1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موت سے پہلے سیدنا عمرو بن عاص رضی الله عنہ کی وصیت پر اہل ایمان موقف

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏اکتوبر 30، 2014۔

  1. ‏اگست 06، 2017 #101
    فہد یوسف

    فہد یوسف سرگرم رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 29، 2012
    پیغامات:
    6,324
    موصول شکریہ جات:
    27,521
    تمغے کے پوائنٹ:
    36,985

    محترم آپ اس کا مفصل جواب اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں

    https://ahlehadeeth.com/2017/08/05/1851/
     
  2. ‏اگست 06، 2017 #102
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,552
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

  3. ‏ستمبر 22، 2019 #103
    فرحان

    فرحان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 13، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    @اسحاق سلفی
    جی محترم بلکل درست متفق


    صحيح مسلم
    كِتَاب الْإِيمَانِ
    ایمان کے احکام و مسائل
    54. باب كَوْنِ الإِسْلاَمِ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ وَكَذَا الْهِجْرَةُ وَالْحَجُّ:
    54. باب: اسلام، ہجرت، اور حج پہلے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔

    حدیث نمبر: 321

    حدثنا محمد بن المثنى العنزي وابو معن الرقاشيوإسحاق بن منصور كلهم، عن ابي عاصم واللفظ لابن المثنى، حدثنا الضحاك يعني ابا عاصم، قال: اخبرناحيوة بن شريح ، قال: حدثني يزيد بن ابي حبيب ، عن ابن شماسة المهري، قال: حضرنا عمرو بن العاص وهو في سياقة الموت، فبكى طويلا وحول وجهه إلى الجدار، فجعل ابنه، يقول: يا ابتاه، اما بشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بكذا، اما بشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بكذا؟ قال: فاقبل بوجهه، فقال: إن افضل ما نعد، شهادة ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله، إني قد كنت على اطباق ثلاث، لقد رايتني وما احد اشد بغضا لرسول الله صلى الله عليه وسلم مني، ولا احب إلي ان اكون قد استمكنت منه فقتلته، فلو مت على تلك الحال، لكنت من اهل النار، فلما جعل الله الإسلام في قلبي، اتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: ابسط يمينك فلابايعك، فبسط يمينه، قال: فقبضت يدي، قال: ما لك يا عمرو؟ قال: قلت: اردت ان اشترط، قال: تشترط بماذا؟ قلت: ان يغفر لي، قال: اما علمت " ان الإسلام يهدم، ما كان قبله وان الهجرة تهدم ما كان قبلها، وان الحج يهدم ما كان قبله "، وما كان احد احب إلي من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا اجل في عيني منه، وما كنت اطيق ان املا عيني منه إجلالا له، ولو سئلت ان اصفه ما اطقت، لاني لم اكن املا عيني منه، ولو مت على تلك الحال، لرجوت ان اكون من اهل الجنة، ثم ولينا اشياء ما ادري ما حالي فيها، فإذا انا مت، فلا تصحبني نائحة، ولا نار، فإذا دفنتموني، فشنوا علي التراب شنا، ثم اقيموا حول قبري قدر ما تنحر جزور، ويقسم لحمها حتى استانس بكم، وانظر ماذا اراجع به رسل ربي.
    ترجمہ :
    ‏‏‏‏ ابن شماسہ (عبدالرحمٰن بن شماسہ بن ذئب)مہری سے روایت ہے، ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ مرنے کےقریب تھے تو روئے بہت دیر تک اور منہ پھیر لیا اپنا دیوار کی طرف۔ ان کے بیٹے کہنے لگے: ابا جان! آپ کیوں روتے ہیں، تم کو کیا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری نہیں دی۔ تب انہوں نے اپنا منہ سامنے کیا اور کہا کہ سب باتوں میں افضل ہم سمجھتے ہیں اس بات کی گواہی دینے کو کہ کوئی سچا معبود نہیں سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کےبھیجے ہوئے ہیں اور میرے اوپر تین حال گزرے ہیں۔ ایک حال یہ تھا جو میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ میں کسی کو برا نہیں جانتا تھا اور مجھے آرزو تھی کہ کسی طرح میں قابو پاوَں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں(معاذاللہ) پھر اگر میں مر جاتا اس حال میں تو جہنمی ہوتا۔ دوسرا حال یہ تھا کہ اللہ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈالی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے کہا: اپنا داہنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں بیعت کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا میں نے اس وقت اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ”کیا ہوا تجھ کو اے عمرو!“ میں نے کہا شرط کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا شرط“ میں نے کہا: یہ شرط کہ میرے گناہ معاف ہوں (جو اب تک کئے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو! تو نہیں جانتا کہ اسلام گرا دیتا ہے بیشتر کے گناہوں کو اسی طرح ہجرت گرا دیتی ہے پیشتر کے گناہوں کو“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مجھ کو کسی کی محبت نہ تھی اور نہ میری نگاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کی شان تھی اور میں آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےجلال کی وجہ سے۔ اور اگر کوئی مجھ سے آپصلی اللہ علیہ وسلم کی صورت کو پوچھے تو میں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ میں آنکھ بھرکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہیں سکتا تھا اور اگر میں مر جاتا اس حال میں تو امید تھی کہ جنتی ہوتا۔ بعد اس کے اور چیزوں میں ہم کو پھنسنا پڑا۔ میں نہیں جانتا میرا کیا حالہو گا ان کی وجہ سے، تو جب میں مر جاوَں میرے جنازے کے ساتھ کوئی رونے چلانے والی نہ ہو اور نہ آگ ہو اور جب مجھے دفن کرنا تو مٹی ڈال دینا مجھ پر اچھی طرح اور میری قبرکے گرد کھڑے رہنا اتنی دیر جتنی دیر میں اونٹ کاٹا ہے اور اس کا گوشت بانٹا جاتا ہے تاکہ میرا دل بہلے تم سے (اور میں تنہائی میں گھبرا نہ جاؤں) اور دیکھ لوں پروردگار کے وکیلوں کو میں کیا جواب دیتا ہوں۔
    9292 - 321
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ایک صحابی کی نصیحت پر اعتراض نہیں ہونا چاہیئے باقی جس کو عمل بہتر لگے وہ کر لے ورنہ شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ثابت قدمی کی دعا سکھائ ہے ، واللہ اعلم

    جزاک اللہ خیر
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 22، 2019
  4. ‏ستمبر 22، 2019 #104
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم محترم فرحان الہی صاحب
    فجزاکم اللہ تعالی خیراً
     
  5. ‏ستمبر 22، 2019 #105
    فرحان

    فرحان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 13، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    30


    وایاک بالخیر یا اخی الکریم
     
  6. ‏ستمبر 22، 2019 #106
    فرحان

    فرحان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 13، 2017
    پیغامات:
    40
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں