1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

مناسک حج اورمخالفات حنفیہ وبریلویہ

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏ستمبر 09، 2016۔

  1. ‏ستمبر 09، 2016 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    957
    موصول شکریہ جات:
    299
    تمغے کے پوائنٹ:
    158

    مناسک حج اورمخالفات حنفیہ وبریلویہ

    مقبول احمد سلفی
    داعی ومترجم: اسلامی سنٹر ،طائف

    حج اسلام کا پانچواں رکن ہے جو صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار ہی فرض ہے ۔ تمام مسلمانوں کی دلی تمنا ہے کہ وہ اللہ کے گھر کا دیدار کرے ، یہ تمنا اللہ کی توفیق سےکسی کی پوری جاتی ہے تو کسی کی نہیں پوری ہوتی ۔ مرضی مولی از ہمہ اولی
    حج کی سعادت نصیب ہوجانا اللہ کی طرف سے بہت ہی بڑا انعام ہے ،اس انعام پہ پروردگار کا جس قدر شکریہ بجالایا جائے کم ہے ۔ اسی انعام کے سبب گناہوں سے مغفرت ملتی ہے،حرم پاک میں عبادت کا موقع ملتاہے، مشاعر مقدسہ کی زیارت نصیب ہوتی ہے، اللہ کے پاک گھر کا دیدارہوتاہے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اللہ کی طرف التفات کرنے کی توفیق ملتی ہے ، دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے ۔ دولفظوں میں یہ کہاجائے کہ حج کرنے والا گھر واپسی پر ایسے ہی لوٹتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے معصوم پیدا ہواہو۔ اس قدر عظیم اجر وثواب اور بے پناہ فوائدوبرکات والا حج اگر تقلید کا شکار ہوجائے ، سنت کی جگہ من مانی یا بدعت ہو، ارکان وواجبات اور سنن کی ادائیگی میں محمد رسول اللہ کی اقتداء نہ ہو، حج کرتے ہوئے بدعت ، خرافات ، من مانی ، بلادلیل عمل یا شرک کا ارتکاب کرے تو اس حج کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نیچے چند ایسے اعمال بیان کئے جارہے ہیں جو کتاب اللہ اورسنت رسول سے ثابت نہیں ہے پھر بھی احناف اور بریلوی حضرات ان کاموں کو دوران حج انجام دیتے ہیں ۔ میرے بیان کرنے کا مقصد حجاج کرام کو مسنون حج کی طرف رغبت دلانا ہے اور جو کام رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہیں ان سے پرہیز کرانا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    يا أَيُّها الناسُ خُذُوا عَنِّي مناسكَكم ، فإني لا أَدْرِي لَعَلِّي لا أَحُجُّ بعد عامي هذا(صحيح الجامع: 7882)
    ترجمہ: اے لوگو! مجھ سے حج وعمرہ کے طریقے سیکھو کیونکہ مجھے نہیں معلوم ہوسکتا ہے اس سال کے بعد میں حج نہ کرسکوں ۔
    یہ حدیث بتلاتی ہے کہ حج سنت کے مطابق ہو اور جو حج سنت کے مطابق نہیں ہوگا اس کا اجر ضائع ہوجائے گا۔ اس لئے میرے بھائیو! حج کو ضائع ہونے سے بچاؤ۔

    (1)احرام کی مخصوص نماز:
    احرام کی کوئی مخصوص نماز احادیث سے ثابت نہیں ہے مگر احناف میں یہ نماز عمرہ وحج کرنے والوں کے لئے بہت اہم مانی جاتی ہے ،پنچ وقتہ نمازوں سے کوئی ان کے یہاں کتناہی غافل کیوں نہ ہومگریہ نماز نہیں چھوڑ سکتا۔ میرا تجربہ ہے لوگوں کے ساتھ میقات پہ دیوبندی حضرات عمرہ کی گاڑی چھوڑدیتے ہیں مگر یہ نماز نہیں چھوڑتے ۔آپ اگر احرام باندھ رہے ہیں اور وضو کئے ہیں تو وضو کی دو رکعت سنت ادا کرلیں گروقت کی گنجائش ہے ۔
    (2)حج وعمرے کی نیت :
    احادیث سے عمرہ کے لئے" لبیک عمرہ "اور حج کے لئے "لبیک حجا" کے الفاظ بطور نیت ثابت ہیں ، اسی نیت کو احرام باندھنا کہتے ہیں مگر احناف کے یہاں مصنوعی نیت کے الفاظ ہیں جس کی تعلیم لوگوں کو دیتے ہیں۔درمختار میں حج کی نیت اس طرح سکھائی گئی ہے۔
    اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيْدُ الْحَجَّ، فَيَسِّرْه لِي، وَتَقَبَّلْه مِنِّی، وَأَعِنِّي عَلَيْه، وَبَارِکْ لِي فِيْه، نَوَيْتُ الْحَجَّ، وَأَحْرَمْتُ بِهﷲِ تَعَالٰٰی.(حصکفی، الدر المختار، کتاب الحج، 2 : 482)
    ترجمہ:اے اللہ! میں حج کا اِرادہ کرتا ہوں، پس اس کو میرے لئے آسان کر دے، اور اسے مجھ سے قبول کر لے، اور اس میں میری مدد فرما، اور اس میں میرے لئے برکت ڈال، میں نے حج کی نیت کی، اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے احرام باندھا۔

    (3)مکہ میں داخل ہونے کی دعا:
    احناف کے یہاں مکہ میں داخل ہونے کی یہ دعا بتلائی جاتی ہے : اَللّٰهُمَّ إِنَّ هٰذَا حَرَمُکَ وَحَرَمُ رَسُوْلِکَ، فَحَرِّمْ لَحْمِي وَدَمِي وَعَظْمِي عَلَی النَّارِ، الَلّٰهُمَّ اٰمِنِّي مِنْ عَذَابِکَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ أُوْلِيآئِکَ وَأَهْلِ طَاعَتِکَ، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ.
    یہ دعا نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے ، البتہ مسجد حرم میں داخل ہوں گے تو یہ دعا پڑھیں گے (ویسے یہ کسی بھی مسجد میں داخل ہوتے وقت پڑھ سکتے ہیں):
    بسم الله والصلاة والسلام على رسول الله أعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم , اللهم افتح لي أبواب رحمتك(ابوداؤد ونسائی وابن ماجہ)

    (4)باب السلام سے داخل ہونے کی دعا:
    "اللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، فَحَيِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ، وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ دَارَ السَّلَامِ، تَباَرَکْتَ وَتَعَالَيْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ".یہ دعا باب السلام سے داخل ہوتے وقت پڑھی جاتی ہے جبکہ باب السلام یا اور کسی باب سے داخل ہونے کی کوئی مخصوص دعا نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے ۔
    (5)کعبہ کو پہلی نظر دیکھنے کی دعا:
    ایک دعا منقول ہے جو کعبہ پہ نظر پڑنے کے وقت پڑھنے کا ذکر ملتا ہے ، وہ دعا کچھ اس طرح ہے ۔
    "اللهم زد هذا البيت تشريفاً وتكريماً وتعظيماً ومهابة، وزد من شرفه وكرمه ممن حجه أو اعتمره تشريفاً وتكريماً وتعظيماً وبراً"
    یہ دعا متعدد طرق سے مروی ہے مگر سارے طرق ضعیف ہیں ۔اسی طرح یہ بھی اعتقاد رکھا جاتا ہے کہ کعبہ کو پہلی بار دیکھنے کے وقت جو دعا کی جاتی ہے وہ قبول ہوتی ہے ۔ اس قسم کی بعض دعائیں مروی ہیں لیکن کوئی بھی ثابت نہیں ہے ۔

    (6)طواف کی نیت :
    نیت دل کے ارادے کا نام ہے ، کسی بھی عمل سے پہلے وہ نیت دل میں پیدا ہوجاتی ہے اسے زبان سے اظہار کرنے کی ویسے بھی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالی سمیع وبصیر(سب کچھ سننے اور دیکھنے والا) ہے ۔ نیز طواف کے لئے زبان سے ظاہر کرکے کوئی نیت کرنے کا ثبوت نہیں ملتا مگر حنفیہ کے یہاں اس کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
    (7)کعبہ کے ہررکن کی مخصوص دعائیں :
    خانہ کعبہ کے چاروں رکن (رکن شامی، رکن عراقی، رکن یمانی،حجراسود)کی مخصوص دعائیں احناف کی کتابوں میں ملتی ہیں جوکہ غیرثابت ہیں ۔ صحیح حدیث سے رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان " رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ" پڑھنے کا ثبوت ملتاہے ۔

    (8)طواف کے ہرچکرکی مخصوص دعائیں:
    طواف کے ہرچکر کی دعائیں ان کے یہاں بتلائی جاتی ہیں ، یہ طوالت کا موقع نہیں کہ ساری دعائیں ذکر کروں البتہ یہ کہنا چاہتاہوں کہ نبی ﷺ سے کسی چکر کی کوئی مخصوص دعا ثابت نہیں ہے ،(رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان "ربنا" والی دعا ثابت ہے بس)اس لئے طواف کے ساتوں چکروں میں بغیر تعیین کے کوئی بھی دعا پڑھ سکتے ہیں۔
    (9)سعی کی نیت:
    سعی کی بایں الفاظ نیت کی جاتی ہے :اَللّٰهُمَّ إِنِِّي أُرِيْدُ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ لِّوَجْهِکَ الْکَرِيْمِ فَيَسِّرْه لِي وَتَقَبَّلْه مِنِّي.
    نیت کے لئے میں نےاوپر کہا ہےکہ حج یا عمرہ کا احرام باندھتے وقت ہی نیت کی جاتی ہے، بعد میں طواف یا سعی کے لئے مخصوص الفاظ میں کوئی نیت ثابت نہیں ہے ۔

    (10)سعی کی مخصوص دعائیں:
    صفا ومروہ پہ یہ دعاکرنا ثابت ہے :
    'لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِي وَ یُمِیتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ أنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہٗ' ۔
    باقی چکروں میں کوئی بھی دعا کرسکتے ہیں لیکن حنفیہ کے نزدیک سعی کی بہت ساری مصنوعی دعائیں چلتی ہیں ان سے اپنا دامن بچاناہوگا۔

    (11)منی میں مکمل نماز:
    نبی ﷺ نے منی میں قصر کرکے نماز پڑھی تھی لہذا ہمیں بھی قصر کرکے منی میں نماز پڑھناچاہئے مگر حنفیہ کے یہاں اس سنت کی مخالفت کی جاتی ہے اور وہ مکمل نماز پڑھتے ہیں۔ سفر والی احادیث سے استدلال کرتے ہیں حالانکہ مناسک حج کی کیفیت بالکل وضاحت سے ثابت ہے ،تمام صحابہ کرام خواہ مقیم تھے یا مسافر حج میں سب نے آپ ﷺ کے ساتھ منی میں قصر کیاتھا۔ اس لئے یہاں سفر والی حدیث فٹ کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ نبی ﷺ کی کیفیت حج دیکھنا ہے ۔
    (12)عرفات میں مکمل نماز:
    سنت کے مطابق عرفات میں ظہر کے وقت ظہروعصر کی نماز جمع تقدیم کے ساتھ قصر کرکے پڑھنا ہے مگر حنفی فقہ کی روشنی میں یہ دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں مکمل (بغیرقصرکے) پڑھنی ہے ۔یہ صریح سنت کی مخالفت ہے ۔
    (13)مزدلفہ میں مکمل نماز:
    ہمیں تعجب ہوتا ہے فقہ حنفی پر ، اس کی رو سے عرفات میں نمازیں جمع کرنا جائز نہیں مگر یہ قفہ کہتی ہے کہ عرفات سے جب مزدلفہ آنا ہے تو سورج ڈوب جانے کے بعد بھی عرفات میں یا راستہ میں مغرب کی نماز نہیں پڑھنی ہے مزدلفہ میں ہی پڑھنی ہے ۔ اب ذرا مجھے بتائیں مزدلفہ میں عشاء کے وقت جو مغرب وعشاء کی نماز پڑھتے ہیں کیا یہ جمع نہیں ہے ؟ یہی چیز عرفات میں منع اور مزدلفہ میں جائز؟
    بہرکیف ! یہاں بھی سنت کی مخالفت کی جاتی ہے یعنی نمازیں جمع تو کی جاتی ہیں مگر قصر نہیں کی جاتی جبکہ سنت کی روشنی میں مزدلفہ میں مغرب وعشاء کی نمازیں جمع تاخیرسے قصر کے ساتھ پڑھنی چاہئے ۔

    (14)جمرات کا نام شیطان:
    حنفی عوام میں جمرہ (اس کی جمع جمرات ہے) جسے کنکری مارتے ہیں اس کا نام شیطان مشہور ہے ، یہ بڑی غلطی ہے ۔ اس کا نام جمرہ ہے ، اسے شیطان کہنا اور شیطان سمجھ کراہانت سے اسے کنکری مارنا غلط عقیدہ ہے ۔ اپنے عقیدے کی اصلاح کریں۔
    (15) ایام تشریق کی رمی زوال سے قبل :
    سنت سے ثابت ہے کہ نبی ﷺنے زوال کے بعد جمرات کو کنکری ماری ہےاس وجہ سے زوال کے بعد ہی ایام تشریق میں کنکری مارنا جائز ہے جس نے اس سے پہلے مارلیا اس نے واجب کو ترک کیا جس کی وجہ سے دم لازم آئے گا۔ حنفیہ کے یہاں سنت نبوی کی مخالفت پائی جاتی ہے وہ لوگ عام طور سے بارہ یا بارہ اور تیرہ کو زوال سے پہلے ہی کنکری مارلیتے ہیں ۔ان کی دیکھا دیکھی بعض دوسرے مسلک والے بھی مارلیتے ہیں یعنی یہ لوگ غلطی کرتے ہی ہیں دوسروں کی غلطی کا سبب بھی بنتے ہیں۔
    (16)حج اکبر کا نظریہ:
    عوام میں یہ بات بھی مشہور کردی گئی ہے کہ عرفہ اگر جمعہ کے دن پڑجائے تو حج اکبر ہے حالانکہ ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی البتہ یوم النحرکو حج اکبر کا دن کہنا ثابت ہے ۔
    (17)یوم النحر کواعمال حج کی ترتیب کا وجوب:
    تمتع کرنے والوں کے لئے یوم النحر کو اعمال حج کی ترتیب اس طرح ہے ۔ پہلے رمی جمرہ(عقبہ)، پھر قربانی، اس کے بعد حلق یاقصرکرنا، اس کے بعد طواف افاضہ پھر سعی ۔ یہ ترتیب اگر بدل جائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس ترتیب سے متعلق نبی ﷺ کا فرمان ہے : افعل ولاحرج یعنی ان کاموں میں سے جو سہولت ہو پہلے کرلو کوئی حرج نہیں۔ مگر حنفیہ کے یہاں ترتیب واجب ہے ۔ کوئی آدمی بغیر قربانی کئے بال نہیں منڈاسکتا۔ اس وجوب کی وجہ سے یوم النحر کو حنفی عوام کافی پریشان رہتی ہے اور بال منڈانے سے پہلے قربانی کرنے کے چکر میں بہت سارے مشکلات کا سامنا کرتی ہے جوکہ اصلا واجب ہی نہیں۔اللہ تعالی نے ہمیں آسان دین دیاہے مگر اہل الرائے نے اسے عوام کے لئے مشکل بنادیا۔
    (18)عورت کا چہرہ کھولنا:
    خواتین میں یہ بات کافی مشہور ہے کہ حج میں پردہ نہیں ہے جبکہ حجاب ہرجگہ واجب ہے خواہ حج ہو یا غیرحج ۔ بعض عورتوں میں یہ بات مشہور ہے کہ چہرہ سے کوئی کپڑا مس نہیں کرنا چاہئے اس لئےخواتین حج میں انگریزی کیف لگاتی ہیں ۔ کیاہی مضحکہ خیز عمل ہے ۔
    (19)احتیاطی دم کا تصور:
    حنفی عوام میں احتیاط بہت معنی رکھتا ہے جیسے جمعہ کے دن ظہراحتیاطی ۔حج میں بھی بہت سارے احتیاط ہیں ان میں سب سے اہم دم کی احتیاط ہے ۔ اکثروبیشترحنفی حجاج یہ سوچ کر اس لئے دم دیتے ہیں کہ حج میں کہیں کوئی غلطی نہ ہوگئی ہو۔ بیچاری عوام کے ساتھ حج پہ آنے والے ادھورے علم والے رہنماکی یہ کرم فرمائی ہے جو انہیں اس قسم کا سبق پڑھاتے ہیں ۔ دم کسی کواس وقت دینا ہے جب معلوم ہو کہ اس سے حج کے واجبات میں سے کوئی واجب چھوٹاہو یامحظورات احرام کا ارتکاب کیا ہو۔اعمال حج پہ شک کرنا اور شک کی بنیاد پہ دم دینا ایمان میں شک کی دلیل ہے ۔
    (20)بدعی اعمال:
    بریلویوں کی طرح احناف کے یہاں بھی حج میں بدعی اعمال انجام دئے جاتے ہیں ، جن میں دیوارودر اور شجروحجرسے برکت لینا ،کبوتروں کو دانہ ڈالنا،اس کا کھایاہوادانہ چننا،کنکری دھونا،زمزم سے کفن دھوکر اپنے وطن لانا اور وسیلہ کے ذریعہ دعا کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔
    (21)ضعیف ومصنوعی دعائیں :
    اوپر بعض دعاؤں کاذکر کیاگیاہے جو صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ ان کے علاوہ حج میں بیشمار مقامات پہ مخصوص دعائیں کی جاتی ہیں جو ثابت نہیں ہیں بعض تو من گھرنت ہیں۔ جیسے صفا ومروہ پہ چڑھتے ،اترتے وقت کی دعا،مروہ کی طرف چلنے کی دعا،ہری بتی کے درمیان کی دعا،وادی منی کی دعا، عرفات کی طرف روانگی کی دعا،عرفات میں داخلے کی دعا،وقوف عرفہ کی دعا، مزدلفہ کی طرف روانگی کی دعا،وقوف مزدلفہ کی دعا،قیام مزدلفہ میں صبح کی نماز کے بعد کی دعا،جمرہ عقبہ کی رمی سے پہلے کی دعا،طواف وداع کی دعا،خانہ کعبہ سے جداہوتے وقت کی دعا وغیرہ ۔ ان میں سے کوئی دعا ثابت نہیں ہے۔
    (22)حج میں فرض وواجب کی تقسیم :
    حقیقت میں فرض وواجب کے درمیان کوئی فرق نہیں مگر حنفیہ کے یہاں ان دونوں میں فرق کیا جاتا ہے ۔ حج کے ارکان کو حنفیہ فرائض کا نام دیتے ہیں حالانکہ انہیں ارکان کہاجائے گافرائض نہیں ۔ان کے یہاں فرائض کی تعداد میں بھی اختلاف ہے ۔ بعض چار، بعض پانچ ،بعض چھ مانتے ہیں جبکہ دلائل کی رو سے حج کے ارکان چار ہیں۔
    (23)مسجد عائشہ سے باربار عمرہ کرنا:
    حج قران میں عمرہ وحج ایک ساتھ ہوتاہے ،حج تمتع میں پہلے عمرہ کرنا ہے پھر حج کرنا ہے ۔ احناف کے یہاں خاص طور سے تمتع کرنے والے حج سے پہلے باربار عمرہ کرتے ہیں جس سے مناسک حج کی صریح مخالفت ہوتی ہے ۔ اس عمل سے سیدھے سادے عوام بھی بہک جاتے ہیں اور وہ بھی دیکھادیکھی ایسا کرنے لگ جاتے ہیں۔
    (24)مکہ والوں کے لئے افراد:
    حنفیوں میں یہ بھی مشہور ہے کہ مکہ والوں کے لئے صرف حج افراد ہے جبکہ ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ تینوں قسم کا حج جیسے عام لوگوں کے لئے ہے ویسے ہی مکہ والوں کے لئے بھی ہے ۔
    (25)زیارت مدینہ کا تصور:
    ضعیف احادیث کی بنیاد پر یہ کہاجاتا ہے کہ مدینہ کی زیارت حج کا ایک حصہ ہے بلکہ یہ مانا جاتاہے کہ روضہ کی زیارت حج کا اتمام ہے حالانکہ طواف وداع حج کا آخری عمل ہے ،اس کے بعد حج مکمل ہوجاتا ہے ۔
    اللہ تعالی ہمیں سنت کے مطابق حج کرنے کی توفیق دے اور بدعی اعمال سے بچائے۔ آمین

     
    Last edited: ‏جولائی 17، 2017
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں