1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکر ِحدیث سے مکالمہ

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدہ, ‏جون 01، 2015۔

  1. ‏جون 01، 2015 #1
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    تمہید:
    میری ایک تھریڈ "منکرین حدیث سے پچاس سوالات" میں اس لنک پر بات ہو رہی تھی تو وہاں کچھ بھائیوں نے منکرین حدیث کے ایک گروپ سے مکالمہ کرنے کی طرف توجہ دلائی اور پھر فیس بک پر طلحہ خان بھائی نے گروپ سے رابطہ کر کے مجھے بتایا کہ ان میں سے ایک یہاں اسی فورم پر آپ سے انکار حدیث پر مکالمہ کرنے کے لئے تیار ہے آپ تھریڈ بنا دیں پس میں نے اسی سلسلے میں یہ لنک بنایا ہے اور اب میں @طلحہ خان بھائی سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ان کو یہاں پر دعوت دیں تاکہ مکالمہ شروع کیا جا سکے اسی طرح محترم @123456789 بھائی سے بھی گزارش ہے کہ وہ اوپر والے لنک یعنی منکرین حدیث سے پچاس سوالات کی بجائے پہلے ادھر اصولی مکالمہ میں ہمارا ساتھ دیں پھر وہاں پر فروعی معاملات پر مزید بات بھی ہو گی بلکہ شاید ادھر ہی دوسرے مرحلے میں ان معاملات پر بات ہو جائے


    مکالمے کا طریقہ کار:
    مکالمے کا اصل موضوع تو انکار حدیث ہی ہے البتہ اسکو دو مرحلوں میں تقسیم کر لیتے ہیں پہلے مرحلے میں ہم بنیادی اصولوں کو طے کریں گے یعنی پہلے مرحلے میں اس اصول پر بات ہو گی کہ آیا قرآن کی طرح صحیح حدیث بھی حجت ہے کہ نہیں- اسکے طے ہونے کے بعد پھر آگے بات کو بڑھائیں گے
    طریقہ ایسے ہو گا کہ
    1- ایک طرف قرآن کو رکھیں گے اور دوسری طرف صحیح احادیث کو رکھیں گے
    2- جو احادیث کو حجت نہیں سمجھتا صرف قرآن کو حجت سمجھتا ہے وہ پہلے وہ بنیادی معیار بتائے گا کہ جو معیار کسی کلام کے منزل من اللہ ہونے کے لئے ضروری ہے اور جو اسکے لائق اتباع ہونے کے لئے ضروری ہے اور ان معیار پر قرآن تو پورا اترتا ہے مگر احادیث پورا نہیں اترتی ہیں مثلا کچھ لوگ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ جو چیز اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لکھی گئی تھی وہ حجت ہے دوسری حجت نہیں پس اسی معیار کے تحت وہ کہتے ہیں کہ چونکہ قرآن لکھا گیا تھا اور احادیث بعد میں لکھی گئی تھیں پس قرآن حجت ہوا مگر احادیث حجت نہ ہوئیں
    3-مخالف (یعنی ہم) اس معیار کو پرکھے گا اور اس پر مکالمہ کرے گا کہ آیا یہ معیار درست ہیں کہ نہیں
    4-پھر جو معیار مکالمہ کے بعد متفقہ طور پر درست ثابت ہو جائیں گے ان معیارات پر قرآن و احادیث دونوں کو پرکھا جائے گا کہ کون اس پر پورا اترتا ہے چنانچہ اس پر مکالمہ ہو گا
    5-اسکے بعد قرآن و احادیث میں جو کوئی اس متفقہ معیارات پر پورا اترے گا اس کو متفقہ طور پر حجت سمجھا جائے گا

    گزارش:
    تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ پہلے طریقہ طے ہو جانے دیں اسکے بعد طریقہ کار کے مطابق جو سوال کیا جائے گا اسی سے متعلقہ جواب کوئی بھی دے سکتا ہے کسی پر کوئی پابندی نہیں لیکن ایسی کاپی پیسٹ نہ کی جائے کہ اس موضوع سے متعلقہ ساری باتوں کو کسی ایک سوال کے جواب میں کاپی کر دیا جائے پس جو سوال پوچھا جائے یا جو بات شروع کی جائے تو صرف اتنا ہی جواب دیا جائے جزاکم اللہ خیرا

    نوٹ: ابھی ابتدائی طور پر میں نے ایک طریقہ یا خاکہ پیش کیا ہے اس پر کوئی بھائی رائے دے کر اسکو مزید بہتر بنا سکتا ہے جزاک اللہ خیرا
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 01، 2015 #2
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    محترم عبدہ بھائی صاحب السلام علیکم
    آپ نے ہمیں بات کرنے کا موقع دیا جس پر میں آپ کا تہ دل سے مشکور ہوں۔ لیکن ساتھ میں ڈر بھی گیا کہ کہیں ہم ہی منکر حدیث کی لسٹ میں شامل نہ ہوجائیں کیونکہ عنوان منکر حدیث سے مکالمہ کا ہے اور آپ نے ہمیں مینشن بھی کیا ہوا ہے۔ لیکن خیر جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ منکرین حدیث ایک تو وہ ہیں جو سرے احادیث کا انکار کرتے ہیں اور انشاء اللہ ہم ان سے دور ہیں لیکن کچھ شبہات ہمیں بھی لا حق ہیں جن کی وجہ سے دل میں ایک خلجان ہے کہ کہیں ہم ان سے مل نہ گئے ہوں اس لئے ہم نے مشارکہ میں شرکت کی۔ لیکن آپ نے اچھا کیا کہ ہمیں ان سے الگ ذکر کیا اور ہمیں اپنی بات کرنے کا موقع دیا۔
    آپ نے جو شرائط رکھی ہیں ہم ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ اور قرآن و احادیث کو حجت سمجھتے ہیں۔ لیکن احادیث میں تھوڑا تفصیل کرتے ہیں کہ جو احادیث صحیح ہوں حسن ہوں یا جن کا ضعف دیگر احادیث و قرائن سے دور ہو سکتا ہو ان سب کو قبول کرتے ہیں ۔ پھر دیگر قرائن سے کام لیتے ہوئے کسی ایک حدیث کو راجح سمجھتے ہیں ۔ جس کی ایک مثال میں نے پیش بھی کی تھی۔ سو ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ کیا تجویز فرماتے ہیں۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 01، 2015 #3
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاک اللہ خیرا مگرآپ کو محترم بھائی میں نے اپنے ساتھیوں میں ذکر کیا ہے آپ کو شاید غلط فہمی ہوئی ہے یہ دیکھیں
    آپ پہلے ان بھائی سے بات کرنے میں ہماری مدد کریں اسکے بعد جو تھوڑے بہت شکوک شبہات آپکو ہیں اس پر بات آپ سے علیحدہ کر لیں گے
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 01، 2015 #4
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    بہت شکریہ عبدہ بھائی مجھے واقعی غلطی لگی تھی جو اب دور ہو گئی ہے۔ میں بذات خود ملحدین کے پیجز پر نہیں جاتا کیونکہ وہاں شعائر اسلام کی تضحیک ہوتی ہے اور دوسری بات یہ کہ منکرین حدیث کے پیجز بھی وزٹ نہیں کرتا کیونکہ انکے تازہ شکار کئے ہوئے لوگوں کی زبان درازیاں سہنا بھی اچھے خاصے حوصلہ کا تقاضا کرتی ہے ۔ گفتگو تو وہاں ہوتی ہے جہاں افہام و تفہیم اور بات سلیقے سے کرنے کا ماحول ہو۔
    خیر اگر طلحہ بھائی مجھے انکا گروپ ایڈرس انباکس کردیں تو میں جاکر انہیں یہاں مدعو کرنے کی کوشش کرونگا۔
     
  5. ‏جون 01، 2015 #5
    عمران

    عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2015
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    محترم، میرا اس گفتگو کی بنیادی شرائط پر ہی اعتراض ہے۔ میں فیس بک کے ایک محترم بھائی جناب ٹی ایل ایچ صاحب کی درخواست پر اس فورم میں آیا ہوں، اس سے قبل بھی اس فورم پر مختلف اوقات مصروف گفتگو رہا ہوں، لیکن میرے سوالوں کا جواب دینے کی بجائے محض کفر کے فتوے لگائے گئے۔ محترم میں یہاں پر سنجیدہ گفتگو کرنا چاہتا ہوں، میں آج تک کسی پر کفر کا فتوی صادر نہیں کیا ، نہ ہی یہ مسلم کا شیوہ ہے۔ کفر و اسلام کا فیصلہ اللہ خود کرے گا، اس ضمن میں ہمیں کوئی اختیارات اللہ نے تفویض نہیں کیے ہیں۔

    بہرحال میں حدیث کو دین میں حجت نہیں مانتا لہذا میں کسی بھی حدیث کی بطور حجت قبول نہیں کروں گا۔ آپ حضرات سے گزارش ہے کہ قرآن کریم سے آپ حدیث کو ثابت کیجیے۔ اگر آپ قرآن کریم سے حدیث کا وجود ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میں بھی حدیث کو دین میں حجت تسلیم کر لوں گا اور آپکے ساتھ آپ کی تمام عبادات و رسوم میں شرکت بھی کروں گا۔ لیکن اگر آپ قرآن کریم سے حدیث کا وجود ثابت نہ کرسکے تو پھر آپ کو حق کا ساتھ دینا ہو گا اور باطل کو خیرباد کہنا پڑے گا۔ نیز میری گزارش ہے کہ جب میں کوئی سوال کروں یا نکتہ اٹھاؤں تو کفر کا فتوی لگانے کی بجائے، میں توقع کرتا ہوں کہ آپ اس کا دلائل کے ساتھ جواب دیجیے گا۔ میں توقع کرتا ہوں کہ آپ سنجیدہ گفتگو کریں گے اور دلائل کے ساتھ جواب دیں گے۔جو غصہ میں آ کر دوسرے پر کفر کے فتوے صادر کرنے لگے گا یا گالم گلوچ والی پوسٹ کرے گا ، اس سے ثابت ہو جائے گا کہ اس کے پاس دلائل نہیں ہیں اور وہ محض اپنے عقیدہ کا بھرم رکھنے کے اب گالم گلوچ اور کفر کے فتوؤں پر اتر آیا ہے۔

    نیز میری ایک اور گزارش بھی ہے کہ ہم دلائل قرآن کریم کی آیات اور عربی صرف و نحو و لغات کی روشنی میں دیں گے۔ کوئی بھی آیت پیش کرنے پر اسکے سیاق و سباق اور قرآن کریم کی مجموعی تعلیم کو سامنے رکھ کر جواب دیا جائے گا۔اگر شرائط منظور ہیں تو بسم اللہ کیجیے۔

    والسلام۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 02، 2015 #6
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  7. ‏جون 02، 2015 #7
    عمران

    عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2015
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    آغاز آپ کیجیے، میں نے آپ کو دعوت دی کہ آپ پہلے ثابت کیجیے کہ مروجہ حدیث (بخاری، مسلم، نسائی ، ترمذی، ابو داؤد وغیرہ ) اقوال رسول ہیں اور دین میں حجت ہیں۔ لیکن يہ آپ کو قرآن کریم کی رو سے ثابت کرنا پڑے گا۔ آپ ثابت کر دیجیے میں آپ کے ساتھ آپکی مروجہ نماز بھی پڑھوں گا اور آپ کے سارے عقاہد من و عن تسلیم کر لوں گا۔ لیکن آپ کے دلائل پر میں جواب پیش کرنے کا حق رکھتا ہوں، یہ ثابت تب ہو گا جب عربی صرف و نحو اور قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں آپ مروجہ حدیث کا ثبوت قرآن کریم سے فراہم کر دیں گے۔
     
  8. ‏جون 02، 2015 #8
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جی بھائی ہو سکتا ہے آپ کا پہلے کسی ایسے بھائی سے مکالمہ ہوا ہو جو جذبات میں آ گیا ہو مگر میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی پوری کوشش کروں گا کہ ایسا نہ ہو بلکہ سنجیدگی سے بات ہو

    بھائی آپ نے مکالمہ کرنے کے طریقے پر اعتراض تو کر دیا مگر نہ ہی اعتراض بتایا اور نہ ہی اعتراض کی وجہ بتائی
    پس ابھی پہلے آپ میرے طریقے پر اپنا اعتراض بتائیں اور اس اعتراض کے حق میں کوئی ٹھوس دلیل دیں تاکہ میں اپنے طریقے کار کو درست کر سکوں جیسا کہ میں نے اوپر پہلی پوسٹ کے آخر پر نوٹ میں بتایا ہے کہ کوئی بھائی اس طریقے کو بہتر بنانے میں مدد کر دے
    البتہ جیسے آپ کو میرے طریقے پر اعتراض ہے اسی طرح مجھے آپکے طریقے پر اعتراض ہے مگر میں ساتھ اعتراض بھی بتاوں گا اور اس اعتراض کے حق میں ٹھوس دلیل بھی دوں گا ان شاءاللہ البتہ دفتر میں تھوڑا کام کر رہا ہوں ابھی تھوڑی فرصت میں لکھتا ہوں
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 02، 2015 #9
    حافظ اختر علی

    حافظ اختر علی سینئر رکن
    جگہ:
    قصور،پنجاب،پاکستان
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    768
    موصول شکریہ جات:
    726
    تمغے کے پوائنٹ:
    317

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! یہ مکالمہ اصل میں بنیادی طور پر مسلمین کے درمیان ہے۔ اس لیے گفتگو میں تمہید کے طور پر میں گزارش کروں گا کہ اس کو فتویٰ نہ سمجھا جائے بلکہ پہلے اپنا اسلام ثابت کر دیا جائے تاکہ یہ یقین ہو سکے کہ واقعی مسلمین کے درمیان مکالمہ ہے:
    سوال یہ ہے کہ :
    محترم عمران صاحب قرآن سے یہ ثابت کریں کہ وہ واقعی وہ مسلم ہیں جس کا تعلق امت محمدیہ سے ہے
    جزاکم اللہ خیرا
     
  10. ‏جون 02، 2015 #10
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    آپ کے اوپر والے طریقہ کار پر اعتراض سے پہلے تمہید
    میں اس اعتراض کو سمجھانے سے پہلے نمبر وار کچھ باتیں شروع سے لکھنا چاہوں گا
    1۔دیکھیں بھائی ہمارا آپ کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ ہمارا خالق ہے اور ہم سب کو اللہ کا حکم ماننا لازمی ہے
    2۔ مگر ہمارا آگے اختلاف یہ ہو جاتا ہے کہ اللہ کا حکم ہمیں کیسے ملے گا پس ہم نے اس اختلاف کو رفع کرنا ہے کہ اللہ کا حکم ہمیں کیسے ملے گا
    3۔اس سلسلے میں آپ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اللہ کا حکم صرف قرآن میں ملے گا یعنی آپ قرآن کو حجت مانتے ہیں
    4۔ اور ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اللہ کا حکم قرآن میں بھی اور صحیح احادیث میں بھی مل سکتا ہے یعنی ہم قرآن و صحیح حدیث دونوں کو حجت مانتے ہیں
    5۔اب اس اختلاف کو دور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ اور ہم ان معیارات کو طے کر لیں کہ جس سے وہ چیز حجت بن جائے اور یہی میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں لکھا تھا
    6۔پس آپ اگر صرف قرآن کو حجت مانتے ہیں اور حدیث کو حجت نہیں مانتے تو آپ کو یہ بتانا ہو گا کہ اسکی دلیل کیا ہے یا ایسا کون سا معیار ہے کہ جس پر قرآن تو پورا اترتا ہے مگر صحیح حدیث اس پر پورا نہیں اترتی
    7۔اگر آپ ہم سے یہ پوچھنا چاہیں کہ ہم حدیث کو کن معیارات پر حجت مانتے ہیں تو ہم ابھی بتا دیتے ہیں کہ ہم حدیث کو ان معیارات پر پورا اترنے کی وجہ سے حجت مانتے ہیں کہ جن معیارات پر قرآن پورا اترتا ہے اور ساتھ یہ بھی چیلنج کرتے ہیں کہ آپ بھی انہیں معیارات کی وجہ سے ہی قرآن کو حجت مانتے ہیں ورنہ انکے علاوہ قرآن کو حجت ماننے کا آپ کے پاس کوئی علیحدہ معیار نہیں ہے

    اگر اوپر نمبرز پر اختلاف ہے تو وہی نمبر لکھ کر اس کی اصلاح کر دیں اور اگر اتفاق ہے تو پھر میرا آپ کے طریقہ کار پر اعتراض مندرجہ ذیل ہے
    میرا اعتراض:
    میرا اعتراض یہ ہے کہ میں نے جب اوپر قرآن کے حجت ہونے پر آپ سے معیار پوچھا تو آپ نے اسکو غیر ضروری شرط کہ کر نظر انداز کر دیا مگر مجھ سے حدیث کو حجت ثابت کرنے مطالبہ کر دیا اور اس پہ بھی ظلم یہ کیا کہ حدیث کو حجت ثابت کرنے کا معیار بھی میرے لئے خود ہی متعین کر دیا کہ مجھے کہ دیا کہ آپ کے لئے حدیث کو حجت ثابت کرنے کا معیار قرآن ہے
    بھائی آپ خود ہی بتائیں کہ کیا یہی انصاف ہے میں نے تو اوپر آپ کو بغیر دلیل کسی معیار کو ماننے کا نہیں کہا بلکہ جتنی بھی باتیں لکھی ہیں وہ دلائل کی روشنی میں ہی لکھی ہیں پس آپ بھی دلائل کی روشنی میں پہلے کسی چیز کے حجت ہونے کے معیار کا تو تعین کریں

    ضروری اشکال کا ازالہ:
    اگر آپ کے سامنے یہ اشکال ہو کہ
    ہم اور آپ جب دونوں قرآن کو حجت مانتے ہیں تو پھر قرآن کے حجت ہونے پر بات کرنے کی کیا ضرورت ہے جس میں اختلاف ہے اسی پر بات کرنی چاہئے یعنی حدیث پر بات کرنی چاہئے اور اسکے لئے معیار قرآن کو ماننا ہی درست ہے کیونکہ وہ متفق علیہ ہے تو ایک متفق علیہ چیز ہی معیار بن سکتا ہے
    تو اس سلسلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس میں مندرجہ ذیل دو چیزوں کو مکس کر دیا گیا ہے
    1۔کسی چیز کے قابل اتباع یا حجت ہونے کے لئے جو معیارات ہیں قرآن ان معیارات پر پورا اترتا ہے
    2۔کسی چیز کے قابل اتباع یا حجت ہونے کے لئے صرف ایک ہی معیار ہے یعنی قرآن

    تو معاف کیجیئے گا ہمارا اور آپ کا اتفاق پہلے نمبر پر تو ہے دوسرے نمبر پر بالکل نہیں مگر آپ پہلے نمبر کے اتفاق کو ڈھال بناتے ہوئے دوسرے نمبر کے بارے اتفاق ثابت کرتے ہیں اور پھر اسی کے تحت حدیث کے حجت ہونے کے لئے قرآن سے ہی پوچھ رہے ہیں
    ویسے اس سلسلے میں ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا
    فرض کریں کہ واپڈا والوں نے ایک خاص معیار رکھا ہوا ہے کہ جس کو حاصل کرنے والوں کو وہ اس سال بونس دیتے ہیں میرے دفتر کا ایک ساتھی خالد اس خاص معیار کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور واپڈا سے ایک بونس حاصل کرتا ہے اب میں بھی اس معیار کو حاصل کر چکا ہوتا ہوں جب میں بونس حاصل کرنے کی بات کرتا ہوں تو واپڈا والے کہتے ہیں
    کہ تمھیں ہم بونس نہیں دے سکتے
    تو میں کہتا ہوں کہ آپ نے میرے ساتھی خالد کو بھی تو بونس دیا ہے اسکو کیوں دیا ہے
    تو واپڈا والے کہتے ہیں کہ کیا ہم نے خالدکو غلط بونس دیا ہے
    میں کہتا ہوں کہ آپ نے درست بونس دیا ہے
    واپڈا والے کہتے ہیں کہ پھر جب آپ ہم سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہم نے اسکو درست بونس دیا ہے تو پھر یہ کیوں کہتے ہو کہ آپ نے خآلد کو کیوں بونس دیا ہے یہ تو آپ اپنی بات کی مخآلفت کر رہے ہو پس جب آپ خآلد کے بونس کو درست سمجھتے ہو تو اسکی بات نہ کرو اپنے بونس کی بات علیحدہ کرو
    ساتھ ہی واپڈا والے یہ کہتے ہیں کہ اب چونکہ خالد ہمارے اور آپ کے درمیان متفق علیہ ہو گیا یعنی ہمارا اور آپ کا اس پر اتفاق ہو گیا پس جب خالد کہے گا تو ہم تم کو بونس دے دیں گے

    اب آپ بتائیں کہ جب میں اس مثال میں واپڈا والوں سے یہ کہوں گا کہ آپ بونس دینے کا معیار بتائیں کیونکہ جس معیار کی بنیاد پر خالد کو بونس مل سکتا ہے اس پر مجھے بھی ملنا چاہئے
    پس ہمیں قرآن کے حجت ہونے پر اختلاف نہیں مگر جن معیارات کی بنیاد پر قرآن حجت ہو سکتا ہے اسی معیار پر اگر صحیح احادیث بھی پورا اتر جائیں تو وہ کیوں حجت نہیں ہو سکتیں
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں