1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا ابو الاشبال احمد شاغف چل بسے

'اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏جون 03، 2019۔

  1. ‏جون 03، 2019 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    نام: أبو الاشبال احمد شاغف
    مقام: بہار انڈیا، پاکستان، مکہ مکرمہ سعودی عرب۔
    مکہ میں مقیم تھے، وہیں پر وفات ہوئی۔
    تاریخ وفات: بروز جمعرات، 25 رمضان کی رات، 1440ھ۔
     
  2. ‏جون 03، 2019 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    انا للہ و انا الیہ راجعون
    محدث مولانا ابو الاشبال شاغف صاحب
    (محقق تقریب التھذیب) آج رات وفات پا گئے ہیں۔
    اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس عطا فرمائے۔
    بہت بڑے عالم اور محقق تھے، ان کے مقالات پڑھنے کا موقع ملا جس سے اندازہ ہوا کہ واقعی اس دور کے کبار میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
    کئی بار شیخ البانی کے ساتھ بھی مناقشہ ہوا۔
    رحمہ اللہ تعالی۔
     
  3. ‏جون 03، 2019 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    إنا للہ وإنا إلیہ راجعون
    رابطہ کے دفتر اور حضرت مبارک پوری رحمة الله کے ساتھ ان کے دولت کدہ پر زیارتیں ہوئ مسلکی تڑپ اور درد رکھنے والی شخصیت تھی
    جدہ شہر میں سلسلہ دروس کی ابتدا کرنے والے ان کے لئے ہمیشہ صدقہ جاری رہے گا ان شاء اللہ۔
    (مولانا عمر فاروق ، مقیم جدہ)
     
  4. ‏جون 03، 2019 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بلغني الآن - من أحد إخواننا بباكستان- وفاة الشيخ العلامة المحقق أبي الأشبال صغير أحمد شاغف - بمكة - رحمه الله وغفر له ، فقلتُ :
    (أبو الأشبال) يقضي في صُماتٍ *
    صغيرٌ بل كبيرٌ في العلومٍ *
    وتخبرنا الرسائلُ عن مماتٍ *
    مُحمّلةً بأحمالِ الهمومِ *
    قضاءُ الموتِ بعد قضا حياةٍ *
    على كلِّ الورى حُكمُ العمومِ *

    أسامة الفرجاني
    1440.9.26 هجري
     
  5. ‏جون 03، 2019 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اللہ رب العالمین مغفرت فرمائیں اور ان کی قبر کو منور فرمائیں۔
    محدث ابو الاشبال شاغف رحمہ اللہ سے برسوں قبل حرم مکی میں باب بلال کی جانب ملاقات ہوئی۔
    بیتے برسوں کی برکھا نے ملاقات کے نقوش دھندلا دئیے۔
    یاد پڑتا ہے کہ وضع الیدین بعد الرکوع کے بارے میں بھی طالب علم نے استفسار کیا تھا۔
    تقريب التهذيب کا ایک نسخہ أبو الأشبال صغير أحمد شاغف الباكستاني کی تحقیق سے شائع ہوا وہ نمائش کتب سے طالب علم نے خرید کر مکتبہ کی زینت بنایا تھا۔
    اگر حافظہ ساتھ دے رہا ہے تو الشیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کے درس میں ابو الأشبال کی تعریف بھی سنی تھی ، شاید الشیخ نے کہا تھا: "دیکھو اس بارے میں الشیخ الباکستانی ابو الأشبال نے کیا کہا ہے۔"
    آپ کا تعلق بہار (ہند) سے تھا ، پاکستانی شہری تھے۔
    ( پروفیسر اعجاز حسن)
     
  6. ‏جون 03، 2019 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ‏السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ‏إنا لله وإنا إليه راجعون.
    ‏ببالغ الأسى والحزن ننعي إليكم وفاة ⁧‫الشيخ‬⁩ المحدث أبي الأشبال ⁧‫شاغف_الباكستاني، الذي توفي اليوم الخميس ١٤٤٠/٩/٢٥هـ في مكة المكرمة.
    ‏رحمه الله رحمة واسعه، وأعقبه في ولده خيرا، ولا أراكم الله مكروها في عزيز لديكم.
    أبو الأشبال صغير أحمد شاغف البهاري الباكستاني
    من أعماله:-
    1 - تحقيقه لكتاب (تقريب التهذيب) لابن حجر
    2 - شارك العلامة عبد الصمد شرف الدين في تحقيق الأجزاء الأولى من تحفة الأشراف للمزي
    3 - تحقيق (التعليقات السلفية على سنن النسائي) بالمشاركة مع الشيخ المحقق: أحمد مجتبى السلفي المدني
    4 - إتحاف القاري بسد بياضات فتح الباري
    5 - المستدرك (تصويبات وتعليقات على تحفة الأشراف ومجمع الزوائد وغيرهما من الكتب)
    6 - التعليقات المفيدة على الكتب العديدة (تصويبات وتعليقات على بعض الكتب المطبوعة والبرامج الإلكترونية)
    7 - طبعتا تحفة الأشراف في ميزان العدل (يقارن بين طبعتي عبد الصمد شرف الدين وبشار عواد معروف لتحفة الأشراف منتصرا للأولى)
    8 - زبدة تعجيل المنفعة لمن يريد زوائد رجال الأئمة الأربعة (تلخيص لكتاب تعجيل المنفعة لابن حجر على منوال التقريب له)
    9 - (مقالات شاغف) باللغة الأردية
     
  7. ‏جون 03، 2019 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اللّٰه مغفرت فرمائے اور انکی حسنات میں اضافہ فرمائے اور سیئات سے درگزر فرمائے۔۔۔۔آمین!
    غالباً شیخ رحمہ اللہ نے یوسف لدھیانوی کی کتاب ''اختلاف امّت اور صراط مستقیم'' کا جواب بھی لکھا تھا۔
     
  8. ‏جون 03، 2019 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    علم وحکمت کا ایک چراغ اور بجھا

    مولانا ابو الاشبال شاغف بہاری کی موت کی خبر سن کر یادیں تازہ ہوگئیں. اللھم اغفر لہ و ارحمہ واعف عنه و اجعل الجنة مثواه.
    ( 22 جون 2015 کی ایک تحریر پیش ہے)
    مولانا ابوالاشبال شاغف بہاری

    ثناءاللہ صادق تیمی
    مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی شیخ اصغر علی امام مہدی سلفی کی مکہ مکرمہ آمد پر ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی کے یہاں ظہرانے کی دعوت تھی ۔ اس مناسبت سے انہوں نے ہمیں ( ڈاکٹر حشرالدین المدنی ، شیخ محمد عزیر شمس اور راقم السطور ) کو بھی مدعو کرلیا ۔ دیر تک مختلف علمی ، جماعتی اور بین الجماعتی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ۔ مغرب کی نماز کے بعد شیخ اصغر علی امام مہدی سلفی نے ارشاد فرمایا کہ وہ مولانا ابوالاشبال شاغف سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ شیخ محمد عزیر شمس اپنی گاڑی کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے ہمیں بھی چلنے کے لیے کہا ۔ ہم ان کی تحریروں سے واقف تھے ۔ مقالات شاغف بہاری جہاں تہاں سے پڑھا بھی تھا ۔ اس لیے ہم نے جھٹ کہا کہ ہم ضرور چلنا چاہیںگے اور پھر شیخ کے ہمراہ ہمارا پورا قافلہ ان کی سمت نکلنے کے لیے تیار ہوگیا ۔ شیخ محمد عزیر شمس اورشیخ اصغر علی امام مہدی سلفی کے علاوہ ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی ، مولانا حفظ الرحمن تیمی اور یہ گناہگار اس قافلے میں شامل تھے ۔ رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ کچھ ضروری سامان لینے باہر گئے ہوئے ہيں ۔ آدھے گھنٹے میں لوٹ پائینگے ۔ ہمیں بھی ان کے در پر پہنچنے میں آدھا گھنٹہ لگ ہی گیا ۔ لیکن وہ گھر پر نہیں تھے ۔ ہم نے محلے کی مسجد میں پڑاؤ ڈالا ۔ سارے لوگ تلاوت کلام پاک میں لگ گئے ۔ نماز کے بعد ایک نوجوان عالم دین نے نہایت سلجھی ہوئی ششتہ عربی میں فی البدیہہ رمضان المبارک کے استقبال سے متعلق تاثیر انگیز تقریر کی ۔ ہم سب کے سب سنتے ہوئے محو ہوگئے اور یوں مولانا ابوالاشبال کے گھر پہنچنے میں تھوڑی اور دیر ہوگئی ۔ گھر پر بیل بجا کر دستک دی تو مناسب قد ، کھڑی ناک ، روشن پیشانی ، بھر کلا سفید داڑھی ، سر پر ٹوپی اور اس کے اوپر عربی رومال ، چہرے پر مسکراہٹ لیے ایک بزرگ نمودار ہوئے ۔ پتہ چلا کہ آپ ہی ابو الاشبال شاغف ہیں ۔ محبت سے ہمیں بٹھایا ۔ روح افزا سے ہماری تواضع کی اور پھر خبر خیریت کے بعد باتوں کا سلسلہ چل پڑا ۔ دراصل شیخ محمد عزیر شمس صاحب نے یہ کیا کہ انہيں چھیڑنا شروع کیا تاکہ وہ اپنے اندازمیں شروع ہوسکیں ۔ شروعات ان کی زندگی سے ہی ہوئی ۔ انہوں نے کراچی کے اپنے بعض تجربات شیئر کیے ۔ شیخ عزیر شمس نے ان سے کراچی تک پہنچنے کی داستان بھی سنانے کو کہا ۔ ہم نے ترتیب سے نیچے واقعے لکھنے کی کوشش کی ہے ۔
    آپ نے بتایا کہ وہ بھیونڈی، ممبئی میں تھے کہ وہاں فساد بھڑک اٹھا ۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے ایک جوان کی کٹی پھٹی صورت میں لاش دیکھی ۔ یہ کہہ کر کہ وہ گھر جارہے ہیں، کلکتہ کے لیے روانہ ہوگئے ۔ کلکتے کے اندر لال مسجد میں ان کے دوست عبدالعلیم کے بھائی رہتے تھے ، انہوں نے اچھی طرح استقبال کیا اور ایک دو روز بعد انہیں ڈھاکہ بھیجنے کا انتظام کردیا ۔ انہوں نے ایک آدمی کو تیار کیا جس نے انہیں بارڈر کراس کرانے کی ذمہ داری قبول کی ۔ اس زمانے میں سرحد کے اس پار اور اس پار کے جو لوگ پار کرانے کا کام کرتے تھے ان کے اپنے خاص انداز تھے چنانچہ جب انہیں لے جایا گیا تو ٹارچ کی روشنی آسمان میں ماری گئی اور یوں وہ سرحد کے باہر مشرقی پاکستان چلے گئے ۔ وہاں پہنچے تو دربان نے اپنے پاس رات گزارنے کو کہا اور صبح شہر جاکر ٹرین پکڑنے کی بات کہی ۔ صبح جب پہنچے تو گاڑی جاچکی تھی ۔ ایک ہوٹل میں ٹھہرے اور دوسرے دن ٹرین سے ڈھاکہ پہنچے ۔ تھکادینے والا سفر تھا ۔ کئی گھنٹوں بعد ٹرین انہيں وہاں لے گئی تھی ۔ راستے میں کھانے پینے کے لیے کوئي معقول چیز نہیں تھی ۔ چھوٹے بچوں کو پریشانی ہورہی تھی ۔ خیر جب ڈھاکہ پہنچے تو اپنے دوست عبدالعلیم کے پتے پر گئے ۔ وہ گھر پر نہیں تھے لیکن انہيں وہاں ٹھہرایا گیا اور عزت کی گئی ۔ دوست آئے تو بڑی آؤ بھگت کی ۔ لگ بھگ بائیس دن رہنے کے بعد کراچی جانے کے لیے تیار ہوئے ۔ پانی جہاز کا ٹکٹ لیا ۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اسی دن شہر میں کرفیو کا اعلان کردیا گیا اور یہ بات بھی بتائی گئی کہ پانی جہاز کا ٹکٹ گئے تو ٹھیک ورنہ ختم ۔ اب نکلنا ہر صورت میں ضروری تھا ۔ عبدالعلیم صاحب نے اپنے ایک عزیز غالبا اپنے سالے کو ان کے ہمراہ کیا اور ان سے کہا کہ چاہے جیسے ہو مولانا کو جہاز تک پہنچاؤ ۔ مولانا ابوالاشبال نے بتایا کہ ان کا سالہ بڑا تیز طرار آدمی تھا ۔ اس نے کمال ہوشیاری سے ہمیں ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاتے ہوئے بندرگاہ پہنچایا ۔ ہم جدھر گئے تھے ادھر سے پانی جہاز دوسری طرف تھا انہوں نے وہیں رکنے کو کہا اور اندر جاکر کسی ملازم سے بات وات کرکے ہمیں بڑی آسانیوں سے اندر جہاز کے داخل کروا دیا ۔ وہ دو لوگ تھے ۔ جب تک جہاز کھل نہیں گیا وہ اپنی جگہ سے ہلے نہیں ۔ اندر ہمیں سیٹ مل گئی ۔ ہمارے سامنے ایک صاحب پریشان بیٹھے تھے ہم نے ایک سیٹ ان کو دے دیا ۔ بارہ دن بعد کراچی پہنچے تو پتہ چلا کہ کولرا کی بیماری پھیل گئی ہے ۔ پہلے ڈاکٹروں نے ہمارا چیک اپ کیا اورپھر انجیکشن لگایا ۔ کئی گھنٹوں بعد ہمیں اتارا گیا ۔ ادھر جب ہم کراچی پہنچے تو پتہ چلا کہ ادھر ڈھاکہ میں فساد پھوٹ پڑا ہے ۔ جن صاحب کو ہم نے سیٹ آفر کی تھی ان سے باتیں ہوئيں تو انہوں نے کہا کہ آج کی رات آپ ہمارے یہاں قیام کریں ، کل سے اپنا ٹھکانہ ڈھونڈلینگے ۔ ہم نے ان کی ضیافت قبول کرلی ۔
    شہر میں ہمارے جاننے والے تھے ۔ انہوں نے ہماری مدد کی ۔ ایک صاحب نے ملازمت کے لیے ہمدرد جانے کو کہا ۔ اور ایک چٹھی لکھ دی ۔ میں گیا تو ہمدرد والے نے پوچھا کہ بھیجنے والے آدمی ہمارے جاننے والے ہیں ۔ پھر ہماری تعلیم وغیرہ کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ آپ یہاں کام نہیں کر پائينگے ۔ میں نے کہا کیوں ؟ میرے اصرار پر انہوں نے بتایا کہ اب موتی نہیں ہیں ، یہاں موتی کے نام پر سیپ دیے جاتے ہیں ۔ میں لوٹ گیا ۔ ایک دوسری جگہ ملازمت ملی ۔ کام کچھ مشکل نہیں تھا ۔ پردے میں ڈش سجانی رہتی تھی ۔ لیکن مجھے یہ خبر نہیں تھی کہ اس کے اندر ہے کیا ؟ کئی روز بعد میں نے اپنے ہم پیشہ ملازم سے پوچھا کہ بھائی اس کے اندر کیا رہتا ہے ؟ اس نے کہا اس سے تمہیں کیا مطلب ؟ اپنے کام سے کام رکھو ۔ میں نے اصرار کیا تو بتلایا کہ اس کے اندر شراب پینے کے برتن ہوتے ہیں ۔ میں نے صاحب دکان سے کہا کہ مجھے دوسری جگہ مناسب نوکری مل گئی ہے ۔ کل سے نہیں آؤنگا ۔ اللہ کا کرنا دیکھیے کہ غالبا اسی دن یا اس کے دوسرے دن ایک مدرسے میں تدریس کے لیے جگہ مل گئی ۔ اور میں پڑھانے لگا ۔
    ہم نے پوچھا کہ آپ کو وہاں شہریت آسانی سے مل گئی ؟ آپ نے بتایا کہ تب وہاں پہنچ جانا ہی انسان کے لیے بہت تھا ۔ ہم نے شناختی کارڈ تک بنوالیا اور پھر رہنے لگے ۔ سناتے ہوئے آپ نے بتایا کہ بنگال کے اندر اردو بولنے والوں کو بہاری کہا جاتا تھا ۔ کراچی میں ایک صاحب نے اپنی بچی کی شادی میں ہمیں دعوت دی اور کہا کہ ہم بھی بہاری ہیں ۔ ہم نے جب ان سے ان کے گھر کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلاکہ وہ پوپی کے رہنے والے ہيں ۔ ہم نے کہا کہ بھائی بہاری تو ہم ہیں ، آپ تو یوپی والے ہیں ۔ انہوں نے کہا یہاں ہم سب ہی بہاری ہیں ۔ جناح سے متعلق کافی اچھے خیال کے حامل نظر آئے ۔ بتایاکہ اس نے توبہ کرلیا تھا اور اپنی بیٹی کی پارسی سے شادی کرانے کے لیے بالکل راضی نہیں تھا ۔ میں نے جب منٹو کی کتاب گنجے فرشتے کے حوالے سے کہا کہ منٹو نے بھی جناح کے ڈرائیور کے ریفرنس سے یہ باتیں لکھی ہیں تو خوش ہوئے اورسب کی طرف فاتحانہ انداز میں دیکھتے ہوئے بولے کہ یہ دیکھیے میری باتوں کی تائيد مل گئی نا آپ لوگوں کو ۔ ہمیں افسوس ہوا تو یہ ہوا کہ وہ مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں افسوسنا ک حد تک غلط فہمی کے شکار نظر آئے ۔ اللہ رحم کرے مولانا آزاد پر اور درجات بلند کرے ان کے ۔ زندگی میں بھی لوگوں نے نہيں بخشا اور موت کے بعد بھی کچھ بدقماشوں نے وہ غلط فہمیاں پھیلائی ہیں کہ مولانا ابوالاشبال جیسے محقق بھی ان کی زد ميں آگئے ہیں ۔
    بہار کے ضلع چمپارن کی بات آئی جہاں کے وہ اصلا رہنے والے ہیں تو کہا کہ بات ہی مت کرو ۔ چمپارن کے لوگ چپاٹ ہوتے ہیں ۔ گاندھی کو کہیں اور لوگ نہیں ملے تو چمپارن کے لوگوں کو بے وقوف بناکر نیتا بن گیا ۔ شیخ اصغر علی امام مہدی ہنسے بنا نہ رہ سکے ۔ باتوں باتوں میں شیخ محمد عزیر شمس نے ان سے اپنے متعلق مواد بتانے کو کہا تو بولے اس کی کیا ضرورت ہے ۔ کتنے بڑے بڑے محدث کے بارے میں کچھ نہیں لکھا گیا ۔ ہماری حیثيت ہی کیا ہے ؟ شیخ نے زور دے کر کہا کہ جن لوگوں کے بارے میں لکھا گیا ہے انہيں کی وجہ سے تو آپ قائم ہیں ۔ اسی اثنا پاکستان کے معروف قلم کار جناب محمد اسحاق بھٹی کا ذکر آگیا ۔ آپ نے ان کی کتاب فقہائے ہند کا ذکر کیا اور کہا کہ اس میں سارا رطب و یابس جمع کردیا ہے ۔ یہ کیا خدمت ہوئي ۔ غلط سلط غیر اسلامی واقعات ذکر کرتے ہیں اور اس پر بغیر کوئي تعلیق چڑھائے گزر جاتے ہیں ۔ میں انہیں خط لکھنے کا ارداہ رکھتا ہوں ۔
    شیخ اصغر علی امام مہدی کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے خاص انداز میں کئی بار دال بھات کھانے کے لیے زوردیا ۔ رات تیزی سے اپنا سفر کاٹ رہی تھی ۔ اب ہم نے اجازت لینے میں ہی بہتری محسوس کی اور یوں بحث و تحقیق کے اس جید عالم کے پاس چند خوبصورت گھڑیاں گزار کر ہم نکل آئے ۔
    دعا ہے کہ اللہ انہیں صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے اور ہمیں اپنے بزرگوں سے سیکھنے کی توفیق بخشے ۔
     
  9. ‏جون 03، 2019 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ‏إنا لله وإنا إليه راجعون.
    اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے ،اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ،
    آمین یا رب العالمین
    بہت اچھے محقق عالم تھے ،ان کی تحریروں سے ہم بارہا بہت فائدہ اٹھایا ،اللہ تعالی ان کی علمی خدمات کو قبول فرماکر ان کی خطاؤں سے درگذر فرمائے ۔آمین
     
  10. ‏جون 03، 2019 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    [​IMG]

    مقالات شاغف
    کتب احادیث کے مراتب اور ان سے استفادہ کا طریقہ
    31/مئی مضمون ابوالاشبال احمد شاغف بہاری
    maqaalat-e-shagif
    فاضل مصنف کا نام صغیر احمد، کنیت ابو الاشبال اور شاغف بہاری علمی اور علاقائی نسبت ہے۔
    آپ ریاست بہار کے ضلع چمپارن کے ایک غیر معروف گاؤں "ٹولہ سوتا" میں مارچ 1942 میں پیدا ہوئے۔ قضائے الہی سے بوقتِ سحر 31/مئی (26/رمضان المبارک 1440) کو سعودی عرب میں انتقال کر گئے اور مکہ مکرمہ میں بروز جمعہ 31/مئی بعد عصر ان کی تدفین ہوئی۔
    آپ اپنی آبائی ریاست بہار کے قصبہ بتیا کی ابتدائی تعلیم کے بعد دہلی میں 3 سال زیرتعلیم رہے، پھر جامعہ رحمانیہ بنارس میں تقریباً سال بھر، جس کے بعد دو سال آپ نے کولکاتا میں گزارے، بعد ازاں ممبئی میں تقریباً دس سال، ممتاز اہل حدیث عالم اور پبلشر شیخ عبدالصمد شرف الدین کے پریس الدارالقیمہ تحقیق و تصحیح کے عہدہ پر برسرکار رہنے کے بعد ممبئی سے مشرقی پاکستان منتقل ہوئے اور وہاں سے 1971 میں کراچی (پاکستان) چلے گئے جہاں 1976 تک قیام رہا۔ پھر 1977 میں سعودی عرب منتقل ہوگئے جہاں شاید آخر وقت تک قیام رہا، علمی وجاہت کے پیش نظر حکومت سعودی عرب نے انہیں شہریت کے اعزاز سے بھی نوازا تھا۔

    مکہ مکرمہ کے رابطہ عالم اسلامی کے علمی اور تحقیقی مرکز میں کافی طویل عرصے تک آپ نے کام کیا۔ آپ کے مطبوعہ کاموں میں "تقریب التہذیب" کی تحقیق و تعلیق اور "تعلیقات سلفیہ" کی تخریج و تصحیح شامل ہیں۔ آپ کی دیگر تصنیفات میں سے زبدۃ تعجیل المنفعہ اور بیاضات فتح الباری شائع ہو چکی ہیں۔

    امت مسلمہ کا ہر فرد اس بات سے واقف ہے کہ اس پر اپنے رسول کی اتباع و اطاعت فرض ہے۔ کیونکہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت اس پر موقوف ہے کہ اس کے رسول کی اطاعت کی جائے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
    من یطع الرسول فقد اطاع اللہ (النساء : 80)
    خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صریح الفاظ میں اپنی امت کا آگاہ کر دیا کہ: جس نے آپ کی اطاعت کی وہ کامیاب ہو کر داخل جنت ہوگا اور جس نے آپ کی نافرمانی کی وہ خائب و خاسر ہو کر جہنم رسید ہوگا۔

    اللہ رب العالمین نے آپ کی اطاعت کا وہ سلسلہ قائم کر دیا جس کی مثال امتوں میں مفقود ہے۔ آپ کے ساتھی صحابہ کرام آپ کے حین حیات آپ کے نقش قدم پر چلتے رہے اور اتنا ہی نہیں بلکہ آپ کے جمیع اقوال و افعال ، حرکات و سکنات، بلکہ آپ کی ہئیت کاملہ کو حفظ و ضبط کیا اور عمل کے ساتھ اسے اپنے سے بعد والوں یعنی تابعین کو سونپ دیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسی کے مجموعے کو احادیث نبویہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
    کتابت احادیث کا سلسلہ تو آپ کی حیات مبارکہ ہی سے شروع ہو گیا تھا لیکن اس کی تبویب (to classify chapters) و تصنیف کا باقاعدہ کام تابعین کرام کے آخری دور میں شروع ہوا چنانچہ ہمارے سامنے تابعین کرام کی تصنيفات میں سے صحیفہ ہمام بن منبہ چھپ چکا ہے۔
    اس کے بعد تبع تابعین کے دور میں جب فرقہ باطلہ کی دسیسہ کاریوں سے سنت کے اندر بدعت کا دخول شروع ہوا تو پھر رحمت الہی جوش میں آئی اور محدثین کرام کے ایک جم غفیر نے اپنی حیات مستعار کو محض سنت و احادیث نبویہ کے جمع کرنے پر وقف کر دیا۔ اور تصنیف کے دو طریقے جاری ہو گئے۔ بطور 'مسند' اور بطور 'احکامی' جسے عام طور سے لوگ فقہی ترتیب سے تعبیر کرتے ہیں۔ چنانچہ اس دور کی مشہور مسانید یہ ہیں:
    مسند ابو داؤد طیالسی ، مسند مسدد، مسند اسحاق بن راہویہ، مسند احمد بن حنبل وغیرہ۔
    اور احکامی ترتیب پر جمع شدہ کتاہیں جسے موطا امام مالک، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن دارمی وغیرہ ہمارے سامنے موجود ہیں۔

    اس دور کے محدثین کرام نے اپنی محنت شاقہ سے احادیث نبوی کا تقریباً سارا ذخیره جمع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ آثار و مراسل اور موقوفات و فتاوی وغیرہ کو بھی قلم بند فرما دیا، گویا عمل کے ساتھ درس و تدریس کا سلسلہ باقاعدہ شروع ہو گیا اور وہ علوم بھی مرتب ہو گئے جن سے اس ذخیرۂ حدیث سے کھرے کھوٹے کو علیحدہ کیا جا سکے۔ لیکن تحقیق و تدقیق اور تنقیح کا کام ابھی باقی تھا۔ اللہ رب العالمین کا منشا کچھ اور تھا۔ وہ اس کام کے لیے ایک خاص ہستی کو آگے لانا چاہتا تھا تاکہ وہ اپنی قدرت کاملہ کا مظاہرہ کرے۔ چنانچہ اس نے مجدد کامل فقیہ الامت ، امیر المومنین، سید المحدثین محمد ابن اسماعیل بخاری کو آگے بڑھایا اور ان سے یہ کام لیا۔ چنانچہ اس امام عالی مقام حامی سنت ماحی بدعت مجدد عصر نے اپنے پیش رو محدثین کی محنت شاقہ سے جمع شدہ احادیث کے ذخیرہ کو ان سے پڑھا حفظ و ضبط کیا۔

    چونکہ اللہ تعالی نے آپ کو مجدد وقت بنانا تھا اس لیے آپ کو بے پناہ ذاکرہ عطا فرمایا تھا، اتنا ہی نہیں عقل جبارہ سے بھی نوازا تھا۔ چنانچہ آپ نے اس وہبی قوت ذاکرہ اور عقل جبارہ سے کام لیتے ہوئے ذخیره سنت و احادیث کو کھنگالا اور ان سے احادیث صحیحہ کو جمع فرما کر ان میں سے ان احادیث کا انتخاب فرمایا جن سے آپ نے اپنی اس کتاب "الجامع الصحيح" کو مزین کرنا چاہا تھا۔
    چنانچہ اللہ کی مدد سے 16 سال کے اندر اپنی اس تصنیف کو امت مسلمہ کے سامنے رکھ دیا جسے ہم "صحیح بخاری" کہتے ہیں۔ اور پھر اس کی تحدیث درس و تدریس شروع کر دی۔ تقریباً نوے ہزار آدمیوں نے اسے روایت کیا۔ آپ کی یہ تصنیف "صحیح بخاری" اپنی مثال آپ ہے۔ گویا یہ کتاب احادیث صحیحہ کا ایک انمول ذخیرہ ہے۔ تو اصول حدیث و استنباط بھی ہے۔ مختلف فیہ روایتوں کے جانچنے اور پرکھنے کی کسوٹی ہے تو علم الاسناد و علم الرجال کا نمونہ بھی۔ جہاں مصنفین کے لیے مشعل راہ ہے وہاں فقہ الحدیث اور فقہ اسلامی کا ایک بیش بہا موتی بھی ہے۔ اس سے
    ایک عامی بھی آنکھ بند کر کے فائدہ اٹھا سکتا ہے تو ایک محدث و فقیہ بھی۔ یعنی ہر شخص اور ہر زمان و مکان کے لیے یکساں فائدہ پہنچانے والی لازوال کتاب ہے۔ اسی لیے تو محدثین کا اس بات پر اجماع ہے کہ کتاب اللہ کے بعد روئے زمین پر سب سے صحیح کتاب یہی صحیح بخاری ہے۔ اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ اس کتاب کی توہین کرنے والا بدعتی و فاسق ہے۔

    اس مجدد عصر کے تجدیدی کارنامے کو آگے بڑھانے والوں اور اس کے نقش قدم پر چلنے والوں کی دو خاص جماعتیں پیدا ہو گئیں۔ ایک جماعت احادیث صحیحہ کے مجموعہ تیار کرنے والوں کی جیسے امام مسلم، ابن خزیمہ ، ابن حبان، اسماعیلی ، ابو نعیم، برقانی ، ابوعوانہ وغیرہ۔ اور دوسری وہ جماعت جس نے حالات حاضرہ کو سامنے رکھتے ہوئے اس وقت کے مسائل منتشرہ کے دلائل کا پتہ لگایا اور ان کو سامنے رکھتے ہوئے احکامی انداز پر تصنیف و تبویب کا کام کیا جسے امام ابو داؤد، ترمذی ،نسائی، ابن ماجہ وغیرہ۔ اور ان میں سے ہر ایک کا ایک نیا انداز ہے تو طریقہ بھی خاص ہے۔

    ایک بار پھر سے سن لو۔ سید المحدثین ، مجدد عصر، حامی سنت، ماحی بدعت ،فقیہ الامت، امام بخاری وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے احادیث صحیحہ کو یکجا جمع و تدوین کا قصد فرمایا، اور پھر احادیث صحیحہ کے اعلی اقسام کو اپنی اس الجامع الصحيح کے اندر جگہ دی اور تبویب کے اندر تفنن کا وہ انداز اختیار کیا جس سے احادیث صحیحہ کی جمیع اقسام کی نشان دہی فرماتے ہوئے احقاق حق کے ساتھ ابطال باطل کو بھی پیش نظر رکھا۔ احادیث صحیحہ کی تمام اقسام کو قابل عمل بتایا تو احادیث ضعیفہ کی تمام اقسام کو چھوڑ دینے کی ترغیب و تحریص کا پہلو اختیار کیا۔ ساتھ ہی ساتھ امت مسلمہ کی زبوں حالی کی علت کی نشاندہی کر دی کہ اس کا سبب انتشار اور نااتفاقی ہے اور یہ سبب احادیث ضعیفہ و موضوعہ کے اختیار کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ لہذا امت مسلمہ پر واجب ہے کہ سب متفق ہو کر احادیث صحیحہ پر عمل پیرا ہو جائیں۔

    امام بخاری علیہ الرحمہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امام مسلم نے احادیث صحیحہ کا ایک انمول ذخیرہ جمع کر دیا جسے ہم "صحیح مسلم" کہتے ہیں۔ آپ نے بھی اپنی اس کتاب کی ترتیب احکامی رکھی اور عناوین کتب یعنی کتاب الایمان، کتاب الطہارة، کتاب الصلاة الخ کے تحت ایک عجیب و غریب انداز سے احادیث صحیحہ کو جمع کر دیا اور جمع و ترتیب کے بعد اس کی تحدیث و تدریس بھی شروع کر دی۔ دراں حالے کہ ابھی ایک کام یعنی تبویب باقی تھا۔ اللہ نے آپ کو تبویب کی مہلت نہ دی بلکہ اس سے قبل ہی آپ کا انتقال ہو گیا۔ لہذا ہم آپ کے طریقہ استنباط سے کماحقہ واقف نہ ہو سکے۔
    (نوٹ: صحیح مسلم کے اندر جو ابواب مطبوع ہیں وہ شارحین مسلم جیسے قاضی عیاض اور نووی وغیرہ کے مقرر کیے ہوئے ہیں۔)

    امام مسلم نے مقدمہ کے اندر اپنی اس کتاب کی جمع و ترتیب سے متعلق تفصیل بیان کر دی ہے۔ یہاں مختصر لفظوں میں یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ آپ نے ایراد احادیث اس انداز سے کیا ہے کہ آسانی کے ساتھ اس پرعمل تبویب ہو سکتا ہے گویا ایراد احادیث کے ذریعہ مقام تبویب کا پتہ چل جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ہر باب کے تحت سب سے پہلے وہ روایت لاتے ہیں جو مقصود و مطلوب ہے اور وہی روایت صحیح ہے، اس کے بعد شواہد و متابعات، مختلف الاسناد و مختلف الالفاظ روایتوں کو بھی بیان کرتے جاتے ہیں تاکہ طلبہ اس سے واقف ہو جائیں کہ اس باب میں اس سند اور متن سے بھی روایت موجود ہے۔ گویا جو کام امام بخاری نے تعلیقات و موقوفات اور اثار کے ایراد سے لیا وہی کام امام مسلم نے ان شواہدات و متابعات سے لیا۔ چونکہ امام بخاری کی تبویب کے ذریہ تعلیقات و موقوفات و آثار کا صحیح مقام متعین ہو جاتا
    ہے، لیکن صحیح مسلم امام مسلم کی تبویب سے خالی ہے اس لیے ان کے مقام متعین کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ البتہ امام مسلم کی ساری روایتوں کو زیر تبویب امام بخاری رکھ دیا جائے تو اس سے خاطر خواہ اور صحیح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

    امام بخاری سے استفادہ کرنے والوں میں امام ابن خزیمہ بھی ہیں۔ آپ نے امام بخاری اور امام مسلم دونوں سے استفادہ کیا اور تقریباً امام مسلم کے طرز پر اپنی کتاب ترتیب دی۔ البتہ تبویب میں تفنن سے کام لیا اور شواہدات و متابعات پر بھی تبویب کرتے گئے۔ اور بعض مقامات پر تبویب کے اندر "ان صح الخبر" وغیرہ کے الفاظ سے اشارتاً یہ واضح کر دیا کہ میری اس کتاب میں اسی روایتیں بھی ہیں جو صحیح نہیں ہیں۔

    امام بخاری سے استفادہ کرنے والوں میں ایک اور لاثانی شخص امام ترمذی بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے امام بخاری ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک جدید طریقہ اختیار کیا اور اپنے شیخ کے اشارات کو جنہیں انہوں نے تبویب کے وقت ملحوظ رکھا تھا انہیں واشگاف الفاظ میں خوبصورت انداز سے بیان کرنے کی کوشش بلیغ فرمائی اور احادیث متنوعہ کا ایک انمول مجموعہ "جامع ترمذی" کی شکل میں ہمارے لیے چھوڑ گئے۔ آپ نے اپنی اس کتاب کو احکامی ترتیب پر مرتب فرمایا اور فقها امصار کے مسائل مروجہ اور مذاہب کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی تبویب فرمائی اور ہر حدیث کا درجہ بھی بیان کر دیا اور مذاہب فقها امصار کا بھی ذکر کرتے چلے گئے۔ گویا آپ نے حدیث زیر باب کی صحت و ضعف کو بیان کر کے مذاہب مختلفہ کی صحت و ضعف کو بھی واضح کر دیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ شواہدات و متابعات کی طرف بھی بائیں لفظ "وفي الباب عن فلان وفلان" اشارہ کرتے چلے گئے۔
    اگر آپ کو اطمینان قلب چاہیے تو جامع ترمذی کو غور و فکر سے پڑھنے کی عادت ڈالیے۔ آپ جب اس انداز سے اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں گے تو پھر میری باتوں کی حرف بحرف تصدیق کریں گے۔ اگر اللہ نے کسی وقت موقع عنایت فرمایا تو پھر جامع ترندی پر مزید کچھ لکھوں گا۔ ان شاء الله تعالی۔ سردست ایک باب کی نشاندہی کر دیتا ہوں اسے ہی غور و فکر اور تدبر و امعان کے ساتھ پڑھ لیجے۔ جامع ترمذی کی کتاب الطهارة کا باب "ماجاء في المسح على العمامة" کو نکال کر پڑھ لیجیے۔

    اب ایک قدم اور آگے بڑھیے امام بخاری سے استفادہ کرنے والوں میں امام نسائی بھی ہیں۔ آپ نے بھی محمد عمر کے طرز پر احادیث کا ایک عجیب وغریب مجموعہ تیار کیا ہے جسے ہم "سنن نسائی" کے نام سے جانتے ہیں۔ آپ نے اپنی اس کتاب کو احکامی انداز سے مرتب فرمایا اور تبویب کے وقت امام بخاری کا اتباع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ایراد احادیث اور اختلاف اسناد و الفاظ کے بیان میں تنوع سے کام لیا یعنی احادیث صحیحہ کے ساتھ ہی ساتھ احادیث ضعیفہ کو بھی گاہے بگاہے ذکر کر دیا اور اس پر بھی تبویب کرتے گئے تاکہ لوگوں پر یہ واضح کر دیں کہ اس مسئلہ کے استدلال میں تساہل سے کام لیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ حدیث ضعیف ہے جو اسناد سے واضح ہے۔ نیز شواہدات و متابعات کی ایک معتد بہ تعداد کو بھی مختلف ذیلی عنوان مثلاً اختلاف الفاظ "الناقلین الخبر فلاں" وغیرہ کے تحت بیان کر دیا، اور حسب ضرورت بعض مقامات پر واضح بھی کرتے چلے گئے کہ فلاں کی روایت صحیح یا فلاں کی روایت منکر ہے۔

    اب ایک اور ہستی کی طرف نظر ڈالیے اور وہ ہیں ، امام ابو داؤد جو امام اہل السنہ احمد بن حنبل کے شاگرد لیکن امام بخاری و مسلم اور ان سے قبل گزرے ہوئے محدثین کی تصنیفات سے واقف ہیں۔ فقہا کے در میان منتشر و مختلف فیہ مسائل کا بھی علم رکھتے ہیں اور ان کے دلائل سے بھی واقف ہیں۔ گویا ان ساری باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً پانچ ہزار احادیث کا ایک مجموعہ تیار کرتے ہیں جس میں ہر ایک کے دلائل کی نشان دہی مقصود ہے۔ تبویب بھی اسی انداز سے کرتے جا رہے ہیں اور احادیث بالاسناد کا ذکر کرتے ہوئے کبھی کبھار سند و متن کی علت پر بھی نشان دہی کرتے جا رہے ہیں۔ گویا اشارتاً یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس کتاب میں درج شدہ احادیث وہ ہیں جن کو فقہا امصار میں سے کسی نہ کسی نے اختیار کیا ہے لیکن ان کا یہ اختیار کرنا ان کی صحت کی دلیل نہیں۔ صحت کا معیار تو وہی ہے جسے ہمارے اصحاب محدثین کرام نے اختیار کیا ہے اور وہی قابل قبول ہے۔

    اب میں ایک اور ہستی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ ہیں امام ابن ماجہ ان کا تیار کیا ہوا مجموعہ "سنن ابن ماجہ" سے مشہور ہے۔ غالیا آپ نے مصنف ابن ابی شیبہ سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے، البتہ مرفوع روایتوں کو جنہیں آپ نے اپنے شیوخ سے سنا ہے ان کو حالات حاضرہ اور مسائل منتشرہ کو سامنے رکھتے ہوئے احکامی ترتیب پر تبویب دی ہے۔ گویا اس کتاب سے فائدہ صرف علما ہی اٹھا سکتے ہیں کیونکہ اس کتاب میں احادیث ضعیفہ کی ایک معتد بہ تعداد موجود ہے جو قابل عمل و قبول نہیں ہے۔

    مجدد عصر امام بخاری سے روشنی حاصل کرنے والوں میں ایک جماعت اور بھی ہے جیسے امام ابن حبان، اسماعیلی، ایونعیم، برقانی، ابوعوانہ وغیرہ ان حضرات نے بھی احادیث صحیحہ کا مجموعہ تیار کیا ہے۔ ان میں سے بعض کی کتابیں تو اب تک طبع ہو کر نہیں آئی ہیں لیکن بعض کی کتابیں طبع ہو چکی ہیں۔ ان حضرات کی تصنیفات صحیح کے نام سے معروف ہیں جیسے صحیح ابن حبانم صحیح اسماعیلی وغیرہ، لیکن ان کتابوں میں صحیح، حسن اور ضعیف روایتیں بھی ہیں۔ گویا یہ کتابیں ان گزرے ہوئے محدثین کی تصانیف جیسے کتب ستہ مسانید وغیرہ سے منتخب ہیں۔ ان میں اغلب تو ایسی روایتوں کا ہے جو مقبول ہیں لیکن ان میں ضعیف روایتیں بھی ہیں جن کو بطور شواہد و متابعات تو ذکر کرنا صحیح ہے لیکن ان پر بالکلیہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ گویا ان کتب میں وارد شدہ احادیث کو صحیحین اور جامع ترمذی کی کسوٹی پر کسنے کے بعد قبول کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ کتابیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

    یہاں پر برسبیل استفادہ امام حاکم کی کتاب مستدرک اور بیہقی کی تصنیفات، اسی طرح طحاوی کی تصنیفات کا ذکر بھی ضروری ہے۔ حاکم کا تساہل معروف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مستدرک کی روایتوں میں ایک چوتھائی روایتیں تو صحیح ہیں، ایک چوتھائی ایسی ہیں جن کے شواہد و متابع ہیں اور باقی روایتیں ضعیف، موضوع و منکر ہیں۔

    بیہقی کی تصنیفات اور طحاوی کی تصنیفات خاص اپنے اپنے مذہب کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ گویا حدیث کی خدمت کے بجائے مذہب و مسلک کی خدمت کو مقدم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگرچہ ان کی کتابوں میں احادیث صحیحہ بھی موجود ہیں گویا ان کی تبویب اور و تضعيف پر کامل بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔
    ہاں یہاں ایک اور قابل قدر ہستی کا ذکر ضروری ہے اور وہ ہیں امام دارقطنی۔ انہوں نے مجدد عصر امام بخاری کی تصنیفات سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کی تصنیفات قابل قدر اور ان کی تصحیح و تضعیف قابل قبول ہے۔ گویا آپ نے اصول محدثین کی حتی المقدور پابندی کو اپنے پر لازم قرار دیا ہے۔

    اب آخری گزارش یہ ہے کہ محدثین کرام نے بتوفیق الہی احادیث و آثار کی مع الاسناد کئی طریقوں سے جمع و تدوین کی ہے جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے ان تمام حضرات میں سے امام بخاری کے علاوہ کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان کی کتابوں میں درج شدہ ساری روایتیں صحیح اور قابل عمل ہیں۔ بلکہ سب نے اشارہ و کنایہ سے اس کے پڑھنے والوں کو متنبہ کر دیا کہ اصول و ضوابط محدثین کرام کے مطابق جو روایتیں صحیح ہیں وہی قابل عمل و قبول ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ان محدثین کرام پر طعن و تشنیع کرنے والے، زبان درازی کرنے والے، ان کو غیر فقیہ کہنے والے اپنے مسلک و مذہب کے دلائل تلاش کرنے کے لیے ان کی کتابوں کو غلط طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کتابوں سے صرف یہ خدمت لیتے ہیں کہ اپنے مسلک کے دلائل فراہم کریں اگرچہ وہ روایت ضعیف و موضوع ہی کیوں نہ ہو۔ اور پھر سر افتخار اونچا کر کے عوام کے سامنے کہتے پھرتے ہیں کہ فلاں کتاب میں یہ حدیث موجود ہے، جو ہمارے مسلک کی دلیل ہے۔ اللہ رب العالمین ایسے حضرات کو صحیح طریقہ اختیار کرنے کی توفیق دے اور عوام کو ان کے فتنے سے بچائے۔ آمین۔

    امت مسلمہ کے عروج و زوال کا نسخہ صرف اپنے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی و عدم پیروی کے ساتھ وابستہ ہے اگر امت نے آپ کی پیروی اختیار کی تو عروج اور آپ کی پیروی چھوڑ دی تو زوال۔ لہذا پیروی کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ ان کتب احادیث سے احادیث کو لیا جائے اور تعصبِ مذہبی و قومی کو پس پشت ڈال کر ان پر عمل کیا جائے۔

    ***
    ماخوذ از کتاب:
    مقالاتِ شاغف۔ از: ابوالاشبال احمد شاغف بہاری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں