1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

من طلبنی وجدنی....... تحقیق درکار ہے

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏اپریل 26، 2017۔

  1. ‏اپریل 26، 2017 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,043
    موصول شکریہ جات:
    1,039
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیوخ!
    ایک حدیث کی تحقیق و تخریج درکار ہے. جسے کافی تلاش کے باوجود حاصل نہیں کر سکا. حدیث یہ ہے:
    حدیث قدسی : جو مجھے تلاش ہے وہ مجھے پا لیتا ہے جو مجھے پا لیتا ہے وہ مجھے پہچان لیتا ہے جو مجھے پہچان لیتا ہے وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے جو مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے وہ میرے عشق مے مبتلا ہو جاتا ہے اور جو میرا عاشق بنتا ہے میں اسے قتل کر دیتا ہوں جسے میں قتل کرتا ہوں اس کی دیت میرے زمے ہو جاتی ہے اور میں ہی اس کی دیت ہوں ۔

    کافی تلاش کے بعد یہ ملا:
    ألا قد طال شوق الأبرار إلى لقائي، وإني أشد شوقا لهم، ألا من طلبني وجدني، ومن لم يطلبني لم يجدني. من ذا الذي أقبل علي، وما قبلته؟ من ذا الذي طرق بابي وما فتحته؟ من ذا الذي توكل علي وما كفيته؟ من ذا الذي دعاني وما أجبته؟ من ذا الذي سألني وما أعطيته؟ أهل ذكري، أهل مجالستي أهل شكري أهل زيادتي. أهل طاعتي، أهل كرامتي. وأهل معصيتي لا أقنطهم أبدا من رحمتي، إن تابوا فأنا حبيبهم، وإن لم يتوبوا فأنا طبيبهم، ابتليتهم بالمصائب لأطهرهم من المعايب

    اس معنی کی روایت عبد الغنی المقدسی نے اپنی کتاب الترغیب فی الدعاء الحث علیہ میں صفحہ 26 (رقم الحدیث: 19) کے تحت ذکر کیا ہے. لیکن محقق نے اس کی تخریج ذکر نہیں کی. اور اس میں احمد مخلد خراسانی بنا کسی واسطے کے اللہ سے روایت کر رہے ہیں.
    براہ کرم اس پر روشنی ڈالیں.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 26، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,891
    موصول شکریہ جات:
    2,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ روایت حدیث کی کسی کتاب میں صحیح یا ضعیف اسناد سے نہ مل سکی ،
    علامہ غزالی نے احیاء علوم الدین میں ۔۔ بلا اسناد ۔۔ نقل کی ہے ، لکھتے ہیں :
    وقال أبو الدرداء لكعب أخبرني عن أخص آية يعني في التوراة فقال يقول الله تعالى طال شوق الأبرار إلى
    لقائي وإني إلى لقائهم لأشد شوقاً قال ومكتوت إلى جانبها من طلبني وجدني ومن طلب غيري لم يجدني
    فقال أبو الدرداء أشهد إني لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هذا

    (إحياء علوم الدين) 4- 324

    علامہ أبو الفضل زين الدين عبد الرحيم العراقي (المتوفى: 806هـ)
    احیاء علوم الدین کی تخریج (المغني عن حمل الأسفار في الأسفار، في تخريج ما في الإحياء من الأخبار )
    میں لکھتے ہیں :
    "لم أجد له أصلا إلا أن صاحب الفردوس أخرجه من حديث أبي الدرداء ولم يذكر له ولده في مسند
    الفردوس إسنادا" ا.هـ.

    مجھے اس کی کوئی اصل کہیں نہیں ملی ، ہاں صاحب مسند فردوس نے اسے ابودرداء کے حوالہ سے نقل کیا ہے ، لیکن اس کی کوئی سند نہیں بتائی "
    كما قال الفتني في تذكرة الموضوعات "لم يوجد"
    اور علامہ طاہر ہندی گجراتی نے تذکرۃ الموضوعات میں لکھا ہے کہ : اس کا وجود نہیں ملا "
    وأورده السبكي في طبقات الشافعية ضمن الأحاديث التي لا أصل لها.
    علامہ سبکی شافعی نے اس روایت کوطبقات میں ان احادیث کے ضمن میں بیان کیا ہے جن کی کوئی اصل نہیں "

    والله أعلى وأعلم
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 26، 2017 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,043
    موصول شکریہ جات:
    1,039
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ!
    میں نے تخریج احادیث احیاء علوم الدین میں تلاش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن افسوس کہ مجھے نہیں مل پائی تھے. آخر میں طرف الحدیث مذکور ہے. لیکن 'الا قد طال'اور 'طال' دونوں طرح سے تلاش کیا پھر بھی نہیں مل سکی تھی.
    اللہ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے آمین
     
  4. ‏جنوری 03، 2018 #4
    فصیح

    فصیح مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 03، 2018
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    Last edited by a moderator: ‏جنوری 04، 2018
  5. ‏جنوری 03، 2018 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,043
    موصول شکریہ جات:
    1,039
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    کچھ اردو میں ہو تو ارسال کریں.
     
  6. ‏جنوری 03، 2018 #6
    عبدالمنان

    عبدالمنان رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    522
    موصول شکریہ جات:
    111
    تمغے کے پوائنٹ:
    94

    یہ دونوں سیٹس تو کذاب، دجالوں کی سیٹ ہے، فصیح بھائی آپ بھی ان جھوٹوں کی سیٹس نہ دیکھیں اور دوسروں کو بھی پڑھنے کا مشورہ نہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے۔آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں