1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معروف محقق فؤاد سزگین کو خراجِ تحسین

'تذکرہ مشاہیر' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏جولائی 29، 2018۔

  1. ‏جولائی 29، 2018 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    فؤاد سزگین کو خراجِ تحسین

    بھائی صفدر زبیر ندوی نے اسلامک فقہ اکیڈمی نئی دہلی کے مرکزی دفتر سے فون کیا :" ہم 28 جون 2018 کو ڈاکٹر فؤاد سزگین پر ایک پروگرام کرنا چاہتے ہیں.... "
    ان کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی میں نے جواب دیا : "میں ان شاء اللہ حاضر ہوں گا _"
    انھوں نے جملہ یوں مکمل کیا :"صرف حاضری کافی نہیں ، آپ کو پروگرام کی صدارت بھی کرنی ہے _"
    ڈاکٹر فؤاد سزگین ترکی کے نام ور محقق ہیں ، جنھیں ان کی تصنیف ' تاریخ التراث العربی الاسلامی ' کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہے _ عالم اسلام کا اعلیٰ شاہ فیصل ایوارڈ شروع کیا گیا تو پہلا ایوارڈ 1979 میں خدمتِ اسلام پر مولانا سید ابو الاعلی مودودی (م1979 ء) کو اور اسلامک اسٹڈیز میں سزگین کو دیا گیا _ جرمنی میں بھی انھیں 'آرٹ آف میرٹ' کے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا _ 30 جون کو 94 برس کی عمر میں ترکی میں ان کا انتقال ہوگیا _ صدر ترکی رجب طيب اردوان نے 2019 کو سزگین کے سال کی حیثیت سے منانے کا اعلان کیا ہے ، جس میں ان کی حیات و خدمات کے تعارف پر مختلف کانفرنسیں اور سمینار منعقد کیے جائیں گے _ برِّ صغير ہند و پاک میں سزگین کے علمی کاموں کا کوئی خاص تعارف نہیں ہے ، چنانچہ اسلامک فقہ اکیڈمی نے انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے اور ان کی علمی خدمات کا تعارف کرانے کے لیے پیش قدمی کی _
    اس پروگرام میں ڈاکٹر وارث مظہری ، اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ اسلامک اسٹڈیز ، جامعہ ہمدرد نئی دہلی نے 'ڈاکٹر فؤاد سزگین کی فکر و شخصیت کے امتیازی پہلو' کے عنوان پر اظہارِ خیال کیا _ انھوں نے بتایا کہ سزگین کی علمی رہ نمائی اور سرپرستی میں ان کے مستشرق استاد 'ہلموت رٹر' کا اہم کردار ہے _ انہی کی ترغیب سے سزگین نے عربی زبان اور اسلامی تاریخ میں مہارت حاصل کی _ ڈاکٹر مظہری نے ان کی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی _
    دوسرا لیکچر ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی ، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کا تھا _ انھوں نے موصوف کی کتاب ' تاریخ التراث العربی' کا تعارف کرایا ، اس کے منہجِ تالیف پر روشنی ڈالی اور اس کی امتیازی خصوصیات بیان کیں _ انھوں نے بتایا کہ یہ کتاب اصلاً کارل بروکلمان (م1965ء) کی کتاب 'تاریخ آداب اللغۃ العربیۃ' کا استدراک اور تکملہ ہے _ بروکلمان نے ابتدا سے گزشتہ صدی تک کے مختلف اسلامی علوم کے عربی مصادر اور ان کے مؤلفین کا تعارف کرایا ہے اور دنیا کی مختلف لائبریریوں میں ان کی مطبوعات و مخطوطات کی نشان دہی کی ہے _ یہ کتاب 1902 میں دو جلدوں میں شائع ہوگئی تھی _ بعد میں بروکلمان نے اس میں اضافے کیے اور تین جلدیں ضمیمہ کے طور پر شائع کیں _ سزگین نے محسوس کیا کہ بروکلمان بہت سے مصادر کا تذکرہ نہیں کرسکے ہیں _ چنانچہ انھوں نے 1947 میں اس پر استدراک اور اضافہ کا منصوبہ بنایا ، البتہ کام کی وسعت کے پیش نظر انھوں نے 430 ھ تک کی مدت طے کی _ 1967 میں اس کی پہلی جلد شائع ہوئی _ بعد میں آگے کی جلدیں شائع ہوتی رہیں _ وہ مسلسل کام کرتے رہے _ ان کی زندگی میں 17 جلدیں تیار ہوگئی تھیں _ اٹھارہویں جلد پر وہ کام کررہے تھے کہ وقتِ موعود آ پہنچا _
    خوش قسمتی سے اس پروگرام میں ڈاکٹر عزیر شمس ، محقق 'عالم دار الفوائد' مکہ مکرمہ بھی شریک تھے _ موصوف علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن قیم کی تمام مطبوعات کے تحقیقی اڈیشن شائع کرنے کے پروجیکٹس پر کام کر چکے ہیں اور انھوں نے دیگر متعدد تحقیقی کام بھی انجام دیے ہیں _ فؤاد سزگین سے بھی ان کی بارہا ملاقاتیں رہی ہیں _ انھوں نے مرحوم سے اپنی ملاقاتوں کے بعض احوال ، ان کے علمی و تحقیقی کاموں کی اہمیت اور اندازِ تحقیق کے بارے میں بڑی قیمتی باتیں بتائیں _
    میں نے اپنی صدارتی گفتگو میں عرض کیا کہ ہمارے لیے فؤاد سزگین کی زندگی سے کئی باتیں سیکھنے کی ہیں :
    (1) مخالف ماحول میں کام کا حوصلہ :
    سزگین کی پیدائش ترکی میں 1924 میں ہوئی ، جب کمال اتاترک نے اسلام کو دیس نکالا دے دیا تھا _ انھوں نے استنبول یونی ورسٹی سے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور وہیں 1954 میں ان کا تقرر ہوگیا ، لیکن 1960 کے فوجی انقلاب کے بعد دیگر بہت سے اساتذہ کے ساتھ ان کی بھی ملازمت ختم کردی گئی _ پھر بھی وہ مایوس نہیں ہوئے _ وہ جرمنی چلے گیے اور اپنی علمی سرگرمیاں جاری رکھیں _
    (2) محنت:
    سزگین کے استاد 'ہلموت' نے ان سے پوچھا :" روزانہ کتنے گھنٹے کام کرتے ہو؟" جواب دیا : 12 گھنٹے _ انھوں نے کہا : " تب تم دنیا میں کیا کام کرو گے؟ 17، 18 گھنٹے کام کیا کرو _" سزگین نے استاد کی اس نصیحت کو حرزِ جان بنا لیا _ ان کا انتقال 94 برس کی عمر میں ہوا _ آخر تک وہ روزانہ 18 گھنٹے کام کرتے رہے _ انھوں نے اتنا کام کیا جتنا کسی اکیڈمی سے وابستہ بہت سے افراد کے لیے بھی ممکن نہ تھا _ چنانچہ انھوں نے جب اپنی کتاب یونیسکو سے شائع کروانی چاہی تو اس کے ذمے دار کو یقین نہیں آیا کہ یہ فردِ واحد کا کام ہوسکتا ہے _ اس نے کہا کہ جتنے لوگوں نے مل کر کام کیا ہے سب کا نام بتائیے _ محض اسی وجہ سے یہ کتاب وہاں سے شائع نہ ہو سکی _
    (3) تلاش و تحقیق کا اعلیٰ معیار :
    انھوں نے جزئیات کا مکمل احاطہ کیا _ جس کتاب کا تذکرہ کیا اس کے بارے میں بتایا کہ اس کے کتنے اڈیشن کہاں کہاں سے شائع ہوئے ہیں؟ اور اس کے مخطوطات دنیا کی کن کن لائبریریوں میں پائے جاتے ہیں؟ حیرت ہوتی ہے کہ انھوں نے دنیا کی تمام مشہور لائبریریوں کی فہرستیں جمع کرلی تھیں اور ان سے استفادہ کرکے ان کے حوالے دیے ہیں _
    (4)استدراک :
    سزگین کی کتاب اصلاً بروکلمان کی کتاب کا استدراک اور تکملہ ہے _ خود سزگین کی کتاب پر حکمت بشیر یٰسین ، اکرم ضیاء العمری اور نجم عبد الرحمن خلف نے استدراکات رکھے ہیں _ علمی دنیا میں استدراک کو ناپسند نہیں کیا جاتا اور اسے سابقہ کام کا نقص نمایاں کرنے سے تعبیر نہیں کیا جاتا _
    (5) علمی کام کی لذّت :
    سزگین علمی کاموں میں اتنا محو رہتے تھے کہ دوسری تمام چیزیں ان کی نظر میں ہیچ تھیں _ بعض سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ گھر والوں سے بھی ان کی ملاقات بس کھانے کی میز پر ہوپاتی تھی _
    فؤاد سزگین کی کتاب تاریخ التراث کی کچھ جلدوں کا عربی ترجمہ مصر سے ہوا ہے اور ان کی اشاعت سعودی عرب سے ہوئی ہے _ ابتدائی بعض جلدوں کا اردو ترجمہ پاکستان میں ڈاکٹر نذیر حسین نے کیا ہے _
    پروگرام کی نظامت مولانا صفدر زبیر ندوی نے کی _ خوشی ہوئی کہ پروگرام کے دوران ہی انھوں نے اکیڈمی کے سکریٹری مولانا امین عثمانی کی جانب سے اعلان کیا کہ ان شاء اللہ اکیڈمی کی جانب سے فؤاد سزگین کی حیات و خدمات پر دوروزہ سمینار فروری 2019 میں منعقد کیا جائے گا _
    ( محمد رضی الاسلام ندوی )
     
  2. ‏جولائی 30، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    آہ! پروفیسر ڈاکٹر فواد سزگین


    ریاض الدین مبارک
    ترکی کے مایہ ناز مورخ پروفیسر علامہ فواد سزگین ۳۰ جون ۲۰۱۸ کو ہمیں داغ مفارقت دے گئے!!
    انا لله وانا اليه راجعون..
    ڈاکٹر فواد سزگین Fuat Sezgin کردی النسل اور اسلامی تاریخ کے نامور مورخ ہیں۔ وہ 24 اکتوبر 1924 میں پیدا ہوئے اور 1950 میں استنبول یونیورسٹی سے ایک جرمن مستشرق ہیلمٹ رٹر کے اشراف میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ عنوان تھا “صحیح بخاری کے مصادر” اس موضوع پر چونکہ مستشرقین عموما جدال کرتے رہتے ہیں اس لیے ان کا رد کرتے ہوئے تحقیقی مواد اکٹھا کرنا اور انہی کے مناقشے پر ان کے روبرو انہی کا بطلان کرنا ایک بہت ہی کٹھن مرحلہ تھا لیکن اللہ کی مدد شامل حال ہو تو پھر ہر مرحلہ آسان ہوجایا کرتا ہے۔ یہ ایک نہایت معلوماتی، منہجی اور تنقیدی تھیسیز ہے جس میں مستشرقین کو چیلنج بھی کیا گیا ہے۔

    فواد سزگین نے تقریباً 94 برس کی عمر پائی اور آج (یکم جولائی 2018 ) استنبول میں ان کے جسد خاکی کو سپرد خاک کردیا جائے گا۔ رحمه الله تعالى

    تعلیم سے فراغت کے بعد استنبول یونیورسٹی میں پروفیسر فواد سزگین کی تقرری ہوگئی تھی اور وہاں انھوں نے کچھ عرصہ کام بھی کیا لیکن 1960 میں وہ سیاست کی نذر ہوگئے اور انھیں وہاں سے برطرف کردیا گیا۔ اس کے بعد 1961 میں وہ جرمنی منتقل ہوگئے اور فرانکفرٹ یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر کے طور پر مصروف ہوگئے۔ پھر 1965 میں باقاعدہ پروفیسر کی حیثیت سے اسی یونیورسٹی میں ان کا تقرر ہوا۔

    عصر حاضر میں پروفیسر فواد سزگین کا نام علوم اسلامیہ کی تاریخ پر دسترس رکھنے والے اہم علماء میں شمار ہوتا ہے۔ اس موضوع پر انھوں نے عمر بھر اس لیے کام کیا تاکہ امت مسلمہ اسلامی کلچر کی عظمت کو پہچان سکے اور کما حقہ اس سے استفادہ کرے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اسلامی تہذیب و ثقافت کی عظمت اور اس کی رفعت سے یوروپی اقوام کو سمجھانا آسان ہے لیکن اس کی اہمیت اور افادیت سے مسلمانوں کو روشناس کرانا نہایت دشوار ہے۔
    پروفیسر سزگین نے ہمارے لیے ایک بڑا علمی میراث چھوڑا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس ورثے سے کتنا فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔
    “اسلامی ہیریٹیج” پر تصاویر کے ساتھ انھوں نے کئی جلدیں شائع کیں اور متعدد زبانوں میں ان کے ترجمے بھی ہوئے۔ 1947 میں انھوں نے یہ کتاب لکھنی شروع کی اور مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد یہ کتاب پندرہ سالوں بعد پایہ تکمیل کو پہنچی۔ اس کتاب میں ڈاکٹر سزگین نے بڑی محنت کی اور اس کی تحقیق میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔
    پروفیسر سزگین نے 1982 میں فرانکفرٹ کی جون ولفگینگ گوئٹے یونیورسٹی میں عرب ممالک کی مدد سے ‘عرب اسلامی علوم کی تاریخ پر ایک انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جہاں ایک عرصے تک وہ پروفیسر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔
    ‏Institute of the History of the Arab Islamic Sciences
    تعلیمی اور تحقیقی میدان میں آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے جرمن چانسلر نے ‘آرڈر اوف میرٹ’ کے نیشنل ایوارڈ سے آپ کو سرفراز کیا۔ صرف یہی نہیں آپ کی خدمات کو اعزاز بخشتے ہوئے فرانکفرٹ سٹی کا ‘گوئٹے میڈل’ بھی عطا کیا گیا۔
    پروفیسر سزگین پہلے شخص ہیں جنھیں سعودی حکومت کی طرف سے 1979 میں اسلامی علوم پر ‘شاہ فیصل عالمی ایوارڈ’ سے نوازا گیا۔
    اسلامی تراث پہ پروفیسر سزگین نے جو کتاب لکھی وہ کافی تفصیلی اور کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں علوم قرآن، علم حدیث، تدوین کی تاریخ، فقہ، عقائد، تصوف، عربی شاعری، عربی زبان، نحو، بلاغت، فنی نثر، عروض، ادب، فلسفہ، منطق، علم النفس، اخلاقیات، سیاسیات، سماجیات، طب، کیمیاء، علم نباتات، زراعت، فلکیات، نجومیات اور آثار وغیرہ مختلف موضوعات پہ سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
    یہ کتاب جرمن زبان میں لکھی گئی اور پہلی بار 1967 میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی پھر مصر میں اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ ہوا اور 1978 میں دو حصوں میں چھاپی گئی۔ اس ترجمے کا کام ڈاکٹر محمود فہمی حجازی اور ڈاکٹر فہمی ابوالفضل نے شروع کیا پھر کچھ وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ رک گیا۔
    بعد میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سعودی کی دو یونیورسٹیوں محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی اور شاہ سعود یونیورسٹی نے بیڑا اٹھایا جس میں کئی بڑے اساتذہ نے کام کیا اور 1982 سے نشر ہونا شروع ہوا۔
    یہ کتاب ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے جو اسلامی علوم کے ہر گوشے پر محیط ہے۔ڈاکٹر سزگین کی موت پر پورا عالم اسلام خاص طور پر علمی طبقہ جو ان سے متعارف ہے نہایت سوگوار ہے، اور کیوں نہ ہو وہ اکیلے ہی ایک مستقل ادارہ تھے اور اپنے آپ میں اسلامی علوم کا گنجینہ گرانمایہ تھے جو اب ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
    خدا بخشے بڑی ہی خوبیاں تھیں مرنے والے میں!
    http://www.thefreelancer.co.in/?p=1118
     
  3. ‏جولائی 30، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں