1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا طارق جمیل اور عامر خان

'تبلیغی جماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏نومبر 28، 2013۔

  1. ‏نومبر 28، 2013 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    مولانا طارق جمیل معروف مذہبی اسکالر ہیں علم کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں خطابت اور گفتگو کا فن بھی عطا کر رکھا ہے۔ مولانا یکم جنوری 1953ء کو میاں چنوں میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر بنتے بنتے زندگی نے ایسی کروٹ لی کہ مذہبی اسکالر بن گئے اور نہ صرف غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی بلکہ مسلمانوں کو بھی ''مسلمان'' کیا۔ ماضی کے معروف سنگر جنید جمشید کے علاوہ معروف کرکٹرز انضمام الحق، ثقلین مشتاق، مشتاق احمد اور سعید انور نے گلیمر سے بھرپور زندگی کے باوجود اپنا وقت دین کے لئے گزارنا شروع کر دیا جبکہ قومی کرکٹ میں یوسف یوحنا کے نام سے پہچانے جانے والے کھلاڑی اپنا مذہب چھوڑ کر دین اسلام میں داخل ہونے کے بعد محمد یوسف بن گئے۔
    مولانا طارق جمیل کی ایک گفتگو کا کچھ حصہ گزشتہ کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر چل رہا ہے جو بھارتی فلم انڈسٹری کے ایک معروف اداکار عامر خان سے ملاقات کے حوالے سے ہے۔ جو اپنی والدہ کو حج کرانے سعودی عرب گئے ہوئے تھے جبکہ مولانا طارق جمیل، جنید جمشید اور شاہد آفریدی بھی اسی سال حج کے لئے سعودی عرب میں تھے یہ ملاقات مکہ میں ہوئی تھی۔ ملاقات کا احوال مولانا طارق جمیل کی زبانی کچھ اس طرح سے ہے۔
    ''عامر خان سے میری ملاقات ہوئی تو اسے کوئی دین کی بات نہیں کی صرف محبت تھی، جس کی وجہ سے اب تک عامر خان کے میسجز آتے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ میں زندگی میں کبھی کسی سے متاثر نہیں ہوا تم پہلے آدمی ہو جس سے متاثر ہوا ہوں میں نے اس پر کوئی جادو نہیں کیا تھا بلکہ صرف محبت تھی اور اللہ تعالیٰ نے بڑی مشکل سے ملاقات کا راستہ پیدا کیا تھا کیونکہ ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے اور کوئی موقعہ نہیں مل رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے شاہد آفریدی کے ذریعے اس ملاقات کو آسان بنا دیا اور ملاقات طے ہوگئی اور ہمیں آدھ گھنٹے کا وقت ملا اور زیادہ سے زیادہ پون گھنٹہ، جب ملاقات کے لئے گیا تو عامر خان کا سہما ہوا چہرہ تھا کہ مولانا معلوم نہیں کیا کہیں گے کہ تو یہ کیا کر رہا ہے۔ سب حرام کر رہا ہے، ناچ رہا ہے۔ فوراً توبہ کر ورانہ ابھی تیرے لیے دوزخ کا فیصلہ ہو جاتا ہے اس لیے وہ ڈرا اور سہما ہوا تھا۔
    میرا اپنا ایک دور بھی کالج کا تھا جب تبلیغ سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ان لوگوں سے متاثر تھا کہ اپنے ایک دوست کے زبردستی لے جانے پر تبلیغ پر چلا گیا اور یوں وہ پنجابی میں کہتے ہیں ناں کہ ''کبے کو لت راس آگئی'' یعنی کبڑے کو کس کی لات لگی تو اس کا کبڑا پن دور ہوگیا۔ میں آج دوست کی نسلوں کو بھی دعائیں دیتا ہوں حالانکہ میں اسکول اور کالج کے زمانے کا بہترین سنگر تھا۔ سب کچھ کیا کرتے تھے۔لیکن ملاقات کے وقت عامر خان گھبرایا ہوا تھا میں نے بیٹھتے ہی اس سے فلموں کی گفتگو شروع کر دی اور میں نے محسوس کیا کہ 1960ء سے 1972ء تک کے عرصہ کے دوران جتنا میں فلم انڈسٹری کو جانتا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔ تو اس پر میرے علم کا رعب پڑھ گیا۔ کیونکہ یہ اس کی لائن کا علم تھا وہ تو حیران پریشان ہوگیا کہ وعظ تو ہو ہی نہیں رہا میں کبھی دلیپ کمار تو کبھی راج کمار کی بات کرنے لگا اور کبھی مدھن موھن کے بارے میں گفتگو کی۔ یوں آدھا گھنٹہ تو ایسے ہی گزر گیا، ہم کھانے کی میز پر تھے تو گفتگو پچاس منٹ تک پہنچ گئی تھی اور ہم نے کھانے کی میز چھوڑ کر نشستیں تبدیل کیں، عامر خان کا سارا خوف دور ہو چکا تھا۔ تو میں نے کہا عامر بھائی ہم حج کرنے آئے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو نبیؐ کا حج سنائوں اور اس کے بعد میں سوا گھنٹہ بولتا رہا، عامر خان نے ایک لمحہ کے لیے بھی بوریت ظاہر نہ کی اور نہ پہلو بدلا یہ اس کی محبت تھی کیونکہ لوگ محبت کرتے ہیں اور ہم ہیں کہ فتوے دینا شروع کر دیتے ہیں۔ دو گھنٹے کے بعد وہ ہمیں نیچے تک چھوڑنے آیا جبکہ میں نے خواہش کا اظہار کیا کہ حج کے بعد ایک ملاقات اور ہونی چاہیے تو اس نے جواب دیا ضرور ہوگی لیکن بعد میں اس کا پیغام آ یا کہ معذرت چاہتا ہوں میں مکہ سے مدینہ آگیا ہوں۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں میں مدینے آجائوں گا۔ حالانکہ میں پہلے مدینے ہو آیا تھا۔ تو اس نے کہا کہ آپ 14 تاریخ کو آجائیں، 4 سے 6 بجے تک ٹائم رکھا گیا۔ میں جنید جمشید اور ایک ساتھی ملاقات کے لئے چلے گئے۔ سوا چار بجے ہماری ملاقات شروع ہوئی تو سوا دس بجے تک جاری رہی اور اس چھ گھنٹے کی ملاقات کے بعد بھی اس کا جی نہیں چاہ رہا تھا کہ ہم اٹھیں۔ ملاقات کے بعد ایک روز میں رائیونڈ اجتماع پر تھا کہ ایک امتحان میں پڑ گیا۔ مجھے عامر خان کا میسج ملا کہ میری نئی فلم تلاش آرہی ہے اس کی کامیابی کی دعا کریں۔ مولانا صاحب ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ''اے چنگی گل اے'' یہ اچھی بات ہے کیونکہ جواب دینا بھی ضروری تھا اور دعا بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ جب میسج آیا تو میرے سامنے دس بارہ علماء بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے پوچھا کیا کروں تو وہ کہنے لگے بھئی یہ تمہاری ہی فیلڈ ہے تم ہی جانو میں سارا دن سوچتا رہا۔ اگلا روز بھی گزر گیا کہ عصر کے وقت وضو کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ایک مضمون ڈال دیا اور میں نے عامر خان کو یہ میسج بھیجا کہ عامر بھائی جو تخلیقی ذہن ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کسی کسی کو دیتا ہے۔ ہمارا تمہارے ساتھ جتنا وقت گزرا ہے یہ محسوس ہوا ہے کہ تم ایک تخلیقی شخص ہو اور جو کریٹو ہوتا ہے وہ کامیابی اور ناکامی کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ فوراً اس کا جواب آیا آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔
    اسی دوران مولانا فون کرنے کے آداب کے حوالے سے بھی تھوڑی گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عامر خان کو فون کرنے سے پہلے ہمیشہ ایس ایم ایس کے ذریعے پوچھا کہ کیا بات ہوسکتی ہے کبھی وہ خود کال کر لیتا اور کبھی ہاں کہہ دیتا اور اسی دوران اس کو کئے ہوئے ایس ایم ایس کے تھوڑی دیر بعد اس کی کال آگئی اور کہنے لگا میں دہلی میں ہوں اور جب آپ کا پیغام ملا تو میں دہلی کانفرنس میں تھا۔ اب باہر نکل کر آپ کو کال کر رہا ہوں اور پھر مولانا ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس نے باتوں باتوں میں کہا کہ مولانا آپ کی دعا سے فلم کامیاب ہوگئی ہے حالانکہ میں نے کہاں دعا کی تھی۔مولانا اپنی اس گفتگو کے آخر میں کہتے ہیں کہ بھائیو محبتیں بانٹو نفرتیں تو بہت پھیل چکی ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ​
    نشہ پلا کر گرانا تو سب کو آتا ہے
    مزا تو تب ہے کہ گرنے والے کو تھام لے ساقی​
    یہ تھا مولانا کی گفتگو کا خلاصہ اور مولانا نے اپنے انداز اور حکمت عملی سے ایک فلم ایکٹر کو خود سے دور بھگانے کی بجائے محبت کا اسیر بنا لیا۔مولانا صاحب سے میری درخواست ہے کہ مولانا صاحب اللہ تعالیٰ نے آپ کو گفتگو اور علم کا جو خزانہ عطا کیا ہے۔ اس کو ان لوگوں پر بھی آزمانے کی کوئی تدبیر کریں جو خودکش دھماکوں سے اور بم پھاڑ کر اپنے ہی ملک کے لوگوں کو مار رہے ہیں ، لوگوں کو اپاہج بنا رہے ہیں اور بچوں کو یتیم بنا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے آپ جب بھی ایسا ارادہ کریں گے تمام ریڈیو اور ٹی وی چینلز آپ کو ایسے لوگوں سے خطاب کرنے کے لئے خصوصی وقت دیں گے۔ اور آپ ان علاقوں میں ایف ایم ریڈیو کے ذریعے جو آپ خود قائم کرسکتے ہیں۔ امن کے قیام اور اپنے ہی لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کے کھیل کو روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔​

    (علی معین نوازش کا کالم مطبوعہ روزنامہ جنگ 28 نومبر 2013 ء)​
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 4
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • پسند پسند x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 28، 2013 #2
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    مسلمانوں کو مسلمان کیسے کیا جاتا ہے ​
    کوئی دلیل جناب ​
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 28، 2013 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069


    بھائی اخبار کا بیان ہے

    (علی معین نوازش کا کالم مطبوعہ روزنامہ جنگ 28 نومبر 2013 ء)
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 28، 2013 #4
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم ،
    معذرت یوسف بھائی۔۔۔تحریر کے لیے ریٹنگ دی ہے!
    سمجھ نہیں آتا کہ کیا مولانا صاحب کے انداز اور حکمت عملی سے عامر خان کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوئے؟ کیا انھوں نے فلم انڈسٹری کو خیر آباد کہہ دیا؟ تعجب!
    اور کیا عامر خان کو مسلمان سمجھتے ہیں آپ؟ اگر سمجھتے ہیں تو ان کو مسلمان سے مسلمان کیسے کریں گے ؟؟؟
    مولانا صاحب سے درخواست ہے کہ ہمارا ملک کفر اور شرک میں ڈوبا ہوا ہے۔۔۔گلی گلی میں قبر پرستی ہو رہی ہے ، اس طرف بھی توجہ مرکوز کریں !!!
    شکریہ
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 28، 2013 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    وعلیکم السلام سسٹر!
    1. یہ ایک اخباری کالم ہے، علی معین نوازش کا ۔ نہ تو یہ میری تحریر ہے اور نہ ہی میرا نکتہ نظر
    2. میں نہ تو مولانا طارق جمیل صاحب سے “متفق” ہوں اور نہ ہی ان کی جماعت سے۔
    3. عامر خان سے ان کی “ملاقاتوں اور رابطوں” کا آج کل سوشیل میڈیا پر بڑا چرچا ہے۔ خود اسی فورم میں اس بارے میں ایک مختصر ویڈیو موجود ہے۔
    4. چونکہ اس کالم میں ان ملاقاتوں اور رابطوں کا بیان تفصیل سے موجود ہے، اسی لئے میں نے اسے یہاں پوسٹ کیا ہے تاکہ “حقیقی صورتحال” سے احباب آگاہ ہوسکیں۔ اس پوسٹ کا مقصد ان ملاقاتوں اور رابطوں کی “داد دینا” ہرگز نہیں ہے
    5. آپ کی ریٹنگ کا بہت بہت “شکریہ” ۔ لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ آپ کی اس “ریٹنگ” کو کالم نویس تک پہنچاؤں یا مولانا طارق جمیل تک (ابتسامہ)
     
    • زبردست زبردست x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 28، 2013 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    کس سے پوچھ کر بتاؤں؟ علی معین نوازش سے یا مولانا طارق جمیل سے (ابتسامہ)
    آپ کو اس پوری کہانی میں یہی ایک “نکتہ اعتراض” نظر آیا، حیرت ہے۔
    بھائی یہ ایک تمثیلی جملہ ہے، کوئی فقہی فتویٰ نہیں۔ اس جملہ کا عام سا مطلب یہ ہے کہ “نام نہاد مسلمانوں” کو “حقیقی مسلمان” کیا۔ یہ الگ مسئلہ ہے کہ مولانا نے یہ کام کیا بھی ہے یا نہیں۔ لیکن علی معین نوازش کا یہ “حسن ظن” ہے کہ انہوں نے ایسا کام کیا ہے۔
     
  7. ‏نومبر 28، 2013 #7
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم
    میں بھی محترم یوسف ثانی بھائی کی پوسٹ کو "غیر متفق" کر رہا ہوں اور ان کو ناراض ہونے کی اجازت نہیں دوں گا۔۔۔ابتسامہ
    دراصل یوسف بھائی! اس موضوع پر میں پہلے قرآنی آیات کے دلائل سے ثابت کر چکا ہوں کہ یہ مداہنت ہے ، تبلیغ نہیں، کیونکہ یہ "نہی عن المنکر" کے خلاف ہے۔
     
    • متفق متفق x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 28، 2013 #8
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    وضاحت کے لیے بے حد شکریہ بھائی
    دونوں تک ۔۔۔۔ابتسامہ

    بہترین بات ہے۔۔۔۔جزاک اللہ خیرا
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 28، 2013 #9
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    تبلیغیوں کا طرز عمل بھی عجیب و غریب ہے - یہ جماعت لوگوں کو اسلام کا ہمنوا بنانے کے بجاے اپنے جماعت کے کارکنوں کا ہمنوا بنانے کی سعی میں رہتی ہے - یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بحثیت مجموعی کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکی -

    بجاے اس کے کہ مولانا طارق جمیل صاحب عامر خان کو براہ راست اسلام کے مثبت پہلو اور الله کی وحدانیت سے روشناس کرواتے- اس سے ٧٠ کی دہائی میں بننے والی فلموں کے بارے میں گفتگو شروع کر دی - کیا لوگوں کو اسلام کی دعوت اس طرح دی جاتی ہے؟؟؟ کیا نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم مشرکین مکہ کو اس انداز میں دعوت اسلام دیا کرتے تھے کہ پہلے ان سے زمانہ جاہلیت کے مشاغل پر باتیں کرتے اور مشرکین مکہ آپ کی ان باتوں سے متاثر ہوجاتے تو پھر آپ صل الله علیہ وآ لہ وسلم اس کے بعد اسلام کی دعوت ان کے سامنے رکھتے ؟؟؟

    حقیقت تو یہ ہے کہ نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم ادھرادھر کی لایعنی باتوں کے بجاے غیر مسلمین کے سامنے براہ راست اسلام کی دعوت پیش کرتے اور سب سے پہلے اسے الله کی وحدانیت سے روشناس کرواتے- اور آپ صل الله علیہ وآ لہ وسلم کی تبیلغ سے متاثر ہو کر یہی مشرکین جب مسلمان ہوتے تو صرف اپنی ذات ہی میں نہیں پورے معاشرے میں انقلاب برپا کر دیتے -

    لیکن یہاں تو معامله ہی کچھ اور ہے - ایک طرف صرف الله سے ہونے کا یقین اور کسی دوسرے سے نہ ہونے کا یقین دلوں میں ڈالنے کی باتیں تو دوسری طرف ایک دوسرے کے مشاغل پر ہنسی مذاق - اور پھر مولانا صاحب کا یہ فرمانا کے کالج کے زمانے میں وہ خود بھی گایا کرتے تھے اور فلموں کے بھی شوقین تھے - ذرا بتایں یہ کہاں کی عقلمندی کی باتیں ہیں -اگر مولانا صاحب کے ایسے مشاغل تھے بھی تو لوگوں کو بتانے کا کیا مقصد ؟؟؟ - کیا مولانا صاحب یہ نہیں جانتے کہ اس طرح وہ لوگوں کو خود اپنے عیوب سے آگاہ کر رہے ہیں -ایک حدیث کا مفہوم کہ انسان کے نا فرمان ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ تو اس کے گناہ چھپاے اور وہ خود لوگوں کے سامنے اپنے گناہ بیان کرتا پھرے -

    یہ مولانا کی غیبت نہیں بلکہ ان کے کے لئے ایک نصیحت ہے- الله رب العزت مولانا سمیت تمام مسلمانوں کو اپنے تمام معاملات میں صرف نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی الله عنہ کی اسوہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماے -(آ مین)
     
    • متفق متفق x 6
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 28، 2013 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میرے خیال میں یہ بہت ہی اچھی بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔
    مولانا کے اسقدر غیر ضروری حسن اخلاق کی وجہ سے عامر خان ان کی ذات کے تو معترف ہوگئے ہوں گے لیکن کیا اسلام سیکھنے سمجھنے پر بھی انہوں نے غور کیا ہوگا ؟
    ہوتا یوں ہے کہ یہ '' غلط کار '' جب کسی عالم دین کی ذرا توجہ حاصل کرلیتے ہیں تو کچھ تو اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں جبکہ بعض رہتے تو اسی ڈگر پر ہیں البتہ پہلے جس کام کو صحیح نہ سمجھ کر بھی کر رہے تھے اب سمجھتے ہیں کہ شاید ان کی غلطیاں '' غلط '' نہیں رہیں یا پھر '' قابل مؤاخذہ '' نہیں رہیں ۔
     
    • پسند پسند x 6
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں