1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مناسک حج سے متعلق پچاس اہم سوالوں کے جواب

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏اگست 01، 2017۔

  1. ‏اگست 01، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,054
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    177

    مناسک حج سے متعلق پچاس اہم سوالوں کے جواب

    جوابات از مقبول احمدسلفی

    سن 2016 میں حاجیوں کی طرف سے بذریعہ فون بہت سے سوالات کئےگئے ان میں سے بعض اہم سوالات اور ان کے جوابات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہے تاکہ دوسروں کو بھی اس سے واقفیت ہو اور بطورخاص جنہیں ان مسائل سے واسطہ پڑے ان کے لئے آسانی ہوسکے ۔

    (1)سوال : میقات سے احرام نہیں باندھ سکے اندر داخل ہوکر باندھے اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : میقات سے احرام باندھنا حج کے واجبات میں سے ہے جنہوں نے میقات سے اندر جاکر احرام باندھا ان کے اوپر دم کے طور پر ایک بکرا ذبح کرکے مکہ کے فقراء ومساکین پر تقسیم کرنا ہے ۔
    (2)سوال : ہم لوگ منی میں کام کرتے ہیں اگر حج کرنا چاہیں تو کہاں سے احرام باندھیں گے ؟
    جواب : آپ منی سے ہی حج کا احرام باندھیں گے لیکن عمرہ کے لئے منی سے باہر جانا ہوگا کیونکہ منی حدود حرم میں شامل ہے ، یاد رہے مزدلفہ بھی حرم کا حصہ ہے لیکن عرفات حرم میں سے نہیں ہےاس لئے منی والے عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے عرفات جائیں گے ۔
    (3)سوال: جدہ والے کہاں سے حج کا احرام باندھیں گے؟
    جواب : جدہ والے عمرہ یا حج کے لئے اپنی رہائش ہی سے احرام باندھیں گے کیونکہ یہ لوگ میقات کے اندر ہیں ۔
    (4)سوال : ہم جدہ میں رہتے ہیں عمرہ کے لئے مسجدعائشہ سےاحرام باندھ سکتے ہیں؟
    جواب : آپ کو مسجد عائشہ آنے کی ضرورت نہیں ہے ، اپنی رہائش سے ہی عمرہ کے لئے احرام باندھ سکتے ہیں۔
    (5)سوال : باہر سے آنے والے بہت سے حجاج جدہ ایرپورٹ پر اترتے ہیں او ر وہیں سے احرام باندھ لیتے ہیں میں نے سنا ہے کہ ایسا کرنا صحیح نہیں ہے ؟
    جواب : ہاں آپ نے ٹھیک ہی سنا ہے ، جدہ میقات نہیں ہے اس لئے باہر سے آنے والوں کے لئے جس میقات سے ان کا گزرہو وہیں پر احرام باندھیں گے ، اگر ہوائی سفر ہواور میقات کے اوپر سے گزرہو تو گزرتے وقت ٹھیک میقات کے اوپر احرام باندھیں گے اس کی اطلاع جہاز والے دیتے ہیں ۔جس نے جدہ ایرپورٹ پر اتر کر وہاں سے احرام باندھا اسے کسی قریبی میقات پر جاکر پھر سے احرام باندھنا چاہئے اگر ایسا نہیں کیا تو دم دینا ہوگا۔
    (6)سوال : میں نے میقات پہ حج تمتع کی نیت کرلی اور مسجد عائشہ سے احرام کا لباس لگایا،اس کی وجہ سے حج میں تین روزے رکھے کیا میرا حج صحیح ہے ؟
    جواب : ہاں حج صحیح ہے ، احرام اصل حج وعمرہ کی نیت کو کہتے ہیں تو جس نے میقات پہ نیت کرلی اور احرام کا کپڑا نہیں لگایا ،آگے جاکر کسی جگہ سے لگایا تو اس نےمحظورات احرام کا ارتکاب کیاکیونکہ جس وقت اس نے نیت کی اس وقت سلاہواکپڑا پہنا تھا ۔ ایسے شخص کوفدیہ دینا ہوگا۔ فدیہ میں یا تو تین روزہ رکھنا ہے ، یا ایک جانور ذبح کرنا ہے یا چھ مسکینوں کوکھانا کھلانا ہے۔
    (7)سوال : اہل مکہ کیا صرف افراد ہی کرسکتے ہیں؟
    جواب : یہ خیال غلط ہے کہ مکہ والے صرف حج افراد ہی کرسکتے ہیں ، صحیح یہ ہے کہ مکہ والے تمتع اور قران بھی کرسکتے ہیں ۔
    (8)سوال : میں نے سنا ہے کہ پہلی مرتبہ حج کرنے کے لئے تمتع یا قران کی نیت ضروری ہے افراد کی نیت نہیں کرسکتے ۔ کیا ایسا خیال درست ہے ؟
    جواب : ایسا خیال درست نہیں ہے ، پہلی دفعہ ہو یا دوسری اور تیسری دفعہ اقسام حج میں سے کوئی بھی اختیار کرسکتے ہیں ۔ ہاں حج تمتع افضل ہے ۔
    (9)سوال: میں ہندوستان کا رہنے والا ہوں ، مجھے حج تمتع کرنا ہے ، میں نے ابھی ابھی حج تمتع کا عمرہ کرلیا ہے ، ابھی حج کے کئی دن باقی ہیں تو اس دوران اپنے لئے یا میت کے نام سے عمرہ سکتا ہوں ؟
    جواب : حج تمتع میں پہلے عمرہ کرنا ہے پھر حج کا انتظار کرنا ہے ، جب حج کے ایام آجائے تو مناسک حج ادا کرنا ہے ، آپ کا سفر، حج تمتع کے لئے ہے اور آپ نے حج تمتع کا عمرہ کرلیا ہے لہذا اب آپ کے لئے کوئی دوسرا عمرہ نہیں ہے ،حج کے دنوں کا انتطار کریں اور نفلی طواف ، حرم میں نمازودعااور تلاوت وذکر میں اپنے اوقات گزاریں ۔
    (10)سوال : کیا حاجی یکم ذی الحجہ کو اپنے بال وناخن نہیں کاٹ سکتے ہیں ؟
    جواب :عیدالاضحی کی مناسب سے ناخن وبال کی پابندی اصل میں ان لوگوں کے لئے ہےجو عید کی قربانی دینا چاہتے ہیں اس لئے حاجی ناخن وبال کاٹ سکتے ہیں ، ہاں حالت احرام میں بال اور ناخن کاٹنا منع ہے ۔نیز اگر حاجی عید کی قربانی دینا چاہئے تو دے سکتا ہے اس صورت میں انہیں بھی بال وناخن کی پابندی کرنی چاہئے ۔
    (11)سوال : احرام کی حالت میں کنگھی کرتے ہوئے کچھ بال ٹوٹ گئے کیا اس پہ کفارہ دیناہے ؟
    جواب : جسے اس بات کا یقین ہوتو کہ اس کے کنگھی کرنے سے بال ٹوٹے ہیں تو فدیہ دنیا ہوگا لیکن اگر شک ہے کہ یہ بال پہلے سے ٹوٹے ہوں تو پھر اس پہ فدیہ نہیں ہے ۔
    (12)سوال : حالت احرام میں چوٹ لگنے سے خون بہنے لگا کیا اس پر دم پڑجاتا ہے؟
    جواب : نہیں اس پر کوئی دم نہیں ہے ۔
    (13)سوال : حالت احرام میں نہانے کے بعد کنگھی کرنے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : حالت احرام میں کنگھی کرنے کی ممانعت نہیں آئی ہے لیکن چونکہ بال کاٹنا یا توڑنا احرام کی حالت میں منع ہے اس وجہ سے کنگھی نہیں کرنا چاہئے اور جسے کنگھی کرنے سے بال ٹوٹنے کا یقین ہو تو اس کو ہرحال میں کنگھی نہیں کرنا چاہئے ۔سر کھجلانے سے بال ٹوٹ جانے پر کوئی فدیہ نہیں ہے ۔
    (14)سوال : کچھ لوگ منی ، مزدلفہ وغیرہ میں مکمل نماز پڑھتے ہیں؟
    جواب : منی ، عرفات اور مزدلفہ میں نمازیں قصر کرکے پڑھنی ہیں جو مکمل نمازیں پڑھتے ہیں وہ مناسک حج کی مخالفت کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو چھوڑکر کسی امتی کے قول پر چلتے ہیں ۔
    (15)سوال : منی میں آٹھ ذی الحجہ کا دن نہ گزانا کیسا ہے کیونکہ بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ڈائرکٹ عرفات چلے جاتے ہیں ؟
    جواب : یہ لوگوں کی کوتا ہی کہ منی میں یوم الترویہ کے قیام کو سنت سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں ، اعمال حج ویسے ہی انجام دینا چاہئے جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے تعلیم دی ہے ۔ اگر کوئی مجبوری کی بناپر یوم الترویہ کو منی میں قیام نہ کرسکے تو یہ بات اور ہے ۔
    (16)سوال : آدھی رات کو عرفات کے لئے نکل پڑے، اس میں ہم مجبور تھے کیونکہ ہم لوگ کسی کمپنی کے ساتھ تھے اور اس کا یہی شیڈول تھا؟
    جواب : منی میں آٹھ ذی الحجہ کا قیام مسنون ہے اور یہ قیام نوذی الحجہ کو فجر کے بعد سورج نکلنے کے وقت تک ہے لہذا حجاج کوسنت کی پیروی کرنی چاہئے اور جو کمپنی کے ذمہ دار ہیں ان کو اس بات کا پابندبنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بسااوقات حجاج کی کثرت کی وجہ سے کمپنیوں کے لئے سواری کے انتظام میں دشواری ہوتی ہے اس وجہ سے آدھی رات سے ہی تیاری میں لگ جاتے ہیں ۔ عرفات میں نو ذی الحجہ کو زوال شمس سے غروب آفتاب کے درمیان تک قیام مطلوب ہے۔ بہر کیف!کوئی مجبوری میں رات میں ہی عرفات کے لئے نکل پڑا اور وہ فجر سے پہلے یا بعد میں عرفات پہنچ گیا اس کا حج صحیح ہے ۔
    (17)سوال : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پندرہ دن قیام کرنے سے آدمی مقیم ہوجاتا ہے اس لئے منی ،عرفات اور مزدلفہ میں قصر نہیں پڑھنی ہے؟
    جواب : حج کے دوران نمازوں کے لئے سفر کا حکم نہیں ہے بلکہ یہ سنت رسول اللہ ﷺ ہے کہ انہوں نے اپنی امت کو منی، عرفات اور مزدلفہ میں قصر کرکے نمازپڑھنے کا حکم دیا۔ اگر یہاں سفر کے احکام ہوتے تو مکہ والے جو آپ کے ساتھ حج میں شریک تھے وہ نمازیں قصر نہیں کرتے۔
    (18)سوال : ہم لوگ عرفات سے مغرب کے وقت نکلنے لگے مگر بھیڑ کی وجہ سے عرفات میں ہی کافی تاخیرہوگئی اس وجہ سے حج پہ کوئی اثر تو نہیں پڑا؟
    جواب : نہیں کوئی اثر نہیں پڑا، عرفات میں غروب آفتاب تک قیام کرنا ہے اس سے پہلے عرفات چھوڑنا ترک واجب ہے مگر سورج ڈوبنے کے بعد نکلنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    (19)سوال : سواری کی دقت اور اس کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے عرفات پہنچتے پہنچتے مغرب کا وقت ہوگیا یعنی ہمیں عرفات میں مغرب کے بعد قیام کرنے کا موقع ملا تو عرفہ کا وقوف حاصل ہوگیا؟
    جواب : ائمہ کے صحیح قول کے مطابق عرفات میں دس الحجہ کے فجر تک بھی کوئی قیام کا حصہ پالیا تو اس کا وقوف مانا جائے گا۔
    (20)سوال : دس ذی الحجہ کو میں نے کنکری ماری اور سیدھے حرم شریف جاکر طواف کیاپھرسعی کی ،اس کے بعد بال کٹایا ، کیا یہ عمل صحیح ہے ؟
    جواب : یوم النحر کو پہلے رمی جمرہ کرنا چاہئے ، پھر قربانی کرنی چاہئے(متمتع وقارن کے لئے)، اس کے بعد بال منڈانا چاہئے ، پھر طواف افاضہ اور حج کی سعی کرنی چاہئے ۔ یہ ترتیب قائم رکھنا افضل ہے لیکن اگر ترتیب بدل گئی تواس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :افعل ولاحرج یعنی پہلے جو سہولت ہو کرلو کوئی حرج نہیں ہے۔
    (21)سوال : دس ذی الحجہ کو کنکری مار کے خیمہ میں واپس آگیااور بال کٹالیا، طواف نہیں کرسکے کیا کریں ؟
    جواب : سبھی حاجیوں پریوم النحر کو طواف افاضہ اور سعی کرنی ہے ، مفرد وقارن نے طواف قدوم کے ساتھ سعی کرلی تھی تو آج صرف طواف افاضہ کرنا ہے ۔ اگر کوئی دقت کی وجہ سے آج طواف افاضہ اور سعی نہیں کرسکے تو ایام تشریق میں بھی طواف افاضہ اور سعی کرسکتے ہیں ۔
    (22)سوال : یوم النحر کو بیمارہوگیا ،میری طرف سے کوئی دوسرا کنکری ماردیااور میں نے بال کٹالیاتو میں نے ٹھیک کیا؟
    جواب : بیماری کی وجہ سے کوئی دوسرا آدمی کنکری مارنے میں نیابت کرسکتا ہے ،اس لئے آپ کا یہ عمل درست ہے ۔
    (23)سوال : ایام تشریق میں منی میں قیام کرنےاور رمی جمرات کرنے کی طاقت نہیں ہے تو کیا کریں؟
    جواب : میرے خیال سے قیام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اگر بیمار ہو تو کہیں نہ کہیں قیام کرنا ہی پڑے گا اور منی میں طبی سہولیات بھی میسر ہیں اس لئے ایسے آدمی کو میں مشورہ دوں گا کہ ایام تشریق کی راتوں میں منی ہی میں قیام کریں لیکن واقعی کسی عذر کے تحت منی چھوڑنا پڑے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ، اس وقت اپنی جانب سے کسی دوسرے کو رمی جمرات کے لئے نائب بنادیں ۔
    (24)سوال : کچھ ساتھی یوم النحرکو رمی کرکے قربانی کا کافی دیر تک انتظار کررہے تھے ان کا کہنا تھا کہ بغیر قربانی کے بال نہیں کٹاسکتے ،کیا یہ صحیح بات ہے ؟
    جواب : آپ کے ساتھیوں کا ایسا کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر کے اعمال کی ترتیب میں تقدیم وتاخیر کی رخصت دی ہے ، اس لئے قربانی کا انتظار کئے بغیر بال منڈالینا چاہئے ۔
    (25)سوال : آدھی رات کو یوم النحر کی کنکری مارناکیسا ہے؟
    جواب : آدھی رات کے بعد مجبور وں اور کمزوروں کے لئے یوم النحر کی کنکری مارنا جائز ہے لیکن جو تندرست ہو ں ان کے لئے جائز نہیں ہے ان کے حق میں سورج نکلنے کے بعد کنکری مارنا ہے۔
    (26)سوال : کنکری مارنے میں کسی کووکیل بنانے کا کیا عذرہے ؟
    جواب :ایسا کوئی بھی عذر جس سے کنکری مارنے سے عاجز ہو اس بناپر نیابت جائز ہے مثلاکمزوری ، بیماری، بچپنا ،شدت زحام کا خوف، حاملہ کے لئےسقط حمل کا خطرہ وغیرہ۔
    (27)سوال :منطقہ شرائع جو مکہ میں ہے وہاں حج کی قربانی دینی کیسی ہے ؟
    جواب : حج کی قربانی حدود حرم میں دینا ضروری ہے اور شرا ئع کا کچھ حصہ حدود حرم میں ہے اور کچھ حصہ حدود حرم سے باہر ہے اس کے درمیان علامت کے ذریعہ تفریق کی گئی ہے لہذ ا شرائع کے اس حصے میں ہدی ذبح کرناصحیح ہے جو حدود حر م میں داخل ہے ۔
    (28)سوال : حج کی قربانی اپنے ملک میں دینی کیسی ہے ؟
    جواب : حج کی قربانی اپنے ملک میں نہیں دے سکتے ، یہ حدود حرم میں ہی دینا لازم ہے۔
    (29)سوال : کیا حاجی حج کی قربانی کے ساتھ عید الاضحی کی قربانی دے سکتے ہیں ؟
    جواب : حج کرنے والوں پر عید کی قربانی کرنا ضروری نہیں ہے اگر چہ اس کی طاقت رکھتے ہوں لیکن اگر دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
    (30)سوال : دم مکہ سے باہر دینا کیساہے ؟
    جواب : دم مکہ میں ہی دینا ہے اور اس کا گوشت مکہ کے مساکین پرتقسیم کرنا ہے۔
    (31)سوال : دس ذی الحجہ کومیں نے کنکر ی ماری ، تھکاہواتھا اس لئے خیمہ واپس آکر بنیان اور شلوار پہن لیا اور بعد میں حلق کیا؟
    جواب : اگر سلا ہوا کپڑا بنیان اور شلوار بغیر علم کے بھول کر پہن لیا تو اس پر کوئی فدیہ وغیرہ نہیں ہے۔
    (32)سوال : ایک آدمی نے یوم النحر کو طواف افاضہ کرلیا مگر تھکان کی وجہ سے سعی نہیں کرسکا ، حج کی سعی تیرہ تاریخ کو کی کیا اس کے اوپر کچھ ہے ؟
    جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس شخص کے اوپر کچھ بھی نہیں ہے۔
    (33)سوال : عورت نے حیض کی حالت میں طواف کرلیا کیا اس کے اوپر دم دینا ہے ؟
    جواب : طواف پاکی کی حالت میں باوضو کرنا ہے اس لئے حیض کی حالت میں کیا ہوا طواف صحیح نہیں پھر سے پاک ہونے پر اس کا اعادہ کرے گی اور ساتھ ہی اللہ تعالی سے توبہ کرے گی ۔
    (34)سوال : ایک عورت رمی کی طاقت رکھنے کے باوجود یوم النحر کو کنکری مارنے میں دوسرے کو وکیل بناکر بیمارشوہر کے ساتھ جدہ چلی گئی اس عورت پر کیا حکم ہے جبکہ اس کے پاس فجر تک رمی کرنے کا وقت ہے ؟
    جواب : صرف سفر کی بنیاد پر ایسی عورت کا کسی کو کنکری مارنے میں وکیل بنانا صحیح نہیں ہے اس کے اوپر واجب ہے کہ وہ جدہ سے لوٹ کر فجر سے پہلے پہلے اس دن کی رمی کرلے ، اگر ایسا نہیں کرتی تو اس کے اوپر دم دینا ہے ۔
    (35)سوال:اگر حاجی نے دس اور گیارہ ذ ی الحجہ کو طواف افاضہ نہیں کیا تو اس کے طواف کرنے کی کیا شکل ہو گی؟
    جواب: اگر حاجی نے دس یا گیارہ کو طواف افاضہ نہیں کیا تو بارہ کو کرلے ، اس دن بھی نہیں کرسکا تو تیرہ کوکر لے ۔ اگر تیرہ کو ہی واپسی ہو اور طواف افاضہ اب تک نہ کرسکا ہو تو ایک ہی نیت سے طواف افاضہ اور طواف وداع کرلے اور نماز طواف پڑھ کر سعی کرلے ۔ حج میں آخری کام طواف وداع ہوتا ہے اس حال میں آخری کام سعی ہوگا ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔
    (36)سوال : ایام تشریق میں منی کے بجائے مزدلفہ میں قیام کرنا؟
    جواب : ایام تشریق کی راتیں منی میں گزارنا واجب ہے جو یہ راتیں بلاعذریہاں نہ گزارکر مزدلفہ یا عزیزیہ میں گزارے اس کے اوپر دم لازم ہوجاتا ہے لیکن جسے منی میں جگہ نہ ملی وہ منی سے قریب ترقیام کرے ،اس صورت میں کوئی حرج نہیں ان شاء اللہ ۔
    (37)سوال : ایام تشریق میں قصر ہے یا مکمل ؟
    جواب : ایام تشریق میں نمازیں اپنے اپنے اوقات میں قصر کے ساتھ پڑھنی ہے ۔
    (38)سوال : گیارہ تاریخ کو میں نےصبح 6 بجے رمی کیا اس کا حکم کیا ہے ؟
    جواب : ایام تشریق میں کنکری مارنے کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے اس لئے جس نے اس سے پہلے کنکری ماری اس کی رمی شمار نہیں ہوگی اور وہ واجب کا تارک ہوگا ۔ اس بناپر اس کے اوپر دم واجب ہوجاتا ہے ۔
    (39)سوال : ایام تشریق میں ظہر سے پہلے بے شمار لوگ رمی جمرات کرتے ہیں کیا ایسا کرنا غلط ہے ،اگر غلط ہے تو حکومت کی طرف سے کوئی پابندی کیوں نہیں ؟
    جواب : ایام تشریق میں رمی کی ابتداء زوال کے بعد ہوتی ہے جو لوگ وقت سے پہلے رمی کرتے ہیں اس کی رمی نہیں ہوگی خواہ حکومت اس جانب توجہ دے یا نہ دے ۔ حج میں حکومت کی اہم توجہ جانی اور مالی نقصان سے بچانے کی طرف زیادہ ہوتی ہے ۔
    (40)سوال : اکثر حاجی بارہ کی کنکری مارکے چلے جاتے ہیں کیا اس طرح سے کرنا حاجی کے حق میں کوتاہی کا سبب ہے ؟
    جواب : اس میں کوئی حرج نہیں ہے جو چاہے بارہ ذی الحجہ کی کنکری مار کر جائے اور جو چاہے تیسرہ ذی الحجہ کی بھی کنکری مارے ۔
    (41)سوال : بہت حاجیوں کو تعجیل کرنے کی صورت میں بارہ ذی الحجہ کی کنکری زوال سے پہلے مارتے ہوئے دیکھتا ہوں، ان سب کا کہنا ہے کہ آج کے دن زوال سے پہلے کنکری مارنا جائز ہے اس کی کیا حقیقت ہے ؟
    جواب : تعجیل کی صورت میں بھی بارہ ذی الحجہ کو زوال کے بعد ہی کنکری مارنا ہے جنہوں نے زوال سے پہلے کنکری مارلی اور واپس چلے گئے ان کے اوپر دم دینا واجب ہے کیونکہ ان کی رمی ہوئی ہی نہیں ، وہ واجب کا تارک ہوگیا۔
    (42)سوال : بارہ ذی الحجہ کو منی سے واپس آجانا کیساہے ؟
    جواب : بارہ ذی الحجہ کو رمی جمرات کے بعد منی سے واپس آجانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے منی چھوڑنا ہوگا۔
    (43)سوال : میری گاڑی بارہ ذی الحجہ کو شام چھ بجے منی لینے آئے گی ، اگر گاڑی نکلتے نکلتے سورج ڈوب گیا تو کیا تیرہ کو بھی کنکری مارنی ہے ؟
    جواب : جب آپ کی نیت تعجیل کرنے کی ہے اوربھیڑ کی وجہ سے گاڑی آنے یا گاڑی نکلنے میں یا سامان وغیرہ کی ترتیب میں معمولی تاخیر ہوگئی اس حال میں کہ سورج منی میں ہی ڈوب گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ، آپ سورج ڈوبنے سے پہلے سے ہی تیاری کررہے تھے ۔
    (44)سوال : جدہ والے کے اوپر طواف دواع ہے کہ نہیں؟
    جواب : اہل جدہ کے اوپر بھی طواف وداع ہے اس لئے بغیر طواف کئے جدہ والے حج سے واپس نہ جائیں ورنہ ترک واجب لازم آئے گا اور اس کے بدلے میں دم دینا پڑے گا۔
    (45)سوال : حاجی کے پاؤں میں چھالے پڑگئے وہ طواف دواع کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں کیا کرنا چاہئے ؟
    جواب : طواف وداع واجب ہے اور یہ اس وقت کرنا ہے جب حج سے واپسی ہورہی ہے ، اس لئے پاؤں ٹھیک ہونے کا انتظار کریں یا ایسے وقت میں واپسی ہوتو عربیہ (سواری) کے ذریعہ طواف وداع کرلیں ۔
    (46)سوال : میں نے سنا ہے کہ حج کا بدلہ جنت ہے ، تو کیا حقوق العباد بھی معاف کردئے جاتے ہیں ؟
    جواب : علماء کے راحج قول کی روشنی میں حج سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ البتہ حقوق العباد نہیں معاف ہوتے ۔
    (47)سوال : ہم خاتون کی ایک جماعت کے ساتھ حج پہ آرہے ہیں ، ہمارے ساتھ کوئی محرم نہیں ہے ساری خواتین ہیں ایسے میں ہمارے حج کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : کوئی خاتون کسی خاتون کے لئے محرم نہیں اس لئے بغیر محرم کے سفر کرنا خواہ عورتوں کی جماعت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو جائز نہیں ہے ایسی عورتوں کا حج تو صحیح ہے مگر بلامحرم سفر کرنے سے گنہگار ہوئی ہیں اللہ سے توبہ کرنا چاہئے ۔
    (48)سوال : کچھ لوگ یونہی بغیر علم کے دم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ممکن ہے حج میں کوئی غلطی ہوگئی ہو اس لئے دم دینا بہتر ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : جسے معلوم ہو کہ حالت احرام میں محظورات احرام کا ارتکاب کیا ہے یا حج کی واجبات میں سے کوئی واجب اس سےچھوٹ گیا ہے تواس کو دم دینا چاہئے لیکن جسے یقین کے ساتھ معلوم نہ ہو اسے احتیاط کے طور پر دم دینا صحیح نہیں ہے ۔
    (49)سوال : کیا حج کرنےکے بعد میت کی طرف سے عمرہ کرسکتے ہیں ؟
    جواب : ایک سفر میں ایک ہی عمرہ کیا جاتا ہے یہی سنت رسول اللہ ﷺ اور طریقہ سلف رہاہے لیکن جو آفاقی لوگ ہیں جنہیں دوبارہ مکہ آنے کی امید نہ ہو ایسے آدمیوں کے لئے حج کے بعد میت کی طرف سے عمرہ کرنے کو بعض علماء نے جائز کہا ہے ۔ میں تو کہوں گا کہ ایسے لوگ اللہ سے حرم شریف میں خوب خوب دعاکریں کہ اللہ مجھے دوبارہ یہاں آنے کی توفیق دے ، اگر اللہ کی طرف سے توفیق مل گئی تو میت کی طرف سے عمرہ کرلیں گے ۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔
    (50) سوال : ہم کیا ایسا کریں کہ ہمارا حج مبرور ہوجائے ؟
    جواب : احادیث میں حج مبرور وحج مقبول کی بڑی فضیلت ہے ،اس حج کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ نہیں ہے ۔ حج مبرور یہ ہے کہ آدمی حلال کمائی سے مسنون طریقے پر حج کرے ، وہ پہلے سے ہی گناہوں سے تائب ہوچکا ہواور دوران حج فحش وبےحیائی ، لغو بات اور جھگڑاولڑائی سے بچے ، اس میں ریاونمود نہ ہو، یہ حج خالص اللہ کی رضا کے لئے ہو۔ حج مبرور کی علامت ہے حج کے بعد نیکیوں کی طرف واپسی اور آخرت کی فکر۔ لہذا حج کرنے والوں کو حج سے پہلے ہی اللہ کی طرف لوٹ جانا چاہئے ،دوران حج سارا کام سنت کے مطابق اللہ کی رضا کے لئے انجام دنیاچاہئے اور حج کے بعد کی زندگی آخرت کی تیاری میں گزارنی چاہئے ۔
     
  2. ‏اگست 19، 2017 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,860
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اگست 19، 2017 #3
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,054
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    177

    آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں