1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موجودہ حکام اور انکے باطل نظام ایک خارجی کی عجیب وغریب بوکھلاہٹ

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر سعد, ‏جنوری 28، 2017۔

  1. ‏جولائی 21، 2017 #21
    فرقان الدین احمد

    فرقان الدین احمد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 12، 2017
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    اصل میں میری بہکی بہکی باتیں فرما نے کی وجہ یہ تھی کہ میں اپنے اندازے کے مطابق ایک ایسے غیر مقلد کے ساتھ گفتگو میں تھا جو موضوع کی مناسبت سے دلائل کو سمجھنے پر قادر تھا۔ اس پوری پوسٹ اور خصوصاً ہماری گفتگو سے قطعی طور پر واضع تھا کہ اطاعت سے غیر شرعی اطاعت مراد تھی کیونکہ یقیناً آپ بھی امام ابو حنیفہ﷬ پر شرعی اطاعت سے خروج کا موقف رکھنے کا الزام نہیں لگا رہے۔ مگر آپ نے آخر وہی اطاعت کیوں موضوع سخن بنائی جس کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔
     
  2. ‏جولائی 21، 2017 #22
    فرقان الدین احمد

    فرقان الدین احمد مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 12، 2017
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    آخر میں آپ کے مستقل إصرار کے باعث آپ کے سوال کہ "امور حکومت کا تعلق امور معاملات سے ہے یا امور عبادات سے؟" کا جواب مندرجہ ذیل ہے؛
    امور حکومت کا تعلق امور معاملات سے ہے اور اسی طرح دین اسلام کے تابع ہے جس طرح امور عبادات۔ نبیﷺ نے جس دین اسلام کا ذکر فرمایا اُس سے مقصود بندے کا اپنے رب کے لیے مطلقاً مطیع ہونا ہے۔ جو قدرت رکھتا ہے اُس پر واجب ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اُس کے لیے دین کے تمام شعبوں یعنی ایمانیات؛ عبادات اور معاملات کو خالص کرے ۔
    امور عبادات میں شامل پانچ ارکان ِاسلام کے علاوہ واجبات، فرائض کا وجوب اسبابِ مصالح پر مبنی ہے وہ تمام لوگوں پر واجب نہیں ہیں۔ بعض چیزیں فرض کفایہ ہیں جیسے جہاد، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور وہ اعمال جو ان کے تابع ہیں مثلاً امارت؛ فیصلہ، فتویٰ، پڑھنا، حدیث بیان کرنا وغیرہ؛ اور وہ اعمال جو لوگوں کے حقوق کی وجہ سے واجب ہوتے ہیں تو اسباب کی موجودگی میں واجب ہوں گے عدم موجودگی میں واجب نہیں ہوں گے جیسے فرض کی ادائیگی، امانتوں کو واپس کرنا، غصب شدہ چیز کو واپس کرنا، حقوق کا انصاف، خون، مال، عزت وغیرہ، بیوی اور اولاد کے حقوق، صلہ رحمی وغیرہ پس ان میں جو زید پر واجب ہے وہ عمرو پر واجب نہیں بخلاف رمضان کا روزہ، بیت اللہ کا حج، پانچوں نمازیں، زکوٰۃ ۔
     
  3. ‏جولائی 21، 2017 #23
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,289
    موصول شکریہ جات:
    2,644
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    آپ کا اتنا جواب کافی تھا؛
    مگر جب اس سے قبل آپ نے مسلسل 7 مراسلوں میں جو بات کو پھیلایا ہے، تو ٹھیک ہے، اس پر بھی بات کر لیتے ہیں!
    لیکن ایک اہم بات کا آپ نے جواب نہیں دیا، اس کا جواب بھی دے دیں!
    آپ نے مردود کی اصطلاح کی ایک تعریف لکھی تھی جس پر ہم نے آپ سے مطالبہ کیا تھا
     
    Last edited: ‏جولائی 22، 2017
  4. ‏اگست 04، 2017 #24
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکی حکومت کا مقصد اور مشن کسی بھی طور دنيا بھر ميں امريکہ مخالف آوازوں کو دبانا ہرگز نہيں ہے۔

    يہ سوچ حقائق کے منافی ہے کہ جو بھی امريکی حکومت کی پاليسی سے اختلاف کرے وہ ہمارا ٹارگٹ بن جاتا ہے۔ يہ تاثر کہ ہماری پاليسيوں پر تنقيد اور ہمارے نقطہ نظر سے اختلاف کسی بھی شخص کے ليے مطلوبہ افراد کی لسٹ ميں شموليت کا موجب بن جاتا ہے، بالکل غلط اور بے بنياد ہے۔

    اپنی راۓ کو پيش کرنا اور شديد جذبات کا اظہار اس عمل کے متوازی نہيں ہے جس ميں دہشت گردی کی کاروائيوں کی حمايت، منصوبہ بندی، فنڈنگ اور امداد کی جاتی ہے اور يہی وہ وجوہات ہيں جن کی بدولت امريکی حکومت نے داعش، ٹی ٹی پی اور ديگر دہشت گرد تنظيموں پر مختلف پابندياں عائد کيں۔

    يہ ناممکن اور ناقابل فہم سوچ ہے کہ دنيا بھر ميں امريکہ مخالف جذبات کی لہر کو بدلنے کے ليے افراد کو صرف اس بنياد پر نشانہ بنايا جاۓ يا ان کا نام مطلوبہ افراد کی لسٹ ميں شامل کيا جاۓ کيونکہ وہ ہمارے نقطہ نظر سے اختلاف رکھتے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں