1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منصور اعجاز …… پاکستان دشمن شخصیت

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏فروری 15، 2012۔

  1. ‏فروری 15، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    منصور اعجاز …… پاکستان دشمن شخصیت

    محمد نوید شاہین، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ​

    یوں تو ہر قادیانی اپنی خباثت کے اعتبار سے پورے باون گز کا ہوتا ہے لیکن قادیانی نواز سوا باون گز کا ہوتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام اور پاکستان کو اتنا نقصان شائد قادیانیوں نے نہیں پہنچایا جتنا کلیدی عہدوں پر براجمان قادیانی نواز ٹولے نے پہنچایا ہے۔ بدنام زمانہ جسٹس منیر سے لے کر حسین حقانی تک سب قادیانی عیش و طرب کے اسیر رہے اور اس کے عوض ان کے مفادات کا بھرپور تحفظ کرتے رہے۔ حال ہی میں میمو سکینڈل کیس نے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کردیا ہے۔ اس صورتحال کا ذمہ دار منصور اعجاز ہے جو قادیانی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ 1961ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا نام ڈاکٹر مجدد احمد اعجاز تھا جس کا تعلق قادیانی جماعت سے تھا۔
    منصور اعجاز کا والد امریکہ کی مشہور ورجینیا ٹیک یونیورسٹی کا پروفیسر تھا جس نے امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1992ء میں کثرت شراب نوشی کی وجہ سے پھپھڑوں اور دماغ کے کینسر سے 55 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگیا تھا۔ منصور اعجاز کی والدہ شہزادی لبنیٰ اعجاز بھی فزکس میں پی ایچ ڈی اور پروفیسر تھی۔ نیویارک میں مقیم منصور اعجاز ایک ارب پتی امریکی بزنس مین ہے۔ اس نے 3 شادیاں کیں۔ آج کل وہ اپنی اسرائیلی نژاد بیوی کے ساتھ مناکو میں رہائش پذیر ہے۔ منصور اعجاز پچھلی دو دہائیوں سے امریکی سی آئی اے کے لیے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ سی آئی اے کا سابق ڈائریکٹر جیمز وولسی اس کا انتہائی قریبی رفیق کار ہے۔ منصور اعجاز بہت سالوں سے دنیا کے اہم چینلوں مثلاً سی این این، فاکس اور بی بی سی کے علاوہ کئی دوسرے یورپین ممالک کے پروگراموں میں تجزیہ کار کی حیثیت سے شریک ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے کالم اور مضامین باقاعدگی سے فنانشل ٹائمز، وال سٹریٹ جرنل، کرسچین سائنس مانیٹر، نیوز ویک اور انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربویون وغیرہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ وہ ٹائمز آف انڈیا میں بھی کئی سال سے لکھ رہا ہے۔ اپنے ٹی وی تبصروں اور اخباری مضامین میں اس کا خاص نشانہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور آئی ایس آئی ہے جن کے خلاف وہ پچھلے 15 سال سے لکھ رہا ہے۔ منصور اعجاز کے مبینہ طور پر یہودی میڈیا سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں اور فاکس نیوز پر اس کے 100 سے زائد پروگرام نشر ہوچکے ہیں۔
    منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ اس نے یہ آرٹیکل پاکستانی میڈیا کے ایڈمرل مائیک مولن کے خلاف سٹینڈ لینے پر ایک محبت وطن امریکی شہری کے طور پر لکھا جو اپنی فوج کے سربراہ کی پاکستانی میڈیا کے ہاتھوں بے عزتی برداشت نہ کرسکا۔ اگلے مہینے نومبر میں منصور اعجاز نے میڈیا میں ایک میمو جاری کیا جو بقول اس کے اسے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے لکھوایا تھا۔ اس میمو گیٹ سکینڈل نے پاکستانی سیاست میں بھونچال پیدا کردیا اور اس کے نتیجہ میں ساڑھے تین سال سے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کے عہدے پر فائز حسین حقانی کو اسلام آباد واپس آکر استعفیٰ دینا پڑا۔ منصور اعجاز سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے بھی بہت قریب سمجھا جاتا تھا۔ 1995ء میں اس نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو خط لکھ کر اطلاع دی کہ جنرل علی قلی خان، یوسف ہارون کے ساتھ مل کر ان کی حکومت گرانے کی سازش کر رہے ہیں۔
    واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے کے مطابق منصور اعجاز نے ایف سولہ طیاروں کے لیے کانگریس میں لابنگ کے لیے 15 ملین ڈالر مانگے اور یہ پیشکش بھی بے نظیر بھٹو کو کی کہ اگر مذکورہ بالا مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو پاکستان کو ایف سولہ طیارے بطور تحفہ مل سکتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے دور میں منصور اعجاز کو مشیر سرمایہ کاری بنانے کی کوشش ہوئی تاہم حساس ادارے آڑے آگئے اور وہ حکومتی مشیر نہ بن سکا۔ ذرائع کے مطابق مشرف دور میں ہی منصور اعجاز کی والدہ لبنیٰ اعجاز کو مشیر سائنس و ٹیکنالوجی مقرر کرنے کی تجویز کافی آگے بڑھ گئی لیکن ایک مرتبہ پھر پاکستان کے حساس ادارے رکاوٹ بن گئے۔ اگر لبنیٰ اعجاز مشرف دور میں مشیر بن جاتی تو NIST اور CIT جیسے ادارے بھی اس کی تحویل میں دیے جانے کی تجویز تھی جس سے ان اداروں میں اخلاقی بے راہ روی پھیل جانے کا شدید خدشہ تھا۔ کہتے ہیں اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ۔۔۔۔کے نام سے ایک ویڈیو موجود ہے جس میں 2004ء میں نیویارک امریکہ میں ایک ریسلنگ مقابلہ میں دو ننگی عورتوں کو کشتی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منصور اعجاز بڑے جذباتی انداز میں اس مقابلہ کی براہِ راست کمنٹری کر رہا ہے۔ گذشتہ دنوں تمام ٹی وی چینلز نے بھی اس ویڈیو کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا۔ ہمارے وہ دوست جو قادیانی اخلاق اور شرافت کے سحر میں مبتلا ہیں، یہ ویڈیو ان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔
    قارئین کو یاد ہوگا کہ یہ وہی حسین حقانی ہیں کہ جب نومبر 2010ء میں ایک گستاخ رسول عیسائی خاتون آسیہ کو سیشن جج ننکانہ صاحب نے جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تو قانون توہین رسالت ختم کرنے کے لیے مغربی ممالک نے حکومت پاکستان پر زبردست دبائو ڈالا۔ عیسائی پوپ بینڈکٹ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ قانون توہین رسالت کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ پوپ کے بیان کے بعد حسین حقانی نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کو قانون توہین رسالت ختم کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ان کے اس اقدام سے امریکہ پاکستان کے تمام قرضے معاف کردے گا۔ آصف علی زرداری ایسا گھاگ سیاستدان سمجھتا تھا کہ اس قانون کو ختم کرنے کے کیا بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں؟ تاہم انہوں نے سابق وزیر قانون بابر اعوان سے مشاورت کے بعد اس تجویز کو مسترد کردیا۔ حسین حقانی کرائے کے صحافی کے طور پر بھی مشہور ہیں۔ انہوں نے تہمینہ درانی سے بھاری معاوضے کے عوض اس کے خاوند مصطفی کھر کے خلاف معروف کتاب ’’مینڈا سائیں‘‘ لکھی جس میں مصطفی کھر اور پیپلز پارٹی کے کئی رہنمائوں کی کردار کشی کی۔ آج کل انٹرنیٹ فیس بک پر حسین حقانی کی بیگم فرح ناز اصفہانی کی نیم عریاں تصاویر بڑی تعداد میں گردش کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ فرح ناز اصفہانی ماضی میں غنویٰ بھٹو کی طرح کلب ڈانسر تھیں جن کے قصے یورپی میڈیا میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے بہت سارے پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں۔

    بڑا مزا ہو تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کردے​
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 12، 2014 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن
    شمولیت:
    ‏جون 28، 2013
    پیغامات:
    173
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    70

    کلیم حیدر بھائی بہت عمدہ ماشا اللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں