1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موجودہ حکمران کافر نہیں بنتے ، تکفیریوں کا اپنی کتاب میں اعتراف!

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از Ibrahim Qasim, ‏مارچ 15، 2016۔

  1. ‏مارچ 15، 2016 #1
    Ibrahim Qasim

    Ibrahim Qasim مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2016
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    موجودہ حکمران کافر نہیں بنتے ، تکفیریوں کا اپنی کتاب میں اعتراف!


    الشیخ ذکا اللہ سندھی حفظہ اللہ


    کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے قتال کرنے سے کوئی بھی شخص کافر نہیں ہوتا وہ حاکم ہو یا فوجی اور یہ عمل ولاء میں تو شامل ہے لیکن تولی میں نہیں۔ اس بات کا اعتراف خود تکفیریوں نے کیا ہے۔ اور اس اصول کی روشنی میں موجودہ دور کے حکام کافر نہیں بنتے۔ ابوعمروعبدالحکیم کی مشہور تصنیف “التبیان” جسکو تکفیری حضرات بہت زوروشور سے پھیلانے پرتلے ہوئےہیں،اوراسی کتاب کو اپنے موقف کی وضاحت کے لیے حرف آخر کہتے ہیں۔ ہم آپکے سامنے اسی کتاب کے صفحہ 58 سے 61 تک اقتباس سے بیان کریں گے کہ کفار سے دوستی کب انسان کو کافر بناتی ہے اور کب صرف گنہگار بناتی ہے۔
    ملاحظہ فرمائیں التبیان سے اقتباس :
    ابوعمروعبدالحکیم لکھتا ہے:
    ” لفظ المُوالَاۃِ اور التَّوَلِّی میں ایک دقیق فرق
    یہاں ایک بڑا لطیف علمی نکتہ بھی سمجھنے کے قابل ہے ۔وہ یہ کہ عربی زبان میں دوستی کے لیے ایک لفظ ’’المُوَالَاۃ‘‘ استعمال ہوتا ہے اور ایک لفظ’’التَّوَلِّی‘‘استعمال ہوتا ہے۔لفظ الموالاۃ تو قربت، نزدیکی، پیروی، مدد، تعاون، محبت، دوستی اور غلامی وغیرہ کے معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔لیکن لفظ’’التَّوَلِّی‘‘ بطورخاص صرف اور صرف سیدھی صاف پیروی اور نصرت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
    یہی وہ معنی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں وارد ہوا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بارے میں فرمایا :
    [ كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ ]
    ’’اس )شیطان(پر )اللہ کا فیصلہ (لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اس کی پیروی کرے گا وہ اسے گمراہ کردے گا اوراسے آگ ک عذاب کی طرف لے جائے گا‘‘ (الحج:4)
    مذکورہ آیت کریمہ میں مَنْ تَوَلَّاہُ کامعنی یہ ہے کہ ’’جو اس کی پیروی کرے گا ‘‘ لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ کا دوسرا مخصوص معنی ’’مدد ونصرت‘‘ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے فرمان میں وارد ہوا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
    [إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ]
    ’’اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی مدد وتعاون سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے لڑائیاں لڑیں اور تمہیں دیس نکالے دیے اور دیس نکالا دینے والوں کی مدد کی جو لوگ اس قسم کے کافروں کی مدد ونصرت کریں گے وہ پکے ٹھکےظالم لوگ ہوں گے‘‘ الممتحنۃ : 9
    مذکورہ آیت کریمہ میں بھی أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ کامعنی یہ ہے کہ ’’تم ان کی مدد ونصرت کرواور جو شخص بھی ان کی مدد ونصرت کرے گا تویہی لوگ ظالم ہوں گے ‘‘
    اسی طرح قرآن مجید میں ایک مقام پر ’’التَّوَلِّی‘‘مددونصرت کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے ۔
    اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
    لاَ تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اﷲُ عَلَیْہِمْ . . . .
    اے مسلمانو!(ایسی قوم کی مددونصرت نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے….‘‘
    مذکورہ آیت کریمہ میں لاَ تَتَوَلَّوْا کامعنی ہے کہ تم دوستی نہ کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں اپنا ایک خصوصی وصف بیان کیا ہے کہ میں مومنوں کا حامی ومددگار ہوں ۔
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
    اللہُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
    ’’ایمان لانے والوں کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ،وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف خود لے جاتا ہے اور کافروں کے مددگار شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے ‘‘ البقرۃ: 257
    مذکورہ آیت میں بھی ﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔ان الفاظ کا معنی ہے کہ’’اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ہیں ۔‘‘ لہٰذا اس آیت میں’’وَلِیُّ‘‘ کامعنی مددگار ہے ۔اس طرح مذکورہ آیت میں وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔ان الفاظ کا معنی ہے ’’وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے مددگار طاغوت ہیں ۔‘‘اس آیت میں اولیاء کا معنی “زیادہ تعداد میں مددگار‘‘ہے۔علیٰ ہٰذا القیاس۔ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک قرآن مجید میں ایک اور مقام پر بھی یہ لفظ مددگار کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
    فَإِنَّ اللہَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ
    ’’یقینا اس (رسول اللہﷺ) کا مددگار اور کارساز تو اللہ تعالیٰ ہے ،جبریل ہے اور نیک اہل ایمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں‘‘(التحریم:4)
    مذکورہ آیت میں لفظ ’’مَولَاہُ‘‘ کامعنی ’’اس کامددگار ‘‘ہے۔ نیز قرآن مجید کے ایک اور مقام پربھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں بھی یہ مددگار کے معنی میں ہی ہے ۔
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    ذٰلِکَ بِاَنَّ اﷲَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَہُمْ
    اللہ تعالیٰ نے کافروں کو سزائیں دیں (اس لیے کہ ایمان والوں کا مددگار اور کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اورکافروں کا کوئی بھی مددگارنہیں ہے‘‘ سورۃ محمد:4
    مذکورہ آیت کریمہ میں بھی لفظ ’’مَولیٰ‘‘دودفعہ استعمال ہوا ہے ۔دونوں جگہ اس کامعنی ومددگار اور کارساز ہے ۔ یہ چند آیات بطور مثال ذکر کی گئی ہیں ان کے علاوہ جہاں جہاں بھی یہ لفظ وارد ہوا ہے اکثر وبیشتر اِسی معنی میں ہے ۔ مذکورہ بالا ساری گفتگو کالب ولباب یہ ہے کہ لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ لفظ’’المُوَالَاۃ‘‘سے زیادہ خصوصیت کا حامل ہے۔ ’’التَّوَلِّی‘‘ کامطلب یہ ہے کہ’’عَلَی الاِطلَاق‘‘ غیر مشروط طور پر پیروی اور فرمانبرداری کرتے جانا اورپوری پوری مدد ونصرت کرنا۔‘‘
    مذکورہ بالا گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ التَّوَلِّی اور المُوَالَاۃ کے درمیان عموم اور خصوص کی نسبت ہے ۔ ’’التَّوَلِّی‘‘ اور’’المُوَالَاۃ‘‘کے مابین بیان کیے گئے اِسی فرق کو ہی ملحوظ رکھتے ہوئے الشیخ عبداللہ بن عبداللطیف رقمطراز ہیں :
    ’’التَّوَلِّی کُفْرٌ یُخرِجُ مِنَ المِلَّۃِ وَ ھُوَ کَالذَّبِّ عَنْھُمْ وَ اِعَانَتِھِمْ بِالْمَالِ وَالْبَدْنِ وَالرَّأْیِ ۔ وَالمُوَالَاۃُ کَبِیْرَۃٌ مِنَ الْکَبَائِرِ ۔ کَبَلَّ الدَّوَاۃِ وَ بَرِیِ الْقَلَمِ وَالتَّبَشُّشِ أَوْ رَفْعِ السَّوْطِ لَھُم۔‘‘
    ’’کافروں کے ساتھ التولی والا تعلق واضح کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے ۔مثلاً
    کافروں کا بھرپور دفاع کرنا ۔
    نیز دامے ،درہمے ،سخنے اور قدمے ان کا پورا تعاون کرنا ۔
    جبکہ کافروں سے المُوَالَاۃ جیسا دوستانہ تعلق اگرچہ ملتِ اسلامیہ سے نکالنے والا کفر نہیں مگر وہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ مثلاً
    کافروں کی خاطر اپنے قلم وقرطاس کو حرکت میں لانا اور
    ان کی پالیسیوں کی حمایت میں مضامین (Articles) تحریرکرنا۔
    کافروں کو خوش کرنے کے لیے ان کی خاطر بچھ بچھ جانا اور صدقے واری جانا۔
    مسلمانوں کے خلاف پولیس وفوج کو حرکت میں لے آنا اور گولی وبندوق کا رخ مسلمانوں کی طرف کردینا ۔
    یہ سب اعمال کبیرہ گناہوں میں سے ہیں ۔‘‘
    (التبیان،ترجمہ دوستی دشمنی کا معیار از ابوعمروعبدالحکیم حسان صفحہ 58تا61)
    (التبیان سے اقتباس ختم ہوا)
    قارئین اس اقتباس میں آپ نے تکفیریوں کی ہی کتب میں بڑی وضاحت کے ساتھ پڑھ لیا ہے کہ کافروں سے التولی والا تعلق واضح کفر ہے،یعنی ان کا بھرپور دفاع کرنا جبکہ کافروں سے المولاۃ جیسا دوستانہ تعلق انہیں اسلام سے خارج نہیں کرتا بلکہ گناہ کبیرہ کامرتکب کردیتا ہے،اور اس کی مثالیں بھی دی ہیں جیسے کافروں کی خاطر اپنی قلم اور قرطاس چلانا،کفار کو خوش کرنےکےلیے بچھ بچھ جانا اور کفار کی خاطر مسلمانوں کے خلاف تلوار،بندوق یا گولی چلانایہ سب اعمال المولاۃ میں شامل ہیں،اور یہ کام انسان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے،بلکہ گنہگار کرتے ہیں۔ اور موجودہ حکام اسی زمرہ میں آتے ہیں!
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 16، 2016 #2
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    کفرکا تعلق انسان کے عقیدے سے ہے -جب ایک انسان یا حاکم وقت کو اپنے مفادات کے لئے کافروں کا بھرپور دفاع کرنا ہوتا ہے۔ تو پہلے وہ کافروں سے المُوَالَاۃ جیسا دوستانہ تعلقات ہی قائم کرتا ہے- اور پھروہ کافر ہوجاتا ہے-
     
  3. ‏مارچ 17، 2016 #3
    Ibrahim Qasim

    Ibrahim Qasim مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2016
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    اللہ اکبر کبیرہ
    اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تھا کہ فلاں شخص نے دل سے نہیں بلکہ موت کے ڈر سے کلمہ پڑھا تھا،
    تو اس پر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
    اسامہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟؟؟
    محمد جواد صاحب جن حکمرانوں کے بارے آپ ظن قائم کررہے ہیں کہ ان کے دل میں فلاں فلاں پروگرام ہوتا ہے جس کے تحت وہ کافروں سے دوستی لگاتے ہیں،
    میں بھی آپ سے یہی بات کہوں گا کہ
    جب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس دل کو چیر کر دیکھنے والا پیمانہ نہیں تو آپ کے پاس کون سا پیمانہ ہے کہ دلوں کی باتوں پر ظن قائم کرکے ان کی تکفیر کررہے ہیں؟
    ویسے بھی ظن کی بنیاد پر تکفیر کرنے کی بھی دلیل عنایت فرمادیں
    ویسے مزے کی بات ہے کہ اگر آپ کا ظن حاطب بن ابی بلطہ رضی اللہ عنہ پر بھی فٹ کیا جائے تو وہ بھی اہل اسلام کی صف سے کہیں دور کردیے جاتے۔۔۔۔
     
  4. ‏مارچ 18، 2016 #4
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    یہ ٹھیک ہے کہ ہم کسی کا دل چیر کر یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کون مومن ہے اور کون کافر -لیکن یہ انسان کے اعمال ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ کون مومن ہے اور کون کافر -ورنہ تو اس طرح تو ہم کسی عیسائی یا یہودی یا ہندو کو بھی کافر نہیں کہہ سکتے - آپ کو کیا پتا کہ کس تک اسلام کی دعوت پہنچی اور کس تک نہیں پہنچی ؟؟ انسان کافر جب ہی بنتا ہے جب اس پر حق واضح ہو جائے اور پھر بھی وہ حق سے پہلو تھی کرے -آپ یا میں اگر کسی ہندو گھرانے میں پیدا ہوتے تو غالب گمان یہی ہے کہ شرک میں ملوث ہوتے- ہم صرف اس لئے مسلمان کہلاتے ہیں کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوے ہیں - دین اسلام کبھی بھی ہماری معرفت نہیں بنتا- اب ایک حکمران مسلمان ہونے کا دعوی کرے جب کہ اسے قرآن و احادیث کا احکامات کا بھی پتا ہو کہ کافروں سے دوستی کا کیا انجام اور حکم ہے اور پھر بھی حق سے پہلو تہی کرے تو کیا وہ کافر نہیں ہو جائے گا ؟؟

    اسامہ بن زید رضی الله عنہ نے جس کلمہ پڑھنے والے شخص کو قتل کیا تھا- اس کو انہوں نے اس کے کلمہ پڑھنے کے باوجود مہلت دیے بغیر قتل کردیا تھا - اگر اس کو مہلت مل جاتی اور پھر جنگ ختم ہونے کے بعد وہ شخص کفرکرتا تو کیا پھر وہ واجب القتل نہ ہوتا؟؟
     
    Last edited: ‏مارچ 18، 2016
  5. ‏مارچ 19، 2016 #5
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    ابراہیم قاسم اِس طرح کی پوسٹ جس میں کسی مسلمان کو خارجی یا تکفیری کہا جائے اِس فارم پرکرنا منع ہے۔ اِس لیے براے مہربانی آئندہ ایسی پوسٹ نہ کرنا۔
     
  6. ‏مارچ 19، 2016 #6
    Ibrahim Qasim

    Ibrahim Qasim مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2016
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    ماشا۶اللہ کمال کا فہم دیا ہے اللہ نے ٓپ کو،میرا تو دل کررہا ہے کہ آپ کو ام القرا۶ میں ہونا چاہیے،تاکہ آپ کے فہم کی پوری دنیا میں ترویج ہوسکے۔۔۔ابتسامہ
    کس قدر عجیب منطق جوڑا ہے آپ نے بہت ہی عجیب پڑھ کر بار بار ہنسی آئی اور آپ کے علم پر ترس بھی آیا،
    جناب ہندو عیسائی،یہودی جب آپ کے سامنے کلمے کا اقرار ہی نہیں کرتے،بلکہ اپنے آپ کو واضح طور پر اپنے مذہب کے پیرکار کہلواتے ہیں،تو پھر کسی کو پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ ان کے بارے پریشان ہوتا رہے کہ پتہ نہیں مسلمان ہیں کہ نہیں،کیا فرمان محمدﷺ نہیں آپ کے علم میں؟؟
    اسلام میں داخل ہونے کا دروازہ کلمہ شہادت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب کوئی کلمہ شہادت پڑھ لے تو پھر کفریہ شرکیہ کام کرے تو اس کو اسلام سے خارج قرار دینے کےلیے جن اصولوں کو سامنے رکھا جاتا ہے ان پر ہماری بحث ہورہی ہے،نہ کہ داخل ہونے پر،
    ویسے بھی آپ کو شاید اسلام میں داخل ہونے کے اصول و ضوابط کا علم کم ہی ہو،کیونکہ آپ کے نزدیک تو خارج کرنے والا ہی کام چلتا ہے،داخل تو کبھی کبھار ہی ہوتا ہوگا۔

    یہ تب ممکن ہے جب وہ پہلے اسلام میں داخل ہوچکا ہو،ورنہ اس سے پہلے حق واضح ہویا نہ وہ کافر ہی ہوتا ہے۔
    یہاں بھی وہی اصول لگے گا،اگر وہ مسلمان ہے تو پھر اس کو علم ہویا نہ،اہل علم جب تک اس پر حجت تمام نہ کرلیں تب تک اس کو کافر نہیں قرار دیا جاسکتا،اور اتمام حجت کیسے ہوتا اس پر امید ہے آپ کو علم ہوگا،نہیں تو اس موضوع کو الگ شروع کرلیں۔
    ۱:اس کا مطب اسامہ بن زید نے اس کو درست قتل کیا؟اور معاذ اللہ نبی کریم ﷺ نے اس سے جو برات کا اظہار کیا وہ۔۔۔۔۔اناللہ واناالیہ راجعون
    ۲:اناللہ واناالیہ راجعون،،،،ابھی تک ایک شخص نے گناہ کیا ہی نہیں،پہلے ہی اس پر گمان کرلیا کہ اگر اس نے کل کو یہ گناہ کردیا تو کافر ہوجائے گا،لہذا ابھی اس کو قتل کردو،قربان جاوں آپ کے منہج پر۔اللہ کی قسم رونا آتا ہے تم جیسوں کی جہالت اور بے بسی دیکھ کر۔
    اللہ سے ڈر جائیں اور اپنی آخرت کی فکر کریں،بنیادی علم سے تو آپ محروم لگ رہے ہیں اور ان مسائل کے مفتی اعظم بنے ہوئے ہیں،جو عام عالم کے بس کی بھی بات نہیں،
    میری اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو حق والی راہ دکھائے اور تعصب ہٹ دھرمی اور جہالت کی گہرائییوں سے نکلنے کی توفیق عطافرمائے
     
    Last edited: ‏مارچ 19، 2016
  7. ‏مارچ 20، 2016 #7
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    ’’کافروں کے ساتھ التولی والا تعلق واضح کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے ۔مثلاً[/SIZE][/FONT][/COLOR][/FONT][/SIZE]
    کافروں کا بھرپور دفاع کرنا ۔
    نیز دامے ،درہمے ،سخنے اور قدمے ان کا پورا تعاون کرنا ۔
    جبکہ کافروں سے المُوَالَاۃ جیسا دوستانہ تعلق اگرچہ ملتِ اسلامیہ سے نکالنے والا کفر نہیں مگر وہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ مثلاً
    کافروں کی خاطر اپنے قلم وقرطاس کو حرکت میں لانا اور
    ان کی پالیسیوں کی حمایت میں مضامین (Articles) تحریرکرنا۔
    کافروں کو خوش کرنے کے لیے ان کی خاطر بچھ بچھ جانا اور صدقے واری جانا۔
    مسلمانوں کے خلاف پولیس وفوج کو حرکت میں لے آنا اور گولی وبندوق کا رخ مسلمانوں کی طرف کردینا ۔
    یہ سب اعمال کبیرہ گناہوں میں سے ہیں ۔‘‘
     
  8. ‏مارچ 20، 2016 #8
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    سوال برائے اصلاح

    حضرت قاسم صاحب یہ تو ہم کو معلوم ہے کہ کبیرا گناہ کرنے والا شخص کافر نہیں ہوتا بلکہ مسلمان ہی رہتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص کبیرا گناہ کرتا ہی جائے اور کبیرا گناہ کرنے سے نہ رکے اور نہ اِس کبیرہ گناہ کو گناہ سمجھے بلکہ شوق سے کبیراہ گناہ کرتا چلا جائے تو کیا وہ شخص مسلمان ہی رہے گا؟ یا وہ کافر ہو جائے گا۔ مثلا ایک کبیراہ گناہ یہ بھی ہے کہ کوئی نماز نہ پڑھے اب ایک شخص تو ایک دو بار نماز کو چھوڑ دے غلطی سے نہیں جان بوجھ کر اور اِس نماز چھوڑنے کو وہ یہ بھی سمجھے کہ یہ کبیراہ گناہ ہے تو وہ شحص مسلمان ہی رہے گا۔ لیکن اگر ایک شخص مسلسل نماز چھوڑ دے اور کہے ایسا مجھ پر فرض نہیں ہے اور نماز نہ پڑھنا میرے لیے باعث گناہ نہیں ہے۔ تو کیا وہ شخص مسلمان ہی رہے گا۔
     
  9. ‏مارچ 20، 2016 #9
    Ibrahim Qasim

    Ibrahim Qasim مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2016
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    25


    محترم۔
    میں نے کسی مسلمان کو خارجی یا تکفیری نہیں کہا ھے۔ نہ میں سمجھتا ھوں۔ آپ دوبارہ پڑھیں۔ اگر مجھ سے غلطی ھوئی ھو تو میں اللہ سے معافی مانگتا ھوں۔
     
  10. ‏مارچ 22، 2016 #10
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    (باقی باتوں نظر انداز کرتے ہوے )

    بات اصول کی ہے- میں کسی پر فتویٰ نہیں جڑ رہا ہے کہ فلاں کافر ہے اور فلاں مسلمان- جن اصول ضوابط کی بنیاد پر ہم کسی یہودی یا عیسائی یا ہندو کو کافر قرار دیتے ہیں یعنی ان کا ظاہری عمل ہی ہے جس پر ہم ان کو کافر گردانتے ہیں (ورنہ دلوں کے حال تو الله جانتا ہے) -تو اسی طرح ظاہری عمل کی بنیاد پر ہی ہم کسی بھی مسلمان حکمران کو کافر کیوں نہیں قرار دے سکتے ؟؟- جب کہ وہ واضح کفر کا مرتکب ہو - کتنی عجیب منطق ہے کہ جب کوئی زنا کرتا ہے تو زانی کہلاتا ہے ، کوئی چوری کرتا ہے تو چور کہلاتا ہے- کوئی ڈاکہ مارتا ہے تو ڈاکو کہلاتا ہے - لیکن اگر کوئی کفر کرے تو کافر نہیں کھلا سکتا ؟؟- آج یہ مرجیہ فرقہ ہی ہے جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر حکمرانوں کے واضح کفریہ اعمال کے باوجود ان کو کفر کے فتویٰ سے بچانے کی سعی میں لگا ہوا ہے - کبھی کفر دون کفر کا جھانسا دیا جاتا ہے تو کبھی کہا جاتا ہے کہ جو عمل حکمران کرتے ہیں وہ گناہ کبیرہ کے زمرے میں تو آتے ہے لیکن ان کو کفر نہیں کہا جا سکتا - اگر یہ حکمران گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں تو پھر کفردون کفر کی گردان کرنے کا کیا فائدہ ؟؟- اور اگر یہ حکمران کفر دون کفر کے مرتکب ہیں تو گناہ کبیرہ کی مثالوں کا کیا فائدہ؟؟ - کیوں کہ کفر تو بہر حال کفر ہے- مزید یہ کہ اگر آپ ا ن حکمرانوں کو گناہ کبیرہ کے مرتکبین میں شمار کرکے ان کو کفر کی زد سے بچانا چاہتے ہیں تو پھر ان احادیث نبوی کے متعلق آپ کیا کہیں گے جس میں "شرک "کو بھی گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے -اور اس کی کوئی معافی نہیں -

    دوسری بات یہ کہ قرآن میں الله رب العزت نے ایمان و کفرکو واضح کردیا ہے -کیا قرآن پوری امّت کی رہنمائی کے لئے نازل نہیں ہوا- اب کیا کلمہ پڑھنے والا اس بات کا انتظار کرے گا کہ اس پر اتمام حجت ہو تب ہی وہ کافر ہوگا - اس سے پہلے وہ جو مرضی چاہے کرتا پھرے؟؟- الله اور اس کے رسول کے احمکامات کی جس طرح دھجیاں اڑاے وہ پھر بھی مسلمان ہی کہلایے گا کیوں کہ وہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہو گیا تھا؟؟-

    مزید یہ کہ لگتا ہے آپ نے بغیر پڑھے ہی میری پوسٹ پر اپنا جذباتی تبصرہ شروع کردیا - ذرا صبرسے کام لیں اور دوبارہ میری پوسٹ کو غور سے پڑھیں -

    اسامہ بن زید رضی الله عنہ نے جس شخص کو جنگ کے دوران قتل کیا تھا - اس نے قتل ہونے سے پہلے کلمہ پڑھ لیا تھا- اسامہ بن زید کا اقدام غلط تھا - اس لئے کہ جب کوئی کلمہ پڑھتا ہے تو حسن ظن کی بنیاد پر اس کو ایک مسلمان ہی شمار کرنا ایک مومن کی ذمہ داری بن جاتی ہے - اسامہ بن زید رضی الله عنہ سے جلد بازی میں یہ غلطی سر زد ہوئی کہ انہوں نے اس کے اس کلمے کا اعتبار نہیں کیا - اور اسی بات پر نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم نے جو اسامہ رضی الله عنہ پر ناراضگی کا اظہار کیا وہ حق تھا-

    تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ وہی شخص اگر قتل سے بچ جاتا محض اپنے کلمہ کی بنیاد پر - اور جنگ ختم ہونے کے بعد وہ دوبارہ کفر کا مرتکب ہوتا تو کیا نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم اس کو زندہ چھوڑدیتے ؟؟ کیا اس کا مرتدین میں شمار نہ ہوتا؟؟

    یہی اصول ایک مسلم حکمران کا ہے - اگروہ اسلام لانے کے بعد بھی کفر کرتا ہے جس کی دلیل قرآن و احادیث سے واضح ہے تو وہ بہرحال کافر ہے - دنیا جو مرضی چاہے کہتی پھرے -


    الله ہم سب کو اپنی ہدایت سے نوازے (آمین)
     
    Last edited: ‏مارچ 22، 2016
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں