1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کی بیوی زلیخا بیگم

'تذکرہ مشاہیر' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏مئی 05، 2019۔

  1. ‏مئی 05، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    ابو تقی الدین رحیمی
    ---------------------------
    مولانا ابوالکلام آزاد-رحمہ اللہ-کی بیوی زلیخا بیگم وفاشعار اور شوہر کی خوشی پر قربان ہوجانے والی ایک مکمل مشرقی خاتوں تھیں،حمیدہ سلطانہ لکھتی ہیں کہ ایک دن صبح جو ہم پہنچے تو بیگم آزاد کی نرگسی آنکھوں میں ڈورے دیکھ کر والدہ نے ان سے مسکرا کر کہا ،کیا بات ہے؟انہوں نےجواب دیا:"آج کل مولانا قرآن پاک کی تفسیر لکھ رہے ہیں،رات کے دو بجے کے بعد اٹھ بیٹھتے ہیں،جتنی دیر وہ لکھتے ہیں پنکھا کھینچتی رہتی ہوں،موسم بے حد گرم ہے،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ جاگیں اور محنت کریں اور میں آرام سے سوتی رہوں "(ایوان اردو کا مولانا آزاد نمبر ص/145)۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 05، 2019 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    مولانا ابوالکلام آزاد-رحمہ اللہ-اپنی شریک حیات(زلیخا بیگم)کی محبت ومروت،ایثار وانکسار،فہم و فراست،صبر واسقلال کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی وفات کے بعد ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
    "۔۔۔1916ء میں جب پہلی مرتبہ گرفتاری پیش آئی تھی تو وہ اپنا اضطراب خاطر نہیں روک سکی تھی اور میں عرصے تک اس سے ناخوش رہا تھا ،اس واقعے نے ہمیشہ کے لئے اس کی زندگی کا رخ پلٹ دیا اور اس نے پوری کوشش کی کہ میری زندگی کے حالات کا ساتھ دے،اس نے صرف ساتھ ہی نہیں دیا بلکہ پوری ہمت واستقامت کے ساتھ ہر طرح کے ناخوشگوار حالات برداشت کیے،وہ دماغی حیثیت سے میرے افکار وعقائد میں شریک تھی اور عملی زندگی میں رفیق ومددگار"(ایوان اردو کا مولانا آزاد نمبر ص/140)۔
    واقعی ہر عظیم شخصیت کے پیچھے عظیم خاتون کا اہم رول ہوتا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں