1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی

'علماء' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏مئی 14، 2019۔

  1. ‏مئی 14، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    مولانا ابوالکلام آزاد-رحمہ اللہ-کی بیوی زلیخا بیگم وفاشعار اور شوہر کی خوشی پر قربان ہوجانے والی ایک مکمل مشرقی خاتوں تھیں،حمیدہ سلطانہ لکھتی ہیں کہ ایک دن صبح جو ہم پہنچے تو بیگم آزاد کی نرگسی آنکھوں میں ڈورے دیکھ کر والدہ نے ان سے مسکرا کر کہا ،کیا بات ہے؟انہوں نےجواب دیا:"آج کل مولانا قرآن پاک کی تفسیر لکھ رہے ہیں،رات کے دو بجے کے بعد اٹھ بیٹھتے ہیں،جتنی دیر وہ لکھتے ہیں پنکھا کھینچتی رہتی ہوں،موسم بے حد گرم ہے،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ جاگیں اور محنت کریں اور میں آرام سے سوتی رہوں "(ایوان اردو کا مولانا آزاد نمبر ص/145)۔

    مولانا ابوالکلام آزاد-رحمہ اللہ-اپنی شریک حیات(زلیخا بیگم)کی محبت ومروت،ایثار وانکسار،فہم و فراست،صبر واسقلال کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی وفات کے بعد ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
    "۔۔۔1916ء میں جب پہلی مرتبہ گرفتاری پیش آئی تھی تو وہ اپنا اضطراب خاطر نہیں روک سکی تھی اور میں عرصے تک اس سے ناخوش رہا تھا ،اس واقعے نے ہمیشہ کے لئے اس کی زندگی کا رخ پلٹ دیا اور اس نے پوری کوشش کی کہ میری زندگی کے حالات کا ساتھ دے،اس نے صرف ساتھ ہی نہیں دیا بلکہ پوری ہمت واستقامت کے ساتھ ہر طرح کے ناخوشگوار حالات برداشت کیے،وہ دماغی حیثیت سے میرے افکار وعقائد میں شریک تھی اور عملی زندگی میں رفیق ومددگار"(ایوان اردو کا مولانا آزاد نمبر ص/140)۔
    واقعی ہر عظیم شخصیت کے پیچھے عظیم خاتون کا اہم رول ہوتا ہے۔
     
  2. ‏مئی 14، 2019 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    مولانا ابوالکلام آزاد کہتے ہیں:
    "-"حیات جاوید"ایک ہزار صفحے پر ختم ہوئی ہے،میں نے دو شب میں ختم کر ڈالی تھی،یہ بھی مجھے یاد ہے کہ اپنے اس معمول کے مطابق کہ کسی نئی کتاب کے حصول پر کم سے کم ایک وقت کا کھانا ضرور فراموش ہوجاتا تھا،اس دن بھی میں نے شام کا کھانا نہیں کھایا،اس خوف سے کہ اتنی دیر تک مطالعے سے محروم رہ جاؤں گا"۔
    (آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ص/158)

    مولانا ابوالکلام آزاد کے حیلے بہانے:
    مولانا آزاد کہتے ہیں:
    "۔۔۔اسی زمانے میں ایک پورا کتب خانہ ہاتھ آگیا،اس میں اشاعة السنہ لاہور اور نصرة السنہ بنارس کی تمام پرانی جلدیں تھیں،انہیں بھی دیکھا،نواب صدیق حسن خاں مرحوم کی کتابیں سب سے پہلے اسی زمانے میں دیکھنے کا اتفاق ہوا،بہت سی ان مباحث کی وہ کتابیں جو غدر سے پہلے اوائل شیوع نزاع میں لکھی گئیں،اور جو سب والد مرحوم کی کتابوں میں تھیں،میں نے نکالیں اور دیکھیں،والد مرحوم سے تو یہ کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ کتاب دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ صرف درسیات کے انہماک پر زور دیتے تھے،اسی لیے طرح طرح کے حیلے بہانے پیدا کر لیتا تھا،مثلا کتابوں کو دھوپ لگانی چاہئے ،بہت دنوں سے صندوق کھلے نہیں ہیں،یا والد نے کوئی خاص کتاب نکلوانی چاہی،اس طرح موقع نکال کے ایک ایک کتاب کو دیکھا،کیونکہ کوئی مرتب فہرست نہ تھی"
    (آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ص/239)


    مولانا ابوالکلام آزاد کہتے ہیں:
    "دس برس کی عمر میں مجھے کتابوں کا اتنا شوق ہو گیا تھا کہ ناشتے کے جو پیسے ملتے تھے،ان کو جمع کرتا تھا اور ان سے کتابیں خریدتا تھا"۔
    (آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ص/121)۔
     
  3. ‏مئی 19، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    کنور مہندر سنگھ بیدی سحر لکھتے ہیں:
    "جوش صاحب اردو شاعری کے بادشاہ تھے،جتنا ذخیرئہ الفاظ ان کے پاس تھا شاید کسی اور کو نصیب نہ ہوا ہو لیکن دو ایسی ہستیاں تھیں جن کے سامنے جوش صاحب خاموش رہنا زیادہ مناسب سمجھتے تھے اور وہ مولانا آزاد اور مولانا عبد السلام نیازی،ایک روز میں نے جوش صاحب سے پوچھا کہ جب کبھی آپ مولانا آزاد یا مولانا عبد السلام نیازی سے ملتے ہیں تو اکثر خاموش ہی رہتے ہیں کیا وجہ ہے تو جوش صاحب کہنے لگے کہ یہ دونوں حضرات اس قدر پڑھے لکھے اور عالم ہیں کہ ان کے سامنے منہ نہ کھولنے ہی میں عافیت ہوتی ہے "(ایوان اردو کا مولانا آزاد نمبر ص/35)۔
     
  4. ‏جون 23، 2019 #4
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    [مولانا آزاد کے زیرِ مطالعہ چند کتابیں] :
    مولانا آزاد لکھتے ہیں:
    "مجھے یاد ہے جب اکتوبر 1916م میں نظر بند کیا گیا اور بہار گورمنٹ کے حکام اور پولیس افسر تلاشی کے لیے آئے تو انہوں نے میری تمام کتابوں کو بھی ایک خوفناک لٹریچر سمجھ کر نہایت احتیاط کے ساتھ قبضہ میں کر لیا، یہ تمام کتابیں عربی اور فارسی زبانوں میں تھیں اور تاریخ، فقہ، فلسفہ کا معمولی ذخیرہ تھا جو بازاروں میں فروخت ہوتا رہتا ہے...
    میں یہاں عربی داں اشخاص کی دلچسپی کے لیے ان کتابوں کے چند نام درج کر دیتا ہوں جنہیں نہایت خوفناک سمجھ کر پولیس نے شملہ بھیجا تھا اور عرصہ تک سر چارلس کلیو لینڈ کے حکم سے میری نظر بندی کے معاملات کی طرح ان کی بھی تحقیقات ہوتی رہی.
    فتح القدیر شرح ہدایہ، طبقات الشافعیہ سبکی، ازالۃ الخفا، کتاب الام، مدونہ امام مالک، مطالب عالیہ امام رازی، شرح حکمۃ الاشراق، شرح مسلم الثبوت، بحر العلوم، کتاب المستصفی، کتاب اللمع".
    دیکھو [دیوان اردو کا مولانا آزاد نمبر ص/392]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں