1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرین حدیث سے پچاس سوالات

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏مئی 18، 2012۔

  1. ‏مئی 18، 2012 #1
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سوال نمبر1 ۔
    قرآن مجید کی جو 114 سورتیں ہیں ان سورتوں کے نام کس نے رکھے ہیں کیا قرآن نے خود ان سورتوں کے نام رکھے ہیں؟ اگر یہ نام قرآن نے رکھے ہیں تو کس پارے میں یہ نام موجود ہیں؟ یا یہ نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھے ہیں؟ اگر یہ نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھے ہیں تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اختیار تھا کہ اللہ نے بغیر نام کے سورتوں کو نازل کیا اور آپ نے اُن کے نام رکھ دیئے؟ یا پھر اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھے ہیں؟

    سوال نمبر2۔
    قرآن مجید میں 15 مقامات پر (آیت سجدہ پڑھ کر) سجدہ کرنے کا حکم ہے کیا یہ حکم قرآن میں موجود ہے یا یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے؟

    سوال نمبر3۔
    قرآن مجید کی ہر سورت کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتی ہے سوائے سورئہ توبہ کے۔ سورۃ انفال اور سورئہ توبہ کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں ہے۔ یہ کس نے بتایا کہ اب سورۃ توبہ شروع ہو گئی؟ یہ بات قرآن میں موجود ہے یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ سورۃ انفال کے بعد بغیر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے سورئہ توبہ شروع ہوتی ہے۔ تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد دین ثابت نہیں ہوتا؟

    سوال نمبر4 ۔
    کیا قرآن نے حروف مقطعات کے معنی بیان کئے ہیں؟ اگر کئے ہیں تو کس سورت میں بیان کئے ہیں؟ اور اگر قرآن اس پر خاموش ہے تو کیا قرآن نے اس کی وجہ بتائی ہے؟

    سوال نمبر5۔
    مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیٰۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھَااَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (سورئہ بقرہ:106)
    ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اس کو فراموش کرا دیتے ہیں تو اُس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت لے آتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے؟

    اس آیت قرآنی میں اللہ نے بتایا ہے کہ ہم جس آیت کو چاہیں منسوخ کر دیں۔ کیا قرآنی آیات منسوخ بھی ہوتی ہیں؟ آیات کی منسوخی کے لئے کوئی آیت نازل ہوئی ہے کہ فلاں آیت اب منسوخ ہے یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ فلاں آیت اب منسوخ ہے؟ اگر احادیث سے پتہ چلا کہ فلاں آیت منسوخ ہے تو پھر یقینا یہ کہنا پڑے گا اور ماننا پڑے گا کہ جس طرح قرآن حجت اور دین ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد دین اور حجت ہے۔

    سوال نمبر6۔
    وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَ مَا اﷲُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ لِئَلاَّ یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِیْ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ (بقرہ 149۔ 150)
    اور تم جہاں سے نکلو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لیا کرو بلاشبہ وہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔ اور تم جہاں سے نکلو مسجد محترم کی طرف منہ کرو اور مسلمانو تم جہاں ہوا کرو اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو (یہ تاکید) اس لئے (کی گئی ہے) کہ لوگ تمہیں کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں مگر اُن میں سے جو ظالم ہیں (وہ الزام دیں تو دیں) سو اُن سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تمہیں اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو ۔

    اِن آیات میں قرآن کریم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہم جب بھی جہاں پر بھی ہوں ہر حال میں ہر وقت اپنے چہرے مسجد الحرام کی طرف کر لیں۔ بتائیں اس آیت پر عمل کیسے ہو گا؟ دنیا میں کون ہے جو اس حکم پر عمل کر سکے؟ جب تک احادیث کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جب تک اس حکم پر عمل ممکن ہی نہیں۔ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حکم صرف حالت نماز کیلئے ہے۔ اب بتائیے کیا احادیث دین نہیں؟

    سوال نمبر7۔
    اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اﷲُ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَ اتَّقُوْنِ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ
    حج کے مہینے (معیّن ہیں جو) معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کر لے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی بُرا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے اور جو نیک کام تم کرو گے اس کو اللہ جانتا ہے اور زادِ راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زادِ راہ (کا) پرہیز گاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو ۔ (سورئہ بقرہ آیت نمبر197)۔


    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حج کے مہینے معلوم ہیں۔ اشھر جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جو کہ کم از کم 3 کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اب آپ قرآن سے بتائیے کہ حج کے کون کون سے مہینے ہیں؟ یا پھر اس آیت کو سمجھنے کے لئے بھی حدیث کی ضرورت ہے؟ تو پھر ماننا پڑے گا کہ احادیث بھی قرآن کی طرح دین کا حصہ ہیں۔

    سوال نمبر8۔
    وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّ عَشْرًا فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اﷲُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (سورئہ بقرہ آیت نمبر234)۔
    اور جولوگ تم میں سے مر جائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں ’’چار مہینے اور دس‘‘ اپنے آپ کو روکے رہیں اور جب (یہ) عدت پوری کر چکیں تو اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کر لیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے ۔

    اس آیت میں اللہ رب العزت نے بتایا کہ جو عورتیں ایام عدت میں ہوں یعنی جن کے شوہر انتقال کر جائیں وہ 4 مہینے اور دس … انتظار کریں۔ اب قرآن سے بتائیے کہ یہ دس کیا ہیں؟ چار مہینے اور دس دن؟ چار مہینے اور دس ہفتے؟ چار مہینے اور دس عشرے؟ چار مہینے اور دس سال؟ کیا قرآن نے اس کی وضاحت کی ہے؟۔

    سوال نمبر9۔
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اﷲَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اﷲِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلاً (سورۃ النساء آیت نمبر59)۔
    مومنو! اللہ اور اُس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب ِ حکومت ہیں اُن کی بھی۔ پھر اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اُس میں اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کاانجام بھی اچھا ہیـ ۔
    قرآن نے کہا: اگر تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے تو اگر تم اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرو۔
    اب ہم اس آیت پر عمل کیسے کریں کہ اپنے اختلافات کے حل کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کریں؟ اللہ کی طرف رجوع کا مطلب قرآن کی طرف رجوع ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کا مطلب کیا احادیث کی طرف رجوع نہیں؟ ثابت ہوا کہ حدیث بھی قرآن کی طرح حجت ہے۔

    سوال نمبر 10۔
    وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ
    اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) ہم نے تم کو تمام لوگوں کیلئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
    قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا نِالَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَآ اِٰلہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ فَاٰمِنُوْا بِاﷲِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاﷲِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ (سورئہ اعراف:158)۔
    (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) کہہ دو کہ لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگی بخشتا اور وہی موت دیتا ہے تو اللہ پر اور اُس کے رسول پیغمبر اُمّی پر، جو اللہ پر اور اُس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں، ایمان لاؤ اور اُن کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ ۔

    ان دونوں آیات سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ پہلے کسی نبی کو کسی خاص بستی کی طرف، کسی شہر کی طرف یا کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانیت کے لئے رسول بنا کر بھیجا اب قیامت تک کوئی اور نیا رسول نہیں آئے گا بلکہ تمام لوگوں کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہیں۔ تو کیا رسول ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے اور طریقے کے لئے کیا احادیث کی ضرورت ہو گی؟ یقینا ہو گی۔ پھر ماننا پڑے گا کہ احادیث پر عمل کرنا لازمی اور ضروری ہے۔


    سوال نمبر11۔
    فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
    تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کر دو اُس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اُس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے (النسائ:۶۵)

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو دل سے تسلیم نہ کرے اور آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لے وہ مومن نہیں۔ اب بتائیں اللہ قسم کھا کر اس بات کی نفی کر رہا کہ وہ مومن نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لے اور آپ کے فیصلے پر دل سے راضی نہ ہو جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ کہاں ملے گا؟ احادیث میں ملے گا۔ اس آیت کی روشنی میں بھی ہم کو ماننا پڑے گا کہ احادیث دین ہیں۔

    سوال نمبر12۔
    مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اﷲَ وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا (سورۃ النسائ:80)۔
    جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک اُس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے اُن کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ۔

    اللہ رب العزت نے فرمایا: جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اُس نے اللہ کی پیروی کی۔ اب بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہم کس طرح کریں گے؟ یقینا احادیث کے ذریعے۔ تو مان لیں کہ احادیث دین کا لازمی جز ہیں۔

    سوال نمبر13۔
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ وَ اِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا وَ اِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآئَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اﷲُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ ٰلکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (سورئہ مائدہ:6)۔
    مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگرنہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلاء میں سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہمبستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اُس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو اللہ تعالیٰ تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو ۔

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے چہرے دھو لو اپنے ہاتھ دھو لو اور اپنے پاؤں دھو لو اور سر پر مسح کر لو (یعنی وضو کر لو)(کیا آپ اسی ترتیب سے وضو کرتے ہیں کہ پہلے منہ دھویا پھر ہاتھ دھوئے وغیرہ)۔اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا وضو توڑنے والی بھی کوئی چیز یا کوئی عمل ہے جو قرآن سے ثابت ہو؟ یا صرف ایک بار ہی وضو کر لینا کافی ہے؟۔ قرآن سے جواب دیں۔

    سوال نمبر14۔
    اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اﷲِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورۃ البقرۃ آیت نمبر173)۔
    اُس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سؤر کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کر دیا ہے۔ ہاں جو ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) اللہ کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اُس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مرا ہوا جانور، خنزیر، خون اور جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے وہ حرام قرار دیا ہے۔ آج تقریباً سب لوگ مچھلی کھاتے ہیں جو کہ پانی سے نکلنے کے بعد فوراً مر جاتی ہے۔ اگر صرف قرآن ہی حجت ہے تو بتائیے کہ مچھلی حلال ہے یا حرام؟ اگر یہ کہا جائے کہ سمندری جانور حلال ہے تو سمندری جانور جو زندہ ہو وہ حلال ہے یا سمندری مرا ہوا جانور بھی حلال ہے؟ (اور اگر احادیث کو تسلیم کر لیا جائے تو صحیح بخاری سے پتہ چلتا ہے کہ مری ہوئی مچھلی حلال ہے)۔

    سوال نمبر15۔

    اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (سورئہ بقرہ:۶)۔
    بیشک جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے کہ جو لوگ کافر ہیں آپ اُن کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اس آیت کی روشنی میں بتائیں کہ کفار کو ہم نصیحت کریں یا نہ کریں کیا وہ ایمان لائیں گے؟ اگر کوئی کفر کرنے والا مسلم ہونا چاہے تو اس آیت کی روشنی میں ہم اُس کو کیا کہیں؟ یا اس آیت کو سمجھنے کے لئے احادیث کی طرف رجوع کریں؟[/FONT][/COLOR]

    سوال نمبر16۔
    اِنَّ اﷲَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِاﷲِ فَقَدِ افْتَرٰٓی اِثْمًا عَظِیْمًا
    اللہ تعالیٰ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے اللہ کاشریک مقرر کیا اُس نے بڑا بہتان باندھا۔ (سورۃ النسائ:48)۔

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا اِرشادِ گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک معاف نہیں کرے گا۔ کیا اس آیت کی روشنی میں مشرک کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ یا اس آیت کو حدیث کی روشنی میں سمجھنا پڑے گا؟


    سوال نمبر 17۔
    ]قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُھِلَّ لِغَیْرِ اﷲِ بِہٖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورئہ انعام :145)۔
    کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں اُن میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اسکے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سؤر کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اُس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہیـ ۔

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ فرما دیجئے کہ میں ان (4) چیزوں کے سوا کسی چیز کو حرام نہیں پاتا۔ اب بتائیں کیاصرف یہ چار چیزیں حرام ہیں اور کتے، بلی، گدھے اور چیل وغیرہ باقی سب حلال ہیں؟ یا اس آیت کو حدیث کی روشنی میں سمجھنا پڑے گا؟


    سوال نمبر18۔
    قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اﷲُ وَرَسُوْلُہٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّ ھُمْ صَاغِرُوْنَ (سورئہ توبہ:29)۔
    جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روزِ آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ اُن چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دینِ حق کو قبول کرتے ہیں اُن سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

    اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اُن لوگوں کو قتل کرو جو اللہ کے حرام کو حرام نہیں مانتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرام کو حرام نہیں مانتے۔ اللہ کا حرام تو قرآن سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حرام کیا ہے؟ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو؟ ماننا پڑے گا کہ احادیث بھی دین ہیں۔

    سوال نمبر19۔

    اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اﷲِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اﷲِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْھِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اﷲَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (سورئہ توبہ: 36)
    اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہے اس روز سے کہ اُس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، کتابِ الٰہی میں (برس کے بارہ مہینے لکھے ہوئے) اُن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی دین کا سیدھا رستہ ہے تو ان مہینوں میں (قتالِ ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کیساتھ ہے۔

    اس آیت میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد 12 ہے اور چار حرمت والے مہینے ہیں۔ اب بتائیں کتاب اللہ میں 12 مہینے کون کون سے ہیں؟ اور چار حرمت والے مہینے کون کون سے ہیں؟ نیز کتاب اللہ سے مراد اللہ کی وحی ہے جو کہ قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ مزید فرمایا کہ:
    اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اﷲُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اﷲُ زُیِّنَ لَھُمْ سُوْٓئُ اَعْمَالِھِمْ وَ اﷲُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ (سورئہ توبہ:37)
    امن کے کسی مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرنا ہے اس سے کافرگمراہی میں پڑے رہتے ہیں، ایک سال توا س کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام، تاکہ ادب کے مہینوں کی گنتی جو اللہ نے مقرر کی ہے پوری کر لیں اور جو اللہ نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے بُرے اعمال ان کو بھلے دکھائی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

    مہینوں کا آگے پیچھے کر لینا کفر میں زیادتی ہے۔ تو کیا صرف قرآن سے حرمت والے مہینے ثابت ہیں؟

    سوال نمبر20۔

    فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ اَبَوَیْہِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآئَ اﷲُ ٰامِنِیْنَ وَ رَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا وَ قَالَ یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُئْیَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْٓ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآئَ بِکُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآئُ اِنَّہٗ ھُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ
    اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف کے آگے سجدے میں گر پڑے (اُس وقت) یوسف نے کہا کہ ابا جان یہ میرے اُس خواب کی تعبیر ہے جومیں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے رب نے اُسے سچ کر دیا اور اُس نے مجھ پر (بہت سے) احسانات کئے ہیں کہ مجھے جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا، آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا رب جوچاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔(سورئہ یوسف:100-99)۔


    اس آیت سے پتہ چلا کہ جناب یعقوب u نے اپنے بیٹے یوسف u کو سجدہ کیا۔ اس آیت کی روشنی میں کوئی شخص اپنے بیٹے کو سجدہ کر سکتا ہے؟ کیا غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز ہے؟ یا ہم احادیث کی روشنی میں اس آیت کو سمجھیں گے؟۔


    سوال نمبر21۔
    وَ اِذْ قُلْنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْٓ اَرَیْنٰکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِ وَ نُخَوِّفُھُمْ فَمَا یَزِیْدُھُمْ اِلَّا طُغْیَانًا کَبِیْرًا(سورئہ بنی اسرائیل:60)

    جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا رب لو گوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے، اور جو نمائش (معراج) ہم نے تمہیں دکھائی اُس کو لوگوں کیلئے آزمائش کیا، اور اسی طرح ایک درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو اُن کو اس سے بڑی (سخت) سر کشی پیدا ہوئی ہے۔

    اس آیت میں ایک درخت کا ذکر ہے جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ بتائیں قرآن کی 114 سورتوں میں سے اُس درخت کا نام کس سورت میں ہے جس پر لعنت کی گئی ہے؟ لعنت کے الفاظ کہاں ہیں یا اس آیت کو احادیث کے حوالے سے سمجھیں گے؟


    سوال نمبر22۔
    وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآئِہٖ وَجَعَلْنٰہُ ھُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ (سورئہ الم سجدہ:23)
    اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو تم اُس کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اُس کو بنی اسرائیل کیلئے (ذریعہ) ہدایت بنایا۔


    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰu کو کتاب دی تم اُن سے ملاقات میں شک نہ کرنا۔ اب بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موسیٰ u کی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی؟ اور اگر احادیث کو تسلیم کر لیا جائے تو واقعہ معراج اس ملاقات کو ثابت کر دیتا ہے۔ ماننا پڑے گا کہ احادیث قرآن کی تفسیر ہیں۔

    سوال نمبر23۔

    وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَo وَ قَالُوْآ ئَ اٰلِھَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ھُوَ مَا ضَرَبُوْہُ لَکَ اِلَّا جَدَلاً بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ o اِنْ ھُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ وَ جَعَلْنٰھُا مَثَلًا لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ o وَ لَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ o وَ اِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا وَ اتَّبِعُوْنِ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌo (سورئہ زخرف:57 تا 61)۔
    اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اُس سے چِلا اٹھے۔ اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کیلئے اُن کو (اپنی قدرت کا) نمونہ بنا دیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے۔ اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو!) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو یہی سیدھا راستہ ہے ۔

    اس آیت میں اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ مریم کے بیٹے(عیسیٰ u) قیامت کی نشانی ہے۔ اس نشانی سے کیا مراد ہے؟ نشانی تو آنے والی چیز کو کہا جاتا ہے۔ کیا عیسیٰ u قرب قیامت میں آئیں گے؟ جبکہ انکار احادیث کرنے والے عیسیٰ u کا آنا غلط خیال کرتے ہیں۔

    سوال نمبر24۔

    اِنَّ اﷲَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (سورئہ احزاب:56)۔
    اللہ اور اُس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو! تم بھی اُن پر درود اور سلام بھیجا کرو ۔

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام بھیجیں۔ کیا قرآن نے صلوٰۃ و سلام کا طریقہ بتایا؟ کب بھیجیں، نماز میں؟ دُعا میں؟ یا عام حالات میں؟ کن الفاظ سے بھیجیں؟ بغیر احادیث کے ہم قرآن پر عمل کیسے کریں؟
     
    Last edited: ‏مئی 28، 2015
    • شکریہ شکریہ x 12
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 18، 2012 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سوال نمبر25۔
    وَاَنْزَلَ اﷲُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَ کَانَ فَضْلُ اﷲِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا (سورۃ النسائ:113)۔
    اور اللہ نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم نہیں جانتے تھے۔ اور تم پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔

    اس آیت میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ہم نے کتاب اور حکمت نازل فرمائی۔ کتاب سے مراد اگر قرآن ہے تو حکمت کیا ہے؟ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے ذکر نازل کیا (سورئہ نحل:44)۔ (سورئہ حجر:9) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ذکر نازل کیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی۔ بتائیں اس ذکر سے کیا مراد ہے؟۔


    سوال نمبر26۔ (سورئہ فیل مکمل)۔
    بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِo اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍلo وَّ اَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَo تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیلٍo فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ
    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کیساتھ کیا کیا؟ کیا اُن کا داؤ غلط نہیں کیا؟ اور اُن پر جھنڈ کے جھنڈ جانور بھیجے۔ جو اِن پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے۔ پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔

    یہ ہاتھی والے کون تھے؟ ان کا جرم کیا تھا؟ قرآن نے اُن کا قصور بتایا ہے؟ قرآن سے جواب دیں؟


    سوال نمبر27۔

    مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِ اﷲِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ (سورئہ حشر:5)۔
    اللہ تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا کہ جو درخت تم نے کاٹے اور جو چھوڑ دیئے وہ اللہ کے حکم سے تھا۔ یہ اللہ کا حکم کس آیت میں موجود ہے؟


    سوال نمبر28۔
    اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ(کوثر:۱)
    بے شک ہم نے تم کو کوثر عطا کی۔
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تم کو کوثر عطا کی۔ بتائیں کہ کوثر کیا ہے؟ جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی۔ کیا کسی عورت کا نام ہے یا یہ کوئی اور چیز ہے؟۔ قرآن مجید سے جواب دیں۔

    سوال نمبر29۔
    لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اﷲَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اﷲَ کَثِیْرًا (سورئہ احزاب:21)۔
    تم کو پیغمبر الٰہی کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اُس شخص کو جسے اللہ (سے ملنے) اور روزِ قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ اللہ کا کثرت سے ذکر کرتا ہو ۔
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین نمونہ ہیں۔ اگر ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترین نمونہ سمجھے پھر آپ کے طریقے پر عمل کرنا چاہے تو وہ کیسے عمل کرے گا؟ ماننا پڑے گا کہ احادیث کو تسلیم کرنا پڑے گا جب ہی ہم قرآن پر عمل کر سکیں گے۔


    سوال نمبر30۔

    الٓرٰکِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ
    الٓر۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور اللہ حکم و خبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کر دی گئی ہیں۔ (سورئہ ھود:1)
    ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ (سورئہ قیامۃ:19)۔
    پھر بے شک اس قرآن کا بیان ہمارے ذمہ ہے۔​

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کا بیان ہمارے ذمہ ہے۔ پھر قرآن کی تفسیر ہمارے ذمہ ہے حکیم اور خبیر ذات کی طرف سے قرآن کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ یہ تفسیر کہاں اور کس سپارے میں ہے؟ قرآن کا بیان کہاں ہے؟ قرآن نے ایک عمل کا حکم دیا۔ اب سب اپنی مرضی کے مطابق عمل کریں تو اللہ کی چاہت پوری ہو گی یا سب ویسے ہی عمل کریں جس طرح اللہ چاہتا ہے۔ جب اللہ کی چاہت پوری ہو گی تو ماننا پڑے گا کہ قرآن کے ساتھ ساتھ قرآن کا بیان اور تفصیل بھی اللہ کی طرف سے احادیث کی صورت میں ہے۔


    سوال نمبر31۔
    وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْہُ قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَآیِٔ نَفْسِیْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (سورئہ یونس:15)۔
    اور جب اُن کو ہماری آیتیں پڑھ کرسنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی اُمید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سِوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھے اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اُسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہی عمل کرتے ہیں جس کی اُن کو وحی کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی کیا قرآن میں ہجرت کا حکم موجود ہے؟ یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرضی سے ہجرت کی تھی؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’میں تو اُسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے‘‘۔
    ایک نظریہ کچھ لوگوں نے بنا رکھا ہے کہ ہم احادیث تو مانیں گے مگر وہ حدیث نہیں مانیں گے جو عقل میں نہ آئے۔ کس کی عقل کو معیار بنایا جائے گا؟ ایک حدیث ایک آدمی کی عقل میں آتی ہے دوسرے کی عقل میں نہیں آتی۔ کس کی عقل تسلیم کی جائے گی؟ ایک موچی اور ڈاکٹر دونوں کی عقل کیا ایک جیسی ہوتی ہے؟ کیا عقل دین میں معیار ہے؟ اگر یہ معیار ہم قرآن پر رکھیں تو جو آیت ہماری عقل میں نہ آئے ہم اُس کو تسلیم نہیں کریں گے؟ یقینا کریں گے کیونکہ قرآن ثابت شدہ ہے۔ اسی طرح جو احادیث صحیح سند سے ثابت ہوں ہم اُس کو تسلیم کریں گے چاہے وہ ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے (کیونکہ وہ احادیث ثابت شدہ ہیں)۔ دیکھیں آیت قرآنی جو ہماری عقل کے خلاف ہیں مگر ہم اُس کو تسلیم کرتے ہیں، اُس حوالے سے چند سوال:

    سوال نمبر32۔

    قُلْنَا ٰینَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ (سورئہ انبیائ:69)۔
    ہم نے حکم دیا کہ اے آگ! سرد ہو جا اور ابراہیم پر (موجبِ) سلامتی (بن جا)۔
    اللہ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیا کیا یہ بات عقل کے خلاف نہیں کہ آگ کا کام تو جلانا ہے اور وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی؟ مگر ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ یہ ثابت شدہ ہے۔

    سوال نمبر33۔۔
    وَ رَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا وَ قَالَ یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُئْیَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْٓ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآئَ بِکُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآئُ اِنَّہٗ ھُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ
    اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف کے آگے سجدے میں گر پڑے (اُس وقت) یوسف نے کہا کہ ابا جان یہ میرے اُس خواب کی تعبیر ہے جومیں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے رب نے اُسے سچ کر دیا اور اُس نے مجھ پر (بہت سے) احسانات کئے ہیں کہ مجھے جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا، آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا رب جوچاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے .۔ (سورئہ یوسف:100)

    جناب یعقوب u نے اپنے بیٹے یوسف u کو سجدہ کیا، دونوں نبی ہیں، باپ نے بیٹے کو سجدہ کیا۔ کیا کوئی انسان انسان کو سجدہ کر سکتا ہے؟ اور اگر سجدہ کرنا ہی ہو تو بیٹا باپ کو سجدہ کرے گا یا باپ بیٹے کو؟ عقل کہتی ہے کہ سجدہ کرنا ہی تھا تو بیٹا باپ کو کرتا کہ عقل اس کو تسلیم کرتی ہے مگر ہم عقل کے مقابلے میں قرآن کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ثابت شدہ ہے۔ لہٰذا وہ احادیث بھی قابل قبول ہیں جو صحیح ہیں۔چاہے وہ عقل میں آئیں یا نہ آئیں۔
    چند ایسی آیات جو عقل میں نہیں آتیں مگر ہم پھر بھی اُن کو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہیں مثلاً سورئہ نحل:40، انفال:50، الاعراف:172۔
    ایک اور دھوکہ دیا جاتا ہے کہ ہم وہ احادیث نہیں مانیں گے جو قرآن کے خلاف ہوں گی حالانکہ کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں، یہ صرف ہماری کم علمی کا قصور ہے ورنہ دونوں میں تطبیق دے کر دونوں کو ماننا پڑے گا۔ ورنہ اگر یہ قانون قرآن پر رکھا جائے تو دو آیات اگر ایک دوسرے کے خلاف ہم کو محسوس ہوں تو ہم کیا کریں گے؟ یقینا ہم دونوں کو تسلیم کریں گے کیونکہ ثابت شدہ ہیں۔ کیا ایک آیت کو تسلیم کر کے دوسری کو ضعیف کہہ کر ردّ کر دیں گے یا دونوں کو تسلیم کریں گے؟ جب ہم دونوں کو تسلیم کرتے ہیں تو احادیث کے لئے ہم یہ فارمولہ کیوں نہیں اپناتے؟۔
    قرآنی آیات دیکھیں۔

    سوال نمبر34۔
    وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَ رَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا (سورئہ فرقان:32)۔
    اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا؟ اس طرح (آہستہ آہستہ) اس لئے اتارا گیاکہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں اور اسی واسطے ہم اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں ۔

    اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ (سورئہ قدر:1)۔
    ہم نے اس (قرآن) کو شب ِ قدر میں نازل کیا۔
    ایک آیت میں فرمایا کہ کافر کہتے ہیں کہ یہ قرآن ایک ساتھ نازل کیوں نہیں ہوا؟ دوسری آیت میں فرمایا کہ ہم نے اس کو ایک رات میں نازل کیا۔ اب ہم دونوں آیتوں میں تطبیق دے کر دونوں کو تسلیم کرتے ہیں، اسی قانون کے تحت ہم احادیث کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟۔ دوسری مثال:

    سوال نمبر35۔
    فَوَ رَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّہُ اَجْمَعِیْنَo عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
    تمہارے رب (ہونے) کی قسم! ہم ضرور ان سب سے پُرسش کریں گے۔ اُن کاموں کی جو وہ کرتے رہے۔ (سورئہ حجر:93-92)

    فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّ (سورئہ رحمن:39)۔
    اُس روز نہ تو کسی انسان سے اُس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے۔

    ایک آیت میں فرمایا کہ تمہارے رب کی قسم ہم ان سے ضرور سوال کریں گے جو عمل یہ کرتے تھے۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ اُس دن کسی جن سے اور انسان سے اُس کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں ہو گا۔ دونوںآیتوں میں تطبیق دے کر دونوں کو ماننا پڑے گا۔ ایسے ہی کوئی صحیح سند سے حدیث ثابت ہو تو اُس کو ماننا پڑے گا اور کیا اُس کا انکار کفر نہ ہو گا؟

    سوال نمبر36۔
    کیا قرآن کی کوئی ایسی آیت موجود ہے کہ وحی قرآن کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جو وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی وہ تمام کی تمام قرآن ہی میں موجود ہے؟

    سوال نمبر37۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیش گوئیاں کیں اور وہ پوری ہوئی وہ کس بنا پر تھیں؟ جبکہ قرآن اس بات کی نفی کرتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی غیب کا علم نہیں جانتا۔

    قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اﷲُ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ (سورئہ نمل:65)۔
    کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کے سوا غیب کی باتیںنہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے؟

    سوال نمبر38۔
    اگر احادیث حجت نہیں ہیں تو موضوع (جھوٹی، بناوٹی) احادیث کیوں گھڑی جاتی رہی ہیں؟ نقل اُسی کی بنائی جاتی ہے جس کے اصل کا کوئی مقام ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں 1000 کا نوٹ چلتا ہے، جب ہی تو نقلی نوٹ مارکیٹ میں چلایا جاتا ہے اگر اصلی نہ چلتا ہو تو بتائیں کون بیوقوف ہے جو نقلی نوٹ بنائے۔ 10000 (دس ہزار) کا نوٹ اس وقت تک تو نہیں چلتا۔ بتائیں کیا کوئی دس ہزار کا جعلی نوٹ بنائے گا؟ نہیں بنائے گا کیونکہ دس ہزار کا نوٹ چلتا ہی نہیں۔
    جب احادیث شروع سے ہی دین سمجھی جاتی تھیں اسی وجہ سے ہی موضوع احادیث بنائی گئیں اور اگر حدیث کو دین نہ سمجھا جاتا تو موضوع احادیث کیوں گھڑی جاتی رہیں؟

    سوال نمبر39۔
    مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ یَسِیْرٌ لِّکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰکُمْ وَ اﷲُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ (سورئہ حدید:23-22)
    کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے (اور) یہ کام اللہ کو آسان ہے تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہو گیا ہے اس کا غم نہ کھایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر اِتراؤ۔ اور اللہ اِترانے والے اور شیخی خوروں کو دوست نہیں رکھتا۔

    وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اﷲِ رِزْقُھَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَ مُسْتَوْدَعَھَا کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (ھود:6)۔
    اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اُس کا رزق اللہ کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے اُسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اُسے بھی، یہ سب کچھ کتابِ روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔
    ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو مصیبت دنیا میں آتی ہے یا خود تم کو پہنچتی ہے، وہ اس کے پیدا کرنے سے پہلے کتاب میں لکھی ہوتی ہے۔ یہ لکھا ہوا کیا ہے؟ کیا تقدیر ہے؟ کیا تقدیر لکھی ہوتی ہے؟ انکار حدیث کرنے والے تقدیر کا انکار کیوں کرتے ہیں؟ اور یہ کون سی کتاب ہے جس میں لکھا ہوا ہے؟ براہِ مہربانی قرآن سے جواب دیں۔

    سوال نمبر40۔
    وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ (سورئہ بقرۃ:96)۔
    اور اللہ تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے حج و عمرہ پورا کرو۔
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے لئے حج اور عمرہ کو پورا کرو۔ یہ حج کیا ہے؟ کہاں اور کیسے ہو گا؟ اور عمرہ کیا ہے پورا کیسے ہو گا؟ صرف قرآن سے جواب دیں۔


    سوال نمبر41۔
    وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ وَ اَظْھَرَہُ اﷲُ عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَ اَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّاَھَا بِہٖ قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَکَ ھٰذَا قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ
    اور یاد کرو جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی۔ پس جب اُس نے اس بات کی خبر (دوسری کو) کر دی۔ اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاہ کر دیاتو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے۔ پھر جب نبی نے اپنی اُس بیوی کو یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی کہ اس کی خبر آپ کو کس نے دی؟ کہا کہ مجھے اُس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے (سورئہ تحریم:3)۔

    قرآن مجید میں کہیں نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مطلع کیا کہ فلاں بی بی نے تمہارا راز طاہر کر دیا پھر علیم و خبیر اللہ نے کس طرح خبر دی؟ ظاہر ہے یہ کہنا پڑے گا کہ قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی۔ ورنہ آپ کو یہ خبر کیسے ملی؟

    سوال نمبر42۔
    قرآن مجید سے بتائیں کہ مرغی حلال ہے یا حرام؟ اور کتا اور گدھا حرام ہے یا حلال؟ قرآن کی واضح آیت بتائیں، اِدھر اُدھر کی باتوں میں نہ الجھائیں۔

    سوال نمبر43۔
    فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ (سورئہ کوثر:2)۔
    تو اپنے رب کیلئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو۔

    قرآن مجید میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، رکوع کرنے، سجدہ کرنے کا ذکر بھی قرآن میں آیا ہے، کھڑے ہونے کا بھی حکم موجود ہے، سوال یہ ہے کہ پہلے کھڑے ہوں یا پہلے رکوع کریں یا سجدہ کریں؟ اور کھڑے ہوں تو ہاتھ باندھ کر یا چھوڑ کر کھڑے ہوں؟ ہاتھ اگر باندھے جائیں تو کہاں باندھے جائیں؟ رکوع کرنے کا حکم ہے رکوع کا معنی جھکنا ہے۔ کہاں جھکیں، آگے جھکیں یا دائیں بائیں؟ رکوع کی حالت میں ہاتھ کہاں رکھیں؟ سجدہ کس طرح کریں؟ کون سے اعضاء کو زمین پر رکھیں؟ سجدہ ایک کریں یا دو؟ ان سوالات کا جو بھی جواب آپ دیں اس کا ثبوت قرآن سے دیں عقلی تک بندیاں دین کا حصہ نہیں، وہ نہیں مانی جائیں گی۔ اور اگر آپ قرآن سے ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتے (اور یقینا نہیں دے سکتے) تو مان جائیں کہ قرآن پر عمل کرنے کے لئے حدیث کی ضرورت ہے اور حدیث بھی قرآن کی طرح دین کا حصہ ہے۔

    سوال نمبر44۔
    وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ
    اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور (اللہ تعالیٰ کے آگے) جھکنے والوں کیساتھ جھکا کرو۔ (سورئہ بقرہ:43)۔


    الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ
    جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں ۔ (سورہ حم سجدہ:7)

    یہ زکوۃ کب دی جائے گی؟ کیا ہر نماز کے ساتھ زکوۃ دی جائے گی؟ یا سال میں ایک مرتبہ دی جائے گی؟ کس حساب سے دی جائے گی؟ غلے پر کتنی اور سونے چاندی پر کتنی دی جائے گی؟ زکوٰۃ نہ دینے والوں کو سخت عذاب کی دھمکی بھی دی گئی ہے، یہ سارے مسائل قرآن سے بتائیں؟ یہ سب مسائل قرآن سے ثابت نہیں، احادیث سے پتہ چلتے ہیں۔ ثابت ہوا کہ حدیث مانے بغیر قرآن پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔

    سوال نمبر45۔
    وَاعْلَمُوْآ اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاﷲِ وَ مَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ وَ اﷲُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (الانفال:41)۔
    اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لُوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کا اور اس کے رسول کا اور اہلِ قرابت کااور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے، اگر تم اللہ پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق و باطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں)، جس دن دونوں فوجوں میں مڈبھیڑ ہو گئی، اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل فرمائی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

    مال غنیمت میں پانچ حصے کر کے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے الگ کر لیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ باقی چار حصے کیا کئے جائیں؟ کیا قرآن اس بارے میں کوئی حکم دیتا ہے؟ اگر دیتا ہے تو کیا دیتا ہے؟ اور اگر نہیں دیتا تو ان چار حصوں کو ہم کیا کریں؟ صرف قرآنِ مجید سے جواب دیں۔

    سوال نمبر46۔
    وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْآ اَیْدِیَھُمَا جَزَآئًم بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اﷲِ وَ اﷲُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (سورۃ المائدہ:38)۔
    اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت اُن کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ اُن کے فعلوں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرت ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

    قرآن میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھوں کو کاٹ دو۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کاٹیں یا ایک ہاتھ؟ دایاں ہاتھ یا بایاں ہاتھ؟ بغل سے کاٹیں یا کہنی سے؟ کتنی چوری پر ہاتھ کاٹ دیا جائے؟ 2، 4 روپے پر بھی کیا ہاتھ کاٹ دیا جائے؟ براہ مہربانی ان مسائل کو قرآن سے حل کریں؟

    سوال نمبر47۔
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اﷲِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْن (سورئہ جمعہ:9)۔
    مومنو! جب جمعے کے دن نماز کیلئے پکارا جائے تو اللہ کی یاد (یعنی نماز) کیلئے جلدی کرو اور (خرید و) فروخت ترک کر دو اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ۔

    اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لئے پکارا جائے تو اس کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ سوال یہ ہے کہ جمعہ کے دن کب پکارا جائے؟ کس نماز کے لئے پکارا جائے؟ کن الفاظ سے پکارا جائے؟ کیا کچھ پکارا جائے؟ جس نماز کے لئے پکارا جائے وہ کیسے پڑھی جائے؟ ان ساری باتوں کے ثبوت قرآن سے دیں؟

    سوال نمبر 48۔
    دنیا میں بہت سے جانور ہیں، مثلاً بلی، گیدڑ، بھیڑیا، چیتا، شیر، بندر، ریچھ، ہرن، بھینسا، خرگوش، کوا، چیل، باز، شکرہ، کبوتر، مینا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب جانور حلال ہیں یا حرام؟ یا کچھ حلال ہیں یا حرام؟ آپ جو بھی جواب دیں قرآن سے دیں کیونکہ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ ہر مسئلہ کا حل قرآن میں موجود ہے۔ حدیث کی ضرورت نہیں ہے۔ اور آپ ان سوالوں کا جواب قرآن سے یقینا نہیں دے سکتے تو مان لیںکہ قرآن سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے احادیث بھی ضروری ہیں۔

    سوال نمبر49۔
    اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاﷲِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اﷲِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًاo اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا وَ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًاo وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاﷲِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْھِمْ اُجُوْرَھُمْ وَ کَانَ اﷲُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاo(سورۃ النسائ:150تا 152)
    جو لوگ اللہ سے اور اُس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور اللہ اور اُس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں او ر کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیںا ور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میںایک راہ نکالنی چاہتے ہیں۔ وہ بلا شبہ کافر ہیں اور کافروں کیلئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ اللہ اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

    ان آیات میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان فرق کرنے والے کو اسلام اور کفر کے درمیان نئے راستے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بتائیں اس سے کیا مراد ہے؟ ایک شخص قرآن کو مانتا ہے اور حدیث کو نہیں مانتا، کیا وہ اس تنبیہ میں شامل نہیں ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حق یہ ہی ہے کہ وہ کافر ہیں۔

    سوال نمبر50۔
    حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اﷲِ بِہٖ وَ الْمُنْخَنِقَۃُ وَ الْمَوْقُوْذَۃُ وَ الْمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیْحَۃُ وَ مَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَــکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِِاثْمٍ فَاِنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورئہ مائدہ:3)۔
    تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سؤر کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کرمر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کر لو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پانسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو اُن سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند فرمایا۔ ہاں جوشخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
    قرآن مجید جو ہمارے پاس موجود ہے کیا کہ اللہ رب العزت نے اسی طرح نازل کیا ہے یا یہ ترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے؟ اگر یہ ترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے تو کیا حدیث حجت نہ ہو گی؟ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ترتیب کے مطابق تلاوت قرآن کرتے ہیں اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اختیار تھا کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب میں اپنی مرضی سے آیات کو ترتیب دیں یا یہ کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق کیا؟ تو پھر مان لینا چاہیئے کہ قرآن کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور وہ بھی دین ہے جو احادیث صحیحہ کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اور اگر کوئی منکر حدیث یہ بات کہہ دے کہ قرآن جس ترتیب سے ہمارے پاس موجود ہے اسی ترتیب سے اللہ نے نازل فرمایا ہے تو سورئہ مائدہ میں چھٹے سپارے میں اللہ تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا:

    اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَــکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا
    آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند فرمایا۔

    کہ آج ہم نے دین مکمل کر دیا۔ جب چھٹے سپارے میں دین مکمل ہو گیا تو باقی سپارے کیوں نازل کئے گئے؟ کیا کسی بھی انکارِ حدیث کرنے والے کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟؟؟
    ایک دھوکہ عوام الناس کو یہ دیا جاتا ہے کہ حدیث کا انکار کرنا کفر ہے۔ ہم احادیث کا انکار نہیں کرتے۔ لوگوں نے باتیں بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی ہیں، ہم اُن باتوں کا انکار کرتے ہیں جبکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔ جو فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، صحیح احادیث کی صورت میں، وہ آپ کے فرامین ہیں اُن میں سے کسی ایک کا بھی انکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا اِنکار ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص سورئہ فیل کا انکار کر دے اور کہے کہ میں قرآن کا انکار نہیں کرتا، قرآن پر میرا ایمان ہے میں قرآن پر ایمان رکھتا ہوں اور سورئہ فیل کے بارے میں کہے کہ میں اس کو نہیں مانتا کہ یہ اللہ نے نازل کی ہے۔ وہ اپنے انکار کی وجہ یہ بتائے کہ یہ سورت اللہ نے نازل نہیں کی تب بھی وہ کافر ہے کیونکہ وہ قرآن کے ایک حصے کا منکر ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سمجھ کر انکار کرے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد نہیں ہیں بلکہ لوگوں کی باتیں ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوگوں نے منسوب کی ہیں حالانکہ وہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحیح اسناد سے ثابت ہوں تو اُن فرامین کا انکار کرنے والا بھی اُسی طرح دائرئہ اسلام سے خارج ہے جس طرح قرآن مجید کے ایک چھوٹے سے حصے کا انکار کرنے والا دائرئہ اسلام سے خارج ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہم اپنے لئے اور تمام پڑھنے والوں کے لئے دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اُس حق کوسمجھنے کی اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے۔ کیونکہ توفیق دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ہے۔

    الحمد ﷲ
    www.Albisharah.com - منکرین حدیث سے پچاس سوالات
     
    Last edited: ‏مئی 28، 2015
    • شکریہ شکریہ x 13
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  3. ‏مئی 18، 2012 #3
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    بہت زبردست اور لاجواب سوالات ہیں۔ جزاک اللہ عامر بھائی!
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 18، 2012 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا عامر بھائی

    بھائی یہ چار سوالات کے جوابات دے نہیں سکے پچاس سوالات کے جواب کیا دیں گے۔یہ لوگ بس اپنی ضد پر قائم ہیں۔
     
  5. ‏مئی 19، 2012 #5
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    اگر شکریہ ادا ہی کرنا ہو تو ابن بشیر الحسینوی بھائی جان کا کرے، یہ سوالات انہی کی ویبسائٹ سے لئے گئے ہیں.

    جزاک الله خیر ابن بشیر الحسینوی بھائی جان
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 19، 2012 #6
    طارق بن زیاد

    طارق بن زیاد مشہور رکن
    جگہ:
    saudi arabia
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2011
    پیغامات:
    324
    موصول شکریہ جات:
    1,718
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    جزاک اللہ خیر عامر بھائی بہت علم حاصل ہوا اپکا یہ تھریڈ پڑھکر۔
    اللہ بشیر بھائی کو بھی اسکا اجر عظیم عطا فرمائے آمین۔
    کہاں ہو مسلم بھائی آپکے جوابات کا انتظار رہیگا مجھے ان شاءاللہ۔
    اللہ یھدیک۔آمین
    اب دیکھنا ہے کیا تیور ہے مرے دلدار کے۔
     
  7. ‏مئی 21، 2012 #7
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,504
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    جزاک اللہ خیرا عامربھائی اورابن بشیر الحسینوی بھائی جان
     
  8. ‏اگست 26، 2012 #8
    عمران علی

    عمران علی مبتدی
    جگہ:
    لانڈھی ۔ کراچی
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2012
    پیغامات:
    71
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    جواب تو آپکے ایک ایک سوال کا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ جواب سننے کا حوصلہ اور ظرف نہیں ہے آپ لوگوں میں۔اس سوالنامے میں سوال نمبر دس ، گیارہ اور بارہ قابل غور ہیں اور یہی وہ سوال ہیں جن کا جواب آپکی سمجھ میں آ جائے تو تمام تر فرقے خود بخود ختم ہو جائيں۔
     
  9. ‏اگست 26، 2012 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جواب ہے تو پھر دو نا۔عامر بھائی نے سوال ہی اس لیے پوچھے ہیں کہ ان کے جواب دیے جائیں۔آپ ان کے مدلل جواب دیں۔حدیث کا انکار کر کے آپ نے جو خود ایک نیا فرقہ بنایا ہے یہ کیسے ختم ہو گا؟
     
  10. ‏اگست 26، 2012 #10
    عمران علی

    عمران علی مبتدی
    جگہ:
    لانڈھی ۔ کراچی
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2012
    پیغامات:
    71
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    آپ اپنا ذاتی ای میل ایڈریس بھیجیں ، ہم ای میلز پر بات چیت کر سکتے ہیں۔اس فورم پر کھل کا بات نہیں ہوسکتی۔ میرا ای میل ایڈریس یہ ہے اس پر ہم آپ بات کرسکتےہیں۔

    اوپن فورم پر موبائل نمبر، ای میل ایڈریس وغیرہ دینے کی اجازت نہیں۔ انتظامیہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں