1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی تقی عثمانی کافتوی اور دیوبندیوں کی گمراہی

'دیوبندی' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہد نذیر, ‏مئی 17، 2012۔

  1. ‏مئی 17، 2012 #1
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    بسمہ اللہ الرحمن الرحیم​


    مفتی تقی عثمانی کافتوی اور دیوبندیوں کی گمراہی


    تمہید​


    حنفی فرقہ دنیائے اسلام کا وہ واحد عجیب و غیریب فرقہ ہے جو بیک وقت تین اماموں کی تقلید کرتاہے۔مسائل میں امام ابوحنیفہ کی تقلید کا پٹہ اپنے گلے میں پہنتاہے اور عقائد میں ابومنصور ماتریدی اور ابوالحسن اشعری کی تقلید کا طوق اپنی گردن کا زیور بناتاہے۔ مسائل میں کسی سے متفق ہونا اور عقائد میں کسی اور کو منظور نظر بنا لینے کی وجہ اسکے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ امام ابوحنیفہ کے عقائد انکے مقلدوں کے نزدیک درست نہیں اور ابومنصور ماتریدی اور ابوالحسن اشعری کو مسائل کی سمجھ نہیں۔ بہتر تو یہ تھا کہ اگر تقلید واجب اور فرض ہے(بدعتیوں کے نزدیک) تو یہ ضدی اور ہٹ دھرم مقلدین کم ازکم ایک ایسے امام کا انتخاب کر لیتے جسکے عقائد بھی درست ہوتے اور اسکو مسائل کی بھی سمجھ ہوتی! لیکن یہ معقول بات ان مقلدین کی موٹی عقل میں آجائے تو انہیں جاہل اور گمراہ کون کہے؟؟!!

    اصل موضوع​


    دیوبندی اور بریلوی دونوں نام نہاد حنفی، عقیدہ میں ابوالحسن اشعری اور ابو منصور ماتریدی کے مقلد ہیں۔ ثبوت کیلئے دیکھئے بریلوی مفتی احمد یار نعیمی کی کتاب جاء الحق اور دیوبندی عالم خلیل احمد سہانپوری کی المھند علی المفند اور یوسف احمد لدھیانوی کی تصنیف اختلاف امت اورصراط مستقیم:

    ۱۔ عقائد میں دونوں فریق امام ابوالحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی کو امام و مقتدا مانتے ہیں۔ (اختلاف امت اور صراط مستقیم صفحہ نمبر ۳۷)

    ۲۔ المہند علی المفند میں خلیل احمد سہانپوری دیوبندی، مقلدین کے عقائد کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ہم اور ہمارے مشائخ اور ہماری ساری جماعت بحمداللہ فروعات میں مقلد ہیں مقتدائے خلق حضرت امام ہمام امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ، اور اصول و اعتقاد یات میں پیرو ہیں امام ابوالحسن اشعری اور امام ابومنصور ماتریدی رضی اللہ عنہما کے (المھند علی المفند صفحہ ۲۹)

    تعارف کتاب: المہند علی المفند دیوبندیوں کے متفقہ عقائد پر مشتمل کتاب ہے جس کی تصدیق دیوبندیوں کے قدیم وجدید اکابرین نے کی ہے کتاب کے آخر میں یہ تصدیقات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ اس کتاب کے تعارف میں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے جو دیوبندی اس کتاب میں بیان کئے گئے کسی عقید ہ کو نہیں مانتا تو وہ دیوبندی کہلانے کا حقدار نہیں۔

    لیکن اسکے برعکس مفتی تقی عثمانی باوجود دیوبندی ہونے کے عقائد میں تقلید کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ اس حقیقت سے بے خبر کے اس فتوی کے بعد تقی عثمانی خود بھی گمراہی کی وادیوں کے مسافر بن چکے ہیں۔
    الجھا ہے پیر یار کا رلف دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

    اپنی مشہور تصنیف تقلید کی شرعی حیثیت میں تقی عثمانی صاحب عوام الناس کو دھوکہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ائمہ مجتہدین کے مقلد حضرات عقائد میں تقلید کے قائل نہیں۔(تقلید کی شرعی حیثیت صفحہ 125)

    مفتی تقی عثمانی کی مذکورہ وضاحت اور اقرار نے خود تقی عثمانی سمیت تمام دیوبندیوں اور بریلویوں کے گمراہ ہونے پر تصدیق مہر ثبت کردی ہے۔ الحمداللہ

    پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ آپ اختلاف امت اور صراط مستقیم اور المہند علی المفند کی عبارات ملاحظہ فرمائیں پھر تقی عثمانی صاحب کا بیان پڑھیں اور دیکھیں کہ یہ لوگ عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لئے کس طرح گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔ کیا تقی عثمانی صاحب نے کبھی المھند علی المفند نہیں پڑھی یا وہ دیوبندی نہیں ہیں؟؟؟!!! تقی عثمانی صاحب کو یہ سیاہ جھوٹ بولنے پر آخر کس چیز نے مجبور کیا کہ مقلدین عقائد میں تقلید نہیں کرتے؟؟؟ بہر کیف اس جھوٹ کی وجہ جو بھی ہو لیکن کم از کم یہ بات ضرور ثابت ہوگئی کہ دیوبندی علماء خود کو اور اپنی جماعت کو حق پر ثابت کرنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے سے کام لیتے ہیں ۔چاہے جھوٹ بولناپڑے، فریب دینا ہو، دھوکے بازی سے کام لینا پڑے، خیانت کرنی پڑے ، احادیث میں تحریف کرنی ہو،دیوبندی مذہب کے دفاع میں ان کے ہاں سب کچھ جائز ہے۔

    اہلحدیثوں پر گمراہی کا فتوی لگانے والوں خود تمہارے معتبراور مستند عالم کی تحریر تمہاری گمراہی کو ثابت کر رہی ہے اب تو مان لو .................... یا اب بھی اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور ضد پر قائم رہوگے؟؟!!

    اے چشم اشک بار زرا دیکھنے تو دے
    ہوتاہے جو خراب وہ تیرا ہی گھر نہ ہو
     
  2. ‏مئی 17، 2012 #2
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]
     
  3. ‏مئی 17، 2012 #3
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    ایک ضروری وضاحت:


    دیوبندی حضرات کی عام عادت ہے کہ اصل بات کو نظرانداز کرکے مخالف کے مضمون سے کوئی ایک لفظ یا کوئی ایک نقطہ اٹھا کر فضول قسم کی بحث شروع کردیتے ہیں۔ جوکہ اصل بحث سے غیر متعلق ہوتی ہے ۔اسلئے میں نے ضروری محسوس کیا کہ وہ نقاط جس سے یہ لوگ اپنے مقلدین بھائیوں کو مغالطہ اور دھوکہ دینے کی کوشش کرینگے اور موضوع بحث کودوسری طرف پھیرنے کی کوشش کرینگے انکی وضاحت میں یہیں کردوں۔ چناچہ تقلید کی شرعی حیثیت میں مفتی تقی عثمانی صاحب شاطرانہ چال چلتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گویا ان کی تقلید دین کے بنیادی عقائد میں تھی اور دین کے بنیادی عقائد میں تقلید ہمارے نزدیک بھی جائز نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ دیوبندی حضرات تقی عثمانی کے اس جملہ کا فائد ہ اٹھاتے ہوئے کہیں کہ یہاں انھوں نے بنیادی عقائد کی بات لکھی ہے جبکہ ہم ابوالحسن اشعری اور ابومنصور ماتریدی کی تقلید بنیادی عقائد میں نہیں کرتے۔ اس شبہہ یا مغالطے کا جواب یہ ہے کہ میں نے تقی عثمانی کی جو عبارت انکی کتاب سے نقل کی ہے اس میں مطلق عقائد میں تقلید کا ذکر ہے اسکی تائید المھند علی المفند کی عبار ت سے بھی ہوتی ہے جس میں خلیل احمد سہانپوری صاحب مطلق عقائد میں تقلید کا ذکر کرتے ہیں اور اس کتاب کی تصدیق کرنے والے دیوبندی اکابرین میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ابومنصور ماتریدی اور ابوالحسن اشعری کی تقلید بنیادی عقائد میں نہیں ہے اسکے برعکس انکی تصدیقات اس بات کا ثبوت ہے کہ دیوبندی مطلقاًعقائد میں تقلید کرتے ہیں جس میں بنیادی عقائد بھی خودبخود آجاتے ہیں اور مزید اسکی تائید یوسف احمد لدھیانوی کی تحریر سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے دیوبندیوں اور بریلویوں کا بنیادی عقائد میں تقلید کا ذکر نہیں کیا بلکہ مطلق عقائدمیں تقلید کا ذکر کیا ہے جس میں بنیادی عقائد بھی شامل ہیں۔ والحمداللہ
    لہذا اس نقطہ کو اٹھا کر کوئی دیوبندی دھوکہ دینے اور فضول بحث کرنے کی کوشش نہ کرے۔
     
  4. ‏مئی 17، 2012 #4
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

  5. ‏مئی 17، 2012 #5
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    ملنگ صاحب، امین اوکاڑوی صاحب کی چار کتابیں پڑھکر مغالطہ دینے اور تاویلات کرنے کے تو ماہر ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ مغالطے اور تاویلات سے دھوکہ تو دیا جاسکتا ہے لیکن جھوٹ کو سچ اور باطل کو حق میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ کے فضل سے ہم نے دیوبندیوں کی گمراہی کو دلائل سے ثابت کردیا ہے۔ ویسے تو یہ تھریڈکسی دیوبندی کے تبصرہ اور بحث کا محتاج نہیں تھا کیونکہ یہ موضوع اپنا جواب آپ ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی بیچارے ملنگ صاحب نے غیرمتعلقہ گفتگو کے زریعہ موضوع بحث کو دوسری جانب پھیر نے کی خوب کوشش کی۔
    لیکن ہائے ! ، حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے۔

    محترم ملنگ صاحب آپ ہمیں صرف یہ بتائیں کہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے جان بوجھ کر اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا کہ ہم عقائد میں تقلید نہیں کرتے؟؟؟!!!! اگر تقی عثمانی صاحب اپنے اس دعوی میں سچے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ خلیل احمد سہانپوری ،المھند علی المفند میں غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں کہ دیوبندی عقائد میں ابوالحسن اشعری اور ابو منصور ماتریدی کی تقلید کرتے ہیں۔اور اکابرین دیوبند بھی خلیل احمد سہانپوری کے اس بیان شدہ عقیدہ کی تصدیق کرکے اس غلط بیانی میں انکے شریک ہیں۔

    اور اگر خلیل احمد صاحب سچ بول رہے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ تقی عثمانی صاحب مغالطہ دے رہے ہیں اور ان کے اس مغالطہ سے فقہ کی کتابوں کے وہ مصنفین بھی جھوٹے ثابت ہورہے ہیں جنھوں نے فقہ کی کتابوں میں صراحت کی ہے کہ عقائد میں تقلید ناجائز ہے۔

    ملنگ صاحب اور دیگر دیوبندی حضرات سے گزارش ہے کہ اب آپ فیصلہ کرکے بتادیں کہ دونوں میں سے کون سچا اور کون جھوٹاہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟


    یا تو تقی عثمانی صاحب اور فقہ کی کتابوں کے مصنفین سچے ہیں اور خلیل احمد سہانپوری اور اکابرین دیوبند جھوٹے ہیں۔
    یا پھر
    خلیل احمد سہانپوری اور اکابرین دیوبند سچے ہیں اور تقی عثمانی صاحب اور فقہ کی کتابوں کے مصنفین جھوٹے ہیں۔

    چاہے آپ کسی بھی فریق کو سچا قرار دیں اور کسی بھی فریق کو جھوٹا مگر یہ طے ہے کہ ہر دونوں صورتوں میں دیوبندی گمراہ قرار پائیں گے۔الحمداللہ

    ملنگ صاحب میں نے جو سوالات کئے ہیں یہی میرے اس تھریڈ کا موضوع ہے۔ لہذا آپ موضوع ہی پر رہیں ۔ موضوع سے فرار ہونے کی کوشش آپکی شکست فاش تسلیم کی جائے گی۔

    مزید گزارشات

    ملنگ صاحب سے مزید یہ عرض کرنی ہے کہ آپ نے جو تقلید پر بات کی ہے اسکا بہترین جواب طالب نور بھائی نے دے دیا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آپ ہوتو مقلد لیکن تقلید کی تعریف سے ناواقف ورنہ آپ اہلحدیثوں کو کبھی بھی تقلید کرنے والا نہیں کہتے بہرحال فی الحال یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ ملنگ صاحب آپ نے المھند کی عبارت کی جو تشریح کی ہے کہ ہم ابومنصور اور ابوالحسن اشعری کی تقلید نصوص عقائد کے فہم میں کرتے ہیں۔ پہلے تو مجھے یہ بتادیجئے کہ کیا یہ حکم آپ کو اللہ نے دیا ہے یا اللہ کے رسول ﷺ نے کہ عقائد کے فہم کیلئے بھی کسی کی تقلید کرنی ہے۔ یا امام ابوحنیفہ یہ وصیت فرما کر گئے تھے کہ میرے مقلدوں عقائد کا فہم تم نے صرف ابو منصور ماتریدی اور ابوالحسن اشعری ہی سے لینا ہے۔ اگر ایسا ہے تو برائے مہربانی کوئی دلیل عنایت فرمائیے جو قرآن کی آیت پر مشتمل ہو یا صحیح حدیث ہو یا پھر آپ کے امام اعظم ابوحنیفہ کا قول۔ اور اگر یہ آپکی زاتی تشریح اور خیال ہے تو عرض ہے اس تشریح اور خیال کی دلائل کے میدان میں ٹکے کی بھی حیثیت نہیں ہے۔ ملنگ صاحب آپ کے لئے خصوصی رعائت ہے کہ ہم آپ کی ان تاویلات فاسدہ کو ماننے کیلئے تیار ہیں اگر آپ ان تاویلات کو اپنے عقیدہ کی کتاب المھند علی المفند میں دکھا دیں۔ اگر آپ ہمار ا کوئی بھی مطالبہ پورا نہ کرسکے تو ہم آپ کو مشورہ دینگے کہ جھوٹ بول کر اپنا نامہ اعمال سیاہ نہ کریں۔

    آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ابومنصور اور ابوالحسن اشعری کا عقید ہ بھی وہی ہے جو کہ امام ابوحنیفہ کاعقید ہ تھا۔ آپ سے عرض ہے کہ ابومنصور یا ابوالحسن اشعری صاحب کی کوئی تحریر پیش فرمادیں جس میں انھوں نے یہ وضاحت کی ہو کہ ہم اسی عقید ہ پر ہیں جس پر ابوحنیفہ تھے۔ طالب نور بھائی نے آپکے اس دعوی کوبھی جھوٹا ثابت کیا ہے اور فقہ اکبر کے حوالے سے بتایا ہے کہ امام ابوحنیفہ صفات باری تعالی میں تاویل کے قائل نہیں تھے بلکہ انہوں نے اسکو گمراہ فرقے معتزلہ کا مذہب بتایا ہے۔اسکے برعکس دیوبندیوں کے نزدیک صفات باری تعالی میں تاویل کرنا بھی حق ہے یعنی ملنگ صاحب کا یہ دعوی بھی انکا منہ چڑا رہا ہے کہ ابوالحسن اشعری اور ابومنصور ماتریدی نے عقائد خود نہیں گھڑے تھے بلکہ انکے عقائد بھی وہی تھے جو کہ امام ابوحنیفہ کے عقائد تھے۔

    نصیحت

    ملنگ بھائی دیانت کا تقاضہ یہی ہے کہ آپ یہ تسلیم کرلیں کی دیوبندی گمراہ ہیں و گرنہ اپنے دعوی کو دلائل سے ثابت کریں جو کہ ناممکن ہے۔ اگر یہ دونوں باتیں آپ کے لئے ممکن نہ ہوں اور آپ اپنی اسی روایتی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے جوکہ آپکے فرقہ کا خاصہ ہے تو یہ بات یاد رکھئے گا کہ آپکی یہ ضد اور ہٹ دھرمی آپکی گمراہی کو ہدایت میں نہیں بدل سکتی۔
     
  6. ‏مئی 17، 2012 #6
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    ملنگ صاحب اپنے جھوٹے دیوبندی مذہب کے دفاع میں ایسی ایسی باطل تاویل کرتے ہیں کہ ایسی تاویلیں ابلیس مردود کو بھی نہ سوجھتی ہونگی۔ بیچارے ملنگ صاحب ہیں تو مقلد لیکن خود کو آئمہ مجتہدین سے کنم نہیں سمجھتے انکو ہر بات کا پتا ہوتا ہے اوراپنے امام امین اوکاڑوی کی تقلید کرکے ہر قسم کی تاویل کرنے اور مغالطہ دینے کا فن سیکھ چکے ہیں۔ جیسا کہ اسی تھریڈ میں ملنگ نے انتہائی شرمناک اور بے ہودہ تاویل کے زریعہ سے دو اماموں کے متضاد عقیدوں میں تطبیق دے کر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے کی ناکام سعی کی ہے۔ فقہ اکبر میں امام ابوحنیفہ اللہ کی صفات میں تاویل کو باطل گروہ یعنی منکر تقدیر اور معتزلہ کا مذہب بتاتے ہیں۔ جبکہ اسکے برعکس گمراہ دیوبندی اللہ کی صفات میں تاویل کو حق بتاتے ہیں۔ کیا کوئی زی ہوش مسلمان جو جھوٹ بولنے کا عادی نہ ہو اور نہ ہی اندھا اور متعصب مقلد ہو یہ کہنے کی جرات کرے گا کہ امام ابوحنیفہ اور دیوبندیوں کے عقیدہ میں کوئی فرق نہیں ہے !!! بلکہ اگر اسے آخرت کی بوابدہی کا خوف ہو تووہ یہ اعتراف کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا کہ دیوبندیوں اور بریلیوں نے امام ابوحنیفہ کے خلاف عقیدہ اختیار کئے ہیں۔ اور یہ نام نہاد حنفی عقیدہ میں النعمان ، ابوحنیفہ کو امام تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اسکا ثبوت پوسٹ نمبر ۳۳ پر موجود ہے جس میں ایک دیوبندی مفتی سائل کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ہر فن کا ایک امام ہوتاہے۔ہر فن میں ایک ہی شخص امام نہیں ہوا کرتا ......................................
    کسی بھی صاحب عقل کیلئے یہ بات سمجھنا قطعاً مشکل نہیں ہے کہ یہاں مفتی صاحب سائل کو سمجھا رہے ہیں کہ دیوبندی اسلئے عقائد میں ابومنصور ماتریدی اور ابوالحسن اشعری کی تقلید کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ اس فن کے امام نہیں تھے۔

    ضروری استفسار: کیا ملنگ صاحب تقلید کرتے کرتے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کے عقیدہ اور ابوالحسن اشعری کے عقیدہ میں تطبیق دے سکیں؟؟!! کم ازکم جو شخص یہ تطبیق دے اسے اس درجہ پر نہ سہی جس درجہ پر امام ابوحنیفہ اور امام ابوالحسن اشعری اور ابو منصور ماتریدی تھے لیکن انکے قریب قریب تو لازمی ہونا چاہئے۔ تاکہ وہ اتنے بڑے اماموں کے عقیدہ کو سمجھ بھیسکے اور ان میں تطبیق بھی دے سکے۔ اگر ملنگ صاحب اس درجہ پر پہنچ چکیں ہیں تو اعلان کردیں تاکہ ہمیں معلوم ہو جو شخص اتنے بڑے اماموں کے عقیدوں میں تطبیق دے رہا ہے وہ واقعی اس کام کا اہل ہے ورنہ یہ یاد رکھیں کہ جاہلوں کی تطبیق اور تاویل دیوار پر دے مارنے کے قابل ہوتی ہیں۔

    ملنگ صاحب نے میرے پوچھے گئے سوال (کہ کیا اللہ نے عقائد کے فہم میں تقلید کا حکم دیاہے؟) کا جو احمقانہ جواب دیا ہے و ہ سوال گندم جواب چنا کے مصداق ہے۔ ملنگ صاحب فرماتے ہیں کہ تقلید کا حکم قرآن میں موجود ہے اور عوام جب چیزوں کو نہیں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھتے ہیں۔ ملنگ صاحب یہاں سورہ النحل کی آیت نمبر ۴۳ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ جب ان مقلدوں سے مسائل میں امام ابوحنیفہ کی تقلید کی دلیل مانگی جاتی ہے تو یہی قرآن کی آیت پیش کرتے ہیں اور جب یہ پوچھا جاتا ہے عقائد کے فہم میں تقلید کا کیا ثبوت ہے تو اسکی دلیل کے طور پر یہی آیت پیش کی جاتی ہے۔ بھلا اس آیت میں یہ کہاں ذکر ہے کہ مسائل میں امام اور ہوناچاہئے اور مسائل میں تقلید کے لئے امام اور!!!

    اول تو قرآن کی اس آیت کو تقلید کے ثبوت میں پیش کرنا باطل ہے اور نہ ہی اس آیت میں تقلید کا کوئی اشارہ ہے۔ لیکن کچھ دیر کیلئے اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ آیت تقلید کا حکم دیتی ہے تو سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا علم ملنگ صاحب (جو کہ امین اوکاڑوی ، امام ابوحنیفہ، ابوالحسن اشعری، ابو منصور ماتیریدی وغیرھم کے مقلد ہیں) کو کیسے ہوا کہ اس آیت میں اللہ نے مسلمانوں کو مسائل و عقائد میں تقلید کا حکم دیا ہے؟؟ بیچارے ملنگ صاحب نہ مفسر قرآن ہیں اور نہ ہی مجتہد جو قرآن میں غور فکر کرکے قرآن کی آئیتوں کی تشریح بیان کرتے پھریں۔ اس بات کو جاننے کیلئے کہ ملنگ صاحب نے مقلد ہوکر جو مجتہدانہ حرکت کی ہے اور قرآن کی آیت کا اپنی طرف سے مطلب بیان کیاہے کہاں تک درست ہے ہم امین اوکاڑوی صاحب کے ٹھیٹ مقلد ملنگ صاحب سے چند سوالات کرتے ہیں۔

    ۱۔ سورہ النحل کی آیت نمبر ۴۳ (اگر تمھیں معلوم نہیں تو اہل علم سے پوچھ لو) کیا امام ابوحنیفہ نے بھی قرآن کی اس آیت سے یہی سمجھا ہے کہ اس آیت میں اللہ نے تقلید کرنے کا حکم دیا ہے ؟؟؟ اگر ہاں ! تو صحیح سندسے امام ابوحنیفہ کا وہ قول پیش فرمادیں۔

    ۲۔ کیا رسول اللہ ﷺ جنھیں اللہ نے قرآن کی تشریح کی زمہ داری سونپی ۔قرآن کی اس آیت کی یہی تشریح فرمائی کہ اللہ رب العالمین نے اس آیت میں مسلمانوں کو مجتہد کی تقلید کا حکم دیا ہے؟؟؟ اگر ہاں! تو وہ صحیح حدیث پیش فرما دیں۔
     
  7. ‏مئی 17، 2012 #7
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    اس پیراگراف کا عنوان ملنگ صاحب کو یہ رکھنا چاہئے تھا
    دیوبندیوں کا ایک اور دھوکہ


    ملنگ صاحب طالب نور بھائی نے آپ سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ سرفراز خان صفدر صحیح کہ رہے ہیں یا غلط۔ ایک تو آپکی موٹی عقل میں مشکل ہی سے کوئی بات سمجھ میں آتی ہے۔ اسلئے ہم لوگوں کو تقلید چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ تقلید سے انسان رہی سہی عقل سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ طالب نور بھائی آپکو یہ بتارہے ہیں کہ ایک طرف تو آپ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہر مسئلہ میں انسان تقلید کا محتاج ہے کبھی یہ کہتے ہو ہر مسئلہ میں تقلید نہیں کرنی چاہئے ۔ پھر اس مسئلہ کو سلجھانے کیلئے کہ کہاں تقلید کرنی چاہئے اور کہاں نہیں خود آپکے علماء میں بھی سخت اختلاف ہے۔ اور بیچارے یہ فیصلہ ہی نہیں کرپارہے کہ تقلید کی گھتی کو کس طرح سلجھائیں۔ آپ کا ایک عالم کہتا ہے کہ رفع الیدین وہ مسئلہ ہے جس میں تقلید کی جاتی ہے جبکہ دوسرا عالم اسی بات کو جھٹلا کر یہ کہتا ہے رفع الیدین میں تقلید نہیں کی جاتی۔ آخر آپ لوگ کب تک اس تضاد بیانیوں سے اور جھوٹ سے اپنی جاہل عوام کو بے وقوف بناتے رہوگے۔ اسی طرح کے مسائل اور اختلافات سے بچنے کیلئے تو مقلدین تقلید کرتے ہیں اور آپ لوگ پھر اسطرح کے مسائل پیدا کرکے مقلدین کو الجھا دیتے ہو تقلید بذات خود ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔

    مقلدین کے لئے ایک انتہائی خوبصورت مشورہ

    پہلے مقلدین کے شرعی مسئلہ حل نہیں ہورہے تھے جسکے لئے انہوں نے بڑی مشکل سے ایک امام ڈھونڈا پھر عقائد کے فہم کا مسئلہ آگیا تو دو اماموں کوعقائد میں تقلید کیلئے دریافت کیا گیا۔ میرے خیال سے اب اس بات کے فیصلہ کیلئے کہ کن مسائل میں تقلید کی جائے اور کس میں نہیں مقلدین کو چاہئے کہ وہ ایک اور نیا امام ڈھونڈ لیں۔
     
  8. ‏مئی 17، 2012 #8
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    معاف کیجئے گا ناصر نعمان صاحب آپ نے تقلید پر مضمون کچھ سیکھنے کے لئے ہر گز نہیں بلکہ صرف بحث برائے بحث کے لئے لکھا تھا۔ آپ کو اس تھریڈ میں طالب نور بھائی یعنی رشد بھائی نے جو جواب دیا تھا وہ سمجھنے کیلئے کافی تھا۔ بہرحال میرے بھائی میں نے یہ تھریڈ اس بحث کیلئے نہیں بنایا کہ تقلید کرنی چاہئے یا تقلید کرنا کیسا ہے وغیرہ۔ بلکہ میں صرف اور صرف مقلدوں کی دورخی اور دوغلا پن لوگوں کو دکھانا چاہتاہوں۔ جس طرح مشرکین نے مختلف کاموں کیلئے مختلف بت مختص کئے تھے کہ یہ بت بلائیں ٹالتا ہے یہ بت بارش برساتا ہے یہ اولاد دینے والا ہے وغیرہ ۔ اسطرح ان مقلدوں نے بھی مختلف کاموں کیلئے مختلف امام بنائے ہیں کہ یہ امام ہمارے مسائل حل کرے گا یہ ہمیں عقائد بتائے گا فلا ں ان مسائل کی تشریح کریگا اور فلاں ان عقائد کی تفصیل سمجھائے گا۔ انااللہ واناالیہ راجعون کیا ان لوگوں کیلئے قرآن اور حدیث کافی نہیں کیا رسول اللہ ﷺ عقائد اور مسائل سمجھا کر نہیں گئے؟؟؟!!!
     
  9. ‏مئی 17، 2012 #9
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    چونکہ اس پوسٹ کا یونیکوڈ میرے پاس نہیں ہے اسلئے اسے امیج میں شئیر کررہا ہوں۔
    [​IMG]
    مجھے یقین ہے کہ اسکے جواب میں آپ فرمائیں گے کہ شاہد صاحب میری بات کو صحیح طرح نہیں سمجھ پائے یعنی پھر آپ ایک نئی تاویل کرینگے ۔ بہرحال فی الحال ہم مان لیتے ہیں کہ آپ لوگ ابوالحسن اشعری اور ابو منصور ماتریدی کی پیروی اور ابوحنیفہ کی تقلید کرتے ہیں۔ یعنی امام ابوحنیفہ کی پیروی نہیں کرتے اور ابوالحسن اشعری اور ابو منصور ماتریدی کی تقلید نہیں کرتے۔ اگر یہ شرعی حکم ہے تو ہمیں رسو ل اللہ ﷺ کی وہ حدیث دکھائیں جس میں نبی کریم ﷺ نے مسائل میں کسی مجتہد مطلق کی تقلید کا حکم دیا ہو اور عقائد کے فہم میں کسی مخصوص اماموں کی پیروی کا حکم دیا ہو۔ اوراگر یہ شرعی حکم نہیں ہے بلکہ ایک غیر شرعی حکم ہے تو اسے بدعت کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ کیا خیال ہے ناصر نعمان بھائی؟؟؟!!!
     
  10. ‏مئی 17، 2012 #10
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    طالب نور بھائی نے جو وضاحت کی ہے وہ بالکل واضع ہے اسلئے کہ انھوں نے کسی قسم کی تاویل سے کام نہیں لیابلکہ وہی مطلب بیان کیا ہے جو کہ ان عبارات سے واضع ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کوئی شخص بھی جب ان عبارات کو پڑھے گا تو وہی مطلب لے گا جو کہ ہم بیان کر رہے ہیں۔ لیکن اسکے برعکس ناصر نعمان صاحب آپ غلط تاویل کے زریعہ ان جملوں کو جو آپکے خلاف جاتے ہیں انہیں اپنے حق میں کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگر ہم غیرجانبدار ہوکر خلیل احمد سہانپوری اور تقی عثمانی کی عبارات پڑھینگے تو ہمارے سامنے وہ وضاحت آیئگی جسے آپ باطل تاویل کے زریعہ پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ناصر صاحب آپ کی بیان کردہ وضاحت صرف اور صرف اس شخص کے سامنے آئیگی جو جانبدار ہوگا اور پہلے ہی سے اندھی تقلید میں گرفتار ہوگا۔

    بہرحال ناصر نعمان بھائی بجائے اس کے کہ آپ اپنی طرح سے اپنے اکابرین کی عبارات کی وضاحت فرمائیں اور وہ کچھ بیان کرنے کی کوشش کریں جو کہ ان عبارات کو لکھتے ہوئے خود خلیل احمد سہانپوری کے زہن میں بھی نہیں آئے۔ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ آپ اپنی یہ وضاحت کہ حنفی حضرات عقائد کو تفصیلی وضاحت سے سمجھنے کے لئے ابوالحسن اشعری اور ابومنصور ماتریدی کی تقلید کرتے ہیں ۔ یہی عبارت یا اسی مفہوم کی کوئی دوسری عبارت اپنی عقیدہ کی معتبر کتاب المھند علی المفند سے دکھادیں۔ کیونکہ آپ کی زاتی سمجھ یا تاویل ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ آپ کا شمار اکابرین دیوبند میں نہیں ہوتا آپ کو جو کچھ بھی ثابت کرنا ہو یا کوئی ایسی تاویل کرنی ہو جو کہ غلط ہو تو آپکی ذمہ داری ہے کہ اس تاویل کو اپنی معتبر اکابرین اور مستند کتابوں سے ثابت کریں۔ وگرنہ بحث برائے بحث سے نہ تو ہمیں کوئی فائد ہوگا اور نہ آپ اپنی بات ہمیں سمجھا سکیں گے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں