1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موجودہ حالات میں عید کی نمازقدیم وجدید ائمہ وعلماء کے اقوال کی روشنی میں

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از عبد الرشید, ‏مئی 20، 2020۔

  1. ‏مئی 20، 2020 #1
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,209
    موصول شکریہ جات:
    9,942
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    موجودہ حالات میں عید کی نمازقدیم وجدید ائمہ وعلماء کے اقوال کی روشنی میں
    تحریر: عبدالعلیم بن عبد الحفیظ سلفی /سعودی عرب
    موجودہ حالات میں کرونا جیسی وبائی مرض کی نوعیت اور خطرناکی کے مدنظر جہاں دنیاکے اکثر ممالک میں عام اجتماع کی جگہوں کو بند کردیاگیاہے، وہی مساجد اور عیدگاہیں بھی اس کی زد میں ہیں ۔ عام جمعہ وجماعت کے لئے شریعت کی رہنمائی موجود ہے جماعت کی نمازیں گھر میں اور جمعہ کے بدلے ظہر کی نمازیں اداکرنے کے نصوص اور فتاوے موجود ہیں ۔ ان حالات میں عید کی نماز بھی لوگوں کے درمیان موضوع بحث بنی ہوئی ہے ، چونکہ اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ ایسی حالات میں عید کی ادائیگی کے لئے لوگوں کو عیدگاہ یا مسجد میں جانے دیاجائےگا، اس لئے ایسی صورت میں عام مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے ؟ عید کی نماز گھر پہ ادا کرنی چاہئے یا اگر ادا کرنی پڑے تو اس کی کیا صورت ہوگی ؟ ۔ ہم اس کی وضاحت اپنی اس مختصرسی تحریر میں کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہمارے سامنے مسئلے کی صحیح وضاحت ہوسکے ، اور بدلے حالات میں ہماری عبادتیں قرآن وسنت کے مطابق انجام پاسکیں ۔اللہ ہمیں اس کی توفیق دے ۔آمین۔
    اس سلسلے میں بنیادی مسئلہ عید کی نماز کا حکم ہے ، کیونکہ اگر حکم کی تعیین ہوجاتی ہے تو مسئلہ کی وضاحت میں بھی آسانی ہوتی ہے ۔

    نماز عیدین کاحکم : عید کی نماز کا حکم کیاہے اس بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں
    1 – واجب عین ہے :
    یہ احناف کا قول ہے
    ( دیکھئے : المبسوط :2/37 ، وبدائع الصنائع :1/274 ، وتحفة الفقهاء :1/275,تبيين الحقائق للزيلعي مع حاشية الشلبي :1/223 ، حاشية ابن عابدين: 2/166,6/337
    مالکیہ میں سے ابن حبیب کا بھی یہی قول ہے ۔(
    مواهب الجليل للحطَّاب :2/568)
    امام احمد سے بھی ایک قول یہی مروی ہے : (مجموع الفتاوى لابن تيمية :23/161 ، الإنصاف للمرداوي :2/294) ۔
    اسی قول کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، ابن القیم ، شوکانی اور عصر حاضرمیں ابن سعدی اور ابن العثیمین ، علامہ ابن باز اور شیخ الحدیث مبارکپوری وغیرہم نے بھی اختیارکیاہے ۔ دیکھئے
    : مجموع الفتاوى لابن تيمية:23/161، 162,سبل السلام: 2/66، 67, السيل الجرار /ص: 192, مجموع فتاوى ابن باز:13/7 ,مجموع فتاوى ابن عثيمين:16/223)۔
    وجوب کی وجہ :
    * - اللہ رب العزت کا فرمان :
    ( فصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر) (اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے (الكوثر:2) یہاں پر نماز کے لئے امرکا صیغہ آیاہے جو وجوب پر دلالت کرتاہے۔( دیکھئے : المغنی لابن قدامۃ :2/272)۔
    * - نیز وجوب کی وجہ وہ روایتیں ہیں جن میں اہل اسلام کو عمومی طور پر عیدکے لئے نکلنے کا حکم دیاگیاہے ، یہاں تک کہ عورتوں کو بھی اس سلسلےمیں تاکید کی گئی ہے،اگر وہ ایام حیض سے بھی گذررہی ہوں تو بھی نکلنے کاحکم ہے ،ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
    "أَمرَنا- تعني النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم- أنْ نُخرِجَ في العيدينِ، العواتقَ ، وذواتِ الخدور, وأمَرَ الحُيَّضَ أن يعتزِلْنَ مُصلَّى المسلمينِ" "ہمیں ( اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے) حکم دیا کہ ہم بالغہ اور کنواری لڑکیوں کوعیدین میں لے کر جائیں ، اور حکم دیاکہ حیض والی عورتیں مسلمانوں کی نمازکی جگہ سے الگ رہیں"۔
    اور ایک روایت میں ہے
    : "كنَّا نُؤمَر أن نَخرُجَ يوم العيدِ، حتى تَخرُجَ البكرُ من خِدرهِا، وحتى يَخرجَ الحُيَّضُ فيكُنَّ خلفَ الناس، فيُكبِّرْنَ بتكبيرِهم، ويَدْعونَ بدعائِهم؛ يرجونَ بركةَ ذلك اليومِ وطُهرتَه" (صحیح بخاری/971 ، صحیح مسلم/890 "( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ) ہمیں عید کے دن عیدگاہ میں جانے کا حکم تھا۔ یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں بھی پردہ میں باہر آتی تھیں ، اوریہاں تک کہ حائضہ عورتیں بھی نکلتیں ۔ یہ سب مردوں کے پیچھے پردہ میں رہتیں۔ جب مرد تکبیر کہتے تو یہ بھی کہتیں اور جب وہ دعا کرتے تو یہ بھی کرتیں۔ اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں"۔
     
  2. ‏مئی 20، 2020 #2
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,209
    موصول شکریہ جات:
    9,942
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    اسی طرح صحیحین میں ام عطیہ کی روایت اس طرح ہے ، وہ فرماتی ہیں :" ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عيد الفطر اور عيد الاضحى ميں ( عيد گاہ كى طرف ) نكلنے كا حكم ديا، اور قريب البلوغ اور حائضہ اور كنوارى عورتوں سب كو، ليكن حائضہ عورتيں نماز سے عليحدہ رہيں، اور وہ خير اور مسلمانوں كے ساتھ دعا ميں شريك ہوں, وہ كہتى ہيں ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم: اگر ہم ميں سے كسى ايك كے پاس اوڑھنى نہ ہو تو ؟رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اسے اس كى بہن اپنى اوڑھنى دے(یعنی اپنی پڑوسن وغیرہ سے ادھار مانگ لے".حفصہ کہتی ہیں، میں نے پوچھا کیا حائضہ بھی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ عرفات میں اور فلاں فلاں جگہ نہیں جاتی۔ یعنی جب وہ ان جملہ مقدس مقامات میں جاتی ہیں تو پھر عیدگاہ کیوں نہ جائیں۔۔؟
    صحيح بخارى / 324 ،صحيح مسلم / 890 )۔

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:" ميرے خيال ميں نماز عيد فرض عين ہے، اور مردوں كے ليے اسے ترك كرنا جائز نہيں، بلكہ انہيں نماز عيد كے ليے حاضر ہونا ضرورى ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قريب البلوغ اور كنوارى لڑكيوں اور باقى عورتوں كو بھى حاضر ہونے كا حكم ديا ہے، بلكہ حيض والى عورتوں كو بھى نماز عيد كے ليے نكلنے كا حكم ديا، ليكن وہ عيد گاہ سے دور رہيں گى، اور يہ اس كى تاكيد پر دلالت كرتا ہے” اھـ) مجموع الفتاوى لابن عثيمين:16/214)۔
    اور ايك دوسرى جگہ لکھتے ہيں: " دلائل سے جو ميرے نزديك راجح ہوتا ہے وہ يہ كہ نماز عيد فرض عين ہے، اور ہر مرد پر نماز عيد ميں حاضر ہونا واجب ہے، ليكن اگر كسى كے پاس عذر ہو تو پھر نہيں ” اھ
    ـ ) مجموع الفتاوى لابن عثيمين:16/217)۔
    اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى اس كے فرض عين ہونے كے متعلق كہتے ہيں:"دلائل ميں يہ قول ظاہر ہے، اور اقرب الى الصواب يہى ہے” اھ
    ـ(مجموع الفتاوى ابن باز:13/7)۔
     
  3. ‏مئی 20، 2020 #3
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,209
    موصول شکریہ جات:
    9,942
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    2 - سنت مؤکدہ ہے :
    یہ اما م مالک اور اکثر اصحاب شافعی کا قول ہے
    (دیکھئے : الشرح الصغير :1/523 ، والقوانين الفقهية /85 ، والأم: 1/ 240, والمهذب :1/163 ,الكافي لابن عبد البَرِّ :1/263 ، حاشية العدوي على كفاية الطالب الربَّاني :1/388 , المجموع للنووي :5/2 ، و مغني المحتاج للشربيني :1/310) ۔
    حنفیہ کا بھی ایک قول یہی ہے
    ۔(دیکھئے: مجمع الأنهر لشيخي زاده :1/172 ) ۔
    داوود ظاہری کا بھی یہی موقف ہے۔ (دیکھئے:
    المجموع :5/3) ۔
    امام نووی لکھتےہیں کہ سلف وخلف میں سے جمہور کا یہی موقف ہےکہ عید کی نماز سنت ہے ۔(دیکھئے:
    المجموع/5/3)۔
    اور ابن رجب کے بقول :
    " أمَّا صلاة العيد، فاختلف العلماءُ فيها على ثلاثة أقوال: أحدها: أنها سُنَّةٌ مسنونة، فلو تركها الناس لم يأثموا، هذا قولُ الثوري، ومالك، والشافعي، وإسحاق، وأبي يوسف، وحُكِي روايةً عن أحمد" (دیکھئے : فتح الباري:6/75) "عید کی نماز کے بارے میں علماء کا اختلاف تین اقوال پرہے : جن میں سے ایک ہے کہ یہ سنت ہے ،اگر لوگ چھوڑ دیتے ہیں تو گنہ گار نہیں ہوں گے ۔ یہ قول ثوری ، مالک ، شافعی ، اسحاق ، ابو یوسف ، اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کاہے "۔
    عصر حاضر کے بہت سارے علماء اہل حدیث اور محققین بھی اسی کی طرف گئے ہیں ۔
    سنت مؤکدہ کی وجہ :
    دراصل ان کے یہاں سنت مؤکدہ کی وجہ ہے صحیحین کی وہ روایت جسے طلحہ بن عبیدا للہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیاہے کہ : ایک آدمی اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام کے بارےمیں استفسار کرنے لگا ، تو آپ نے فرمایا:" رات اور دن میں پانچ وقت کی نمازیں " پھر اس نے پوچھاکہ : اس کے علاوہ بھی میرے اوپر فرض ہے ؟ تو آپ نے فرمایا :"نہیں البتہ تم نفلی نمازیں پڑھو" پھر اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رمضان کے روزوں اور زکاۃ کے بارے میں بتایا ، اس کے بعد اس نے جاتے ہوئے یہ کہاکہ : اللہ کی قسم میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ ہی کم، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اگر یہ سچاہے تو کامیاب ہوگیا" ۔(دیکھئے :صحیح بخاری /46 ، صحیح مسلم/11)۔
    اسی طرح عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجاتوفرمایا
    :" ادعُهم إلى شهادةِ أنْ لا إلهَ إلا اللهُ وأنِّي رسولُ اللهِ، فإنْ هم أطاعوا لذلك، فأَعْلِمْهم أنَّ اللهَ قد افتَرَضَ عليهم خمسَ صلواتٍ في كلِّ يومٍ وليلةٍ. ۔۔۔۔الحديث" " ان کو شہادت کی طرف بلاؤ کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہو ں، اگر وہ اطاعت کرلیتےہیں تو تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالی نےان کےاوپر ہر دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض کیاہے ۔۔۔۔۔۔"(صحیح بخاری /1395، صحیح مسلم/19)۔
    یہاں ان دونوں روایتوں سے سنت مؤکدہ پر استدلال کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان پانچ نمازوں کے علاوہ فرض ہوتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وضاحت ضرور فرماتے۔
    نیز ان کا استدلال یہ بھی ہے کہ عیدین کی نماز ایک وقتی نماز ہے جس کے لئے اقامت مشروع نہیں ہے ،چنانچہ یہ واجب نہیں ۔۔۔۔۔"(دیکھئے:
    المجموع للنووي:5/2، المغني لابن قدامة :2/272)
    اسی طرح اگر عیدین کی نماز واجب ہوتی تو جمعہ کی طرح اس کا خطبہ بھی سننا واجب ہوتا۔
     
  4. ‏مئی 20، 2020 #4
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,209
    موصول شکریہ جات:
    9,942
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    3 – فرض کفایہ ہے :
    یعنی اگر تمام اہل بلد چھوڑ دیں تو گنہ گار ہوں گے او ر اگر کچھ نے ادا کرلیاتو سب کی طرف سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی۔ یہ قول حنابلہ اور بعض اصحاب شافعی کاہے ۔(دیکھئے :
    المغني :3/253 ,كشف القناع :2/ 55 ,الإقناع للحجاوي :1/ 199) ۔
    حنفیہ کابھی ایک قول یہی ذکر کیاگیاہے۔(دیکھئے:
    البناية للعيني :3/95 ، بدائع الصنائع للكاساني :1/275) ۔
    مالکیہ کا بھی ایک قول یہی ہے ۔ (دیکھئے:
    حاشية الصاوي على الشرح الصغير:1/523 ، حاشية الدسوقي: 1/396 ) ۔
    عصرحاضرمیں علامہ صالح الفوزان کی رائے بھی یہی ہے ۔

    فرض کفایہ کی وجہ:
    * - اللہ رب العزت کےفرمان : )
    فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ )الكوثر: 29 ) کےاندر امر وجوب پر دلالت کررہاہے لیکن جس طرح دیگر سنن کے چھوڑنے والے سے قتال نہیں اسی طرح اس کے تارک سے بھی قتال واجب نہیں ۔(دیکھئے المغني: لابن قدامة :2/272)۔
    *- اسی طرح طلحہ بن عبید اللہ کی روایت میں اس بات کی صراحت ہے کہ پنجوقتہ فرض نمازوں کے علاوہ کوئی دوسری نماز فرض نہیں۔
    (‎دیکھئے فتح الباري:لابن حجر:1/107)۔
    * - جس طرح جنازہ کی نماز کےلئے اذان مشروع نہیں ہے اس کے لئے بھی اذان مشروع نہیں ہے چنانچہ اسے فرض عین قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (دیکھئے :المغنيلابن قدامة : 2/272)۔
    * - اگر یہ فرض ہوتی تو جمعہ کے خطبے کی طرح اس کا خطبہ بھی سننا واجب ہوتا۔( دیکھئے :المغني)) لابن قدامۃ: 2/272) ۔
    * - اس کے اندر جنازہ کی نماز کی طرح حالت قیام میں مسلسل تکبیریں ہیں لہذا اسی کی طرح فرض کفایہ ہوئی۔ (دیکھئے :البيان للعمراني :2/625)۔

    لاک ڈاؤن میں عید کی نماز :
    موجودہ لاک ڈاؤن کے حالات میں عید کی نماز کا حکم فوت شدہ نماز کے حکم میں ہوگا ، اس لئے اس کا اعتبار بھی اسی کا ہوگا۔ چنانچہ فرض اور سنت مؤکدہ ہر دو صورت میں عید کی نماز اگر عیدگاہ میں میسر نہ ہو تو کسی مسجد میں یا پھر گھرمیں تنہایا باجماعت ادا کرنا مشروع ہے ، فرض کو فرض کی حیثیت سے اور سنت کو بحیثیت سنت ، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنت کی قضاء بھی ثابت ہے جیساکہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفرسے واپسی کے راستے میں جب فجرکی نماز چھوٹ گئی تو بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی اذان کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم
    نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر صبح کی فرض نماز ادا کی اور ویسے ہی ادا کی جیسے ہر روز ادا کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری /595 ،صحیح مسلم /681 ۔ الفاظ صحیح مسلم کےہیں)۔
    اسی طرح ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہرکے بعد کی دورکعتیں کسی مشغولیت کی وجہ سے عصرکے بعداداکی۔(صحیح بخاری /1233 ،صحیح مسلم /834)۔
    حنفیہ کے یہاں عید کی نماز واجب ہونے کے باوجود گھرمیں تنہا ادا کرنا جا‏ئز نہیں ہے ۔

    عید کی قضاسے متعلق انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا اثر :
    عید کی قضاء کے سلسلے میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جسے امام بخاری نے تعلیقا اپنی صحیح کے اندر ذکرکیاہے، صحیح کے اندر باب باندھتے ہوئے لکھتے ہیں :
    ( باب إذا فاتته صلاة العيد يصلي ركعتين ، وكذلك النساء ومن كان في البيوت والقرى لقول النبي صلى الله عليه وسلم : هذا عيدنا أهل الإسلام وأمر أنس بن مالك مولاه ابن أبي عتبة بالزاوية فجمع أهله وبنيه وصلى كصلاة أهل المصر وتكبيرهم . وقال عكرمة : "أهل السواد يجتمعون في العيد يصلون ركعتين كما يصنع الإمام" وقال عطاء : "إذا فاته العيد صلى ركعتين")۔
    (باب اس بات کا کہ جب عید کی نماز فوت ہوجائے تو دورکعتیں پڑھےگا ، اور اسی طرح عورتیں بھی اور وہ بھی جو گھروں اوردیہاتوں میں ہیں، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" اہل اسلام یہ ہماری عیدہے ، اسی طرح انس بن مالک نے مقام زاویہ (بصرہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے) اپنےغلام ابن ابی عتبہ کو حکم دیا تو انہوں نے ان کے گھر والوں کو اور ان کے بیٹوں کو اکٹھاکیا، اور شہر والوں کی طرح اور تکبیرکے ساتھ نماز پڑھائی ۔ عکرمہ کہتے ہیں: اہل سواد(یعنی اہل ریف) عیدمیں اکٹھا ہوتے ہیں اور دورکعت امام کی طرح پڑھتےہیں )۔ ( صحیح بخاری مع فتح الباری:3/127-128)۔یہ اثر امام بیھقی کی سنن کبری(3/427) عبدالرزاق کی مصنف (3/323) اور شرح معانی الآثار(4/348) کے اندرمتعدد طرق سے مروی ہے ۔
    نیزعکرمہ اور عطاءکے قول کو ابن ابی شیبہ نے بھی موصولا بیان کیاہے۔( دیکھئے :فتح الباری:3/127)۔

    نوٹ : یہا ں یہ واضح رہے کہ حسن نخعی ، مالک، شافعی اور احمد وغیرہ نے عیدین میں تکبیر زوائد پر استدال کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیاہے کہ انس بن مالک کی نماز عید قضاہوئی تھی بلکہ ان کا گھرشہرسے دور گاؤں میں تھا ، اس لئے وہ اہل قریہ کے حکم میں تھے۔(دیکھئے: فتح الباري لابن رجب : 7/78، ولابن حجر؛3/128)۔ اس قول کے مطابق یہ کہاجاسکتاہے کہ ان کی نمازعید فوت شدہ نہیں بلکہ ادا تھی۔
    حالانکہ امام بخاری نے انس رضی اللہ عنہ کے مذکورہ اثر سے کئی چیزوں پر استدلا کیاہے: جس کی نماز عید فوت ہوجائے ۔عورتوں کی نمازعید۔ جولوگ گھروں میں کسی وجہ سے رہ گئے ہیں ، اورگاؤں میں رہنے والوں کے لئے ۔
    البتہ یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ ان کی وہ نماز ادا تھی یا قضا ؟

    کچھ لوگوں کا اس اثر سے فوت شدہ عید کی نمازکو گھرمیں ادا کرنے والوں کےبارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے اس اثر کا مطلب ہی نہیں سمجھا ہے نہایت ہی طفلانہ اعتراض ہے ۔
    کیوں کہ علماء نے مذکورہ اثرسے جہاں گا‏ؤں میں نماز عید کے قیام پر استدلال کیاہے وہی ، عورت ،معذور ،مسافر، غلام ، جن کی نماز عید چھوٹ گئی ہو اور کسی وجہ سے گھروں میں رہ جانے والوں کی نماز پر بھی استدلال کیاہے۔جن میں امام بخاری، عکرمہ اور عطاء ، اوزاعی ، احمد ،، قتادہ ، معمر ، حسن بصری اور ابن سیرین وغیرہ کے علاوہ قدیم وجدید متعدد ائمہ وعلماء رحمہم اللہ ہیں ۔
     
  5. ‏مئی 20، 2020 #5
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,209
    موصول شکریہ جات:
    9,942
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    کتنی رکعتیں اور کیسے پڑھیں ؟ :
    مذکورہ آثارسےپتہ چلتاہے کہ جس کی عید کی نماز چھوٹ جائے وہ جس طرح امام پڑھاتاہے اسی طرح تکبیرات زوائد کے ساتھ اداکرےگا، چنانچہ جب حالات ایسے پیداہوجائیں کہ آدمی عیدگاہ نہ جاسکے تو جمہور علماء کے مطابق گھرمیں ہی مذکورہ صفت کے مطابق دو رکعتیں اداکرلے۔
    عبدالرزاق نے قتادہ سے روایت کیاہے:"
    من فاتته الصلاة يوم الفطر صلى كما يصلي الإمام" اور معمرکا قول ذکر کرتے ہیں : "إن فاتت إنسانًا الخطبة أو الصلاة يوم فطر أو أضحى ثم حضر بعد ذلك فإنه يصلي ركعتين" (إسناده صحيح)، (مصنف :2/300 رقم 5716)۔
    ابن ابی شیبہ نے اپنی سند کےساتھ حسن بصری سے نقل کیاہے کہ :
    " فيمن فاته العيد يصلي مثل صلاة الإمام" "جس کی عید فوت ہوجائے وہ ویسے ہی اداکرے جیسے امام اداکرتاہے۔)
    اسی طرح کی بات ابراہیم نخعی سے بھی نقل کیاہے ۔ (دیکھئے : مصنف ابن أبي شيبہ: 2/183-184 )۔
    ابن قدامہ نے انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی بنیاد پر یہی قول امام بخاری ، ابراہیم نخعی ، امام مالک ، امام شافعی ، ابوثور اور ابن المنذروغیرہ کا نقل کیاہے
    (المغني 2/290).
    اسی طرح قرافی نے امام مالک سے نقل کیاہ ےکہ :" جس کی عید کی نماز امام کے ساتھ فوت ہوجائے تو عید کی نماز کی طرح ہی پڑھے "۔ (الذخيرة: 2/423) ۔
    اور امام شافعی فرماتے ہیں :" اگر کوئی اسے(عید کی نماز) پڑھتاہے توویسے ہی پڑھے جیسے امام پڑھتاہے،قراء ت سے پہلے پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہے اور دوسری میں پانچ" (دیکھئے : معرفۃ السنن والآثار : 5/103)۔
    مرداوی نے حنابلہ کا مذہب بھی یہی لکھاہے ۔ (دیکھئے:الإنصاف 2/433)۔
    اور اسی قول کو سعودی عرب کی دائمی کمیٹی برائے فتاوی نے بھی اختیارکیاہے۔
    ( فتاوى اللجنة الدائمة: 8/306)۔
    سعودی عرب کے موجودہ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل شیخ رئيس هيئة كبار العلماء والرئيس العام للبحوث العلميۃ والإفتاء نے بھی کہاہے کہ: موجودہ کورونا وائرس کی وجہ سے پھیلی بیماری کوویڈ 19 کی ماہاماری کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کی بناپر عیدگاہ اور مسجدوں میں جمع ہونا ممکن نہیں ہے، اس لئے لوگ اپنے اپنے گھروں میں عید کی نماز ادا کرلیں ۔
    اس سلسلے میں امام ابو حنیفہ رحمہ کا قول ہے کہ :" اسے اختیار ہے قضاکرے خواہ چھوڑدے"(فتح الباری :2/475) " اگرامام کے ساتھ عید کی نماز فوت ہوجائے تو اسے ادا نہیں کرےگا۔" ( الدر المختار مع حاشيۃ ابن عابدين (2/175)۔

    شیخ ابن العثیمین نے اسی کو راجح قراردیاہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی طرف اس کی نسبت کی ہے۔ وہ اس کی وجہ ذکر کرتے ہوئے لکھتےہیں :" کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد نہیں ہے ،اور چونکہ یہ ایک متعین اجتماعی نماز ہے اس لئے اسی صفت کےساتھ مشروع ہے ۔"(الشرح الممتع:5/156،واسئلۃ واجوبۃ صلاۃ العیدین :4)
    اور دائمی کمیٹی برائے فتاوی نے اپنے ایک فتوی میں ذکر کیاہےکہ نماز عید فرض کفایہ ہے اس لئے کچھ لوگ اس اد اکرلیتےہیں تو باقی لوگ گنہ گار نہیں ہوں گے ۔(
    فتاوى اللجنة الدائمة للإفتاء (8/306)
    حافظ ابن حجر نے امام ابوحنیفہ کا قول نقل کیاہےکہ :" قضا اور عدم قضا نیز دو اور چار رکعتوں کے درمیان اسے اختیار ہے۔(فتح الباری:3/127)۔
    گھرمیں تنہا پڑھیں یا جماعت کے ساتھ ؟ :
    اس سلسلے میں مذاہب اربعہ میں اختلاف ہے :

    شافعیہ : تنہا گھرمیں ادا کرسکتاہے ۔ مرد ، عورت ،غلام ،مسافر سب پڑھ سکتاہے ۔(دیکھئے :المجموع؛5/26 ، مغنی المحتاج:1/587)۔
    مالکیہ : اگر امام کے ساتھ عید کی نماز فوت ہوجائے تو گھرمیں پڑھنا مستحب ہے ۔(دیکھئے :شرح الخرشی" (2/104)۔
    حنابلہ : چاہے تنہا پڑھے خواہ جماعت بناکر۔
    حنفیہ : اگر امام کے ساتھ فوت ہوجائے تو تنہا ادا نہیں کرےگا۔
    انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے کہ عید کی نماز چھوٹنے کےبعد انہوں نے اسے گھر والوں کے ساتھ باجماعت ادا کی تھی۔
    مزنی نے امام شافعی سے نقل کیاہے کہ :" عیدین گھرمیں تنہا، اور مسافر ،غلام اور عورت بھی پڑھے۔"(مختصرالام :8/125)۔
    امام خرشی مالکی لکھتےہیں : "جس کی امام کے ساتھ نماز عید فوت ہو‏گئی اس کےلئے اسے (قضاکرکے) پڑھنا مستحب ہے ، جماعت کے ساتھ پڑھےگا یا تنہا ؟ اس سلسلے میں دو قول ہے" ۔ (شرح الخرشی/2/104)۔
    ابن قدامہ امام بخاری ، ابراہیم نخعی ، امام مالک ، امام شافعی ، ابوثور اور ابن المنذروغیرہ کا موقف ذکر کرتے ہوئے لکھتےہیں
    : "ولأنه قضاء صلاة فكان على صفتها كسائر الصلوات، وهو مخير إن شاء صلاها وحده وإن شاء في جماعة , قيل لأبي عبد الله : اين يصلي ؟ قال : إن شاء مضى إلى المصلى وإن شاء حيث شاء" (المغني 2/290). "اور چونکہ یہ ایک نماز کی قضاہے اس لئے تمام نمازوں کی طرح ہی قضاکرےگا ، اور اسے اختیارہے کہ تنہا اداکرےخواہ جماعت کےساتھ" ۔امام بخاری سے پوچھا گیا کہ کہا ں ادا کرےگا ؟ تو انہوں نے کہا :"چاہے عیدگاہ جاکر پڑھے چاہے جہاں جی چاہے" ۔
    چار رکعتوں والی روایت :
    بعض علماءنے بیان کیاہے کہ چاررکعتیں اداکرےگا ، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کیاہےجس میں ہے:" من فاته العيد فليصل أربعاً" جس کی عیدکی نماز فوت ہوجائے وہ چاررکعتیں پڑھ لے "۔
    اس کو طبرانی نے کبیر/9532-9533 ، عبدالرزاق نے مصنف /5785 ، ابن ابی شیبہ نے مصنف 5854-5856 میں روایت کیاہے ،حافظ ابن حجر نے فتح الباری کے اندر اس کی سندکو صحیح قراردیاہے، نیزہیثمی نےبھی اس کے رجال کو ثقات قراردیاہے۔(مجمع الزوائد:2/205) ،لیکن اسے شیخ البانی نے ارواء الغلیل(3/121) کے اندر شعبی کی وجہ سے منقطع قراردیاہے،کیونکہ شعبی کا سماع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے ۔
    اس روایت کو ابن ابی شیبہ نے ایک اور طریق سے مسروق سے روایت کیاہے، جس کے اندرحجاج بن ارطاۃ ہیں جو ضعیف ہیں ۔
    اسی سلسلے میں ایک روایت علی رضی اللہ عنہ سے بھی ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کوعیدالفطر یا عید الاضحی میں حکم دیاکا وہ ان کمزورلوگوں کو مسجد میں چاررکعتیں عیدکی نماز پڑھائے۔ اسے امام شافعی نے الام(7/325 مع مختصرالمزنی ) ابن ابی شیبہ نے مصنف (5869-5871) اوربیہقی نے المعجم الکبیر(3/310-311) کے اندر روایت کیاہے ۔ ابن ابی شیبہ کی روایت کی سندمیں ابوقیس ازدی ہیں جو ضعیف ہیں ۔ اور بیہقی کی روایت میں ابوقیس کے ساتھ عاصم بن علی ہیں جو ضعیف ہیں ۔
    امام بیہقی نے چار رکعت کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ دو رکعتیں تحیۃ المسجدکی تھیں اور دو عیدکی ، اسی طرح بیہقی کی دوسری روایت میں جو حنش بن المعتمر سے مروی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے چار رکعتیں دو عید کی اور دو خروج کی، یعنی جبانہ کی طرف نہ نکلنے کی وجہ سے پڑھانے کا حکم دیاتھا ۔ اس کے اندر حنش اور لیث بن ابی سلیم ہیں جو ضعیف اور ناقابل احتجاج ہیں ۔

    خطبہ :
    دائمی کمیٹی برائے فتاوی نے اپنے فتوی میں ذکرکیاہے کہ عید کی نماز کی قضا بغیر خطبہ کہ کی جائےگی ۔(فتاوی اللجنۃالدائمۃ :8/306)۔
    سعودی عرب کے موجودہ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل شیخ رئيس هيئۃ كبار العلماء والرئيس العام للبحوث العلميۃ والإفتاء نے بھی یہی کہاہے۔

    عدم خطبہ کی وجہ : شاید اس کی چند وجوہات ہیں :
    * - چونکہ انس رضی اللہ عنہ کے مذکورہ اثرمیں صرف نمازکا ذکر ہے خطبہ کا نہیں اس لئے صرف نماز کی ادائیگی کو مشروع قراردیاگیاہے۔
    * - عیدین میں جمعہ کے برخلاف خطبہ سننا واجب نہیں ہے ،بلکہ چاروں فقہی مذاہب میں سنت ہے ، اسی وجہ سے علماء نے خطبہ کو ضروری قرارنہیں دیاہے ۔
    * - یا اس وجہ سے کہ خطبہ کے لئے اجتماعیت شرط ہے ۔
    لیکن میں سمجھتاہوں کہ چونکہ خطبہ جماعت کے ساتھ ہی مستحب ہے اس لئے اگر کوئی تنہا نماز ادا کررہاہوتو ایسی صورت میں خطبہ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، لیکن اگر موجودہ حالات میں خاندان کے کچھ لوگ اکٹھے ہوں یا گھرکے ہی افراد معتدبہ تعداد میں ہوں ، جیسا کہ بہت سارے گھروں میں ایسی صورت ہے ، بلکہ بڑے شہروں میں ایک ہی بلڈنگ میں جو کئی منزلہ ہوتی ہے اور لوگوں کی ایک متعدبہ تعداد ہوتی ہے ، اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کررہے ہوں اور ان میں سے کوئی اس کا اہل ہو کہ وہ خطبہ دے سکے تو ایسے موقع سے خطبہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، جس سے کہ حاضرین مستفید ہوسکیں ۔ اور اگر نہیں دیتاہے تو انس رضی اللہ عنہ کے اثر کی بنیاد پرکوئی حرج نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

    نماز کا وقت :
    جب سورج تقریبا ایک رمح کے برابر نکل آئے جو کہ تقریبا ایک میڑسے کچھ زائد بنتاہے ، یعنی اگر وقت کی بات کی جائے تو سورج نکلنے کے تقریبا پندرہ منٹ بعد۔
    اور اس کا آخری وقت زوال یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہے ۔ اگر کسی کو زوال کے بعد خبر لگی تو روزہ توڑ دیگا اور اگلے د ن نماز ادا کرےگا۔
     
  6. ‏مئی 20، 2020 #6
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,209
    موصول شکریہ جات:
    9,942
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    زکاۃ فطر کب نکالے ؟:
    لاک ڈاؤن کی صورت میں ہر آدمی کوشش کرے کہ نماز پڑھنے سے قبل اسے اداکردے ، کیونکہ اگر اسے نماز سے قبل ادا نہیں کیا اور بعد میں نکالا تو یہ ایک عام صدقہ ہوگا۔اور اگر ایک دو دن پہلے بھی ادا کرتاہے تو کو‏ئی حرج نہیں ہے۔
    نمازکا طریقہ :
    تکبیر احرام کرے اس کے بعد قراءت سے پہلے سات تکبیرات زوائد پھر قراءت شروع کرے پہلے سورہ فاتحہ اس کےبعد سورہ ق یا سورۃ الاعلی (سبح اسم ربک الاعلی ۔۔۔ ) اور پھر دوسری رکعت میں سجدہ سے اٹھنے کے بعد قراءت سے پہلے پانچ تکبیرات زوائد اس کے بعد سورہ فاتحہ اور پھر سورۃ القمر(اقتربت الساعۃ وانشق القمر) یا سورہ الغاشیۃ (ھل اتاک حدیث الغاشیہ) ان سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے اور سنت ہے ، اگر کسی وجہ سے دوسری سورتیں پڑھتاہے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ +
    اگر کوئی تکبیرات زوائد بھول جائے:
    تکبیرات زوائد سنت ہیں ،اس لئے اگر کوئی انہیں بھول جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ، اگر کوئی جان بوجھ کربھی چھوڑ دیتاہے تو بھی نماز باطل نہیں ہوتی اور نہ ہی سجدہ سہو کی ضرورت ہے ۔
    سب سے اہم بات :
    ان حالات میں ایک مسلمان کے لئے گھبرانے اور مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، ہماری شریعت ہمیں اتناہی مکلف کرتی ہے جتنا ہم بلا کسی رکاوٹ ، پریشانی اور تکلیف کے ادا کرسکیں ، ہاں ہماری نیت عام دنوں اور عام حالات میں کسی قسم کی کوتاہی کی نہ ہو ، اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے : ( فاتقوا الله ما استطعتم ) (حسب استطاعت اللہ سے ڈرو)۔
    اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"
    ما نَهَيْتُكُمْ عنْه فَاجْتَنِبُوهُ، وَما أَمَرْتُكُمْ به فَافْعَلُوا منه ما اسْتَطَعْتُمْ، فإنَّما أَهْلَكَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ، كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ علَى أَنْبِيَائِهِمْ" (صحیح مسلم/1337)۔ "جس چیزسے میں نے روک دیاہے اس سے بچو، اور جس کا حکم دیاہے حسب استطاعت کرو ، کیوں کہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے کثرت سوال نے اور انبیاءپر اختلاف نے ہلاک کردیا" اور ایک روایت میں " ذَرُونِي ما تَرَكْتُكُمْ" اور ایک روایت میں " ما تُرِكْتُمْ" اور ایک روایت میں " فإنَّما هَلَكَ مَن كانَ قَبْلَكُمْ" کے الفاظ ہیں ۔ اور سب کا مفہوم ایک ہی ہے۔
    اللہ رب العزت سارے عالم اورخصوصا امت مسلمہ کو ان آفات اوربلاؤں سے اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین ۔ وصلی اللہ علی خیر خلقہ وسلم ۔

    *******
     
  7. ‏مئی 21، 2020 #7
    ابو فاران نعیم بن شہزاد

    ابو فاران نعیم بن شہزاد رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏جون 07، 2015
    پیغامات:
    150
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    67

    جزاک اللہ
     
  8. ‏مئی 21، 2020 #8
    عزیر ادونوی

    عزیر ادونوی مبتدی
    جگہ:
    ادونی،، ہند.
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2018
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    ما شآء اللہ
    انصاف پر مبنی بہت خوب وضاحت پیش کی گئی ہے.
    جزاکم اللہ خیرا
     
  9. ‏مئی 21، 2020 #9
    عزیر ادونوی

    عزیر ادونوی مبتدی
    جگہ:
    ادونی،، ہند.
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2018
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    .

    #موجودہ_وبائی_مرض_کورونا_کے_سبب_عید_کی_نماز_کا_حکم.

    [فقیہِ مدینہ منورہ، مدرس المسجد النبوی اور امام مسجد قباء شیخ سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ کے درس کا خلاصہ

    https://m.facebook.com/groups/39555...er.GroupStoriesByActivityEntQuery&__tn__=*W-R

    ~~~~

    عید کی نماز اور خطبہ گھر میں ادا کر سکتے ہیں؟

    https://m.facebook.com/groups/39555...er.GroupStoriesByActivityEntQuery&__tn__=*W-R

    ~~~~

    گھر میں عید کی نماز اور خطبہ کا حکم

    https://m.facebook.com/groups/39555...er.GroupStoriesByActivityEntQuery&__tn__=*W-R

    .

    Sent from my vivo 1816 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں