1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملی گناہ

'الجماعہ' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏مارچ 24، 2018۔

  1. ‏مارچ 24، 2018 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ملی گناہ

    پچھلے کچھ عرصے سے بعض قائدین کی تواتر سے خواتین کے ساتھ تصویریں منظر عام پر آئی ہیں۔
    ان میں سب سے پہلے ایک دینی جماعت کے سیاسی بزرگ کی تصویر تھی، جس پر مجاہدین نے بہت شور کیا، کچھ عرصہ بعد ان تصویروں کی افادیت اللہ نے مجاہدین کے دل میں بھی بٹھادی ، اب خیر سے ایک مہینے کے مختصر عرصے کے اندر اندر اس جماعت کے تین لیڈروں کی تصویریں فیس بک وغیرہ پر خراج تحسین وصول کر چکی ہیں۔
    اس قسم کی محفلوں میں غیر محرم عورت سے مصافحہ کرنا، اس کے سر پر لمس کرنا، یا اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر گروپ فوٹو لینا، یہ علما یا طلبہ علم کے ہاں توبالکل متفقہ طور پر غیر شرعی فعل ہے،اور جس نے بھی یہ کام کیا، اس نے حرام کا ارتکاب کیا ہے۔ شاید کچھ جہلا ہی ہوں گے جو اس کو جائز سمجھتے ہوں گے۔
    اب دوسرا مسئلہ ہے، اس قسم کی تصویروں پر رد عمل کا۔
    اس پر سب سے بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ ان قائدین سے مل کر، یا پرسنل میں رابطہ کرکے اس کے متعلق ان کی رائے لی جائے،اور علما ان لوگوں کو سمجھائیں، کہ یہ کام درست نہیں، دین اسلام میں ایسی کوئی اجازت موجود نہیں۔ میرے علم میں نہیں کہ کسی عالم دین نے یہ کام سرانجا دیا ہے کہ نہیں۔
    البتہ کچھ علماء کرام کی طرف سے سوشل میڈیا وغیرہ پر نام لیے بغیر اس فعل کی مذمت کی گئی ہے۔( گو کئی لوگوں کو یہ بھی ہضم نہیں ہوئی)
    دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جس سوشل میڈیا پر یہ تصویریں نشر ہوئیں، وہیں پر آپ ان کی مذمت کردیں، نفرت کا اظہار کریں، براءت کا اظہار کریں۔ کیونکہ برائی جس منظر میں عام ہوئی ہے اس کی تردید بھی وہاں ہو تواس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
    ایک اہم معاملہ یہ رہ جاتا ہے، کہ اگر کوئی غلط تصویریں نشر کرتا ہے ، تو اس پر انکار کے لیے انہیں غلط تصویروں کو دوبارہ نشر کیا جائے گا؟ کچھ لوگوں نے اس کام کو بذات خود ایک منکر قرار دیا ہے ۔ یہ رائے وجیہ ہے، اس پر غور و فکر کیا جاسکتا ہے۔
    لیکن افسوس ہے کہ کچھ لوگ اس آخری رویے پر تنقید کرکے راضی ہوجاتے ہیں، جو لوگ حقیقت میں ان چیزوں کا سبب بنتے ہیں، ان کے ہاں احتجاج ریکارڈ نہیں کرواتے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد کوئی نیا شوشہ پھرسے سامنے آجاتا ہے۔
    آپ دیکھیے وہ کام جو ہم سب کے نزدیک حرام اور غیر شرعی ہے، یعنی اسلامی جماعتوں کے قائدین اور دیندار لوگوں کا خواتین کے ساتھ تصویریں اتروا کر نشر کرنا، اس پر ہونے والا رد عمل تو ہم درست نہیں سمجھتے ، تو پھر ہم نے درست رد عمل کیا دیا ہے؟
    اور اگر یہ رد عمل بھی نہ ہو ، جو کچھ لوگوں کی نظر میں غلط ہے ، تو پھر بتائیے کہ اس برے کی کام کی مذمت کس نے کرنی ہے؟ اور اگر کوئی مذمت نہیں ہے ، تو مطلب ہم سب کا یہ ’ اجماع سکوتی‘ ہے کہ ایسے کام اسلام کی سربلندی اور مصلحت کے لیے جائز ہو گئے ہیں؟
    فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے
    کرتی نہیں مگر ملت کو گناہوں کو معاف
    خلاصہ یہ ہے کہ آپ کو کسی کے رد عمل کے طریقہ کار سے اتفاق ہے کہ نہیں ہے، آپ اس پر بھی تنقید کریں ، سمجھائیں، لیکن بذات خود بھی ان برائیوں پر مناسب رد عمل دیں، ان کی مذمت کریں، احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
    ان مسائل کے شرعی احکامات پر مبنی قرآن وسنت کی نصوص کو عام کریں، لوگ اس وقت جماعتوں کو رو رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں ’ اسلامی تشخص‘ کو خطرہ ہے، افراد اور جماعتوں سے بڑھ کر اس اسلامی تشخص کو بچانے کی ضرورت ہے۔
    ممکن ہے مجھے کسی جماعت یا اس کے فرد سے کوئی خار ہو، اور میں ان کی برائیوں یا عیوب کو اپنے دل کی تسکین یا غضب کی تشفی کے لیے استعمال کر رہا ہوں گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ برائیاں اب اچھائیاں بن گئی ہیں، اور اگر کسی نے اس پر آپ کی سوچ کے مطابق رد عمل نہیں دیا تو آپ اس کا بہانہ کرکے برائی کے خلاف کچھ کہنے کی بجائے، ادھر ادھر کے محاذ کھول کر بیٹھ جائیں۔
    ’ مجاہرۃ بالاثم‘ کی ان صورتوں پر رد عمل اور احتجاج ریکارڈ کروائیں، اور ساتھ لوگوں کے غلط رد عمل کی بھی مذمت کریں۔ ایسی تحریریں ہم سب مل جل کر شیئر کریں گے۔إن شاءاللہ۔
    نوٹ:
    یہاں ایک عرض ان خیر خواہوں کے لیے بھی لگانا چاہتاہوں، جو مجھے گاہے بہ گاہے یہ یاد دلاتے ہیں کہ آپ مدینہ منورہ میں ہیں، بڑی مقدس جگہ پر ہیں، وہاں سے یہ کام نہ کریں،آپ علم کی طرف توجہ دیں، اور اس قسم کی باتیں۔۔۔ ان کا میں شکر گزار ہوں، لیکن ان سے گزارش ہے کہ اگر لاہور کراچی و اسلام آباد والے یہ کام سرانجام دے لیں، تو مدینے والوں کو یہ کام کرنے کی حاجت نہیں رہے گی۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میدان میں جہلاء اور اندھے لوگوں کی بھرمار ہے، انسان بعض دفعہ رد عمل میں غلط طرف نکل جاتا ہے، اس لیے میں اس قسم کی سرگرمیوں کو کم سے کم کردینا چاہتاہوں۔ لیکن یہ کام بہرصورت کسی نہ کسی کو کرنا ہی ہے۔ اللہ توفیق دے۔​
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں