1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معتزلہ نے قرآن کو مخلوق کیوں کہا؟

'معتزلہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏اپریل 29، 2019۔

  1. ‏اپریل 29، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    862
    موصول شکریہ جات:
    241
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیخ @مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
    ایک سوال آیا ہوا ہے کہ "معتزلہ نے قرآن کو مخلوق کیوں کہا ؟
     
  2. ‏اپریل 29، 2019 #2
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,268
    موصول شکریہ جات:
    356
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات میں سے ایک صفت اور غیر مخلوق ہے۔ سلف صالحین رحمة اللہ علیھم اور ائمہ اہل السنة والجماعة کا یہی عقیدہ ہے۔ جبکہ جھمیة اور معتزلہ نے اپنے "اصول توحید" کے پس پردہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا بھی انکار کرتے ہوئے اسے مخلوق گردانا ہے اور کہتے ہیں کہ قرآن مجید کو غیر مخلوق سمجھنے سے "تعدد قدماء" لازم آتا ہے اور اس طرح قرآن مجید "حادث" کی بجائے ایک قدیم چیز بن جاتی ہے، جس سے خالق (اللہ) کی مخلوق( قرآن) کے ساتھ مچابہت لازم آتی ہے لہذا انہوں نے اس نظریے کو "عقیدہ توحید" کے منافی سمجھتے ہوئے قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی صفت کلام سے الگ تھلگ کر دیا۔
    ایک مضمون سے اقتباس ۔۔ مکمل مضمون کے لئے لنک
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں