1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرینَ تاریخ۔ ایک فتنہ

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از saeedimranx2, ‏اپریل 07، 2017۔

  1. ‏اپریل 11، 2017 #31
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جی پیارے بھائی آپ کی بات سو فیصد درست ہے کہ جس تاریخی مسئلہ میں اختلاف نہیں ہے اور کسی بھی ایک نامور سلفی عالم نے اسکو نہیں جھٹلایا تو اسکو من ع عن قبول کیا جا سکتا ہے صرف تاریخی حد تک
    اور میرے علم میں کوئی ایک بھی اہل حدیث عالم نہیں جو ایسے کسی تاریخی واقعے کو کہ جس پہ تمام سلف کے علماء متفق ہوں وہ اسکے تاریخی اعتبار سے جھٹلائے آپکے علم میں کوئی ایسا عالم ہو تو محترم بھائی جان اسکا نام ہمیں بھی بتائیں تاکہ ہم آپ کے تھریڈ کی وجہ جان سکیں اللہ آپکو جزائے خیر دے امین

    پیارے بھائی جان کسی واقعہ کا جتنا حصہ قرآن میں بیان ہو گیا اسکے برابر سند تو کسی حدیث کی نہیں ہو سکتی اسکو کوئی یہ کیسے کہ سکتا ہے کہ وہ صحیح سند سے ثابت نہیں ہے البتہ جتنا واقعہ قرآن میں بیان ہوا ہے اسکے علاوہ جتنا صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے اسکی بھی سند صحیح ہو گی اسکے علاوہ اگر کوئی بات بیان ہوئی ہے تو وہ واقعی ایک تاریخ ہے اور اس کا کوئی تاریخی لحاظ سے انکار کرتا ہے تو وہ جاہل ہی ہو گا
    ہاں یہ یاد رکھیں کہ اس واقعہ کا جتنا حصہ قرآن و حدیث کے علاوہ صرف تاریخ میں بیان ہوا ہے اسکی دو صورتیں ہیں
    ۱۔واقعے کے اس تاریخی حصہ کا کسی نامور سلف کے عالم نے انکار نہ کیا ہو جیسا کہ اوپر آپ نے بتایا ہے تو اس کو من و عن تاریخی لحاظ سے قبول کرنا سب علماء لازمی ہی سمجھتے ہیں
    ۲۔واقعے کے اس تاریخی حصے کے بارے سلف کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے تو پھر اسکو خالی تاریخی لحاظ سے بھی سب کے لئے من و عن قبول کرنا لازمی نہیں ہوتا واللہ اعلم

    پیارے بھائی جان آپ نے جو تاریخ کے انکار کو فتنہ سے تعبیر کیا ہے تو اس سلسلے میں ایک بہت ہی اہم اصول یاد رکھ لیں


    اگر کوئی مسلمان تاریخی واقعہ سے دینی سبق ثابت کرنا چاہتا ہے اور دوسرا اس وجہ سے اس تاریخ کا انکار کر دیتا ہے تو پھر یہ تاریخ کا انکار فتنہ نہیں بلکہ قرآن کے بنیادی حکم (ام لھم شرکاء شرعوا لھم من الدین ما لم یاذن باللہ) کی ہی اطاعت ہے


    اسکے بارے میں آپکو امام شافعی کی ایک بات بتاتا ہوں وہ اہل بیت سے سچی اور حقیقی محبت کرتے تھے اور رافضی بھی اسکا دعوی کرتے ہیں تو کچھ لوگوں نے آپ رحمہ اللہ پہ رافضی ہونے کا الزام لگایا تو انہوں نے کہا کہ
    ان کان رفضا حب ال محمد فلیشھد الثقلان انی رافضی
    کہ اگر اھل بیت سے محبت کرنا ہی تمھارے نزدیک رافضی ہونا ہے تو پھر تمام نج و انس جان لے کہ میں بھی رافضی ہوں
    یعنی اگر تاریخی واقعات پہ شریعت کی بنیاد رکھنے سے روکنا ہی فتنہ انکار تاریخ ہے تو پھر تو سارے ہی علماء اہل حدیث و دیوبند اس فتنہ کے ارتکاب کا اعلان کریں گے واللہ اعلم




    پیارے بھائی جان علماء نے جو زیادہ اختلاف کیا ہے وہ احادیث کی سند میں نہیں کیا بلکہ اسکی تعبیر میں اختلاف کیا ہے اور اسکی تفصیل ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے رفع الملام میں واضح کر دی ہے اس پہ علیحدہ سے تھریڈ بنا ہے جہاں بات ہو سکتی ہے
    غامدی صاحب کا انکار حدیث اور محمود الحسن صاحب کا انکار حدیث آپ ایک نہ کریں پیارے بھائی جان

    جی بھائی جان آپ کی بات سو فیصد درست ہے لیکن یہ آدھی بات ہے پوری نہیں ہے یعنی جس طرح حدیث کے اصول تاریخ پہ لاگو کرنا زیادتی ہے اسی طرح تاریخ کو حدیث کے برابر مقام دینا یعنی اسکی بنیاد پہ لوگوں کے دین کا فیصلہ کرنا اس سے بھی بڑی زیادتی ہے

    میں ایک مثال سے بات کو اچھی طرح سمجھاتا ہوں
    فرض کریں ہم ایک عورت کو گن تھما کر وزیرستان میں ٹی ٹی پی سے لڑائی کے لئے بھیج دیتے ہیں
    تو وہ چیخنے لگا جاتی ہے کہ مردوں والے تمام اصول من و عن میرے اوپر لاگوں کر دینا میرے ساتھ زیادتی ہے (جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ حدیث کے تمام اصولوں کو من و عن تاریخ پر لاگو کر دینا ان دونوں علوم کے ساتھ زیادتی ہے۔) تو ہم اسکو چھوڑ دیتے ہیں اور وزیرستان نہیں بھیجتے
    لیکن تھوڑی دیر بعد جب وزیر اعظم یا آرمی چیف چننے کی باری آتی ہے اور وہاں پابندی لگا دی جاتی ہے کہ عورت کو نہیں بنانا تو وہاں وہی عورت چیخنا شروع کر دیتی ہے کہ مجھے مرد کے برابر حقوق دیے جائیں تو اب یہاں وہ عورت غلط ہو گی کیونکہ اگر مرد کے برابر حقوق لینا ہیں تو مرد والے کام کر کے دکھائے
    تو بھائی جان یہی حال یہاں ہو گا کہ جو لوگ حدیث کی سند والے اصول تاریخ پہ لاگو کرتے ہیں تو وہ تو ظالم ہوں گے مگر اسکے بعد وہ اس سے بھی بڑے ظالم ہوں گے جو حدیث اور تاریخ کے حقوق ہی برابر کر دیتے ہیں اور جو چیز قرآن و حدیث سے ثابت ہوتی ہے (یعنی دین و شریعت) اسکو وہ تاریخ سے بھی ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں تو بھائی جان ہم اس دو رخی کو ختم کرنا چاہ رہے ہیں اسکو کوئی انکار فتنہ سمجھتا ہے تو پیارے بھائی میرے خیال میں یہ درست طریقہ نہیں واللہ اعلم

    بھائی جان آپ کی بات کوئی سمجھ نہیں آئی
    آپ نے کہا کہ
    ۱۔لوگ چونکہ سچے تاریخی واقعات کا سند نہ ہونے کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں
    ۲۔اسی پہلی وجہ کو بنیاد بنا کر لوگ احادیث کا انکار کر دیتے ہیں کہ کیونکہ ان میں علماء کا اختلاف تعبیر کی وجہ سے ہے
    یعنی پہلے میں سند کا اختلاف ہے اور دوسرے میں تعبیر کا اختلاف ہے ہے
    اب آپ کی یہ خواہش ہے کہ اگر لوگ علماء میں اختلاف نہ کریں اور سب تاریخ کو مان لیں تو پھر احادیث کا بھی کوئی غامدی جیسا انکار نہیں کرے گا
    تو میرا سوال ہے کہ یہی بات کوئی قرآن کے بارے بھی کہ سکتا ہے کہ بھائی آپ قرآن میں اخٹلاف نہ کریں کوئی شیعہ قرآن سے شرک نکالتا ہے کوئی اھل بیت کا معصوم ہونا نکالتا ہے کوئی علی کی ولایت نکالتا ہے اور اسکا خلیفہ بلا فصل ہونا بھی وہ قرآن سے نکالتا ہے تو ہمیں اسکا انکار نہیں کرنا چاہئے
    ورنہ پھر لوگ احادیث کا بھی انکار کرنا شروع کر دیں گے اور غامدی جیسے لوگ زیادہ ہو جائیں گے
    پیارے بھائی آپ کی یہ لاجک مجھے سمجھ نہیں آئی یہ میری کم علمی ہے اللہ آپ کے سمجھانے کے خلوص پہ آپکو اجر عظیم دے امین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 11، 2017 #32
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بھائی جان میرے علم میں کوئی بھی ایک اہل حدیث عالم نہیں ہے کہ جو بغیر سند کے مامون یا کسی بھی خلیفہ کو داغدار کرتا ہو آپ اسکی کوئی مثال بتا دیں تاکہ ہم ایسے لوگوں سے بچ کر رہ سکیں جزاکم اللہ خیرا
     
  3. ‏اپریل 12، 2017 #33
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اسلاف بنا جانے کسی پر حکم نہیں لگاتے تھے ، یہ بات درست ، لیکن ’ مجہول ‘ کو بطور مثال بیان کرنا درست نہیں ۔ محدثین کا کسی ’ مجہول ‘ کہنا بھی اس پر ایک حکم ہے ، اسی لیے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوتی ۔ اصول حدیث میں اس میں اور بھی باریکیاں ہیں ، مثلا جس پر کلام ہوجائے وہ مجہول رہتا ہی نہیں ۔
     
  4. ‏اپریل 12، 2017 #34
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! میں حدیث کے حوالے سے بات نہیں کر رہا بلکہ یہ بتا رہا ہوں کہ اگرچہ مجہول شخص کی حدیث قبول نہیں کی گئی مگر اس پر بنا جانے کوئی الزام بھی نہیں لگایا گیا ۔۔ احتیاط کا یہ عالم تھا کہ بغیر تحقیق کے کسی پر جرح و تعدیل نہیں کی جاتی تھی۔ اور آج کل کے "علماء" بغیر جانے ہی "جاہلیت" کی ڈگری ایشو کردیتے ہیں کہ "لوگ چار کتابیں پڑھ کر اپنے آپ کو محقق سمجھ لیتے ہیں"۔۔۔جو شخص یہ کہتا ہے ذرا وہ بتائے کہ کم کتابیں پڑھنا یا ذیادہ کتابیں پڑھنا کہاں سے کسوٹی ہے کسی کو پرکھنے کی۔۔۔ پاکستان میں طاہر القادری سے ذیادہ کتابیں کسی نے نہیں پڑھی ہوں گی، اور شاید لکھی بھی نہ ہوں۔۔۔ ان کو بھی ایسے حضرات جاہل کہتے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ آج کل بہت سارے علماء حضرات نے اپنا منہج و مسلک صرف اپنی ذاتی پسند کو بنایا ہوا ہے۔ جو اس کے خلاف بات کرتا ہے اس پر جاہلیت کا فتوٰی لگ جاتا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 12، 2017 #35
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم بھائی! آپ سلف اسلاف کے بارے میں جتنی کتابیں بھی پڑھ لیں اس میں یہی لکھا ہوا ہے۔ اور ساتھ ہی بغیر سند کے یہ بھی منقول ہے کہ "امام احمد بن حنبل کو کوڑے بھی لگائے گئے وغیرہ" ، علماء پر ظلم کیے گئے۔۔۔ یہ سب باتیں بے سند ہی بتائی جاتی ہیں، اور ان تمام میں مامون کو ہی ذیادہ تر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔
     
  6. ‏اپریل 12، 2017 #36
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    ا
    السلام علیکم! میرے بھائی! میں حدیث کی تعبیر میں اختلاف کی بات نہیں کر رہا ۔ سند کے قبول کرنے میں بھی متعدد اختلافات ہیں، اور احادیث کے درجوں میں اسلاف میں کئی جگہ اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓکی بغیر رفع یدین والی حدیث کو بہت سارے علماء صحیح کہتے ہیں اور بہت سارے ضعیف کہتے ہیں۔ ۔۔۔
    جہاں تک بات ہے تاریخ کو حدیث کے مقام پر لانے والی اور اُسے قبول کرنے والی بات تو شاید میں اپنا موقف صحیح سے سمجھا نہیں سکا۔ وہ یہ ہے کہ حدیث کے اپنے اصول ہیں اور تاریخ کے اپنے۔۔۔ دونوں کو اپنے اپنے اصولوں پر ہی ماننا چاہیئے۔۔۔میرے بھائی جس نے تاریخ کا دقیق نظری سے مطالعہ کیا ہوا وہ بہت کم غلطی کرتا ہے تاریخی واقعات کی پرکھ میں اور اسے پتہ چل جاتا ہے کہ فلاں واقعہ ہوا ہے، فلاں نہیں ہوا اور فلاں مشکوک ہے۔۔۔ یہ تاریخ کے اصولوں کو سمجھنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔
    جہاں تک بات احادیث کے انکار کی ہے تو بالکل ایسا ہی ہے کہ جو صحیح تاریخی واقعات ہیں جن کو سلف اسلاف نے بھی ریجیکٹ نہیں کیا تو آج کل کے دور میں سند کو بنیاد بنا کر ان کو ریجیکٹ کرنے کی ضرورت؟؟؟
    ا
     
  7. ‏اپریل 15، 2017 #37
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    میرے پیارے بھائی جان سند چاہنے ور نہ چاہنے کے کچھ اصول و ضوابط ہیں کہ کہاں سند چاہئے ہو گی اور کہاں نہ چاہئے ہو گی
    ۱۔جہاں کوئی شرعی مسئلہ یعنی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بات کو ثابت کرنا ہوتا ہے وہاں سند لازمی چاہئے ہوتی ہے (البتہ یہ یاد رہے کہ سند خالی متصل ثقہ راویوں کا ہی ہونا نہیں ہوتا بلکہ متفق تعامل امت بھی بعض دفعہ سند کے قائم مقام ہو سکتا ہے جب اس پہ کوئی اختلاف نہ ہو جیسا کہ قرآن کی سند کا معاملہ ہے)
    ۲۔جہاں کسی کی شخصیت کا معاملہ ہوتا ہے وہاں متصل سند سے تو اسکا فیصلہ کیا جائے گا لیکن اسکی غیر موجودگی میں امت کا متفقہ تعامل بھی کام دیتا ہے مثلا مسلیمہ کذاب کے بارے تاریخی واقعات میں جہاں امت کا متفق تعامل پایا جاتا ہے وہاں سند کا ہونا لازمی نہیں ہے
    ۳۔جہاں کسی شخصیت کا معاملہ ہو اور متصل سند سے بھی کچھ واضح نہ ہوتا ہو اور امت کا اس کے بارے تعامل بھی متفق نہ ہو بلکہ اختلاف ہو اور اچھا اور برا دونوں طرح کے گمان پائے جاتے ہوں تو اس صورت میں جو موقف آپ کو بہتر لگے اس کو اپنا سکتے ہیں لیکن دوسرے موقف والے کو گمراہ نہیں کہ سکتے واللہ اعلم
    امید ہے کچھ سمجھا سکا ہوں
     
  8. ‏اپریل 15، 2017 #38
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جی مجھے لگتا ہے کہ ہم ابھی تک آپ کو اپنی بات نہیں سمجھا سکے دیکھیں بھائی آپ دو الگ باتوں کو مکس کر رہے ہیں
    ۱۔حدیث اور تاریخ کو پرکھنے کے اصولوں کو مکس کرنا
    ۲۔حدیث اور تاریخ سے دین کس سے ثابت ہوتا ہے کس سے نہیں انکو مکس کر دینا
    آپ پہلے نمبر کا بار بار ہم سے اقرار کروانا چاہ رہے ہیں جس سے ہمیں اختلاف ہی نہیں ہے ہم تو بار بار اسکا اقرار کر رہے ہیں لیکن پیارے بھائی آپ ہمارے اس اقرار کو دوسرے نمبر کے اقرار کے طور پہ لے رہے ہیں جو درست نہیں ہے
    یعنی پہلے نمبر میں یہ ہے کہ جن اصولوں پہ حدیث کو پرکھنا ہے ان پہ تاریخ کو نہیں پرکھنا چاہئے جس کا ہم اقرار کرتے ہیں لیکن دوسرے نمبر میں ہے کہ جو حدیث میں آ جائے اسکے انکار کرنے والا تو گمراہ ہو سکتا ہے مگر جو تاریخ میں آ جائے اسکا انکار کرنے والا یا اسکو دین کا حصہ نہ بنانے والا گمراہ نہیں ہوتا
    امید ہے آپ کو اس دفعہ کچھ سمجھا سکا ہوں گا جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں