1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملحدین کی تردید میں متفرق تحریریں

'دہریت والحاد' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکر, ‏مارچ 07، 2015۔

  1. ‏مارچ 08، 2015 #11
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اگر خدا ہے تو لاکھوں سیارے بیکار بے آباد کیوں؟


    اگر کوئی خالق ہے جو ہر تخلیق کو مقصدیت کیساتھ پیدا کرتا ہے تو پھر ان لاکھوں آوارہ اور اجاڑسیاروں کا کیا مقصد ہے؟


    [​IMG]
    پوچھا جاتا ہے کہ اگر ہماری زمین کا بہترین نظم، متعین مقصدیت اور زندگی کا خوبصورت ارتقاء کسی صاحب شعور خالق کا وجود ثابت کرتا ہے تو پھر ان کہکشاؤں میں آوارہ تیرتے لا تعداد بیابان سیاروں کا کیا مصرف ہے ؟ .. اس سوال کو چار زاویوں سے پرکھا جاسکتا ہے، پہلا یہ کہ انسان کا علم اپنے بیمثال ارتقاء کے باوجود بھی انتہائی محدود ہے. انسان کی علمی محدودیت کا آج بھی یہ عالم ہے کہ وہ کھربوں ستاروں و سیاروں کے بیچ ایک نقطہ برابر زمین کے بارے میں بھی پانچ سات فیصد سے زیادہ علم نہیں رکھتا. ایسی عاجزی میں جسارت کرکے یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ ہم اپنی محدود علم سے ان بیشمار سیاروں کے مقصد کو اب تک سمجھ نہیں پاۓ مگر امید ہے کہ جیسے باقی اشیاء مقصد سے خالی نہیں، اسی طرح ان سیاروں کا بھی متعین مقصد ہوگا جسے ہم مستقبل میں شائد بہتر جان پائیں. اس سے زیادہ کچھ بھی کہنا محض تجاوز ہے

    دوسرا زاویہ ایک مثال سے سمجھیئے، اگر آپ ایک ایسے بڑے میدان میں ہیں جہاں آپ کو سو دو سو مٹی کے بے ہنگم ٹیلے نظر آتے ہیں. کوئی چھوٹا کوئی بڑا، کوئی سوکھا کوئی گیلا، کوئی سخت کوئی نرم .. مگر پھر اچانک ان ٹیلوں کے بیچ ایک شاندار شیش محل نظر آتا ہے. اونچے دروازے، متوازن کمرے، حسین فرش، چمکتی کھڑکیاں. اب اس حسین تعمیر کو دیکھ کر کوئی یہ احمقانہ استدلال نہیں کرے گا کہ کیونکہ باقی دو سو ٹیلے بے ہنگم پڑے ہیں، اسلیئے اس محل کا کوئی معمار نہیں ہوگا ! .. حد سے حد یہ کہا جا سکتا ہے کہ معمار نے کسی وجہ سے ان دو سو ٹیلوں میں سے اس ایک کا انتخاب کیا ہے. لاکھوں اجاڑ سیاروں کی موجودگی اپنی جگہ ایک حقیقت، مگر اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ یہ بہترین ترتیب و نظم والی زمین اور اس پر بسنے والی زہین مخلوق کسی زہین تر خالق کے بناء خود بخود وجود پا گئی؟ نہایت احمقانہ بات ہے.

    تیسرا زاویہ یہ ہے کہ سائنس اپنی تمام تر محدودیت کے باوجود کچھ ایسے سراغ پا گئی ہے جو ان اجاڑ سیاروں کی توجیح بیان کر رہے ہیں. مثال کے طور پر کوسمولوجی (علم فلکیات) کے حالیہ انکشافات یہ بتاتے ہیں کہ مشتری یعنی جوپیٹر اپنے حجم کی وجہ سے نظام شمسی کو مہلک ٹکراؤ سے محفوظ رکھتا ہے ، اسی طرح کئی سیاروں کے بارے میں آج یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ کائنات میں کشش ثقل کے نظام کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں. ایک سائنسی تھیوری ' بٹر فلائی افیکٹ ' کے نام سے رائج ہے، جو یہ بیان کرتی ہے کہ یہ ساری کائنات ایک مشترکہ اکائی کے طور پر کام کر رہی ہے، یہاں ایک تتلی کا پنکھ پھڑپھڑانا بھی مستقبل کے کسی بہت بڑے واقعہ کے رونما ہونے کی علت ہوتا ہے.
    البرٹ آئین اسٹائن سے لے کر آج اسٹیفن ہاکنگ تک بڑے بڑے سائنسدان اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ اس کائنات کو ایک اکائی کے طور پر سمجھا جا سکے، اسے 'تھیوری آف ایوری تھنگ' کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے,
    صاف نظر آتا ہے کہ جوں جوں انسانی علم ترقی پاۓ گا ، خلا میں تیرتے ان آوارہ سیاروں کے وجود کی مقصدیت سمجھ آتی جائے گی


    چوتھا اور آخری زاویہ صرف اہل ایمان کے لئے ہے اور جسکا اشارہ قران حکیم دیتا ہے. وہ جہاں سائنس کی اس دریافت پر مہر لگاتا ہے کہ واقعی ایک روز یہ ساری کائنات ایک عظیم حادثے سے دوچار ہوگی اور ہماری زمین تباہ و برباد ہو جائے گی. وہاں قران یہ بھی خبر دیتا ہے کہ ایک بار پھر زندگی کی بساط سجائی جائے گی ، زمین و آسمان کو نۓ زمین و آسمان سے تبدیل کردیا جاۓ گا (سورہ ابراہیم ٤٨). اسوقت زمین اور آسمان کو نئی ندرت اور نئے فطری اصولوں سے آراستہ کیا جاۓ گا. وہ واشگاف انداز میں کہتا ہے کہ اب اس نئی زمین کا حجم اتنا چھوٹا نہ ہوگا بلکے اسے کئی گنا بڑھا دیا جائے گا (سورہ آل عمران ١٣٣). ظاہر ہے یہ تب ہی ممکن ہے جب یہ تیرتے بیشمار مادے کے ڈھیر (سیارے) موجودہ زمین میں ضم کردیئے جایئں. لہٰذا ایک مومن کے لئے یہ سوچنا قرین قیاس ہے کہ جو خدا انسان کے بچے کو بھی ارتقاء سے گزار کر وجود بخشتا ہے وہی خدا اس کائنات میں موجود تمام سیاروں یا ستاروں کو ایک عظیم تر مقصد کی تکمیل کے لئے ارتقاء سے گزار رہا ہے. ان ستاروں کا بننا یا ٹوٹنا سب اسی منصوبے کے جزو ہیں.

    ====عظیم نامہ====
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 08، 2015 #12
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اتنے نبی کیوں بھیجے؟ اور اب نبوت کیوں ختم کی؟


    الله عزوجل نے انسانیت کی تربیت کے لیے ہر دور میں اپنی الہامی کتاب نازل کی. ان کتابوں کا بنیادی مقدمہ ہمیشہ یکساں رہا. قران کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہی وہ دین ہے جو تمام انبیاء کو عطا کیا گیا اور ہر کتاب ایک آنے والے آخری نبی کی بشارت دیتی رہی. وہ توحید کا عقیدہ ہو یا سزا و جزا کی خبر، وہ ملائکہ و جنات پر ایمان کا معاملہ ہو یا وحی و تقدیر پر ایمان کا تقاضہ. تمام ایمانیات اسی طرح سے سابقہ الہامی کتابوں میں درج ہیں جس طرح قران حکیم میں مذکور ہیں.

    یہی معاملہ من و عن عبادات کے حوالے سے بھی ہے، لہٰذا سابقہ مذاہب میں تحریف کے باوجود آج تک نماز کے حوالے سے پرستش کا تصور موجود ہے، چیرٹی کے نام پر زکات و صدقات کی ترغیب ہو یا روزہ، قربانی و حج کی دیگر روایات، تمام تر مالی و بدنی عبادات اصولی سطح پر ہر نبی کی امت کو عطا کی گئی. یہ اور بات ہے کہ انکے اظہار کی حرکات و سکنات اور وقت کا تعین زمانی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف رکھا گیا ہے جو کے معمولی و ثانوی بات ہے.

    یہاں یہ فطری سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پیغام ایک ہی تھا تو اتنی مختلف کتابوں کے نزول کی حکمت ہی کیا تھی ؟ یہ بھی تو ممکن تھا کہ بس ایک ہی کتاب بھیجی جاتی جسے پروردگار ہر طرح کی تحریف سے محفوظ فرما دیتا. اسکا ایک منطقی جواب تو یہ ہے کہ الله نے انسانوں کی اصلاح کے لئے انکی شعوری استعداد کے حساب سے نبوت کو ہر دور و علاقے میں ہمیشہ جاری رکھا مگر جب خالق نے اپنے علم کل سے یہ جانا کہ اب ذرائع ابلاغ کے ایسے ذرائع پیدا ہو چکے ہیں کہ الہامی پیغام کو عالمی سطح پر پہنچایا جا سکتا ہے اور انسانی شعور زمانی ارتقاء سے گزر کر اپنی بلوغت کو پہنچ چکا ہے تو اس نے نبوت کو ختم فرما کر قران کی حفاظت کا خدائی اعلان فرمادیا.

    اسکا دوسرا جواب خدا خود اپنی آخری کتاب سورہ مائدہ کی ٤٨ آیت میں دیتا ہے یہ کہتے ہوۓ کہ اگر ہم چاہتے تو تمام امتوں کو ایک ہی امت بنادیتے لیکن چونکہ ہم نے یہ دنیا امتحان کے اصول پر بنائی ہے ، لہٰذا ہماری حکمت کا یہ لازمی پرتو ہے کہ ہم نے ایسے حالات کا انتظام کیا ، جس میں حق و باطل کی کشمکش واضح ہو سکے. اسکا نتیجہ یہ ہے کہ اب اختلاف ہوگا اور پھر دیکھا جائے گا کہ کون اس اختلاف میں علم و انصاف کی راہ اپناتا ہے اور کون محض آباء کی اندھی تقلید سے خود کو پراگندہ کرتا ہے؟

    ====عظیم نامہ====
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 09، 2015 #13
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10393867_10205030953005426_4894878031939043093_n.jpg

    ایک انسان کے خون کی رگوں (آرٹریز، کیپلریز، وینز) کو اگر جوڑ کر رسی بنا کر سیدھا کر دیا جائے تو قریب ایک لاکھ کلومیٹر لمبی رسی بن جائے گی۔ جسے اگر پوری زمین کے گرد لپیٹا جائے تو ڈھائی دفعہ لپیٹا جا سکتا ہے۔

    اتنا ذہانت بھرا ڈیزائن، کیسے خودبخود تخلیق پا سکتا ہے؟

    یہ وہ نشانیاں ہیں جو اللہ نےکائنات میں اور خود ہمارے اندر اپنی ذات کی پہچان کے حوالے سے رکھ دی ہیں۔ پھر بھی یار لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ خدا پر اندھا ایمان لاتے ہو۔ جبکہ کائنات میں جابجا بکھری قدرت کی نشانیاں اسی ایک ذات کی جانب اشارہ کرتی نظر آتی ہیں ، فقط دیکھنے کے زاویے کا فرق ہے
     
  4. ‏مارچ 09، 2015 #14
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    البرٹ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کی رو سے ہمیں معلوم ہے کہ ٹائم / وقت ، مادے اور اسپیس سے منسلک ہے۔ لہٰذا وقت بھی تب شروع ہوا جب مادہ اور اسپیس (یعنی یہ کائنات) پیدا ہوئی۔ (بگ بینگ تھیوری)

    چونکہ اللہ پوری کائنات کا خالق ہے۔ وہ "وقت" کا بھی خالق ہے۔ لہٰذا اللہ کی حد بندی ہماری سوچ میں آنے والی ٹائم ڈائمنشن سے نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ٹائم تو خود اس نے ہی پیدا کیا ہے۔۔۔! لہٰذا اس کی کوئی ابتدا یا انتہا "وقت کی بنیاد پر طے ہی نہیں کی جا سکتی!!

    جب اس کی کوئی ابتدا نہیں تو اس کا کوئی خالق نہیں۔ ہر وہ شے جس کی کوئی ابتدا ہے، ٹائم ڈائمنشن میں اس کی تخلیق کا ایک مقام اور وقت ہے، اس کا کوئی نہ کوئی خالق ضرور ہے
     
  5. ‏مارچ 09، 2015 #15
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1503510_10205024655367989_8041960243771559755_n.jpg
     
  6. ‏مارچ 09، 2015 #16
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1511119_10205027465398238_7610895455913428199_n.jpg

    ھمارے خلیوں میں موجود ڈی این اے، کسی کمپیوٹر پروگرام سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ جیسے ایک کمپیوٹر پروگرام 1 اور 0 کی سیریز سے بنتا ہے۔ ایسے ہی ہمارا ڈی این اے چار کیمیکلز جن کا مخفف A, T, G اور C ہے، سے بنتا ہے۔ ہمارے خلیوں میں ان کی ترتیب ہی خلیوں کے کام کو طے کرتی ہے۔

    حیران کن بات یہ ہے کہ خلیہ کے اندر چھوٹی سی جگہ یہ کوڈ تین بلین حروف جتنا لمبا ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی ایک سیکنڈ میں تین حرف پڑھے اور دن رات پڑھتا رہے تو اسے یہ کوڈ مکمل پڑھنے میں قریب اکتیس سال لگیں گے۔

    کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ونڈوز 8 کا پروگرامنگ کوڈ بلین سال تک 1 اور 0 کو آگے پیچھے کرنے سے خود بخود "اتفاق سے" ترتیب پا سکتا ہے؟

    ڈی این اے انسانوں کا سافٹ ویئر پروگرام ہے، جو ہر شخص کے لئے مختلف ہے۔ کیا یہ کسی پروگرامر کے بغیر خود سے بن گیا؟

    آپ سمندر کنارے بیچ پر جا رہے ہیں۔ اور کہیں ریت پر لکھا ہوا ہے فلاں (دل کا نشان) فلاں۔ کیا یہ سوچنا کہ لہروں نے اربوں کھربوں سال سے ساحل پر جو ان گنت بے نشان نقوش چھوڑے ہیں، انہی سے یہ خودبخود لکھا گیا ہوگا؟ ہرگز نہیں۔ یہ واضح پیغام ہے جو اپنے پیچھے ایک ذہین دماغ کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ تین لفظ خود بخود لکھے گئے ہوں گے، ہمارا ذہن اسے قبول نہیں کرتا، تو تین بلین حروف پر مشتمل ہر ہر خلیے کا کوڈ خودبخود لکھا گیا ہو، یہ تو ناممکن تر ہے۔

    ڈی این اے کیوں اہم ہے؟ یہ اللہ سبحان و تعالیٰ کی موجودگی کا ایک اور ثبوت ہے۔ اسی نے ہمارا ہارڈ ویئر تخلیق کیا اور ہمارے اندر پروگرامنگ بھی اسی نے کی ہے۔ بے شک وہ سب سے بہترین تخلیق کرنے والا ہے۔ وحدہ لا شریک لہ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 09، 2015 #17
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    11050641_10205032532084902_3362577057794246774_n.jpg
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 09، 2015 #18
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  9. ‏مارچ 09، 2015 #19
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1656283_1401970443388740_1894339542_n.jpg


    سائنس کی منافقت :

    جیسا کہ ڈاروون کا نظریہ ارتقاء کے مطابق انسان کا ارتقاء بندر سے ھوا ھے –

    یہ ایک نہائیت ھی چول نطریہ تو ھے ہی جس نے پتا نہیں کتنے انسانوں کا وقت برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔

    اور ڈاروون ایک یہودی سائنس دان تھا۔

    اب سائنس ہی کا ایک شعبہ ، میڈیکل ،، کا ھے –

    اس شعبہ میں ان کو پریٹیکل کے دوران انسان کا آپریشن کرنا سکھایا جاتا ھے –

    اور یہ تجربہ ، ایک ڈڈو، یعنی ، مینڈک، پہ کیا جاتا ھے –

    اب بات یہ ھے کہ ارتقاء تو سائنس بندر سے کر رہی ھے اور تجربہ ایک بیچارے ، مینڈ ک،، پہ کیا جاتا ھے –

    تو یہ اپنا تجربہ بندر پہ کیوں نہیں کرتے ۔۔؟

    اگر مینڈک پہ تجربہ کرتے ہیں تو انسان کا ارتقائی نظریہ ، مینڈک سے کیوں نہیں جوڑتے ،،،؟

    کیا کوئی ملحد خود کو مینڈک کی اولاد بھی سمجھتا ھے ،،؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 09، 2015 #20
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جاہلوں اور بیوقوفوں سے ایک سوال :-

    نظریہ ارتقاء کے حامی تمام ملحدیں یہ بتا سکتے ہیں کہ ۔

    اگر انسان کا ارتقاء بندر سے ھوا ھے تو –

    سبھی بندر ارتقاء کر کے انسان کیوں نہیں بنے۔۔۔؟

    بندر تو آج بھی موجود ہیں اور انسان بھی-

    اور یہ واقعہ صرف چند بندروں کے علاوہ سبھی کے ساتھ کیوں نہیں ھوا ۔۔۔؟

    نیز یہ بھی بتا دیں کہ ایک بندر سے انسان بننے میں کتنا ٹائم لگتا ھے۔۔۔۔؟

    اور اس کی موت کا وقت بھی بتا دیں کہ اسے اس دوران موت آتی ھے یا اس لیئے دیر سے آتی ھے کہ چلو بھئی ابھی اس کا ارتقاء ھونا ھے اور اس کے بعد اس کی جان لی جائے گی۔۔۔۔۔

    اور ایک بندر پھر بندر ھی کی حالت میں کیوں مر جاتا ھے ۔۔۔؟

    اور مزید جہلاء سے یہ بھی سوال ھے کہ سیمنٹ اور بجری مکس کرنے والی مشین کی طرح کوئی مشین ھوتی ھے جس میں ان کو شیک کر کے ارتقاء کیا جاتا ھے ۔۔۔؟

    جہلاء یہ بھی آج بتا دیں کے سؤر کا ارتقاء اور باقی جانوروں کا بھی ، کہ وہ کس شکل میں ارتقاء ھوتا ھے۔۔۔؟


    https://www.facebook.com/photo.php?...431.1073741828.100007273930099&type=1&theater
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں