1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملحدین کی تردید میں متفرق تحریریں

'دہریت والحاد' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکر, ‏مارچ 07، 2015۔

  1. ‏جولائی 10، 2015 #41
    قیصر سجاد

    قیصر سجاد رکن
    جگہ:
    قصور
    شمولیت:
    ‏نومبر 17، 2014
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    میں خدا کو کیوں مانتا ھوں....؟
    اور جو خدا کو نہیں مانتے
    آئیے دیکھتے ہیں کون صحیح ھے اور کون غلط.....؟
    ...............
    سائنس نے بہت زیادی ترقی حاصل کر لی ھے جس میں کوئی شک نہیں
    اسی تناظر میں ہمیں کچھ باتیں سمجھنے میں آسانی بھی ھو چکی ھے.
    آپ کلوننگ کے عمل سے تو واقف ہی ھوں گے.
    کچھ عرصہ پہلے سائنس نے اس پر کامیاب تجربات بھی کر چکی ھے.
    کسی جاندار کے جراثیم لیکر اس کی کلوننگ کی گئی اور ایک اور جاندار کو پیدا کیا گیا.
    پہلے تو یہ جانور اور پھر انسانوں پر تجربہ بھی کیا گیا جس سے کامیابی بھی ملی.
    لیکن کلوننگ کے عمل سے پیدا ھونے والی جنس بالکل ویسی ھی رہی بالکل جس سے جراثیم لیئے گئے.
    یعنی کہ یہ عمل یوں ھوا جیسے آپ کے پاس ایک انٹر نیٹ ک کنکشن ھے
    اور اسے آپ دوسروں کو وائی فائی سے شیئر کر دیں.
    تو اس کی سپیڈ وہی رہے گی جو آپ نے پیکج میں حاصل کی ھے اسی کو آپ دوسروں کو تقسیم کریں گے وائی فائی کے ذریعے.
    .....
    ایسے ہی کلوننگ کا عمل ھے ہمیں ایک جسم. جو کہ ایک کردار ھے. ایک انٹر نیٹ کے پیکج کی طرح ملا ھے
    یہ صرف ایک مثال کے لیئے کہا گیا ھے.
    اب کلوننگ سے جو جنس پیدا ھوئی وہ ایک انٹرنیٹ شیئرڈ کنکشن کی طرح ھی رہی جس کی شکل و خصوصیات دوسرے جسم میں منتقل ھو گئیں...
    .........
    ایک بچہ ماں کے پیٹ میں اپنی پیدائش کا عمل شروع کرتا ھے.
    اور دوران پرورش اس کا جسم تکمیل پاتا ھے
    جس میں دو ھاتھ. دو کان. دو ٹانگیں اور پیر .نیز پورا جسم عام طور پر دوسرے بچوں کی طرح یکساں ہی ھوتا ھے.
    لہیکن ایک عمل ایسا بھی ھے جو دنیاء کے تمام بچوں اور اس کے پیدا ھونے والے سگے بہن بھائیوں سے بھی بالکل الگ ھوتا ھے.
    اور وہ عمل اس کی "شکل و صورت " کا ھے.
    جس کے ساتھ وہ اپنی بالکل الگ شکل و صورت لیکر پیدا ھوتا ھے.
    اب سوچنے والی بات یہ ھے کہ.....
    آخر یہ شکل و صورت الگ تھلگ بالکل اپنے بہن بھائیوں اور دنیاء والوں سے ہٹ کر کیسے پرورش حاصل کرتی ھے...؟
    جب سائنس نے تجربہ کر کے کلوننگ کی تو یہ الگ شکل و صورت بالکل نہیں بن پائی.
    بلکہ ماں یا باپ کہ ھو بہو مشابہ رہی.
    لیکن ایسا کونسا عمل ھے جس سے یہ شکل و صورت الگ تھلگ ترتیب پاتی ھے
    ایسا کونسا فارمولا ھے جس سے یہ شکل اپنی مرضی سے ترتیب پا سکے..؟
    تو یہ نا تو کسی ماں کے بس کی بات ھے کہ شکل و صورت اپنی مرضی سے ایک جیسی یا الگ سی بنا سکے
    نا کسی باپ کو یہ اختیار ھے اور نا ہی یہ کسی سائنس کے بس کی بات ھے.
    اب کون ھے جو ماں کے پیٹ کے اندر یہ شکل و صورت بناتا ھے....؟
    جو یہ شکل و صورت بناتا ھے میں اسی کو اگر اپنا خدا مان لوں تو کیا یہ جاہلیئت ھو گی یا عقل مندی ھو گی.....؟
    اگر یہ سب کرنا ایک خدا کی شان ھے جو ماں کے پیٹ میں جیسی چاہے شکلیں بناسکتا ھے.
    تو میں اسے الحمد للہ عقلی طور پر خدا مانتا ھوں
    اور جو نہیں مانتے ان سے میرا سوال ھے کہ اگر خدا نہیں ھے یا خدا ایسا نہیں کر رہا تو کون ھے جو ایسا ک رہا ھے
    اور یہ سب کیسے کر رہا ھے
    پلیز مجھے بتائے تا کہ میں اپنی اصلاح کر سکوں
    یا آپ خود اپنی اصلاح کیجئے.....
     
  2. ‏ستمبر 17، 2015 #42
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,732
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    پردہ قید ۔۔۔ !
    لبرل / سیکولرز کی طرف سے عورت کے پردہ کی مخالفت میں مختلف باتیں پڑھنے سننے کو ملتے رہتے ہیں ، کئی جگہ یہ پڑھنے کو ملا کہ مولویوں نے عورتوں کو قید میں رکھا ہوا ہے انکو کسی قسم کی آزادی نہیں ۔۔۔۔
    ان حضرات سے یہ پوچھنا چاہیے کہ قید کہتے کس کو ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ ؟
    ہم بتاتے ہیں قید حبس خلاف طبع (طبیعت/چاہت کے خلاف قید ) کو کہتے ہیں اور جو حبس خلاف طبع نہ ہو اس کو قید ہر گز نہ کہیں گے۔ ۔ ۔مثلا باتھ روم میں آدمی اپنی مرضی سے پردہ کر کے بیٹھتا ھے، اگر ہر حبس /پردہ قید ہے تو اسے بھی کہنا چاہیے کہ آج ہم بھی اتنی دیر قید میں رہے ۔۔۔اس کو کوئی قید نہیں کہتا کیونکہ حبس طبعی ہے۔
    ہاں اگر باتھ روم میں کسی کو بلاضرورت بند کر دیا جاے اور باہر سے تالا لگا کر ایک پہرہ دار کھڑا کر دیا جاے اور اس سے کہہ دیا جاے کہ خبرداریہ آدمی یہاں سے نہ نکلنے پائے تو اس صورت میں بے شک یہ حبس خلاف طبع ہو گااور اس کو ضرور قید کہیں گے اور اس صورت میں بند کرنے ولے پر حبس بیجا کا مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔۔۔
    پس ثابت ہوا کہ ہر حبس کو قید نہیں بلکہ حبس خلاف طبع کو قید کہتے ہیں۔۔
    اعتراض کرنے والوں کو پہلے اس کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان عورتیں جو پردے میں رہتی ہیں ۔وہ ان کی طبیعت کے موافق ہے یا خلاف؟حبس طبع ہے یا خلاف طبع ؟اس کے بعد انکو ایسا کہنے کا حق ہے۔
    سب جانتے ہیں کہ پردہ مسلمان عورتوں کے لیے خلاف طبع نہیں ہے،کیونکہ مسلمان عورتوں کے لیے حیاہ امر طبعی ہے،لہذا پردہ حبس طبع ہوا اور اس کو قید کہنا غلط ہے، بلکہ اگر ان کو بے پردہ رہنے پر مجبور کیا جائے، انکے حجاب پر پابندی لگادی جائے جیسے آزادی کے چئمپین اپنے ممالک میں لگارہے ہیں 'یہ خلاف طبع بات ہوگی ۔ قید اس کو کہنا چاہیے۔ ۔ ہمارے ان ترقی پسندوں کے لیے ایسا کہنا نقصان دہ ہے ۔اس حبس/پابندی کے خلاف دو جملے بولنے سے بھی ان روشن خیالوں کی زبانوں پر چھالے نکل آتے ہیں۔۔
    ماخذ :
    فلسفہ و سائنس
     
  3. ‏ستمبر 17، 2015 #43
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,732
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    خارش
    تحریر : یدِ بیضا
    اچھا تو آپ لبرل ہیں۔۔

    چلیں پہلے ایک کہانی سن لیں۔ وہ یوں تھا کہ ایک گاﺅں میں ایک سیانے بابا رہتے تھے۔ جس کو بھی کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ بابا جی سے مشورہ مانگنے آجاتے۔ ایک دیہاتی آیا۔ کہنے لگا بابا جی یہ سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی میں خارش ہے۔ بابا جی کہا پرانے زمانے کی روایت ہے کہ سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی میں خارش ہو تو پیسے آتے ہیں۔ دیہاتی نے کہا۔ بابا جی یہ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں بھی خارش ہے۔ بابا جی نے کہا اس کے بارے میں بھی روایت یہ ہے کہ اگر خارش ہو تو مہمان آتے ہیں۔

    دیہاتی نے کہا۔ بابا جی یہ گردن میں بھی خارش ہے۔ اب کے باباجی سیدھے ہوئے اور کہنے لگے۔

    بیٹا تو کسی ڈاکٹر کے پاس جا۔ تجھے اصل میں ہے ہی خارش۔

    تو آپ لبرل ہیں؟

    آپ کو پتہ ہے لبرل کسے کہتے ہیں؟ ہونا تو چاہئے لیکن میں یاد دہانی کروا دیتا ہوں۔
    علم کی دنیا میں طے اصول ہے کہ علم کا ہر دروازہ زبان ہی کی بنیادپر کھلے گا۔ آپ جس علم کی بھی بات کریں گے اس کے لئے زبان کا سہارا لیں گے۔ زبان الفاظ کا مجموعہ ہے اور ہر لفظ اپنے اندر ایک مفہوم رکھتا ہے۔لفظ کا مفہوم جب بھی اخذ ہو گا تو اس لفظ کے اوریجن میں دیکھا جائے گا۔ لفظ کیا ہے۔ لفظ کے ایجاد کرنے والوں نے اس کا اولین مفہوم کیا طے کیاتھا؟ لفظ کونسے مراحل طے کر کے اپنے اندر نئے مفاہیم لئے ہوئے ہیں۔لفظ ابھی کس مفہوم میں مستعمل ہے۔

    آپ لبرل کی تعریف دیکھ لیجیے۔ آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق لبرل کا مفہوم یوں ہے۔

    Willing to understand and respect other people's behavior, opinion, etc, especially when they are different from your own.

    لبرل وہ شخص ہے جو دوسروں کے روئیے، رائے وغیرہ کو سمجھنے اور اس کی قدر کرنے کے لئے تیار ہو خاص طور پر اس وقت جب وہ آپ سے مختلف رائے یا رویہ رکھتے ہوں۔

    آگے چلیں۔ بطور اصطلاح لبرل کا مفہوم ہے۔

    Wanting or allowing a lot political and economic freedom and supporting gradual social, political or religious change.

    سماج میں سیاسی اور اقتصادی آذادی پر یقین رکھنا اور بتدریج سماجی، سیاسی اور مذہبی کی حمایت کرنا۔

    آپ کا رویہ نہ تولفظ کے بنیادی مفہوم پر پورا اترتا ہے اور نہ اصطلاحی مفہوم پر۔ آپ کا سارا وقت لوگوں کے مذہبی عقائد کا مذاق اڑانے میں گزرتا ہے۔ کبھی آپ کا جھگڑا للہ سے ہوتا ہے۔ کبھی آپ پیغمبر کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ کبھی آپ کسی مذہبی کتاب کا کمزورحوالہ دیکھ مذہبی عقائد کا مذاق اڑاتے ہیں۔کبھی آپ اللہ کو دیکھنے کی ضد کرتے ہیں۔ کبھی آپ پیغمبر کے وجود سے منکر ہوتے ہیں۔ کبھی آپ قرآن کو انسانی تصنیف قرار دیتے ہیں۔ ایسا تو نہیں ہوتا نا میرے گڈے۔

    کائناتی اصول ہے کہ انسان محسوس سے نا محسوس کا سفر طے کرتا ہے۔نیوٹن نے کشش ثقل دیکھی نہیں تھی۔ اس نے سیب گرتا ہوا دیکھا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس سیب کے نیچے آنے کے پیچھے ایک طاقت ہے۔ اس طاقت کو محسوس کر کے وہ نامحسوس ہونے والا کشش ثقل دریافت کر بیٹھا۔آپ محسوس کا انکار کرتے ہیں تو نامحسوس کو سمجهنے کا کوئی امکان بچتا ہی نہیں۔کچھ لوگوں نے کائنات کے ایک خالق کو محسوس کیا اور مان لیا آپ محسوس نہ کر سکے آپ نہیں مانتے۔

    لیکن جس نے محسوس کیا وہ غلط کیسے ہوا؟ آپ کہتے ہیں وجدانی حس دھوکہ دیتی ہے۔تسلیم ہے دیتی ہے۔ لیکن د ھوکہ تو حواس خمسہ بھی دیتے ہیں۔ میری آنکھیں دیکھتی ہیں کہ ستارے چمک رہے ہیں لیکن سائنس بتا رہی ہے کہ جو ستارے میں دیکھ رہا ہوں وہ اس جگہ سے ہٹ چکے ہیں۔ میرے کان خلاءمیں ایک آواز سنتے ہیں۔ میں اس آواز کا تعین کرتا ہوں کہ یہ میرے سر کے اوپر ہے لیکن میری آنکھیں اس جہاز کو دیکھ ہی پاتیں وہ وہاں سے پچاس کلومیٹر دور ہٹ چکا ہوتا ہے۔کیا کروں؟ چونکہ آنکھیں دھوکہ دیتی ہیں اس لئے آنکھوں سے دیکھنا چھوڑ دوں؟ چونکہ کانوں نے دھوکہ دیا تو سننا چھوڑ دوں؟ لوگوں کو ان کے وجدان نے دھوکہ دیا ہو گا؟ بھئی دھوکہ دیا ہو گا تو کیا وجدان کا انکار کریں؟

    یہ جو مذہبی علم ہے یہ ایک علمی روایت کی روشنی میں کھڑا ہوتا ہے۔ یہ اتنا کمزور نہیں ہوتا کہ آپ ایک فیس بک پیج بنا کر اسے غلط ثابت کر سکیں۔ دنیا میں علم کے انتقال کے جتنے بھی ذرائع ہوتے ہین ان میں سب سے موثر ذریعہ علم کا تسلسل سے انتقال ہے۔ نہ میں نے افلاطون کو دیکھا تھا اور نہ میں نے گورکی کو ماں لکھتے ہوئے دیکھا تھا لیکن مین پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ افلاطون ایک فلسفی تھا اور اسی یقین سے قائل ہوں کہ ماں گورکی نے لکھی تھی۔ کیونکہ مجھے انسانوں کے ایک تسلسل نے بتایا کہ ایسا تھا۔اس تسلسل سے منتقل ہونے والے علم کو مذہبی اصطلاح میں اجماع سے منتقل ہونے والا علم کہتے ہیں۔یہ بخاری جب نہیں تھا تب بھی لوگ نماز پڑھتے تھے۔ یہ مسلم جب نہیں تھا تب بھی لوگ زکوات دیتے تھے۔ یہ موطا جب نہیں تھا تب بھی لوگ وضو کرتے تھے۔ یہ مذہبی علم اجماع سے ان تک منتقل ہوا تھا بخارری و مسلم سے نہیں۔

    افلاطون کے خطوط افلاطون ہی کے خطوط ہیں یا اس سے منصوب؟ اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔میکاولی نے بادشاہت کا نظریہ صحیح پیش کیا یا غلط اس پر بھی بحث کی جا سکتی ہے۔ بخاری و مسلم انسانوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں ان پر بھی بحث کی جا سکتی ہے۔ لیکن بحث کے کچھ اصول تو ہوں گے؟

    میں فاسیلز کے ریکارڈز کو سمجھے بغیر کیا ڈارون کے ارتقاءپر بحث کر سکتا ہوں؟میں میتھمیٹکس کی شدبد کے بغیر کیا تھیوری آف ریلیٹیوٹی پر بحث کر سکتا ہوں؟ میرا خیال ہے کوئی صاحب علم مجھے اس کی اجازت نہیں دے گا۔حدیث کے علم پر تنقید کرنے کے لئے کچھ اصول تو سمجھنے پڑیں گے۔ بات کیا کہی گی؟ بات کس پس منظر میں کہی گئی ہے۔مخاطب کون تھا۔ سوال کی نوعیت ذاتی تھی، اجماعی تھی، کسی خاص موقع کے مناسبت سے تھی؟ پھر سمجھنے والے نے بات کیا سمجھی؟ اس نے جب بات نقل کی تو الفاظ میں کیا فرق پڑا۔ بات نقل سے نقل ہوتے کیا کہیں ابتدائی مفہوم سے ہٹ تو نہیں گئی؟ ان ساری چیزوںکو دیکھنا پڑتا ہے۔جس موضوع ، یا جس واقعہ یا جس عمل سے متعلق بات ہوتی ہے ۔ اس موضوع ، اس واقعہ اور اس عمل سے متعلق جتنی بھی احادیث ہیں ان سب کو جمع کرنا پڑتا ہے۔ پھر دیکھا جاتا ہے کہیں بات قرآن کے خلاف تو نہیں؟ کہیں بات فطرت کے خلاف تو نہیں؟ کہیں بات عقل عام کے خلاف تو نہیں؟ اس کے بعد اس کے رد و قبول کا فیصلہ ہوتا ہے۔آپ بخاری و مسلم سے کمزور روایت کا جز ڈھونڈ کر اس پر اودھم مچاتے ہیں۔ اس سے پورے مذہبی مقدمے کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا ممکن نہیں ہے۔ ایسا ہو گا نہیں۔

    آپ لبرل تو کہیں سے نہیں ہیں۔ آپ نے تو لبرل ازم کی مٹی پلید کر دی ہے۔ آپ کے انہی رویوں کی وجہ سے سماج میں لبرل ازم ایک گالی بن گئی ہے۔جو حقیقی معنوں میں لبرل ہیں اور سماج میں ایک آزادانہ سیاسی، سماجی اور مذہبی مکالمے پر یقین رکھتے ہیں وہ خود کو لبرل کہتے ہوئے جھجکتے ہیں۔ یہ کیسا لبرل ہونا ہوا بھائی۔ آپ کے جملہ کرتوت دیکھ کر تو بے چارا ”جان لاک“ اور "مونٹسکی" قبر میں تڑپ رہے ہوں گے۔ آپ لبرل تو کسی صورت میں بھی نہیں ہیں۔آپ نے لبرل دیکھنے ہیں تو میں آپ کو سبط حسن دکھاتا ہوں۔ مبشر حسن دکھاتا ہوں۔ وجاہت مسعود دکھاتا ہوں۔ مبارک علی دکھاتا ہوں۔

    آپ لبرل نہیں ہیں صاحب۔ بابا جی کے بقول آپ کو خارش ہے صاحب۔ کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

    ( ناقل کا تحریر سے مکمل اتفاق ضروری نہیں ۔ )
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 17، 2015 #44
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,732
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964


    یہی ہے عقدہ کشائی قوم تو اک دن
    ازار بند کو کہہ دیں گے حبس بے جا ہے​

    جون ایلیا نے کہا تھا.
    آزادی نسواں کے اعلمبردار حقیقت میں عورت کی آزادی کے نام پر عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں ___
    اٹلی کے انٹریر منسٹر رابرٹ مارونی سے جب کہا گیا کہ جناب! ضرورت اس امر کی ہے حجاب کے بین لا پہ دستخط کر ہی دیا جائیں !رابرٹ مارونی اس وقت چائے کا مگ ہاتھ میں لیے کھڑے تھے ، سامنے لگے پور ٹریٹ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگنے ، اگر کنواری ماں ماں مریم اپنی تمام تصویروں میں حجاب پہنے ظاہر کناں ہو سکتی ہے ، تو تم کون ہوتے ہو مجھے کہنے والے کہ میں حجاب بین لا پہ دستخط کر دوں؟ ؟؟؟
    یمن کی عرب لڑکی توکل کامران کو جب نوبیل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا جب وہ سپیچ کرنے ڈائس پہ آئ تو سٹیج سیکٹری نے مائیک میں سوال کیا_حیرت ہے آپ اک پڑھی لکھی خاتون ہیں پھر بھی حجاب کرتی ہیں؟ .اس نے کہا _ زمانہ قدیم میں جب لوگ جاہل تھے تو ننگے تھے ،کپڑوں سے باہر تھے ، جو کچھ آج میں پہنے کھڑی ہوں یہ تہزیبِ انسانیت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے ناکہ رجعت پسندی! اب اگر کوئ کپڑوں سے باہر آتا ہے تو وہ زمانہ قدیم کو تنزلی، رجعت پسندی ہوگی ___!!
    علی ہجویری رح نے کہا تھا
    عادت بھی حجاب ہے!
    یعنی عادات و اطوار میں اک بچ بچاؤں الگ تھلگ ملبوسیت کے جیسا ہی حجاب ہے _
    فرانس ، جرمنی ، ناروے ، کینڈا ، ہالینڈ ، مشرقی مغربی یورپ میں بل دھونس بندوق کی نوک پہ حجاب پہ پابندی کے بل کرائے گئے ، راہ چلتی مسلم خواتین کو عبائیوں سے پکڑ کر سڑکوں پہ گھسیٹا گیا جرمانے عائد کیے گئے جیلوں میں ڈالا گیا ، فقط اپنی مرضی کے کپڑے زیب تن کرنے پر؟ تف کہوں عقل پہ کیا زمانے اتنی ترقی کرلی کہ اب اپنی مرضی سےکوئ عورت کپڑے بھی نہیں پہن سکتی؟ ؟؟
    کیا یہ آزادی اظہار ہے __ ؟؟؟
    ایک آدمی سڑک بیچوں بیچ جا رہا تھا ، زور زور سے گول دائرے میں بانس کا ڈنڈا گھما رہا تھا ، بانس کی نوک اک راہگیر کی ناک کے قریب سے گزری تو اُس نے اُسے روک پوچھا!
    جناب یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ ؟ اس نے کہا میں اپنی آزادی کا اظہار کر رہا ہوں ، راہیگر نے کہا ، دیکھیے جناب! درست مگر یادرہے!
    آپکی آزادی وہاں ختم ہو چکی ہوتی ہے جہاں سے میری" ناک" شروع ہوتی ہے ___!
    حیرت تو یہ کہ اس پہ پابند سلاسل کرنے والے کہاں کے روشن دماغ ہوئے جاتے ہیں؟
    ہمیں کہتے ہیں نے سناں کی نوک اسلام رائج کیا - کیا ابھی یہ کوئ جواز رکھتے ہیں کہ بہ نوک بندوق پابند ِ سلاسل بے حیائ ، روشن خیالی پھیلانے والے یہ نہیں تو کون ہیں؟ ؟ حجاب جرمانہ و جیل کی نوک پہ صبط کرنے والوں کو کروڑہا بار سلیوٹ مارنے کو دل کرتا ہےاپنی تہزیب کی چورن آزادی اظہار کے نام پر بیچتے بیچتے ، ہمارے شعائر جب رو برو ہوں تو ہم اپنے آزادی اظہار حق یکے دم ناجانے کیوں کھو دیتے ہیں_ یہ یک طرفہ آزادی اظہارِ رائے کیا انکی ضمیر کی عدالت میں انہیں رسوا نہیں کرتا؟ ؟
    ان یک طرفہ بے غیرتوں میں انہی میں سے کوئ ایک آدھا صاحب ظرف بھی ہوتا جو انہی کے منہ پہ تماچہ جڑ کے انہیں انکی اصل سے آشکار کرتے ہوئے کہتا ہے __ !
    یورپ کی انسانی حقوق کونسل کے کمشنرتھامس حماربرگ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”اس طرح کے اقدامات سے خواتین کو آزادی دینے کی بجاے انھیں معاشرتی زندگی سے ہی نکال باہر کیا جارہا ہے۔ درحقیقت برقع پر پابندی، یورپ کے انسانی حقوق کے معیارات اور خاص طور پر کسی کی نجی زندگی اور ذاتی شناخت کے احترام کے منافی ہے۔ جس طریقے سے مسلم خواتین کے لباس کے معاملے کو اچھالا جارہا ہے، اس سے نمٹنے کے لیے بحث اور قانون سازی کی ضرورت ہے!
    امریکا ہی کی ایک ہسپانوی النسل نومسلمہ نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”جب میں مغربی لباس میں ہوتی تھی تو مجھے خود سے زیادہ دوسروں کا لحاظ رکھنا پڑتا تھا، گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی نمائش کی تیاری، ایک کرب انگیز اور مشکل عمل تھا۔ پھر جب میں کسی اسٹور، ریسٹورنٹ یا کسی ایسے مقام پر جہاں بہت سارے لوگ جمع ہوں، جاتی تھی تو خود کو دوسروں کی نظروں میں جکڑی ہوئی محسوس کرتی تھی، میں بظاہر آزاد وخود مختار ہوتی تھی؛ لیکن فی لحقیقت دوسروں کی پسند وناپسند کی قیدی ہوتی تھی، پھر یہ فکر بھی لاحق رہتی تھی کہ جب تک حسن اور عمر ہے، لوگ میری طرف متوجہ ہیں، عمر ڈھل جانے کے بعد خود کو قابل توجہ بنانے کے لیے مجھے اور زیادہ محنت کرنی پڑے گی؛ لیکن اب اسلامی پردے نے ان الجھنوں سے مجھے یکسر بے فکر وآزاد کردیا ہے۔____!
    فقط حجاب پر ہالینڈ نے فی کس ایک سو پچاس یورو جرمانہ عائد کا قانون بنا رکھا _
    پھر انکے منہ پر انہی کی تہزیب کی کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہاتھ اٹھتا ہے ، تماچہ جڑ دیتا ہے!
    فرانس کے بزنس مین نے جب دیکھا کہ فرانس میں حجاب پہ پابندی لگادی گئ ہے تو اس نے کہا _
    مسلمان عورتیں حجاب کا حق رکھتیں ہیں وہ حجاب جاری رکھیں فی یوم کے حساب پورے فرانس میں اک بھی موجود مسلم خاتون کا جرمانہ میں ادا کروں گا ___ !
    تم دراصل ہمارے شعائر کی جوتی کی انی کی برابر بھی نہیں پہنچ سکتے _ پانی راستہ خود بناتا ہے پل باندھیں گے تو حد سے تجاوز کرکے پل سے بہہ نکلے گا ،
    اکبر الہ آبادی نے کہا تھا
    یہی ہے عقدہ کشائ قوم تو اک دن
    ازار بند کو کہہ دیں گے حبس بے جا ہے
    تحریر : مہران درگ
     
    • پسند پسند x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں