1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکر ِحدیث سے مکالمہ

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدہ, ‏جون 01، 2015۔

  1. ‏اگست 16، 2015 #41
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @عبدہ بھائی
    باسمِ ربی۔ محترم ابن قدمہ صاحب میں پہلے بھی عرض کر چکا ھوں کہ قرآن کو حجت ماننے کے جو دلائل قرآنِ کریم پیش کرتا ھے وہی میرے لئے قابلِ قبول ھونگے۔ مثلاً اُن کی پیش کردہ دلیل اُس دائرہ کار سے باہر نہ ھو اور قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم سے اختلافی نہ ھو۔ اور اُس کے اعلانات و چیلنجز کے مطابق ھو۔ اب اس سے آسان کونسی بات ھو گی جو وہ پوچھنا چاہ رھے ہیں۔ اگر اُن کو نہیں معلوم تو وہ خود سے قرآنِ کریم سے جاننے کی کوشیش کریں۔ ورنہ جب وہ قرآن کی کسی آیت سے اختلافی تصور پیش کریں گے تو میں اُن کا رد قرآنی ریفرنس دیکر کرونگا۔ اس طرح اُن کو معلوم ھوتا جائے گا کہ قرآنِ کریم کی حجت ھونے کے کون کونسے دلائل قرآنِ کریم دے رہا ھے۔
    مجھے حیرت ھے کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رھے ہیں۔ بار بار اس بات کا اعادہ کر چکا ھوں۔ قرآن حجت ھے۔ اور اُس کے مطابق ہر دلیل مجھے قبول ھے۔ پھر بھی وہ حجت ھونے کی دلیل مانگ رھے ہیں، مجھے حیرت اس بات پر ھو رہی ھے کہ اُن کے علم کا یہ حال ھے کہ وہ جیسے قرآن کریم کو جانتے ہی نہیں۔ اور پھر بھی دین پر خود کو سکہ مانتے ہیں۔ اور دین پر گفتگو کے خواہاں ہیں۔ پلیز اُن سے کہہ دیں۔ کہ کیا ایسا ممکن ھے کہ قرآنِ کریم کی کسی آیت کے سامنے آ جانے کے بعد اُس پر ایمان رکھنے والا اُس سے انحراف کر سکے۔ اس سے بڑی حجت اور کیا ھو سکتی ھے۔
    اگر کہیں مفہوم کو غلط ملط پیش کیا جا رہا ھو گا تو یقیناً وہ قرآنِ کریم کی دیگر آیت سے اختلافی ھو گا۔ تو وہ باآسانی واضح جائے گا۔ اس لئے اگر قرآنِ کریم کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ تو اُن کو بات شروع کر دینی جاھئیے۔ اور اگر ایسا نہیں ھے تو خواہ مخواہ کامںٹس کا تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت نہیں ھے۔
    محترم ابن قدمہ صاحب آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے کسی فورم پر کسی کو کسی پر التزامی یا جاہلانہ کامنٹس کرنے کی اجازت نہیں ھوتی۔ اس لئے آپ کے عالم صاحب کو حجاب کی ضرورت نہیں۔ وہ یہاں آئیں اور خود سے بات کریں تو زیادہ بہتر ھو گا۔ لیکن اگر وہ آپ کے ذریعے سے ہی گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ھے۔
    وہ لکھتے ہیں کہ۔
    " پس سب سے پہلے ہمیں قرآن کے حجت ہونے کیدلیل دیں یاتسلیم کریں کہ آپ اسکو بغیر دلیل ہی حجت مانتے ہیں پھر ہم بھی وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کو حدیث کے حجت ہونے کی بالکل اسی طرح دلیل دیں گے"
    یہ بھی خوب کہی۔ اُن سے کہہ دیں کہ روایات کو قرآن کی طرح حجت ثابت کرنا اُن کے بس کی بات نہیں ھے۔ تمام روایات ایک دوسرے سے اختلافی ہیں۔ کیا وہ اُن کے باہمی اختلاف کر ختم کر سکتے ہیں۔ پلیز آپ جب اُن سے بات کریں تو سونے کے اوقات کار سے 3 گھنٹے بعد میں رابطہ کیا کیجئیے۔ کیونکہ ذہن پر اگر غنودگی ھو تو انسان ایسے ہی دعویٰ کر دیا کرتا ھے جن کی تکمیل اُس کے بس کی بات نہیں ھوتیں۔
    ثم تتفکرو۔
     
  2. ‏اگست 17، 2015 #42
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    اب یہ قارئین ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آسان بات کون سی ہے
    میں آسان الفاظ میں پوچھ رہا ہوں کہ کیا قرآن کے حجت ہونے کے کوئی دلائل ہیں یا آپ بغیر دلیل کے ہی اس قرآن کو حجت منوانا چاہتے ہیں تو اسکا انہوں نے پہلے یہی جواب دیا تھا کہ ہمارے پاس ٹھوس دلائل ہیں جسکی وجہ سے ہم قرآن کو حجت سمجھتے ہیں تو میں بار بار وہ ٹھوس دلائل پوچھ رہا ہوں اور انکی حالت یہ ہے کہ گلے میں پھنسی ہدی کی طرح اس چیلنج کو نہ نگل سکتے ہیں نہ ہی اگل سکتے ہیں دعوے اتنے لمبے لمبے کہ جیسے انکے پاس قرآن کے حجت ہونے کے بہت دلائل ہیں مگر بتانے پر ایک دلیل بھی تیار نہیں
    اگر انکے پاس واقعی دلائل ہیں کہ قرآن حجت ہے تو ہاتھ گنگن کو آرسی کیا کوئی ایک آدھ دلیل تو ذکر کر دیں تاکہ ہم انکے مکرو فریب کے جالے کے تار کھول سکیں
    یہاں یہ بات یاد رہے کہ وہ اوپر قرآن کے حجت ہونے کی ایک ہی دلیل دے رہے ہیں کہ قرآن کہتا ہے کہ میں حجت ہوں پس قرآن حجت ہے تو میرا سوال کا جواب دیں کہ کیا انکے نزدیک یہ دلیل درست ہے کہ کوئی انسان خود کہے یا کوئی کتاب خود کہے کہ میں حجت ہوں تو وہ بس صرف اسی دلیل سے ہی حجت بن جاتی ہے اگر یہ دلیل انکے ہاں قابل قبول ہے تو پھر تو اکثر کتابیں یہی کہتی ہیں مثلا سبز پگڑی والوں کی کتاب فیضان سنت کے اندر بھی اس کتاب کے حجت ہونے کا لکھا ہوا ہے اسی طرح احادیث (روایات) بھی خود کو قابل حجت کہتی ہیں جیسا کہ روایت ہے انما اوتیت القران ومثلہ معہ والی روایت ہے
    پس اگر موصوف یہ دلیل مانتے ہیں کہ کوئی کتاب خود جب اپنے آپ کو حجت کہ دے تو وہ ایک ہی دلیل اسکے حجت ہونے کے لئے کافی ہوتی ہے تو پھر ہم احادیث کے حجت ہونے کی بھی اسی طرح کی دلیل دے سکتے ہیں اور اگر وہ یہ کہیں کہ نہیں کسی کتاب کے حجت ہونے کے لئے خالی یہی کافی نہیں کہ اس کتاب میں یہ لکھا ہو کہ وہ بہترین کتاب اور حجت ہے بلکہ کچھ اور بھی ٹھوس دلائل ساتھ ساتھ ہوتے ہیں تو پھر میرے اوپر سوال کا جواب دیں کہ وہ اور دلائل قرآن کے ھجت ہونے کے کیا ہیں تاکہ میں اسی طرح کے دلائل الحمد للہ حدیث کے لئے دے سکوں


    موصوف کے بار بار اعادہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ میرے جواب کا اعادہ کر رہے ہیں بلکہ میں سوال چنا کر رہا ہوں اور وہ جواب باجرہ دے رہے ہیں اور پھر میں چنا سوال کرتا ہوں تو وہ باجرہ جواب دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ کہ بھی رہے ہیں کہ مجھے حیرت ہے کہ انکو جواب کی سمجھ کیوں نہیں آ رہی
    تو موصوف کو بتا دیں کہ مجھے آپ سے بھی زیادہ حیرت ہے کہ میں یہ پوچھ ہی نہیں رہا کہ قرآن حجت ہے یا نہیں اور آپ جواب قرآن حجت ہے قرآن حجت ہے دیے جا رہے ہیں میں تو بار بار یہ پوچھ رہا ہوں کہ قرآن کیوں حجت ہے اسکے دلائل کیا ہے تاکہ وہی دلائل میں حدیث کے حجت ہونے پر بھی دے سکوں مگر اسکا جواب آپ نے ایک دفعہ بھی نہیں دیا اگر کہیں دیا ہے تو وہ مجھے دکھا دیں لیکن وہ اوپر والی دلیل نہ ہو کہ قرآن خود کہتا ہے کہ میں حجت ہوں کیونکہ خالی اسکو آپ بھی اور کوئی بھی عقل مند دلیل نہیں مانے گا کہ کوئی کتاب خود اپنے بارے کہے کہ میں حجت ہوں یا بہترین کتاب ہوں


    کیا کوئی عقل مند آپکی اس بات کو قرآن کے حجت ہونے کی دلیل مان سکتا ہے
    یا تو آپ یہ کہ رہے ہیں کہ جس کے سامنے بھی قرآن کی آیت آئے گی وہ اسکا کبھی انکار نہیں کر سکتا پس یہ اسکے حجت ہونے کی دلیل ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے کیونکہ قرآن کا انکار کیا جاتا رہا ہے
    اور اگر آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ قرآن کی آیت سامنے آنے کے بعد کسی کو بھی اسکا انکار نہیں کرنا چاہے پس یہ اسکے حجت ہونے کی دلیل ہے مگر سوال یہ ہے کہ کسی کو اس قرآن کی آیت کے سامنے آنے کے بعد اسکا انکار کیوں نہیں کرنا چاہئے اسکا جواب ہی میرے اور منکر حدیث کے درمیان حل نزاع ہے یعنی اختلاف ہی یہی ہے
    پس جب ہمیں یہ سمجھ آ جائے گی کہ فلاں دلیل کی وجہ سے یہ پتا چلتا ہے کہ قرآن کی کسی آیت کا انکار نہیں کرنا چاہئے تو اگر اسی طرح کی دلیل حدیث کے بارے میں بھی مل جائے تو پھر ہمیں حدیث کا انکار بھی نہیں کرنا چاہئے
    پس اسی وجہ سے میں بار بار پوچھ رہا ہوں کہ قرآن کی کسی آیت کے سامنے آنے کے بعد ہمارے لئے کچھ دلائل کی بنیاد پر یہ ممکن ہی نہیں کہ اسکے خلاف چل سکیں پس وہ دلائل کیا ہیں وہی اس قرآن کے حجت ہونے کے دلائل ہیں اور انہیں کی وجہ سے میں بعد میں احادیث کو بھی حجت ثابت کروں گا اگر موصوف نے اپنی زبان کو کھول دیا اور قرآن کے حجت ہونے کے دلائل بتا دیئے


    جی کبھی کبھی وہ دلائل نکلنا شروع ہو جاتے ہیں کہ جنکی بنیاد پر قرآن کو حجت مانا جاتا ہے مثلا اوپر انہوں نے ایک دلیل دی ہے کہ قرآن میں اختلاف نہیں ہے اور احادیث میں اختلاف ہے پس قرآن حجت ہے اور احادیث حجت نہیں ہیں تو میں یہی تو چاہتا ہوں کہ اس طرح کے آپ دلائل دیں تاکہ ہم اسکو پرکھ سکیں اور دیکھ سکیں کہ کیا واقعی احادیث کے بارے وہ دلائل پورے نہیں اترتے تو پھر ہم بھی آپ کی بات مان لیں ورنہ اگر ہم ثابت کر دیں کہ وہ دلائل حدیث پر بھی پورے اترتے ہیں تو آپ کو پھر ہماری بات ماننی چاہئے

    پس آپکا پہلی دلیل کہ قرآن حجت ہے مگر حدیث حجت نہیں وہ مندرجہ ذیل ہے
    قرآن میں اختلاف نہیں مگر احادیث میں اختلاف ہے
    اس پہلی دلیل کی صدیق کر دیں اور باقی دلائل بھی اب منہ سے نکال دیں تاکہ ہم انکو پرکھ سکیں مثلا قرآن لکھا ہوا تھا اور حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لکھی ہوئی نہیں تھی اسی طرح قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا مگر حدیث کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے نہیں لیا وغیرہ
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏اگست 19، 2015 #43
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @عبدہ بھائی
    باسمِ ربی۔ محترم ابن قدمہ صاحب مجھے اب حیرت آپ کی عقل پر ھو رہی ھے جو آپ اُن کے فضول کامنٹس کو پیش کر رھے ہیں۔ اوپر میرے کامنٹس میں جائیں اور دیکھیں کہ کیا میں نے نہیں کہا کہ قرآن کی حجت کا ایک چیلنج یہ ھے کہ اُس میں اختلافات نہیں ہیں۔ کیا یہ دلیل کافی نہیں ھے۔ وہ تو کیا ساری دنیا کے ملاں مل کر بھی احادیث کو قرآن کی طرح حجت ثابت نہیں کر سکتے۔ یہ میرا چیلنج ھے۔ لیجئیے ۔ یہ کامنٹس اُن کو پیش کر کے شرم دلائیں کہ آنکھیں کھول کر دیکھیں اور فضول کامنٹس سے پرہیز کریں۔ ثم تتفکرو۔ "
    یہ بھی خوب کہی۔ اُن سے کہہ دیں کہ روایات کو قرآن کی طرح حجت ثابت کرنا اُن کے بس کی بات نہیں ھے۔ تمام روایات ایک دوسرے سے اختلافی ہیں۔ کیا وہ اُن کے باہمی اختلاف کر ختم کر سکتے ہیں۔ پلیز آپ جب اُن سے بات کریں تو سونے کے اوقات کار سے 3 گھنٹے بعد میں رابطہ کیا کیجئیے۔ کیونکہ ذہن پر اگر غنودگی ھو تو انسان ایسے ہی دعویٰ کر دیا کرتا ھے جن کی تکمیل اُس کے بس کی بات نہیں ھوتیں۔
    باسمِ ربی۔ محترم ابن قدمہ صاحب آپ کے عالم صاحب ساری زندگی میں قرآن کی کسی دلیل کے مطابق روایات کو پیش نہیں کر سکیں گے۔ کیوں بیچارے کو شرمندگی سے دوچار کرنے پر تلے ھو۔ وہ جان چھڑوانے کے چکر میں فضول کامنٹس بار بار دے رھے ہیں۔ اور آپ کو سمجھ ہی نہیں آ رہی۔ ثم تتفکرو۔
     
    Last edited: ‏اگست 19، 2015
  4. ‏اگست 22، 2015 #44
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بھائی یہی تو ان سے بار بار پوچھ رہا ہوں کہ آپ وہ دلائل لکھ دیں جن کے مطابق آپ سمجھتے ہیں کہ لائق اتباع ہونے میں قرآن کو روایات پر برتری حاصل ہے پس سیدھے طریقے سے وہ دلائل کیوں نہیں لکھ دیتے جیسا کہ اوپر ایک دلیل لکھی ہے کہ قرآن میں اختلاف نہیں اور روایات میں اختلاف ہے پس یہ قرآن کے لائق اتباع ہونے کی اور روایات کے لائق اتباع نہ ہونے کی دلیل ہے
    اسی طرح میں باقی دلائل جو آپ کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں اور اوپر آپکی پوسٹ سے ہی اخذ کیے ہیں وہ بھی اوپر پوسٹ میں لکھے ہوئے تھے دوبارہ یہاں لکھ دیتا ہوں
    محترم ابن قدامہ بھائی آپ پہلے ان اوپر سات پوائنٹ کو ان صاحب سے کلیئر کروا دیں اور انہوں نے کوئی اور معتبر دلیل بھی ایڈ کرنی ہے تو کر لیں تاکہ پھر میں بھی اسی طرح کے ہی دلائل حدیث کے لئے دے سکوں جزاکم اللہ خیرا

    ساتھ یہ بھی سوال کریں کہ ان اوپر سات دلائل کے علاوہ کوئی ایک بھی دلیل انکے پاس ایسی ہے جو یہ ثابت کرے کہ قرآن تو لائق اتباع ہے مگر حدیث لائق اتباع نہیں تو وہ بتائیں تاکہ اسکی دلیل کی حقیقت لوگوں پر کھول سکیں

    سبحان اللہ کہ رہے ہیں کہ قرآن کی کسی دلیل سے روایت کو ثابت نہیں کر سکتے بھئی پہلے یہ تو کسی دلیل سے ثابت کرو کہ سب کچھ صرف قرآن کی دلیل سے ہی ثابت ہو سکتا ہے

    یعنی کوئی ایک دلیل لکھ کر دو کہ سب کچھ صرف قرآن کی دلیل سے ہی ثابت ہو سکتا ہے


    یہ تو قارئین ہی دیکھ سکتے ہیں کہ کون جان چھڑوا رہا ہے اور اگرچہ خود بار بار کہ رہا ہے کہ قرآن کے حجت ہونے کے دلائل موجود ہیں مگر وہ دلائل دینے کی ہمت نہیں کر رہا کیونکہ جس طرح کے دلائل قرآن کے حجت ہونے کے ہیں اسی طرح کے دلائل تو روایات کے حجت ہونے کے بھی موجود ہیں اور یہ بات وہ بھی اچھی طرح جانتا ہے
     
    • پسند پسند x 4
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 24، 2015 #45
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @عبدہ بھائی
    باسمِ ربی۔ محترم ابن قدمہ صاحب سلامتی و رحمت ھو۔ آپ آپ کے عالم صاحب کو کتاب قرآن فہمی کے قرآنی اصول و قواعد پیش کر دیں۔ ذیل میں شاید پچھلے ماہ ہی پوسٹ کی تھی۔ اُن سے کہہ دیں۔ قرآنِ کریم کے حجت ھونے کے دلائل کے علاوہ اُن اصول و قواعد کو بھی ایک نظر دیکھ لیں۔ اگر کسی اصول یا قائدے پر اعتراض ھو تو پہلے اُس کو پیش کر دیں۔ اُس میں تمام قرآنی شرائط درج ہیں۔ وہی شرائط قرآن کریم سے استفعادہ کے لئے میری جانب سے ھے۔ جہاں تک دلائل کی بات ھے تو میں نے جو نوٹ پیش کیا تھا اُس میں جن دلائل کی بنا پر روایات کو غیر اسلامی ثابت کیا ھے۔ اُس کے رد سے گفتگو کا آغاز کریں۔ اور اگر کوئِ ایسی شق پیش ھونے سے رہ گئی تو وہ جس مقام پر سامے آئے گی۔ میں وضاحت کر دوں گا۔ ثم تتفکرو۔
     
  6. ‏اگست 25، 2015 #46
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بھئی میں روایات کے قابل حجت ہونے کے دلائل تو تب شروع کر سکتا ہے کہ جب مجھے آپ کے ہاں قابل قبول دلائل کا معیار معلوم ہو سکے اور اسکے لئے چونکہ آپ کے ہاں قابل قبول چیز قرآن ہے تو اس قرآن کو آپ نے جن دلائل کی بنیاد پر قبول کیا میں انہیں دلائل کو روایات کے حق میں پیش کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے آپ کے دلائل بار بار پوچھ رہا ہوں کہ آپ قرآن کو حجت کن دلائل کی بنیاد پر سمجھتے ہیں مگر آپ یہ تو تسلیم کر رہے ہیں کہ آپ قرآن کو کچھ ٹھوس دلائل کی وجہ سے حجت سمجھتے ہیں مگر بار بار وہی دلائل بتانا نہیں چاہ رہے
    میں نے آپ کی پریشانی کو کم کرنے کے لئے آپ کی پوسٹ سے ہی اخذ کیے گئے آپ کے دلائل لکھے ہیں کہ
    آپ مندرجہ ذیل دلائل کی وجہ سے قرآن کو حجت سمجھتے ہیں

    میرا سوال
    آپ بتائیں کہ کیا آپ کا یہی نظریہ ہے کہ قرآن اوپر سات دلائل پر پورا اترتا ہے مگر روایات ان سات دلائل پر پورا نہیں اترتیں پس روایات کو حجت نہیں ماننا بلکہ صرف قرآن کو ماننا ہے
    ادھر ادھر کی باتیں لکھنے کی ضرورت نہیں صرف اوپر سوال کا جواب ہاں یا ناں میں دیں
    آپ جیسے ہی ہاں میں جواب دیں گے تو میں ثابت کروں گا کہ ان سات دلائل پر روایات کیسے پوری اترتی ہیں
     
    Last edited: ‏اگست 27، 2015
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 03، 2015 #47
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    باسمِ ربی۔ محترم قدامہ صاحب سلامتی و رحمت ھو۔ آپ کیوں وقت برباد کر رھے ہیں۔ آپ کے عالم صاحب کو معلوم ھے کہ وہ جس باطل کو حق ثابت کرنے کی ناکام کوشیش کرنے والے ہیں۔ وہ اُن کے تو کیا ساری دنیا کے انسانوں کے لئے بھی ناممکن ھے۔ آپ خود شاہد ھو کہ جو کامںٹس آپ نے اُن کو دیئے تھے۔ اُن مین قرآن کے حجت ھونے کے دلائل پیش کئے جا چکے ہیں۔ پھر یہ بھی کہہ دیا تھا کہ قرآن کریم کا من جانب اللہ ھونے کی دلیل یہ ھے کہ وہ باہمی اختلاف کا شکار نہین ھے۔ اس کے باوجود وہ کونسی دلیل چاہ رھے ہیں۔ چلئیے اُن سے کہیئے کہ صرف روایات کا باہمی اختلافی نہ ھونا ثابت کر دیں۔ یعنی ایک حدیث دوسری حدیث سے اختلاف نہ کرتی ھو۔ باقی میں تو آپ کے عالم صاحب کو بعد میں دیکھتے ہیں کچھ شروع کرین تو۔ 3 ماہ ھونے کو آ گئے اور جناب کو ابھی تک قرآن کریم کے حجت ھونے کے دلائل معلوم نہ ھو سکے۔ کمال کرتے ہیں آپ۔ کس کے پیچھے لگے ھوئے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ یہاں روزانہ قرآنِ کریم کے حجت ھونے کے دلائل پیش کئے جاتے ہیں اور اہلِ روایات علم گفتگو نہیں کر پاتے۔ثم تتفکرو۔
     
  8. ‏ستمبر 03، 2015 #48
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    اللہ ہدایت دے کہ میں خود انکے پیش کیے گئے دلائل ہی خلاصہ کے ساتھ بار بار سات نمبروں میں لکھ رہا ہوں اور ان سے اقرار کروانا چاہتا ہوں مگر ہر دفعہ وہ یہ اقرار نہیں کرنا چاہتے کہ ہمارے قرآن کے حجت ہونے کے یہ دلائل ہیں
    اسکی وجہ بھی میں بتا دیتا ہوں کہ کیوں یہ بار بار قرآن کے حجت ہونے کے دلائل لکھ تو رہے ہیں مگر جب میں انکو سات نمبر میں لکھ کر ان سے اسکی تصدیق کروانا چاہتا ہوں تو اس طرف آنے کو تیار نہیں وجہ یہ ہے کہ انکو پتا ہے کہ اس طرح کے دلائل حدیث کے بارے میں بھی موجود ہیں اور ہم ان دلائل کی بنیاد پر حدیث کو رد نہیں کر سکیں گے ورنہ قرآن کو بھی رد کرنا پڑے گا پس اس وقت یہ پینترا بدلیں گے اور کہیں گے کہ نہیں جی قرآن کے حجت ہونے کے یہ ساتھ دلائل نہیں بلکہ اسکے حجت ہونے کی دلیل صرف یہ ہے کہ تم اسکو مانتے ہو اور ہم بھی اسکو مانتے ہیں پس اس متفق چیز پر بحث کرنے کی بجائے حدیث پر بات کرو

    یہ تین ماہ ہونے کو ہیں اور یہ بار بار قرآن کے حجت ہونے کے دلائل لکھ بھی رہے ہیں مگر جب انکو سات نمبر میں اقرار کرنا پڑتا ہے تو ٹال مٹول کرتے ہیں بھلا اسکو کیا کہیں گے جو نہ نگلی جا سکے اور نہ اگلی جا سکے
    پھر بھی میں ایسے کرتا ہوں کہ جو ایک بات انہوں نے لکھی ہے کہ قرآن میں باہمی کوئی اختلاف نہیں مگر حدیث میں باہمی اختلاف ہے اسی پر اپنے دلائل پیش کرتا ہوں اگلی فرصت میں ان شاءاللہ
     
    • پسند پسند x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 05، 2015 #49
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    انکا دعوی یہ ہے کہ جس چیز میں باہمی اختلاف ہو یعنی ایک بات دوسری بات کے خلاف ہو تو وہ قابل حجت نہیں ہو سکتی پس قرآن کی آیات میں آپس میں اختلاف نہیں ہے مگر احادیث میں آپس میں اختلاف ہے اس لئے قرآن حجت ہے مگر حدیث حجت نہیں ہے

    اس سلسلے میں وضاحت یہ کرنی ہے کہ جب کوئی انسان کسی کتاب کے بارے یہ دعوی کرتا ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں تو اسکے دعوی کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں
    1-پہلا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ اس کتاب کی دو باتوں میں ظاہری یا لفظی اختلاف بھی نہیں اور حقیقی اختلاف بھی موجود نہیں
    2-دوسرا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ اس کتاب کی دو باتوں میں حقیقی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ لفظی یا ظاہری اختلاف نظر آ سکتا ہے جس میں کسی ٹھوس عقلی دلیل پر تطبیق دی جا سکتی ہے مثلا سیاق و سباق کے حوالے سے بات کا فرق ہو جانا یا ناسخ منسوخ کے لحاظ سے یا خاص و عام کے لحاظ سے فرق ہو جانا ممکن ہے


    اب ہمارا حدیث کے بارے دوسرا دعوی ہے کہ دو احادیث میں کبھی ظاہری اختلاف نظر آ سکتا ہے مگر حقیقت میں وہ اختلاف نہیں ہوتا بلکہ ان میں ٹھوس عقلی بنیادوں پر تطبیق دی جا سکتی ہے

    اور ہمارا یہ بھی دعوی ہے کہ
    1- قابل حجت ہونے کے لئے ظاہری اختلاف مانع نہیں بن سکتا جب تک ان دو احادیث میں ٹھوس عقلی بنیادوں پر تطبیق ممکن ہو
    2-جب مختلف الحدیث میں ٹھوس عقلی بنیادوں پر تطبیق ممکن نہ ہو تو ہم بھی وہاں توقف ہی کرتے ہیں اسکو قابل عمل نہیں کہتے
    3-ہمارا یہ بھی دعوی ہے کہ ظاہری اختلاف تو پھر قرآن میں بھی موجود ہے البتہ وہ مختلف ٹھوس عقلی دلائل کی بنیاد پر رفع ہو جاتا ہے

    اگر آپ کو اوپر ہمارے تین پوائنٹس میں کسی پر اعتراض ہے تو اس پر اعتراض پیش کر سکتے ہیں اور اگر آپ کو قرآن کے لفظی اختلاف کی دلیل چاہئے ہو تو وہ ہم آپ کے سامنے ایک ایک کر کے پیش کر سکتے ہیں

    نوٹ: یہ یاد رہے حدیث سے ہماری مراد صحیح و صریح و مرفوع حدیث ہے کیونکہ ہم اسی کو ہی حجت سمجھتے ہیں اس پر اگر کوئی اعتراض ہو تو علیحدہ سے اس کو ٹھوس دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ہم صرف صحیح و صریح و مرفوع حدیث کو ہی حجت سمجھتے ہیں
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 10، 2015 #50
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    یاد دہانی
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں