1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرین حدیث سے 50 سوالات

'دفاع حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏مئی 19، 2013۔

  1. ‏مئی 19، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

    محترم قارئین کرام۔

    بندہ ناچیز کے دوست جناب ابوخدیجہ صاحب نے ایک مضمون بعنوان ''منکرین حدیث سے 50 سوالات'' لکھا۔ یہ مضمون نہایت ہی آسان اور عام فہم انداز سے لکھا گیا تھا چنانچہ ہمارے مشترکہ دوست نے مجھے حکم دیا کہ اس کی کمپوزنگ + پرنٹنگ کی تدبیر کی جائے۔ یہ ارشاد سن کر بندہ ناچیز اس کام میں مشغول ہو گیا۔ اور اللہ کے فضل و کرم سے چند دنوں میں کتاب چھپوا کر حاضر خدمت کر دی۔

    جب یہ کتاب مفت تقسیم ہوئی تو بہت سے لوگوں کے فون اور خط موصول ہوئے۔ کچھ برادران یوسف تھے تو کچھ تحریریں اپنے اندر ''انہ طغی'' کا مفہوم رکھتی تھیں۔ کچھ دھمکیاں تھیں اور نجانے کیا کیا۔

    اللہ کے فضل و کرم سے یہ کتاب دوبارہ چھپ اہل خیر کے ہاں سے چھپ کر دوبارہ تقسیم ہوئی۔ فللہ الحمد۔

    ایک خط جناب عبدالمالک خاں۔ E-4 پوسٹل کالونی سائٹ کراچی۔ کی طرف سے موصول ہوا تو آمدہ ایڈیشن میں اس کا جواب بھی الحمد للہ لکھا گیا اور شامل کتاب کر لیا گیا۔

    اس کے بعد مجھے پنجاب میں شفٹنگ کرنا پڑی۔ بہت سے فون آئے اور بہت ڈیمانڈ کی گئی لیکن میں اس پوزیشن میں نہیں تھا چنانچہ یہاں اس کتاب کی تقسیم نہ ہو پائی۔

    آج یہ کتاب محدث فورم کی نظر کرتا ہوں۔ ترتیب وہی بہتر محسوس ہوتی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ پہلے تو 50 سوالات لکھے جائیں تاکہ نفس مضمون سمجھ میں آ سکے۔ اس کے بعد اس پر آنے والے اعتراضات اور ان کا جواب ذکر ہو گا ان شاء اللہ العزیز

    آپ سب کی دعاؤں کا طالب ہوں
     
  2. ‏مئی 19، 2013 #2
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    انکارِ حدیث کرنے والوں سے
    50
    سوالات
    ناشر
    دائرہ نورُ القرآن
    وقاص سینٹر شاپ نمبر 8 محمد بن قاسم روڈ نزد اُردو بازار کراچی​


    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    نام کتاب: انکارِ حدیث کرنے والوں سے 50 سوالات
    تالیف:ابو خدیجہ شیخ حماد اقبال حفظہ اللہ
    کمپوزنگ: محمد آصف ۔
    اشاعت دوم:ربیع الاول ۹۲۴۱ھ بمطابق مارچ 2008ء


    {مفت ملنے کا پتہ}
    محمد سعید ٹیلر رحمانیہ مسجد نزد بوہرہ پیر اسلم روڈ کراچی پوسٹ کوڈ 74200
     
  3. ‏مئی 19، 2013 #3
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    الحمد ﷲ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین نبینا محمدا و علی آلہ وصحبہ اجمعین امام بعد​
    آج کے اس پر فتن ماحول میں جہاں قدم قدم پر نت نئے فتنوں کا سامنا ہے ان فتنوں میں عوام الناس اس لئے مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان فتنوں کا داعی اپنے باطل مقصد کو قرآن و سنت سے زبردستی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے مثلاً منکرین حدیث کا کہنا کہ ہمیں کتاب اللہ کافی ہے، دلیل یہ ہے کہ جناب عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر کہا تھا: ’’حسبن کتاب اﷲ‘‘۔ یعنی ہمیں کتاب اللہ کافی ہے۔ (بحوالہ بخاری)۔ نیز صحیح مسلم کے حوالے سے کبھی اس حدیث کو بھی نقل کر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ اور نہ لکھو، اب کون کج فہم منکرین حدیث معلوم کرے کہ جناب بخاری و مسلم کی جن دو حدیثوں کا آپ نے حوالہ دیا ہے کیا ان احادیث کی صحت کی اطلاع انہیں جبرئیل امین نے آ کر دی ہے؟ یہ وہ خبط ہے جس میں منکرین حدیث ملوث ہیں۔ نہ ان کے پاس کوئی اصول ہے نہ ہی کوئی ٹھوس بنیاد اور نہ ہی کوئی دلیل۔ بس سرسری کانٹ چھانٹ کر حدیث و قرآن کو پیش کرنا اور سمجھ لینا کہ ہم نے کوئی قلعہ فتح کر لیا ہے۔ اور یوں عوام الناس دھوکہ کھا جاتے ہیں اور ان کے دام فریب میں آجاتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ سازش اہل علم پر مخفی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ منکرین سنت/حدیث علماء کو تو جاہل کہہ کر خود ان کے سامنے آنے سے کنی کترا جاتے ہیں یہ ان کا مبلغ علم کہ عوام کو قائل کرنا ان پر محنت کرنا اور علماء سے دُور بھاگنا۔ عوام الناس کو حقائق سے آگاہ کرنے کے اس سلسلہ میں علماء نے ماضی میں بڑی ضخیم و مختصر اس موضوع پر لکھیں اور اس فتنہ کی سرکوبی کی رب کریم ان کی ان کاوشوں کو قبول فرمائے آمین۔ اور اس سلسلہ میں ایک مختصر مگر جامع کاوش بنام ’’انکار حدیث کرنے والوں سے 50 سوالات‘‘ حماد اقبال صاحب جو کہ اچھا مطالعہ رکھتے ہیں اور علم دوست ساتھی ہیں، نے کی ہے۔
    رب کریم اس کتاب کو منکرین حدیث فتنہ کے لئے بھی اور جو اس حوالے سے شکوک و شبھات میں گرفتار ہیں ان سب کے لئے ہدایت کا سبب بنا دے۔ آمین اور جملہ معاونین کو بھی اجر عظیم سے نوازے آمین۔

    کتبہ:​
    حافظ محمد سلیم​
    مدرس المعھد السلفی گلستان جوہر کراچی​
    ۲۲۔ صفر ۸۲۴۱ھ​
     
  4. ‏مئی 19، 2013 #4
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

    اَلْحَمْدُ ِﷲِ نَحْمَدُہٗ وَ نَسْتَعِیْنُہٗ وَ نَسْتَغْفِرُہٗ وَ نَعُوْذُ بِاﷲِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّاٰتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِہِ اﷲُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰـہَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُـہٗ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً وَاتَّقُوا اﷲَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اﷲَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا (سورہ النساء) یٰٓــاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا اﷲَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (آل عمران) یٰٓــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا اﷲَ وَ قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اﷲَ وَ رَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا (الاحزاب:۷۰ تا ۷۱) (حوالہ ابوداود، ترمذی باب النکاح)


    سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں (اس لئے) ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اور (اپنے ہر کام) میں اُسی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہم اس (رب العالمین) سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور اُسی (پاک ذات) پر ہمارا بھروسہ ہے۔ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے (بھی) اُس کی پناہ میں آتے ہیں۔ (یقین مانو) جسے اللہ راہ دکھا دے، اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ (خود ہی) اپنے دَر سے دھتکار دے اس کے لئے کوئی رہبر نہیں ہو سکتا۔ اور ہم (تہ ِ دل سے) گواہی دیتے ہیں کہ معبود برحق (صرف) اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں۔ اور (اسی طرح تہِ دل سے) ہم اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور آخری رسول ہیں۔ حمد و صلوٰۃ کے بعد یقینا تمام باتوں سے بہتر بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور تمام راستوں سے بہتر راستہ محمد ﷺ کا ہے۔ اور تمام کاموں سے بدترین کام وہ ہیں جو اللہ کے دین میں اپنی طرف سے نکالے جائیں (یاد رکھو) دین میں جو نیا کام نکالا جائے وہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔
     
  5. ‏مئی 19، 2013 #5
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    نبی کریم ﷺ کا یہ ایسا جامع خطبہ ہے جو آپ ﷺ ہر وعظ اور تقریر کے شروع میں پڑھا کرتے تھے۔ اس میں دو باتیں واضح ہوتی ہیں: ایک یہ اعمال کی قبولیت کے لئے نیت خالص ہو یعنی یہ کام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ عمل صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ اگر ان دونوں شرطوں سے کوئی بھی عمل خالی ہے تو وہ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں۔

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ جو شخص ان دونوں شرطوں سے انکار کرے، کسی دوسرے راستے پر چلے، نبی ﷺ کا کلمہ پڑھنے کے باوجود کسی اور کی بات اور قول و عمل کے مطابق نماز اور دیگر اعمال کرے، تو ایسا شخص سیدھے راستے سے گمراہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ دے اور خالص دین پر چلائے آمین یا رب العالمین۔

    منکرین حدیث کا فتنہ آج کل شدید ہوتا جارہا ہے اور لوگوں کو اعمال سے دور کر کے یہ خود ساختہ نظریہ دیا جارہا ہے کہ ہم کو صرف قرآن کافی ہے۔ احادیث عجمی سازش ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ انتہائی گمراہ کن نظریہ ہے۔ کیونکہ جس ہستی پر قرآن نازل ہوا ہے کیا انہوں نے قرآن پر عمل بھی کیا تھا؟ وہ عمل کیا تھا؟ کیا اُن کا عمل قرآن پر صحیح تھا؟

    آج لوگوں کو اسلام سے دُور کرنے کے لئے قرآن کی خود ساختہ تاویل کی جاتی ہے، من مانے معنی بنائے جاتے ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ ہمارے لئے صرف قرآن کافی ہے۔ قرآن ہی حجت ہے۔ قرآن ہی کی حفاظت ہو رہی ہے۔ صرف قرآن ہی پر عمل کرنا چاہیئے۔ پھر مزید احادیث کے خلاف یوں کہا جاتا ہے کہ احادیث عجمی سازش ہے۔ دین میں اضافہ ہے۔ مولویوں کا اسلام ہے۔ احادیث کا کوئی بھروسہ نہیں۔ اس قسم کی باتیں کر کے عام فہم لوگوں کو اسلام کے خلاف کیا جارہا ہے اور اسلام اور کفر کے درمیان ایک نیا راستہ بنایا جارہا ہے۔
     
  6. ‏مئی 19، 2013 #6
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    ہم عام فہم لوگوں کی آسانی کے لئے اُن حضرات سے 50 سوالات کرتے ہیں جو لوگوں کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ صرف قرآن کی ہی بات کی جائے، احادیث کی بات نہ کی جائے۔ وہ ہمارے ان سوالوں کے جواب صرف اپنے قانون کے مطابق قرآن ہی سے دیں اور اگر وہ ان سوالوں کے جواب قرآن سے نہ دے سکے تو اُن کو چاہیئے کہ حق کو تسلیم کر لیں کہ جس طرح قرآن حجت اور دین ہے اسی طرح صاحب قرآن: محمد رسول اللہ ﷺ کا عالیشان فرمان اور عمل بھی ہمارے لئے دین کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ آپ ﷺ صرف وحی کی پیروی کرتے تھے (اپنے پاس سے اعمال نہیں کرتے تھے) (سورہ یونس)۔

    بعض لوگ اپنی من پسند احادیث کو تسلیم کرتے ہیں۔ جن احادیث کو انہوں نے تسلیم نہ کرنا ہو اُس کے لئے منکرین احادیث نے خود ساختہ نظریات بنائے کہ جو حدیث عقل کے خلاف ہو وہ تسلیم نہیں کی جائے گی۔ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو وہ تسلیم نہیں کی جائے گی جبکہ یہ نظریہ ہی باطل ہے۔ ثابت شدہ احادیث کو تسلیم کرنا پڑے گا چاہے وہ ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے۔ اسی طرح کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں۔ یہ ہماری عقل کا قصور ہے۔ دونوں میں تطبیق دے کر دونوں کو تسلیم کرنا ہو گا۔ اگر بظاہر قرآنی دو آیات ایک دوسرے کے خلاف ہوں تو ہم ایک کو ضعیف کہہ کر ردّ نہیں کر دیتے بلکہ دونوں کو تسلیم کر کے تطبیق دیتے ہیں۔ اسی طرح صحیح احادیث اور قرآن میں اختلاف نہیں۔ اگر کوئی ایسی بات ظاہری طور پر محسوس ہوتی ہے تو دونوں میں تطبیق دے کر دونوں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ ایسے سوالات ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں آپ کو ملیں گے جن کے جوابات اپنی مرضی کی احادیث کو ماننے اور نہ ماننے والے اور تمام احادیث کا انکار کرنے والے کسی کے پاس نہیں ہیں (ان شاء اللہ) اللہ ہم سب کو دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ توفیق دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ہے۔ اور ہم اُسی سے توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
     
  7. ‏مئی 19، 2013 #7
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    حجیت حدیث اور فتنہ انکارِ حدیث

    انکارِ حدیث کا فتنہ پڑھے لکھے جاہلوں اور کھاتے پیتے آسودہ حال، متمول لوگوں کا فتنہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس فتنہ کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا:

    الا یوشک رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ و وجدتم فیہ من حرام فحرموہ
    خبردار! عنقریب ایک شکم سیر آدمی اپنے ’’مزین و آراستہ پلنگ یا صوفے پر بیٹھ کر کہے گا کہ تم پر اس قرآن کا (اتباع) فرض ہے۔ اس میں جو حلال ہے تم اسے حلال جانو اور جو اس میں حرام ہے تم اسے حرام جانو۔ (ابوداؤد:۱۶۳، مشکوٰۃ باب الاعتصام ص:۲۹)۔

    اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابورافع سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو، اس کے سامنے میرا حکم (از قسم امر و نہی) پیش ہو اور وہ کہے:

    لا ادری ما وجنا فی کتاب اﷲ اتبعناہ
    میں اسے نہیں جانتا، ہم تو جو کچھ کتاب اللہ میں پائیں گے اسی پر عمل کریں گے۔ (مشکوۃ: باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)۔

    ان احادیث سے ثابت ہوا کہ منکرین حدیث پر تکلف امیرانہ زندگی گذارتے ہوں گے اور خوب پیٹ بھر کر آراستہ و پیراستہ تختوں، مسندوں پر، نرم و نازک تکیوں سے ٹیک لگا کر احادیث کا ردّ اور انکار کریں گے۔ منکرین احادیث پر اللہ کے سچے مخبر صادق ﷺ کی یہ پیشگوئی لفظ بہ لفظ پوری ہو رہی ہے اور آج بنگلوں میں ٹھاٹھ سے رہنے والے اور فراغت و خوشحالی و عیش و نشاط سے زندگی گذارنے والی ہیں اور صرف قرآن کو حجت قرار دیتے ہیں۔
     
  8. ‏مئی 19، 2013 #8
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    لسانِ رسالت سے اس فتنہ کی تردید

    منکرین حدیث کے اس استدلال کا رَدّ بھی آپ ﷺ نے خود فرما دیا:

    الا انی اوتیت القرآن و مثلہ معہ … وان ما حرم رسول اﷲ کما حرم اﷲ الا لا یحل لکم الحمار الاھلی
    خبردار رہو! بلاشبہ مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کیساتھ اسکی مثل بھی دی گئی ہے … اور بلاشبہ جو رسول اللہ ﷺ نے حرام کیا ہے وہ اسی طرح حرام ہے جس طرح اللہ کا حرام کردہ ہے۔ خبردار رہو! پالتو گدھا تمہارے لئے حلال نہیں … (مشکوۃ: باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)

    ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی حرام کردہ چیزیں (جو کہ احادیث میں ہیں) وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کی طرح حرام ہیں۔ آپ ﷺ نے کئی چیزوں کی حرمت کا ذکر فرمایا جن کی حرمت قرآن میں نہیں ہے مثلاً گدھے کا حرام ہونا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر قرآن میں نہیں کیا بلکہ اسے رسول اللہ ﷺ نے حرام کیا ہے اور آپ ﷺ نے اپنے حکم کو اللہ کے حکم سے تعبیر کیا ہے۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کا حرام کرنا بھی اللہ کی وحی سے ہی ہوتا ہے۔ ثابت ہوا کہ حدیث رسول ﷺ قرآن کی طرح حجت ہے اور حدیث بھی قرآن کی طرح منزل من اللہ ہے۔
     
  9. ‏مئی 19، 2013 #9
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    قرآن کریم سے اس کا ثبوت

    رسول اللہ ﷺ پر صرف قرآن نازل نہیں ہوا بلکہ قرآن کے ساتھ حکمت بھی نازل ہوئی۔

    وَ مَا اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتَابِ وَ الْحِکْمَۃِ (سورۃ البقرۃ:۲۳۱)
    اور جو اتاری تم پر کتاب اور حکمت

    وَ اَنْزَلَ اﷲُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ (سورۃ النسآء:۱۱۳)
    اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی۔

    پھر نبی کریمﷺ کتاب اللہ کی طرح اس الحکمۃ کی بھی تعلیم دیتے تھے:
    وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ (سورۃ البقرۃ:۱۲۹)
    ’’آپ ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے تھے‘‘۔
     
  10. ‏مئی 19، 2013 #10
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    حکمت کیا ہے؟

    اللہ رب العزت نے اُمھات المؤمنین کو حکم دیا کہ یاد کرو اللہ کی آیات اور حکمت جو تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہیں۔ (سورہ احزاب:۳)

    نبی ﷺ کی بیویوں کے گھروں میں جو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتیں کی جاتی ہیں اللہ نے ان کو یاد کرنے کا حکم دیا۔ اللہ کی آیات سے مراد تو قرآن اور حکمت سے مراد رسول اللہ ﷺ کی باتیں ہی ہوتی تھیں۔ پس قرآن سے بھی یہ ثابت ہوا کہ حکمت سے مراد فرمانِ رسول ﷺ ہے جو اللہ نے نازل کیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر کتاب (قرآن) کے ساتھ جو حکمت نازل فرمائی ہے اس سے کیا مراد ہے؟ سیدنا قتادہt کہتے ہیں کہ ’’والحکمۃ أی السنۃ‘‘ حکمت یعنی سنت نبوی ﷺ ہے۔

    امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’والسنۃ الحکمۃ التی فی روعہ عن اﷲ عز و جل‘‘ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت وہ حکمت ہے جو آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں