1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ممنوع اور مشروع وسیلہ کی حقیقت

'وسیلہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏اپریل 16، 2014۔

  1. ‏اپریل 16، 2014 #11
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وسیلہ کونیہ ' وسیلہ شرعیہ​

    وسیلہ کونیہ:
    ہر اس طبعی وقدرتی سبب کو کہتے ہیں جو اپنی اس خلقت کی وجہ سے مقصود تک پہنچائے جس پر اﷲنے اس کو پیدا کیا ہے اور اس فطرت کے ذریعہ جو اﷲنے اس کے لئے مقرر کی ہے مطلوب حاصل کرادے ۔اور یہ وسیلہ بلا تفریق مومن وکافر سب کے درمیان مشترک ہے ۔جیسے پانی جو انسان کی پیاس بجھانے کا وسیلہ ہے 'اور کھانا جو اس کے آسودہ ہونے کا ذریعہ ہے 'اور لباس جو سردی اور گرمی سے بچانے کا ذریعہ ہے 'اور گاڑی جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا ذریعہ ہے 'وغیرہ
     
  2. ‏اپریل 16، 2014 #12
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وسیلہ شرعیہ:
    ہر اس سبب کو کہتے ہیں جو اس طریقہ سے مقصود تک پہنچائے جسے اﷲنے مشروع فرمایا ہے اور جس کو اپنی کتاب اوراپنے رسول کی سُنّت میں بیان کردیا ہے 'اور یہ وسیلہ صرف اس مومن کے ساتھ خاص ہے جو اﷲاور اس کے رسول کے حکم کا پابند ہے ۔
    اس وسیلہ کی چند مثالیں یہ ہیں ۔
    اخلاص اور فہم کے ساتھ توحید وردسالت کی شہادت دینا ۔یہ وسیلہ ہے جنت میں داخل ہونے کا اور جہنم میں ہمیشہ رہنے سے نجات پانے کا ۔ اور برائی کے بعد نیکی کرنا وسیلہ ہے گناہوں کی معافی کا' ا ور اذان کے بعد دعا ماثورہ کا پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پانے کا وسیلہ ہے ۔اور صلہ رحمی طول عمر اور وسعت رزق کا وسیلہ ہے ۔وغیرہ۔
    یہ اور اس جیسے امور کی بابت ہم کو معلوم ہوگیا کہ یہ مقاصد اور غایات صرف شرعی طریقہ پر پورے کئے جاتے ہیں۔سائنس یا تجربہ یا حواس سے ان کا کچھ تعلق نہیں ۔یہ بات کہ صلہ رحمی عمر کو بڑھاتا ہے اور روزی میں وسعت پیدا کرتا ہے ہمیں اس کا علم صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہوا۔
    مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّبْسَطَ لَہٗ فِیْ رِزْقِہٖ وَ اَنْ یُّنْشَأَ لَہٗ فِیْ اِثْرِہٖ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ o (رواہ الشیخان)​
    ترجمہ: ''جس کو یہ پسند ہوکہ اس کی روزی اور عمر بڑھادی جائے اس کو چاہئے کہ اپنے رشتہ دار کے ساتھ حسن سلوک کرے۔'​'
    اور اکثر لوگ ان دونوں ہی قسم کے وسیلوں کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں اور بہت ہی خراب تہمات کا شکار ہیں 'اور سبب کونی بس اسی کو سمجھتے ہیں جو کسی معینہ مقصد کو حاصل کرادے جب کہ معاملہ ان کے ظن کے خلاف ہوتا ہے ۔اس طرح کبھی کسی شرعی سبب کو محض اس لئے شرعی سمجھتے ہیں کہ اس سے کوئی شرعی مقصد حل ہوجاتا ہے حالانکہ حق ان کے معتقدات کے خلاف ہوتا ہے ۔
    ان وسائل باطلہ کی مثال جو بیک وقت شرعی اور کونی دونوں ہیں 'وہ ہے جس کو دمشق کی ''شارع النصر''پرگذرنے والا اکثر دیکھا کرتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے سامنے چھوٹے چھوٹے ٹیبل رکھے رہتے ہیں اور اس پر ایک چھوٹا جانور جو بڑے چوہے کی طرح ہوتا ہے'بیٹھا رہتا ہے اور اس کے آس پاس چھوٹے کارڈ پڑے رہتے ہیں جن میں لوگوں کے نصیبوں کی امیدوں سے متعلق عبارتیں لکھی رہتی ہیں جن کو جانور کا مالک لکھے رہتا ہے یا کچھ لوگ اپنے جہل اور خواہش کے مطابق لکھائے رہتے ہیں اور راستہ سے گذرتے ہوئے گہرے دوست آپس میں کہتے ہیں آؤ ذرا اپنی قسمت ملاحظہ کریں ۔پھر وہ چند پیسے اس آدمی کو دیتے ہیں اور وہ اس جانور کو دھکیلتا ہے کہ کوئی کارڈ اُٹھا لائے ۔جانور ایک ایک کارڈ اُٹھا کر ان کو دیتا ہے اور یہ اس کو پڑھ کر اپنے خیال کے مطابق اپنی قسمت کا مطالعہ کرلیتے ہیں ۔
    آپ اس آدمی کی عقل رسائی دیکھ رہے ہیں کہ وہ ایک جانور کو اپنا معلم سمجھ رہا ہے اور وہ جانور اس کو اپنی قسمت بتارہا ہے اور اس کی اپنی حیثیت جو ا س کی نگاہ اور علم سے غائب تھی اس کو یہ جانور بتارہا ہے ''اگر حقیقۃً وہ یہی سمجھ رہا ہے کہ جانور غیب جانتا ہے تو پھر جانور اس سے بہتر ہوا ۔اور اگر وہ اس پر عقیدہ نہیں رکھتا تو اس کا یہ سب فعل بیہودہ مذاق اور وقت اور مال کی بربادی ہے جس سے سمجھ دار لوگوں کو بچنا چاہئے ۔خود اس دھندے کو کرنا ہی فریب دہی 'گمراہی اور لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانا ہے۔
    بلاشبہ لوگوں کا اس حیوان کے پاس غیب جاننے کے لئے جانا ان کے نزدیک وسیلہ کونیہ ہے حالانکہ یہ سراسر غلط اور باطل ہے جس کو تجربہ نے غلط ثابت کردیا ہے اور نظر سلیم اس کو رد کرتی ہے ۔یہ وسیلہ کونیہ نہیں وسیلہ خرافیہ ہے جو جہل اور دجل کی پیداوارہے اور یہ شرعی اعتبار سے بھی باطل ہے ۔کتاب و سُنّت اور اجماع اس کے خلاف ہے۔اس کی مخالفت کے لئے تو بس اﷲکا یہ قول ہی کافی ہے جس میں اﷲ نے اپنی ثناء بیان کی ہے۔
    عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْھِرُ غَیْبِہٖ اَحَدً ا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ o (الجن:۲۶)​
    ترجمہ: ''وہی غیب کا جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس کو اپنے غیب کی باتیں بتادیتا ہے۔''
    اور موہوم کونی اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی شخص بدھ کے دِن سفر کرتا یا شادی کرتا ہے تو سفر میں محروم رہتا ہے اور شادی میں ناکام ۔اور ان کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ جو شخص کوئی اہم کام شروع کرے اور کسی اندھے کو دیکھ لے یا کسی مصیبت زدہ پر نظر پڑ جائے تو اس کا کام نہ تو پورا ہوتا ہے نہ ہی وہ کامیاب ہوتا ہے ۔اور انہیں سب اسباب سے آج کے اکثر مسلمان اور عرب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اپنی بڑی تعداد سے اپنے یہودی اور سامراجی دشمنوں پر فتح پالیں گے اور وہ اپنی موجودہ وضع اور طور طریقے ہی سے یہودیوں کو سمندر میں پھینک دیں گے 'اور تجربات نے اس قسم کے خیالات کے بطلان کو ثابت کردیا ہے ۔حالانکہ یہ مسئلہ اس سطحی طریقہ علاج سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
    ان موہوم شرعی اسباب میں سے کچھ ایسے اسباب ہیں جن کو لوگوں نے اختیار کررکھا ہے اور سمجھتے ہیں کہ یہ اسباب ان کو اﷲکے قریب کردیں گے ۔حالانکہ وہ حقیقت میں ان کو اﷲسے دور کرتے ہیں اور اﷲکی ناراضگی اور غضب بلکہ لعنت اور عذاب کا باعث بنتے ہیں ۔مثلاً مردہ مدفون اولیاء و صالحین سے استغاثہ کرنا ۔وہ ان کی ایسی ضروریات پوری کردیں کہ جن کو اﷲکے سوا کوئی پوری نہیں کرسکتا ۔جیسے کہ وہ ان اصحاب قبور سے اپنی تکلیف دور کرنے اوربیماری سے شفاء پانے کی درخواست کرتے ہیں 'انہیں سے روزی مانگتے ہیں ۔بانجھ پن دُور کرنے کی فریادیں کرتے ہیں اور ان سے دشمن پر غلبہ چاہتے ہیں ۔وغیرہ وغیرہ۔
    پھر وہ قبروں کی آہنی جالیاں اور ان کے پتھرکو چھوتے 'سہلاتے ہیں اور ان کو پکڑ کر ہلاتے ہیں 'اور کاغذ پرلکھ کر ایسی درخواستیں لٹکاتے ہیں جن میں ان کی مرادیں اور خواہشات لکھی رہتی ہیں ۔بس ان کی نگاہ میں یہی سب شرعی وسیلے ہیں جب کہ حقیقت میں یہ سب باطل ہیں اور اِس عظیم اسلام کے مخالف ہیں جن کی بنیاد ہی صرف اﷲواحد کی بندگی ہے اور عبادت کے تمام انواع وفروع میں صرف اﷲہی کو خالص کرنا اس کی بنیادی تعلیم ہے۔
    اور انہیں لغویات میں سے یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ اس خبر کو سچ سمجھ لیتے ہیں جس کو بیان کرتے وقت بیان کرنے والے کویاحاضرین میں سے کسی کو چھینک آجائے u
    انہیں فاسد عقائد میں سے یہ بھی ہے کہ جب کوئی دوست یا رشتہ دار ان کا ذکر خیر کر تا ہے تو ان کا کان بجنےv لگتا ہے
    اور یہ عقیدہ بھی کہ جب لوگ رات میں ناخن تراشیں یا سنیچر اور اتوار کو یا جب رات میں گھر صاف کریں تو ان پر بلائیں نازل ہوتی ہیں ۔
    اور یہ عقیدہ بھی wکہ جب لوگ کسی پتھر کے ساتھ بھی حسن ظن کرلیں اور اس پر عقیدہ رکھ لیں تو وہ ان کو نفع پہنچاتا ہے ۔
    اور یہ اس قسم کے فاسد عقائد جو خرافات اور ظنون واوہام ہیں جن کے متعلق اﷲنے کوئی دلیل نہیں نازل کی بلکہ ان کی اصل موضوع اور جھوٹی حدیثیں ہیں جن کے گھڑنے والوں پر اﷲلعنت کرے اور ان کو ذلیل کرے۔
    وسائل کونیہ میں سے کچھ مباح ہیں جن کی اجازت اﷲنے دی ہے اور کچھ حرام ہیں جن سے اﷲنے منع فرمایا ہے۔پچھلے صفحات میں ان دونوں انواع کے وسائل کا ذکر میں نے کردیا ہے جن کو لوگ مباح اور مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔اور اب میں بعض مشروع اور غیر مشروع کونی وسائل کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔
    شاید اس عقیدہ کی بنیاد یہ حدیث ہو ''مَنْ حَدَّثَ حَدِیْثًا فَعَطِسَ عِنْدَہٗ فَھُوَ حَقٌ'' حالانکہ یہ حدیث باطل ہے ۔علامہ شوکانی نے ''الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ''میں اس کو بھی بیان کیا ہے اور میری کتاب ''سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ ''میں ۱۳۶ کے تحت اس کا مفصل بیان ملے گا۔
    اس گمراہ عقیدہ کی بنیاد یہ موضوع حدیث ہے ''جب تم میں سے کسی کا کان بجے تو مجھ پر درود بھیجو اور کہو اﷲاس کو بھلائی سے یاد کرے جس نے مجھ کو یاد کیا۔ (الفوائد المجموعۃ للشوکانی ص ۲۲۴)
    اس گمراہ کن عقیدہ کی بنیاد یہ ہے ''لَوْ اَحْسَنَ اَحَدَکُمْ ظَنَّہٗ بِحَجَرٍ لَنَفَعَہٗ اﷲُ بِہٗ '' حافظ عجلونی نے اس کو'' کشف الخفاء ''۲/۱۵۲ میں ذکر کیا ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اﷲعلیہ نے اس کو ''کذب''کہا ہے 'اور حافظ ابن حجر رحمۃ اﷲعلیہ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں 'اور صاحب المقاصد کابیان ہے کہ ''یہ روایت صحیح نہیں ''اور علامہ ابن القیم رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ''یہ ان بت پرستوں کا کلام ہے جو پتھروں کے ساتھ حسن عقیدت رکھتے ہیں ۔''
    وسیلہ کونیہ مشروعیہ کی ایک مثال ''کسب اور حصول رزق کے لئے بیع وشراء اور تجارت وزراعت''وغیرہ بھی ہے ۔
    اور وسیلہ کونیہ محرمہ کی مثال حصول رزق کے سودی قرض دینا بیع عینہ ذخیرہ اندوزی 'خیانت 'چوری 'جوا 'شراب اور مورتیوں کی تجارت ہے جس کی دلیل اﷲکا اِرشاد ''اَحَلَّ اﷲُ الْبَیْعَ وَ حَرَّنَ الرِّبٰوا ''(اور اﷲنے تجارت حلال کی اور سود کو حرام کیا ۔سورۃ بقرہ: آیت ۲۱۵) ہے۔
    تجارت اور سود دونوں ہی حصول رزق کے لئے سبب کونی ہیں لیکن اﷲنے اول کو حلال کیا اور دوسرے کو حرام ۔​
     
  3. ‏اپریل 16، 2014 #13
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وسائل کی صحت اور مشروعیت معلوم کرنے کا طریقہ​
    وسائل کونیہ اور شرعیہ کو معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کتاب وسُنّت کی طرف رجوع کیا جائے اور ان وسائل کے متعلق جو کچھ کتاب وسُنّت میں مذکور ہے ان پر ثابت قدم رہا جائے اور ان کے دلائل پر اچھی طرح غور وفکر کیا جائے ۔اس کے علاوہ وسائل کی معرفت کاکوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔
    اور وسائل کونیہ کی صحت کو جاننے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ معروف علمی طریقہ پر حواس اور تجربہ کے ذریعہ جانچ کی جائے اور نظر سلیم سے کام لیا جائے 'لہٰذا کسی بھی سبب کونی کو استعمال کرنے کے جواز کی دودلیلیں ہیں ۔
    اول یہ کہ وہ وسیلہ شرعًا مباح ہو۔
    دوسرے یہ کہ مقصود کے لئے اس کا مفید ہونا ثابت ہو یا مفید ہونے کے لئے غالب گمان ہو۔
    لیکن وسیلہ شرعیہ کے استعمال کی صرف ایک ہی شرط ہے کہ وہ شرع سے ثابت ہو۔لہٰذا گذشتہ مثال میں جانور کو غیب جاننے کے لئے اپنے خیال کے مطابق وسیلہ بنانا دنیاوہ اِعتبار سے بھی باطل ہے 'کیونکہ تجربہ اور نظر سلیم دونوں حیثیت سے وہ ناقابل اِعتبار اور شرعی حیثیت سے وہ کفر اور ضلال ہے ۔اﷲنے اس کے باطل ہونے کو واضح کردیا ہے اور اس سے منع بھی فرمایا ہے۔
    اور اکثر لوگ ان امور میں الجھے ہوئے ہیں ۔اگر کسی ذریعہ سے ذرا بھی فائدہ ہوجاتا ہے تو اس کو جائز شرعی وسیلہ سمجھتے ہیں۔ایسا ہوا ہے کہ کسی نے کسی ولی کو پکارا یا کسی مردہ سے استغاثہ کیا اور اس کاکام بن گیا ۔اور مراد پوری ہوگئی تو وہ اس کو دلیل بناکر دعوی کرنے لگ جاتا ہے کہ مردے اور اولیاء لوگوں کی فریاد رسی پر قادر ہیں اور ان کو پکارنا اور ان سے استغاثہ کرنا جائز ہے'اور اس کی دلیل صرف اتنی ہے ۔کہ اس کے ذریعہ اس مدعی کا کام بن گیا۔
    ہمیں افسوس ہے کہ اس طرح کی بہت سے باتیں ہم نے دینی کتابوں میں پڑھی ہیں جن میں لکھنے والا خود لکھتا ہے یا دوسروں سے نقل کرتا ہے کہ وہ ایک مرتبہ بڑی تکلیف میں پڑگیا تو فلاں بزرگ یا مرد صالح سے استغاثہ کیا اور اس کانام لے کر آواز دی تو وہ فوراً حاضر ہوگئے یا اس کے خواب میں تشریف لائے اور اس کی فریاد رسی کی اور مراد پوری فرمائی۔
    افسوس! یہ بے چارہ اور اسی جیسے دوسرے لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اگر اس کا کہنا صحیح بھی ہوتو یہ مشرکین اور اہل بدعت کے لئے اﷲکی طرف سے استدراج (ڈھیل دینا)اور آزمائش اور کتاب وسُنّت سے روگردانی اور اپنی خواہشات وشیاطین کی اتباع پر اس کی سزا ہے۔
     
  4. ‏اپریل 16، 2014 #14
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جو شخص ایسی بات کہتا ہے وہ غیر اﷲسے استغاثہ کو جائز قرار دیتا ہے 'حالانکہ یہ استغاثہ تو شرک اکبر ہے ۔یہ واقعہ اس کے ساتھ یا دوسرے کے ساتھ کسی حادثہ کے سبب پیش آیا ہے اور ممکن ہے یہ حادثہ سرے سے بناوٹی ہو یا لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے گھڑا گیا ہو ۔اس طرح یہ بھی ممکن ہے واقعہ صحیح ہو اور اس کا راوی بھی سچا ہو لیکن اس سے یہ فیصلہ کرنے میں غلطی ہوئی ہو کہ بچانے والا اور فریاد پوری کرنے والا کون ہے؟ اس مسکین نے توکسی ولی صالح کو فریاد رس سمجھا حقیقت میں وہ شیطان مردود تھا جس نے ایسا محض خباثت پھیلانے کے لئے کیا تھا تاکہ وہ لوگوں کو بہکائے اور ان کو کفر وضلال کے جال میں اس طرح پھانس دے کہ لوگ اس مکر کو سمجھ پائیں یا نہ سمجھ یا نہ سمجھ پائیں ۔(لیکن اس کامکر کام کرجائے ۔)
    اور روایات اس پر متفق ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین بتوں کے پاس آتے تھے اور ان کو پکارتے تھے ۔اس وقت وہ کچھ آوازسنتے تھے تو سمجھتے تھے کہ یہی بت جو ان کے خود ساختہ معبود ہیں'ان سے بات کررہے ہیں اور ان کی پکار کا جواب دے رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ نہیں ہوتی تھی بلکہ شیطان لعین ان کو گمراہ کرنے اورا نہیں ان کے باطل عقیدہ میں مزید غرق کرنے کے لئے یہ حرکتیں کیا کرتا تھا ۔
    اس تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس بات کو سمجھ پائیں کہ تجربے اور روایات اعمال دینیہ کی مشروعیت جاننے کا صحیح وسیلہ نہیں ہیں 'بلکہ اس کے لئے واحد مقبول وسیلہ صرف یہ ہے کہ اس شریعت کوفیصلہ کن بنایا جائے جوکتاب وسُنّت میں نمائندہ حیثیت رکھتی ہے 'اس کے سوا کچھ نہیں ۔
    اس سلسلے کی سب سے اہم بات جس میں اکثر لوگ خلط ملط کرتے ہیں وہ ہے طرق صوفیہ میں سے کسی طریقہ کے ذریعہ کسی غیب داں کے پاس جانا 'جیسے کاہنوں 'نجومیوں 'منجمین 'جادوگروں 'اور شعبدہ بازوں کے پاس جانا 'تم کو معلوم ہوگا کہ لوگ ان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ لوگ غیب جانتے ہیں 'کیونکہ انہوںنے ان کو کبھی بعض ایسی غیبی خبریں بتائی ہیں جو ان کے بتانے کے مطابق صحیح ثابت ہوئی ہیں ۔بس اسی سے وہ ان کے پاس جانا اور اِن پر اعتقاد رکھنا جائز اور مباح سمجھنے لگتے ہیں 'کیونکہ اس کے جواز کے لئے وہ اس بات کو دلیل سمجھتے ہیں کہ انہوںنے جوکہا تھا وہ درست نکلا ۔
     
  5. ‏اپریل 16، 2014 #15
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    حالانکہ یہ بڑی زبردست خطا اور کھلی گمراہی ہے 'کیونکہ کسی بھی واسطہ سے کچھ نفع کا حاصل ہوجانا اس واسطہ کی مشروعیت ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے ۔مثلاً شراب کی تجارت کبھی کبھی تاجر کو بے شمار نفع دیتی ہے اور اس کی دولت وثروت کا ذریعہ بن جاتی ہے 'اور ایسے ہی کبھی کبھی جوا اور لاٹری بھی۔اسی لئے اﷲنے فرمایا۔
    یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْھِمَا اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا o​
    ترجمہ: ''اور لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے بڑا نفع بھی لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑھ کر ہے ۔'' (بقرہ:۲۱۹)
    ان میں نفع ہونے کے باوجود بھی شراب اور جوا دونوں ہی حرام'ملعون ہیں'اور شراب کے سلسلے میں دس افراد پر لعنت کی گئی ہے۔
    اسی طرح کاہنوں کے پاس جانا بھی حرام ہے کیونکہ اس سے منع اور تنبیہ دین میں ثابت ہے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ''جو شخص کاہن کے پاس جائے اور اس کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کرے وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی شریعت سے الگ ہے ۔'' (ابوداؤد) نیز آپ کا یہ اِرشاد ہے ' ''جو شخص کسی نجومی کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کی بابت سوال کرے تو چالیس دِن تک اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی ۔'' (مسلم) اور معاویہ بن حکم السلمی نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ''ہم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں ۔''آپ نے فرمایا۔''تم ان کے پاس مت جاؤ۔''(مسلم)
    اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتادیا ہے کہ کاہن اور جادوگر بعض غیبی باتیں کس طرح حاصل کرتے ہیں 'چنانچہ فرمایا ''جب اﷲآسمان میں کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے فرمان اِلٰہی کی تابعداری میں اپنے پروں کو مارتے ہیں جیسے چٹان پر زنجیر ۔جب ان کے دِل کی گھبراہٹ ختم ہوتی ہے تو کہتے ہیں 'تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟کہتے ہیں 'البتہ جس نے کہا وہ حق اور بلند وکبریائی والا ہے ۔اس وقت اس بات کوشیاطین چوری سے سنتے ہیں اور ان سے دوسرے شیاطین سنتے ہیں ۔اسی طرح ایک پر ایک سنتے جاتے ہیں ۔اور سفیان بن عیینہ (جو اس حدیث کے راوی ہیں )نے اپنے ہاتھ سے شکل بناکر بتایا اس طرح کہ انہوں نے اپنے داہنے ہاتھ کی ہتھیلیوں کو کشادہ کیا اور ایک دوسرے پر کھڑی کردیا۔کبھی ان کو شہاب ثاقب عین اس وقت پکڑ لیتا ہے کہ ابھی وہ اپنے ساتھی کو یہ خبریں بتائے بھی نہیں ہوتے اور پھروہ انہیں جلا کر خاک کردیتا ہے ۔
    اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے نیچے والے شیطان کو یہ خبر پہنچادیتے ہیں اور وہ اپنے سے نیچے والے کو 'یہاں تک کہ وہ زمین تک اس کو پہنچا دیتے ہیں پھر یہی خبر شیطان ان جادوگروں تک لے جاتے ہیں اور وہ اس میں سو جھوٹ ملادیتے ہیں ۔جب ایک سچی خبر کی تصدیق ہوجاتی ہے تولوگ کہنے لگتے ہیں کہ کیا اس شخص نے فلاں فلاں دِن یہ نہیں کہا تھا کہ ایسا ایسا ہوگا اور وہ خبر ہم نے سچی پائی۔(یعنی وہی بات جو آسمان سے سنی گئی تھی)۔ (بخاری)
    اور ایسے ہی دوسری حدیث میں عبداﷲبن عباس ؓسے مروی ہے کہ :رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ روشن ہوا ۔آپ نے پوچھا ۔''جاہلیت میں جب ایسا ہوتا تھا تو آپ لوگ کیا کہتے تھے ؟'' لوگوں نے کہا ۔''ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی پیدا ہوگا یا کوئی بڑا آدمی مرے گا۔'' توآپ نے فرمایا َ''یہ کسی کی موت یا زندگی کے لئے نہیں پھینکا جاتا 'بلکہ اﷲتبارک وتعالیٰ جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرشِ الٰہی کے اُٹھانے والے تسبیح کرتے ہیں 'پھر اس آسمان والے فرشتے تسبیح کرتے ہیں جو حاملین عرش کے قریب ہیں ۔اس طرح تسبیح آسمان دنیا تک پہنچتی ہے 'اور حاملین عرش کے قریب آسمان پر رہنے والے ان سے خبر دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟تو یہ ان کو بتاتے ہیں اور ہرآسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتاتے ہیں یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا تک پہنچتی ہے اور جن کان لگا کراچک لینے کی فکر میں رہتے ہیں جو خبر وہ اس طریقے پر لے آتے ہیں وہ تو سچی ہوتی ہے 'لیکن وہ اس میں بڑھاتے اور ملاتے ہیں ۔''
    ان دونوں حدیثوں سے ہم جان گئے کہ جنوں اور انسانوں کے درمیان ملاپ ہوتا ہے اور جن ان کاہنوں کو بعض سچی خبریں بتاتے ہیں اور کاہن ان میں اپنی طرف سے دوسری خبریں ملا کر لوگوں سے بیان کرتے ہین اسی طرح لوگ کچھ سچی خبروں کی اطلاع پاجاتے ہیں 'اور شارع حکیم علیہ السلام نے ان کاہنوں کے پاس جانے کی اور ان کی کہی ہوئی باتوں کی تصدیق کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ ابھی اُوپر ہم لکھ آئے ہیں ۔
     
  6. ‏اپریل 16، 2014 #16
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اس موقع پر ہمیں یہ بات یاد دلانی ہے کہ کہانت اورعلم نجوم وغیرہ کا اب بھی لوگوں پر بڑا اثر ہے 'یہاں تک کہ ہمارے اس دور میں بھی جس کے متعلق یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ علم وشعور اور تمدن وتہذیب کا دور ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ کہانت 'شعبدہ بازی اورجادو وغیرہ کا زمانہ چلاگیا اور اس کا زور ختم ہوگیا'لیکن جو شخص گہری نظر ڈالے گا اور جو حادثات آئے دن یہاں وہاں ہوتے رہتے ہیں ان سے باخبر ہوگا وہ یقینی طور پرجان لے گا کہ یہ ابھی تک لوگوں پر مسلط ہیں 'البتہ آج ان چیزوں نے نیا لبادہ اوڑھ لیا ہے اور عصر حاضر کا رنگ وروپ دھارلیا ہے جس کی حقیقت کو بہت کم ہی لوگ سمجھ سکتے ہیں ۔
    رہا روحوں کو حاضر کرنا اور ان سے بات چیت کرنا اور مختلف طریقوں سے ان سے ملاپ کرنا تو یہ وہی جدید کہانت کی ایک شکل ہے جو آج لوگوں کو گمراہ کررہی ہے اور ان کو دین سے ہٹا کر اوہام واباطیل میں جکڑ رہی ہے اور لوگ اس کو علم اور دین ہی سمجھے بیٹھے ہیں جب کہ علم اور دین کا ان خرافات سے کوئی تعلق نہیں ۔
    خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اسباب کونیہ اور جس کے بارے میں سمجھاجائے کہ یہ اسباب شرعیہ ہیں تو ان کا اثبات اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کا جواز شرع سے ثابت نہ ہوجائے ۔اسی طرح اسباب کونیہ کے لئے بھی ضروری ہے کہ تحقیق وتجربہ سے اس کی صحت اور افادیت کو ثابت کیاجائے ۔
    یہ بھی یاد رہے کہ جس چیز کا وسیلہ کونیہ ثابت ہوجائے تو اس کے مباح ہونے اور استعمال کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ شریعت نے اس کومنع نہیں کیا ہے۔ایسے ہی موقع پر فقہاء کہتے ہیں کہ: ''اشیاء میں اصل اباحت ہے۔'' لیکن وسائل شرعیہ کو استعمال کرنے کے جواز میں یہ بات کافی نہیں کہ شارع نے اس سے منع نہیں کیا ہے'جیسا کہ اکثرلوگ یہ سمجھتے ہیں ۔بلکہ اس کے لئے ایسی نص شرعی کی ضرورت ہے جو اس کی مشروعیت اور استحباب کو ضروری قرار دیتی ہو ۔کیونکہ استحباب اباحت پر ایک زائد شئے ہے'اس سے تقرب الٰہی حاصل ہوتا ہے اور ایسی طاعات صرف عدم ممانعت سے ثابت نہیں ہوسکتیں ۔اسی بنا پر بعض سلف کا کہنا ہے کہ ''جس عبادت کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نہیں کیا وہ تم لوگ بھی مت کرو ''۔ اور یہ بات ان احادیث سے اخذ ہوتی ہے جن میں دین میں نئی اِیجاد سے منع کیا گیا ہے ۔اسی اصول کے تحت شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا ہے۔''اصل عبادات میں منع ہے'البتہ کسی نص کے ذریعہ وہ چیز مباح ہوتی ہے 'اور عادات میں اصل اباحت ہے 'البتہ کسی نص کے ذریعہ وہ ممنوع ہوتی ہے ۔'' یہ نہایت اہم اوربنیادی باتیں تھیں جنہیں یاد رکھنا چاہئے'کیونکہ اِختلافات کے موقع پر حق سمجھنے میں یہ مددگار ہوں گی ۔
     
  7. ‏اپریل 16، 2014 #17
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
    مکمل ہونے تک کوئی جواب نہ لکھے۔ شکریہ
     
  8. ‏اپریل 17، 2014 #18
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مشروع وسیلہ اُور اس کے اقسام​

    پچھلی بحث سے ہم نے یہ سمجھا کہ یہاں دومستقل مسئلے ہیں! اول اس بات کا وجوب کہ وسیلہ شرعی ہو اور یہ کتاب وسُنّت کی صحیح دلیل کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتا ۔اور دوسرے یہ کہ وسیلہ سبب کونیہ کا ہو جس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہو۔
    ہم جانتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ ہم اس سے دعا مانگیں اور مد د چاہیں ۔اس کا ارشاد ہے ۔
    اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیُنَ o (سورہ غافر)​
    ترجمہ: ''تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاقبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے ازراہِ تکبر کتراتے ہیں عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے۔''
    وَاِذَ ا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُ وْنَ o (البقرہ:۱۸۶)​
    ترجمہ: ''جب آپ سے میرے بندے میری بابت دریافت کریں تو کہہ دو میں تمہارے پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں توان کوچاہئے کہ میرے حکموں کومانیں اورمجھ پر اِیمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں ۔''
    اور اﷲعزوجل نے بہت سے مشروع وسیلے مقرر فرمائے ہیں جو مفید ہیں اور مراد کو پوری کرنے کا ذریعہ ہیں ۔اور ان وسائل کے ذریعہ جو شخص اﷲسے دعا کرے گا اﷲنے اس کی مقبولیت کا ذمہ لیا ہے 'بشرط یہ کہ دعا کے دوسرے شرائط پورے ہوں ۔اس وقت ہم کو کسی تعصب اور سختی کے بغیر ان نصوص شرعیہ پر غور کرنا چاہئے جن سے وسیلہ کا ثبوت ملتا ہے ۔
    قرآن کریم اور سنت مطہرہ پرغور کرنے کے بعد تین قسم کے وسیلے کا پتہ چلتا ہے جنہیں اﷲنے مشروع فرمایا ہے اور ان کے استعمال کی ترغیب دلائی ہے ان میں سے کچھ تو قرآن میں موجود ہیں اور کچھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِستعمال کیا اورہمیں ان کا حکم فرمایا'لیکن اس وسیلوں میں کہیں جاہ 'حقوق اور مقامات کا کوئی وسیلہ نہیں 'جس سے معلوم ہوا کہ اس قسم کے وسیلے مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں بیان کردہ مشروع وسیلوں کی فہرست سے خارج ہیں ۔مشروع وسیلوں میں سے پہلا وسیلہ اﷲتعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کا وسیلہ ہے ۔مثلاً مسلمان اپنی دعا میں کہے۔
    اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاَنَّکَ اَنْتَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ اَنْ تُعَافِیْنِیْ o​
    ترجمہ: '' اے اﷲتجھ سے سوال کرتا ہوں اس وسیلہ سے کہ تو رحمان ورحیم 'لطیف وخبیر ہے کہ تو مجھے عافیت عطا فرما۔''​
    یا یوں کہے :
    اَسئَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْیٔ اَنْ تَرْحَمْنِیْ وَ تَغْفِرْلِیْ o​
    ترجمہ: '' اے اﷲ'تیری اس رحمت کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں جو ہر شئے پر چھائی ہوئی ہے کہ تومجھ پر رحم فرما اور مجھے بخش دے ۔''
    یا یوں کہے :
    اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِحُبِّکَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ o​
    ترجمہ: ''اے اﷲ'تجھ سے سوال کرتا ہوں اس وسیلہ سے کہ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے ۔''​
    کیونکہ محبت بھی اﷲکی ایک صفت ہے ۔
     
  9. ‏اپریل 17، 2014 #19
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اس وسیلہ کی مشروعیت کی دلیل اﷲتعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
    وَ لِلّٰہِ الْأَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہٗ بِھَا o (الاعراف:۱۸۰)​
    ترجمہ: ''اور اﷲکے اچھے نام ہیں 'انہیں سے اس کوپکارو۔''​
    یعنی اﷲسے دعاکرو تو اس کے اسماء حسنیٰ کو وسیلہ بناکر دعاکرو 'کیونکہ اﷲکے اسماء حسنیٰ اس کی صفات ہیں جو صرف ذات الٰہی کے ساتھ خاص ہیں ۔
    اور ایک دلیل حضرت سلیمان کی یہ دعا بھی ہے جس کا اﷲنے قرآن میں ذکر فرمایا ہے ۔
    رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاہُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادَکَ الصّٰلِحِیْنَ o (سورۃ النمل:۱۹)
    ''اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطافرمائی اورمجھے توفیق دے کہ ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو اور مجھے اپنی رحمت کے وسیلے سے اپنے صالح بندوں میں داخل فرما۔''
    انہیں دلائل میں سے ایک دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد بھی ہے جو نماز میں سلام سے قبل آپ اپنی دعا ؤں میں پڑھا کرتے تھے ۔
    اَللَّھُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ وَقَدْ رَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ اَحْیِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًا لِّی وَ تَوَفَّنِیْ اِذَا کَانَتْ الوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ o (النسائی والحاکم)​
    ترجمہ: ''اے اﷲتیرے علم غیب سے مخلوق پر تیری قدرت کے وسیلہ سے سوال کرتاہوں کہ مجھے زندہ رکھ جب تک زندہ رہنا میرے لئے توبہتر جانے اور مجھے وفات دے اگر وفات میرے لئے بہتر ہے ۔''
    ایک دلیل یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے سنا جو تشہد میں یہ دعا پڑھ رہا تھا۔
    اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ یَا اﷲُ الْوَاحِدُ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ ' اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ فَقَالَ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَہٗ o (ابوداؤد والنسائی)
    ترجمہ: ''اے اﷲ'میں تجھ سے سوال کرتا ہوں 'یا اﷲجو ایک اکیلا بے نیاز ہے 'نہ جنا نہ جنا گیا 'نہ اس کے برابر کوئی ہے کہ میرے گناہ بخش دے 'بے شک تو ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے 'تو آپ نے فرمایا اس کی بخشش کی گئی ۔''
    اور آپ نے ایک دوسرے شخص سے سنا جو اپنے تشہد میں کہہ رہا تھا :
    اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ اَلْمَنَّانُ یَا بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ' یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ' یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ o
    ترجمہ: ''اے اﷲ'تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے ہی لئے سب تعریف ہے'تیرے سوا کوئی معبود نہیں 'تو اکیلا ہے 'تیراکوئی شریک نہیں 'اے احسان کرنے والے 'اے آسمان وزمین کے ایجاد کرنے والے 'اے جلال وبزرگی والے 'اے ہمیشہ زندہ رہنے والے'اے نگرانی کرنے والے 'میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے پناہ چاہتا ہوں ۔''
    آپ نے صحابہ ؓ کرام سے فرمایا :''جانتے ہو اس نے کس وسیلہ سے دعا کی ؟'' صحابہ کرام نے فرمایا :''اﷲاور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔''تب آپنے فرمایا :''اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے 'اس نے اﷲکو اس عظیم نام سے (اور ایک روایت میں ہے کہ اﷲکے سب سے بڑے نام سے )پکارا ہے کہ جب بھی اس کو اس نام سے پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب بھی اس نام سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے ۔''
     
  10. ‏اپریل 17، 2014 #20
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ آپ کا یہ اِرشاد ہے کہ جس کو زیادہ غم وفکر ہو وہ اس دُعا کو پڑھے:
    اللَّھُمَّ اِنِّیْ عَبْدِکَ وَابْنُ عَبْدِکَ ' وَابْنُ اَمَتِکَ ' نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ ' مَاضٍ فِیَّ حُکْمِکَ ' عَدْ لٌ فِیَّ قَضَائُ کَ اَسَأَلُکَ بِکُلِّ ' اِسْمٍ ھُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ اَو اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتَابِکَ اَوِ اسْتأثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنًدَکَ ' اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ ' وَنُوْرَ صَدْرِیْ ' وَجَلائَ حُزْنِی ' وَذَھَابَ ھَمِّیْ ' اِلَّا اَذْھَبَ اﷲُ ھَمَّہٗ وَحُزْنَہٗ وَاَبْدَ لَہٗ مَکَانَہٗ فَرَجًا o (مسند احمد)
    ترجمہ: ''اے اﷲ'بے شک میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کابیٹا ہوں 'میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے 'میرے اندر تیرا حکم جاری ہے 'میرے بارے میں تیرا فیصلہ انصاف کے مطابق ہے 'میں سوال کرتا ہوں ہر اس نام کے وسیلہ سے جو تیرے لئے خاص ہے جس کو تو نے اپنی ذات کیلئے موسوم کیا ہے 'یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھلایا ہے 'یا اپنی کتاب میں اس کو نازل کیا ہے 'یا اپنے پاس علم غیب میں اس کو ترجیح دیا ہے ۔کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار بنادے اور میرے سینے کا نور اور میرے رنج کی صفائی اور غم کو دُور کرنے کا ذریعہ بنادے ۔تو اﷲاس کا رنج اور غم دور کردیتا ہے اور اس کے بدلے کشادگی دے دیتا ہے ۔''
    اور انہیں میں سے آپ کا یہ اِستعاذہ بھی ہے :
    اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اعُوْذُبِعِزَّتِکَ لَااِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ اَنْ تُضِلَّنِیْ o (متفق علیہ)
    ترجمہ:''اے اﷲ!پناہ چاہتا ہوں تیری عزت کے وسیلے سے 'تیرے سوا کوئی معبود نہیں 'اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کردے ۔''​
    اور یہ دعا بھی جو حضرت انس صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی امر درپیش ہوتا تو فرماتے تھے
    یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیثُ o (ترمذی)​
    ترجمہ:''اے زندہ ہمیشہ رہنے والے 'تیری رحمت کے وسیلہ سے فریاد کرتا ہوں ۔''​
    یہ اور اس جیسی احادیث سے بصراحت واضح ہوگیا کہ بارگاہِ الٰہی کامشروع وسیلہ اس کے ناموں میں سے کسی نام کا ہے یا اس کی صفات میں سے کسی صفت کا'نیز یہ کہ یہ وسیلہ اﷲ کو پسند ہے ۔اسی بناپر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی دعا میں اس کو استعمال فرمایا ہے ۔اﷲکا اِرشاد ہے :
    وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ o (الحشر:۸)​
    ترجمہ:''اور اﷲکے رسول جو کچھ دیں اس کو لے لو۔''​
    اِس آیت کی روشنی میں ہمارے لئے یہ مشروع ہوگیا کہ ہم بھی اپنی دعاؤں میں انہیں الفاظ کے ذریعہ اﷲسے مانگیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیا ۔یہ بات ہزار درجہ بہتر ہے اس سے کہ ہم اپنی طبیعت سے دُعائیں گڑھیں اور ان کے جملے بنائیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں