1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرینَ تاریخ۔ ایک فتنہ

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از saeedimranx2, ‏اپریل 07، 2017۔

  1. ‏اپریل 08، 2017 #11
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45


    یہ بھی جواب دیا گیا ہے - کچھ لوگوں کی جانب سے :

    اصل میں تاریخ میں شرائط قول نبوی کی چھان پھٹک جیسا کر دیا جائے تو شاید تاریخ طبری ١٠ جلدوں کی بجائے صرف ایک جلد رہ جائے
    اس کا لوگوں کو پتا ہے لہذا تاریخ میں اس قدر چھان بین نہیں ہے
    واقدی یا ابن اسحٰق پر شدید جرح موجود ہیں جو صحیح بھی ہیں لیکن تاریخ میں ان کا قول لیا جاتا ہے کیونکہ کوئی اور ذریعہ نہیں ہے
    ابن سیرین کہتے ہیں اسناد دین ہیں اس کا مطلب ہے تاریخ دین ہے کیونکہ علم جرح و تعدیل تاریخ کا حصہ ہے راوی کی عمروں پر تہذیب التہذیب میں ٢٠٠ سے اوپر قول واقدی کے ہی ہیں
    لہذا یہ کہنا احادیث سے تو دین کا ثبوت ہوتا ہے جبکہ تاریخ شریعت کے اصولوں میں شامل نہیں۔ بے سروپا بات ہے
    پھر یہ کہنا تاریخ تو آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک چلتی آرہی ہے جبکہ جس شریعت کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اسکی ابتدا اللہ کے رسول کی نبوت سے ہوئ اور آپؐ کی وفات کے ساتھ تکمیل بھی۔ بھی غلط قول ہے
    انبیاء کی خبریں قرآن میں ہیں اور قرآن خود کہتا ہے اہل کتاب سے پوچھ لو یعنی اس میں اہل کتاب کی تاریخ سے مدد لی جا سکتی ہے
    آج انبیاء میں کون کس سے بعد آیا اہل کتاب کی کتب تاریخ سے ہی لیا گیا ہے قرآن میں حدیث میں بعض پر کوئی خبر نہیں مثلا الیاس کب کس زمانے کے ہیں قرآن و حدیث میں کوئی خبر نہیں یہ اہل کتاب سے پوچھا گیا ہے
    اسی طرح شیش کون ہیں ادم کے بیٹے تو ان کا ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں اسی طرح بہت سے انبیاء اور بھی ہیں جن کی عمریں اور ادوار اہل کتاب کی تاریخ کی کتب سے لئے گئے ہیں جس میں اس کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے
    راقم کے نزدیک تاریخ اور حدیث کوئی الگ الگ صنف نہیں ہیں ایک ہی ہیں فرق صرف مواد کا ہے ایک میں تفصیل زیادہ اور سند کمزور ہے جو ام تاریخ ہے اور دوسری حدیث ہے جس میں احتیاط زیادہ ہے

    اس تمام کی ایک زندہ مثال دکتور بشار عواد المعروف ہیں جو کلین شیو تاریخ کے استاد ہیں اور عصر حاضر میں علم جرح و تعدیل کی ضخیم کتاب تہذیب الکمال از المزی پر ان کا حاشیہ ہے یہ کوئی مولوی نہیں ہیں یہ تاریخ کے عالم ہیں اور علم جرح و تعدیل علم تاریخ کا حصہ ہے جس پر حدیث و تاریخ دونوں کی صحت کا دار و مدار ہے

    اسلامی تاریخ اور احادیث کی اسناد میں کوئی فرق نہیں ہے

    تاریخ طبری ہو ابن اسحاق ہو ابن ہشام ہو یا واقدی کی کتب ہوں یا امام بخاری و مسلم کی کتب ہوں سب سند سے ہیں
    یہ اس دور کا ایک رواج تھا
    تمام تاریخ خرافات نہیں ہے علم جرح و تعدیل تاریخ کا حصہ ہے علم حدیث کا حصہ نہیں ہے
    تاریخ خلیفہ، المعارف ابن قتیبہ، تاریخ ابن یونس یہ سب تاریخ کی کتب ہیں لیکن علم حدیث میں جرح و تعدیل انہی کتب سے لی گئی ہے
    تاریخ نویسی ہو یا حدیث قلم بندی دونوں پر کوئی قدغن نہیں ہوئی مورخین نے اپنی طرف سے اسلامی تاریخ میں کیا بات کی ہے ؟ وہ تو روایت پیش کر دیتے ہیں اس کی سند چیک کرنا پڑھنے والے کا کام ہے اور یہی ہماری صحاح ستہ میں سنن کا حال ہے جو ضعیف و صحیح احادیث کا ملغوبہ ہیں ان کی سند چیک کرنا قاری پر چھوڑ دیا گیا

    لنک
     
  2. ‏اپریل 08، 2017 #12
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    743
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    السلام علیکم
    @وجاہت بھائی یہ بتائیں گے کہ اسلامی تاریخ سے ہٹ کر اگر دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کر نا ہو تو اس کی توثیق کیسے ہوگی کیونکہ جنرل ہسٹری میں تو ایسے قوانین نہیں ملتے ہیں۔
    وہاں تو مورخ کی لکھی ہوئی بات تسلیم کی جاتی ہے ۔
     
  3. ‏اپریل 09، 2017 #13
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    میں آپ کے اس بہترین جواب کے لیے مشکور ہوں۔۔آپ کی یہ بات کہ تاریخ و حدیث میں صرف چھان پھٹک کا فرق ہے بالکل صحیح ہے۔۔۔ا
    فرق صرف یہ ہے کہ حدیث چوںکہ ہمارے پیارے نبی سے وابستہ ہے اس لیے اس کی جمع میں حد درجہ احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور یہ بنیادی فرق ہے امت محمدی اور پچھلی امتوں کے درمیان۔۔۔۔
    اللہ قران مجید میں بار بار گزری ہوئی قوموں کا ذکر کرتا ہے جن جے بارے میں تاریخ میں موجود ہے۔۔ہم صرف یہ کہہ کر کہ یہ بے سند باتیں ہیں ان کو رد نہیں کر سکتے ۔۔۔عہد. نامہ جدید و قدیم میں متعدد سچے تاریخی واقعات ہیں اور ہمارے لیے پہلے سے نازل کردہ کتابیں ںھی محترم ہیں تو ان سے ہم تاریخ ضرور اخذ کر سکتے ہیں۔۔۔
    واقدی کو آج کل جس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے قابل افسوس ہے۔۔۔واقدی کو مغاذی کا امام مانا جاتا ہے اور وہ اسلام کے اولین مورخوں میں سے ہہں۔۔۔ابن اسحاق و موسی بن عقبہ ان لوگوں میں شامل ہہں جنہوں نے اسلامی تاریخ کو محفوظ کیا۔۔
     
  4. ‏اپریل 09، 2017 #14
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    تاریخ ایک علحدہ علم ہے جس کے اصول موجود ہیں۔۔مقدمہ ابن خلدون پڑھ لیں۔۔مغرب بھی مانتا ہے کہ مقدمہ سے بہترین کوئی کتاب نہہں جس سے تاریخ لکھنے کے اصول اخذ کیے جا سکیں۔۔
     
  5. ‏اپریل 09، 2017 #15
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! عزیز دوستو میں نے اپنے سوال بھیجے تھے۔۔اگر تاریخی واقعات کو بھی صرف سند کی کسوٹی پر رکھ کر پرکھنا ہے تو پھر ان واقعات کی صحیح سند بیان کریں ورنہ غامدی صاحب کی طرح ان کو بے حقیقت مانیں۔۔۔ایک ابابیلوں کا واقعہ اور دوسرے مامون الرشید کا معتزلہ پر ظلم و ستم۔۔۔اب اسی دلیل پر بات کریں کیونکہ جو زندہ ہوا وہ دلیل سے ہوا اور جو ہلاک ہوا وہ دلیل سے ہوا
     
  6. ‏اپریل 10، 2017 #16
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ہر ہر بات کی نہیں ، لیکن جہاں تحقیق کی ضرورت ہے ، وہاں ضرور ہوگی ، مثلا کوئی متنازعہ واقعہ ، کسی کی شخصیت پر الزام وغیرہ ۔
    بے سروپا باتیں کوئی اپنے متعلق قبول نہیں کرتا ، تو اسلامی شخصیات کے متعلق کیوں یہ رویہ ؟
    اس حوالے سے درج ذیل تھریڈ میں کافی مواد موجود ہے :
    علم جرح و تعدیل کی ضرورت احادیث سے زیادہ تاریخ کو ہے ؟
     
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 2
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 10، 2017 #17
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,364
    موصول شکریہ جات:
    2,655
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ َادِمِينَ (سورة الحجرات 06)
    اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ (ترجمہ محمد جاناگڑھی)
    جس خبر سے انسان کے فعل کا تعلق پیدا ہو، یعنی کہ کہ اس خبر کی بنیاد پر انسان کی فکر، یا کسی کے متعلق کوئی نظریہ یا اس خبر کی بنیاد پر کوئی عمل متنج ہو ، وہاں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم موجود ہے!

    اب تاریخ کی تحقیق کا طریقہ کار کیا ہوگا، کس معاملہ میں کس قدر تحقیق و دلائل سے اس کا اثبات شمار ہو گا، یہ تفصیلی بحث ہے۔
    ایک نکتہ پڑھ کر میں تو حیران و پریشان رہ گیا کہ فرمایا گیا:
    میں نے یہ پڑھ کر پتھر کو تو نہیں، ہاں تکیہ پر علامتی ٹکر ضرور ماری ہے!
    حالانکہ علم الحدیث علم التاریخ کا ایک ایک خاص حصہ ہے! فتدبر!
    اب تاریخ میں بلاسند یا مردود سند سے بھی احتجاج کرنے کو روا رکھا ہے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ کا عمل اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ادا ہونے والے کلمات بھی تاریخی واقعات ہیں!
    اور اس کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی حیات و واقعات بھی تاریخی ہی ہیں!
    پھر تو ایسا کیجئے کہ سند کے بوجھ سے چھٹکارا ہی حاصل کر لیجئے!
    اور کہیئے کہ :
    جا تجھے کشمکش سند سے آزاد کیا
    کیونکہ :
    سند ایک بھاری پتھر ہے بابو!
    کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

    ایک بات پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی :
    حالانکہ واقدی کو آج کل نہیں متقدمیں نے اس کی نشاندہی خوب اچھی طرح کی ہے، اور اس پر سخت جرح کرتے ہوئے اسے ناقابل احتجاج قرار دیا!
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 10، 2017 #18
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! جناب میں پہلے ہی بیان کر چکا ہوں۔ ٹھیک ہے تاریخ کو بھی پرکھنا چاہئیے ۔۔ مگر جو دو واقعات میں نے بیان کیے ہیں ان کو صحیح سند سے ثابت کریں۔۔۔ صرف اور صرف اتنا کر دیں۔۔۔ بلکہ میں یہ بھی کہوں گا کہ پھر ان واقعات کا انکار کرنے والوں کو غامدیت کی صف میں لا کر کھڑا مت کریں۔
     
  9. ‏اپریل 10، 2017 #19
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! واقدی کو حدیث کے حوالے سے نشانہ بنایا گیا ہے ورنہ اس کے علاوہ انہیں امام المغازی کہا گیا ہے۔ بعض ناصبی حضرات آج کل واقدی کو رافضی، شیعہ اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ رہے ہیں مگر جرح و تعدیل کی کتابوں میں واقدی کے لیے یہ لفظ ایک بار بھی نہیں بولا گیا اور سب سے پہلا شخص جس نے واقدی کو شیعہ کہا وہ ابن نُدیم ہے اوروہ خود واقدی سے کوئی 2 ڈھائی سو سال بعد کا ہے۔۔۔ متقدمین نے اگر واقدی کی تاریخ کے حوالے سے کسی کمزوری کی نشاندہی کی ہے تو وہ بھی بتادیں۔
     
  10. ‏اپریل 10، 2017 #20
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! حضرات سند کا کوئی بوجھ نہیں ہے۔ سند کے بغیر تحقیق کیسے ممکن ہے۔ البتہ سند کا خاص التزام حدیث اور جیسا کہ اوپر کچھ دوستوں نے بیان کیا کہ متنازعہ واقعات کے حوالے سے ہے۔ چلیں اس بحث کو ختم کردیتے ہیں ۔۔۔۔ابرہہ کے واقعہ کو صحیح سند سے ثابت کریں۔۔۔جیسا کہ مختلف تفاسیر میں ہے کہ ابرہہ نے مکہ پر حملہ کیا اور کعبہ کو ڈھانے کی کوشش کی۔۔میں آپ سے اس کی سند مانگتا ہوں کہ صحیح سند سے اس واقعے کو ثابت کریں۔ اگر صحیح سند سے ثابت نہیں تو پھر آپ بھی اس واقعے کو نہ مانیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں