچتے ہیں "
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں