1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرینَ تاریخ۔ ایک فتنہ

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از saeedimranx2, ‏اپریل 07، 2017۔

  1. ‏اپریل 10، 2017 #21
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    پیارے بھائی جان آپ کی پوری بحث کا خلاصہ خود آپ کی پہلی پوسٹ میں دیا گیا ہے جس میں آپ نے خود ایک اصول بنایا ہے کہ
    کسی بات کی تصدیق کرنے کی ضرورت تب ہوتی ہے جب کوئی اس بات کو دین بنانے کی کوشش کرے یعنی اسی کے اوپر کسی کے دیندار یا بے دین ہونے کا انحصار کیا جاتا ہو


    اب اس سے زیادہ ہم اور کیا کہیں کہ اگر کوئی مسلمان تاریخ کا حوالہ دے کر کسی صحابی یا تابعی یا کسی اموی یا اور خلیفہ کو بے ایمان ثابت کرتا ہے تو اوپر ہمارے بھائی کے اپنے بیان کیے گئے اصول کے مطابق ہم اس سے سند مانگیں گے کیونکہ وہ اسکو دین کا حصہ بنا رہا ہے کیونکہ کسی کو ایمان یا بے ایمان ڈیکلیئر کرنا دین کا ہی تو کام ہے

    پس پیارے بھائی اس سے ہٹ کر آپ جتنی مرضی تاریخ لے ائیں ہم اسکو سر آنکھوں پہ رکھیں گے صرف پڑھنے کی حد تک
    فیصلہ اس کی بنیاد پہ نہیں کریں گے
    اور ہمارے جن بھائیوں پہ مثلا شیخ کفایت حفظہ اللہ وغیرہ پہ جو یہ تاریخ کے انکار کا الزام لگایا جا رہا ہے تو پیارے بھائی جان ہمارے شیخ کفایت اسی آپ کے بیان کردہ اصول کے مطابق ہی سند کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جب کچھ لوگ تاریخ کی بنیاد پہ مقدس ہستیوں کو داغدار کرنا شروع کر دیتے ہیں
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 10، 2017 #22
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    پیارے بھائی جان ہم تو آپ کے اوپر بیان کیے گئے اصول کے مطابق ہی عمل کرتے ہیں آپ خود ہی اپنے اصول کو لاشعوری طور پہ بھول جاتے ہیں
    ہم ابرہہ کے واقعہ کو تاریخ کی حد تک ہی لیتے ہیں اور اسکا جتنا قرآن میں یا صحیح احادیث میں ذکر آیا ہے اسکے اوپر کسی کے ایمان کو پرکھتے ہیں مگر بے سند واقعہ چاہے ابرہہ کے بارے ہو یا امام احمد بن حنبل کے بارے یا کسی اور کے بارے اس کی بنیاد پہ ہم کسی مقدس ہستی کو داغدار نہیں کرتے اگر کوئی ایسا معاملہ آپ کی نظر میں ہے تو ضرور نشاندہی کریں کیونکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک مسلمان کو جب حق کا پتا چل جاتا ہے تو وہ اصرار نہیں کرتا
    ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 10، 2017 #23
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    شکرا جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ @عبدہ حفظہ اللہ!
    مجھے حیرت ہے کہ لوگ دو چار کتابیں پڑھ کر اپنے آپ کو بہت بڑا محقق سمجھنے لگتے ہیں.
     
  4. ‏اپریل 11، 2017 #24
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! میرے بھائی آپ کی بات بجا ہے۔ابرہہ کے واقعے کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے۔ میں تو اس پر بالکل یقین رکھتا ہوں اس لیے کہ آج تک کسی ایک بھی نامور سلف اور عالم نے اس کو جھٹلایا نہیں ہے اور من و عن قبول کیا ہے۔ اب کچھ لوگ تاریخ کے حوالے سے بھی اسناد کا تذکرہ کرنے لگے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ ان کو سمجھایا جائے کہ تاریخ و حدیث کی جانچ پرکھ میں بہت فرق ہے۔ قرآن مجید میں کتنے ہی تاریخی واقعات ہیں جو کسی صحیح سند کے حوالے سے موجود نہیں ہیں۔ مگر ہم ان کو من و عن قبول کرتے ہیں، اور کسی سلف نے بھی ان سب واقعات کا انکار نہیں کیا۔ تاویل میں یا سمجھانے میں اختلاف ضرور ہے ، مگر واقعے کی اصل کا انکار آج تک نہیں ہوا۔ اس لیے یہی واقعات ان لوگوں کے لیے سبق ہیں کہ جو تاریخ کا انکار کرتے ہیں۔
    غامدی صاحب بھی اس واقعے کو نہیں مانتے اور اس کی مخؒتلف تاویلیں دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ غامدی صاحب کئی احادیث کے انکار کی وجہ بھی علماء کا اختلاف بتاتے ہیں۔ ہم غامدی صاحب کو تو منکر حدیث کہہ دیتے ہیں مگر ان علماء کو نظر انداز کرجاتے ہیں جنہوں خود ان احادیث میں اختلاف کیا ہے۔ اب اگر احادیث کی اسناد کے حوالے سے اختلاف موجود ہے تو تاریخ میں تو اتنی چھان پھٹک ہوئی ہی نہیں اس لیے تاریخ میں اختلاف کی زیادہ گنجائش ہے۔ حدیث کی پرکھ کے اپنے اصول ہیں جن میں سے کچھ تاریخ پر بھی لاگو ہوتے ہیں مگر حدیث کے تمام اصولوں کو من و عن تاریخ پر لاگو کر دینا ان دونوں علوم کے ساتھ زیادتی ہے۔بنیادی طور پر اگر غور کیا جائے تو منکرینِ حدیث کا گروہ دراصل منکرین تاریخ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ پہلے وہ لوگ سچے تاریخی واقعات کا انکار کرتے ہیں کہ بھئی اس کی تو سند ہی موجود نہیں ، پھر احادیث کا انکار کرتے ہیں کہ جی ان احادیث میں تو علماء کا اختلاف ہے تو ہم کس کو مانیں، چھوڑیں ہم کسی کو نہیں مانتے ۔
     
  5. ‏اپریل 11، 2017 #25
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    جى بھائی لوگ دو چار سو یا دو چار ہزار کتابیں پڑھ کر بھی اپنے آپ کا بہت بڑا محقق سمجھتے ہیں۔۔۔ویسے ایک بات تو بتائیں ۔۔۔محقق بننے کیلیے کتنی کتابیں پڑھنا ضروری ہیں اور کیا کیا ضروری ہے۔۔۔۔صحیح سند سے بتائیے گا۔۔
     
  6. ‏اپریل 11، 2017 #26
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    اور جہاں تک بات کی گئی ہے تاریخ کی بنیاد پر شخصیات کو داغدار کرنے کی تو مامون کو معتزلہ کے حوالے سے بہت داغدار کیا جاتا ہے۔۔کسی صحیح سند سے ثابت ہے کہ مامون نے ایسا کیا اور علماء پر تشدد کروایا۔۔۔یہ بھی اسی روایت میں ہے کہ یحیی بن معین نے خلق قرآن کا بھی اعتراف کیا تھا۔۔۔یہ سب باتیں کسی صحیح سند سے ثابت ہیں؟اگر نہیں تو پھر مامون کا کیا قصور۔۔۔یاد رکھیں اعتزال کا تعلق دین اور عقیدے سے ہے
     
  7. ‏اپریل 11، 2017 #27
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    انتہائی بچکانہ سوال ہے. الفاظ سخت ہو جائیں تو معذرت لیکن آپ کے سوال سے مجھ جیسے طالب علم کو بھی جہالت کی بو آرہی ہے.
     
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • تکرار تکرار x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 11، 2017 #28
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! میرے بھائی میں نے تو صرف یہ پوچھا ہے کہ محقق ہونے کے لیے کیا ضروری ہے؟ آج کل نہایت سادہ سا جواب ہے لوگوں کے پاس کے تھوڑا سا پڑھ گیا ہے تو باتیں کررہا ہے۔ سورۃ یوسف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر علم کے اوپر ایک علم والا موجود ہے۔ جب کوئی یہ بات کرتا ہے نا کہ لوگ چار کتابیں پڑھ کر اپنے آپ کو محقق سمجھنے لگتے ہیں تو در اصل وہ دو افعال کا ارتکاب کرتے ہیں: -
    نمبر ایک: تکبر ۔
    نمبر دو: اس شخص کو بلا جانے اس پر تنقید کرنا ۔ جو کہ سلف و محدثین کا شیوہ نہیں ہے۔ حتیٰ کے محدثین نے مجہول راویوں کی حدیث کو قبول نہیں کیا مگر ان پر جرح بھی نہیں کی کیونکہ وہ ان کے حالات سے واقف نہیں تھے۔ ورنہ اسلاف بھی ایک سادہ سا جملہ کہہ دیتے۔ یہ کون ہے جس نے حدیث بیان کی جسے ہم جانتے ہی نہیں بڑا حدیث بیان کرنے والا آگیا۔ اگر کوئی علم والا یا بڑا بندہ ہوتا تو لوگ کم ازکم اسے جانتے تو سہی۔
     
  9. ‏اپریل 11، 2017 #29
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    میں نے ان الفاظ پر کہا تھا.
     
  10. ‏اپریل 11، 2017 #30
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    وعلیکم السلام
    مطالعہ وسیع ہونا چاہئے. اگر آپ کا مطالعہ وسیع نہیں تو آپ تحقیق نہیں کر سکتے. میں نے مطلقا ایک بات کہی تھی جو کہ آپ پر بھی صادق آساکتی ہے. متقدمین کا نہج یہ نہیں تھا. وہ تاریخ کی بھی تحقیق کر لیا کرتے تھے. اور اس تعلق سے شیخ @عبدہ حفظہ اللہ کی بات صد فیصد درست ہے.
     
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں