1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا وحید الدین خان : اپنے الفاظ کے آئینے میں

'عقل پرستی' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالحسن علوی, ‏مارچ 09، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏مارچ 09، 2012 #1
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    ابتدائیہ

    یہ مفصل مضمون قسط وار ہے اور ماہنامہ میثاق، مارچ ٢٠١٢ء کے شمارہ میں اس کی پہلی قسط شائع ہو چکی ہے۔ افادہ عام کے لیے فورم پر شیئر کی جا رہی ہے۔ جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏مارچ 09، 2012 #2
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    مولانا وحید الدین خان : اپنے الفاظ کے آئینے میں

    قسط اول

    پیدائش اور ابتدائی تعلیم
    مولانا وحید الدین خان یکم جنوری ١٩٢٥ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش اتر پردیش، بھارت کے ایک قصبہ 'اعظم گڑھ' میں ہوئی۔ چار یا چھ سال کی عمر میں ہی ان کے والد محترم 'فرید الدین خان' وفات پا گئے اور ان کی والدہ 'زیب النساء خاتون' نے ان کی پرورش کی اور ان کے چچا 'صوفی عبد الحمید خان' نے ان کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھائی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسة الاصلاح،سرائے میر، اعظم گڑھ سے ہی حاصل کی اور ١٩٣٨ء میں اس مدرسہ کو جوائن کیا۔ ١٩٤٤ء میں چھ سال بعد انہوں نے یہاں سے اپنی مذہبی تعلیم مکمل کر لی۔

    جماعت اسلامی اور تبلیغی جماعت میں شمولیت
    اسی دوران مولانا مودودی رحمہ اللہ کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور ١٩٤٩ء میں جماعت اسلامی ، ہند میں شامل ہوئے۔ کچھ ہی عرصہ میں جماعت اسلامی کی مرکزی 'مجلس شوری' کے بھی رکن بن گئے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان رسالہ 'زندگی' میں باقاعدگی سے لکھتے رہے اور ١٩٥٥ء میں ان کی پہلی کتاب 'نئے عہد کے دروازے پر' شائع ہوئی۔ یہی کتاب بعد میں ان کی معروف کتاب 'مذہب اور جدید چیلنج' کے لیے بنیاد بنی اور اس کا عربی ترجمہ 'الاسلام یتحدی' کے نام سے مقبول عام ہوا۔ جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد مولانا وحید الدین خان صاحب نے ١٥ سال کے بعد جماعت اسلامی کو خیر آباد کہا۔ جماعت اسلامی سے علیحدگی کے بعد تبلیغی جماعت کے ساتھ وابستہ ہو گئے لیکن ١٩٧٥ء میں اسے بھی مکمل طور پر چھوڑ دیا۔

    ذاتی دعوتی اور علمی کام کا آغاز
    ١٩٧٠ء میں انہوں نے نئی دہلی میں ایک اسلامک سنٹر کا آغاز کیا اور ١٩٧٦ء میں 'الرسالہ' کے نام سے ایک اردو رسالہ کا اجرا کیا۔ ١٩٨٤ء میں ہندی اور ١٩٩٠ء میں انگریزی میں بھی 'الرسالہ' جاری کیا گیا۔ ٢٠٠١ء میں انہوں نے اپنے نقطہ نظر اور دعوت کے پھیلاؤ کے لیے سی۔پی۔ایس یعنی 'سنٹر فار پیس اینڈ سپرچوئیلٹی' کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔

    مولانا وحید الدین خان تقریبا دو سو کتب کے مصنف ہیں جو اردو ، عربی اور انگریزی زبان میں ہیں۔ ان کی معروف کتب میں تذکیر القرآن، اسلام دور جدید کا خالق، مذہب اور جدید چیلنج، تعبیر کی غلطی، راز حیات، دین کی سیاسی تعبیر، عقلیات اسلام، پیغمبر انقلاب اور اللہ اکبر ہیں۔ انگریزی اور عربی کتابیں اکثر وبیشتر مولانا کی اردو تحریروں ہی کے تراجم ہیں۔
     
  3. ‏مارچ 09، 2012 #3
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    فکری بنیادیں
    مولانا وحید الدین خان صاحب کی تحریروں کے بالاستیعاب مطالعہ کے بعد ان کے دعوتی اور علمی کام کو آسانی کی خاطر پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
    ١۔ تذکیر یعنی خان صاحب کی تحریروں میں تذکیر کا اسلوب نمایاں ہے۔
    ٢۔ رد عمل کی نفسیات یعنی خان صاحب کی پوری فکر، رد عمل کی نفسیات پر قائم ہے۔
    ٣۔ تجدد یعنی خان صاحب کے افکار ونظریات میں تجدد پسندی کے میلانات اور رجحانات بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔
    ٤۔ تنقیص یعنی خان صاحب کی اپنے ماسوا پر تنقید، درحقیقت تنقیص ہے۔
    ٥۔ اختیال یعنی خان صاحب کے خیالوں میں ان کی اپنی بڑائی رچ بس گئی ہے۔
    مولانا وحید الدین خان صاحب کی کسی بھی تحریر کو اٹھا کر دیکھ لیں، اس میں ان میں سے ایک، دو یا تین، چار بنیادیں ضرور مل جائیں گی۔ ہم، ان شاء اللہ،ان عوامل اور عناصر سے پروان چڑھنے والی خان صاحب کی فکر کا، ان کے الفاظ ہی کی روشنی میں، ایک مفصل تجزیاتی مطالعہ پیش کریں گے۔
     
  4. ‏مارچ 09، 2012 #4
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    علامات قیامت
    کتاب وسنت میں قیامت قائم ہونے کی کچھ نشانیاں بیان کی گئی ہیں جن میں ظہور مہدی، نزول عیسیٰ بن مریم، خروج یاجوج ماجوج، آمد دجال، دابة الارض کا نکلنا، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ خان صاحب ان تمام علامات قیامت سے متعلقہ نصوص کا اثبات کرتے ہیں لیکن ان میں تاویل کرتے ہوئے انہیں حقیقت کی بجائے ایسی تمثیل قرار دیتے ہیں جو خان صاحب کی ذات کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے۔

    مسیح موعود اور مہدی زمان
    مہدی اور مسیح علیہما السلام کے بارے خان صاحب کا موقف یہ ہے کہ دونوں درحقیقت ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
    ایک اور جگہ اسی کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
    ایک اور جگہ مولانا لکھتے ہیں:
    خان صاحب کے نزدیک مسیح سے مراد آسمان سے نازل ہونے والاکوئی نبی نہیں بلکہ امت محمدیہ کا ایک عام فرد ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:
    ایک اور جگہ مسیح کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
     
  5. ‏مارچ 09، 2012 #5
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    مسیح موعود اور مہدی زمان کی صفات
    مولانا وحید الدین خان صاحب نے اپنے تئیں احادیث کی تاویلات کی روشنی میں مسیح اور مہدی علیہما السلام کی کچھ صفات بیان کی ہیں تا کہ ان کی پہچان میں آسانی ہو۔ ہم ذیل میں ان صفات کو بیان کر رہے ہیں:
    ١۔ مہدی یا مسیح کی خاصیت یہ ہے کہ وہ عام انسانوں جیسا ہو گا۔مصلح ہو گا اور عالمی کمیونکیشن کے دور میں پیدا ہو گا۔ خان صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں:

    ٢۔ مہدی یا مسیح کی دوسری خاصیت یہ ہوگی کہ وہ دنیا میں پھیلے ہوئے غلط نظریات کا ابطال کرے گا ، فکری کنفیوژن دور کرے گا اور اسلام کی ایک تعبیر پیش کرے گا جو معاصر غلط نظریات کی استدلالی موت کا باعث ہو گی۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
    غلط نظریے کے ابطال سے مراد فتنہ دہیماء کے بعد پیدا ہونے والے فکری کنفیوژن کو دور کرناہے۔ ایک جگہ خان صاحب لکھتے ہیں:
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں :

    ٣۔ مسیح یا مہدی یارجل مومن، جو در حقیقت ایک ہی شخص ہے، دجال کو قتل کرے گا۔ دجال کے قتل سے مراد اس کا نظریاتی قتل ہے۔ یعنی سائنسی دور میں لوگ سائنس کو بنیاد بناتے ہوئے خدا کا انکار کر دیں گے جبکہ مسیح اور مہدی کی پہچان یہ ہو گی کہ وہ اس الحادی فتنے کا رد سائنسی دلائل ہی کی روشنی میں کریں گے۔ ایک جگہ مولانا اپنے موقف کی وضاحت میں لکھتے ہیں۔
    ایک اور جگہ خان صاحب اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں کہ مہدی اور مسیح استدلال کے ذریعے دجال کے فتنے کو ختم کریں گے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

    ٤۔ مہدی یا مسیح صاحب معرفت ہو گا اور اس میں تجزیہ کی صلاحیت کمال درجہ میں ہو گی۔ ایک جگہ خان صاحب فرماتے ہیں:

    ٥۔ مہدی یا مسیح کی ایک پہچان ان کا استثنائی رول ہو گا یعنی وہ عام مصلحین یا اہل علم سے ہٹ کر ایک رول ادا کریں گے۔ ایک جگہ مولانا لکھتے ہیں:
    مہدی اور مسیح کے استثنائی رول کی مزید وضاحت میں خان صاحب لکھتے ہیں کہ مہدی معرفت وہدایت کا حامل اور امن کا نمائندہ ہو گا:
    خان صاحب کے نزدیک مہدی کا استثنائی رول یہ ہو گا کہ وہ سچائی اور معرفت کو پا لے گا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

    ٦۔ مہدی یا مسیح کوئی انقلابی یا سیاسی لیڈر نہیں ہو سکتا بلکہ یہ عارف باللہ ہو گا۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:

    ٧۔ کچھ لوگوں کو مہدی یا مسیح کی نسبت سچے خواب آئیں گے۔ یہ بھی مہدی یا مسیح کی علامات میں سے ایک علامت ہو گی۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

    ٨۔ مہدی یا مسیح یا دور آخر کے مجدد کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ قرآن اور دین اسلام کی غلط تعبیرات سے گزر کر دین حق کو سامنے لائے گا۔ ایک جگہ خان صاحب لکھتے ہیں:

    ٩۔ مہدی یا مسیح کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ عصری اسلوب کلام میں اسلام پیش کرے گا۔ ایک جگہ خان صاحب لکھتے ہیں:

    ١٠۔ مہدی یا مسیح اپنے مہدی یا مسیح ہونے کا اعلان نہیں کریں گے، یہ بھی ان کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ایک جگہ مولانا لکھتے ہیں:
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
    اب سوال یہ پیدا ہوا کہ جب آنے والا یہ دعوی نہیں کرے گا کہ وہ مسیح یا مہدی یا مجدد ہے تویقینی طور کیسے معلوم ہو گا کہ کون مسیح یا مہدی یا مجدد تھا؟ اس کے جواب میں خان صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا یقینی علم آخرت میں ہی حاصل ہو گا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

    ١١۔ مہدی اور مسیح کی ایک پہچان یہ بھی ہو گی کہ معاصر مسلمان ان کا انکار کریں گے۔ ایک جگہ مولانا وحید الدین خان صاحب لکھتے ہیں:
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

    ١٢۔ مہدی یا مسیح کی ایک علامت یہ ہوگی کہ ان کے ساتھ اخوان رسول کی ٹیم ہو گی۔ ایک جگہ خان صاحب لکھتے ہیں:

    ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ اخوان رسول سائنسی دور میں مسیح یا مہدی کے ساتھ مل کر دعوت کا کام کریں گے:

    جبکہ خان صاحب کے نزدیک اخوان رسول سے مراد ان کے قائم کردہ ادارے سی پی ایس کی ٹیم ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:

    مولانا وحید الدین خان صاحب کے بقول، سائنسی دور میں مہدی اور مسیح کے ساتھ اخوان رسول کی ٹیم دعوتی کارنامہ سر انجام دے گی اور اخوان رسول سی پی ایس کی ٹیم ہے۔ پس مہدی و مسیح کون ہوا؟ اس کے تعین کی خان صاحب نے اجازت نہیں دی ہے لہٰذا ہم بھی نہیں کر رہے ہیں بلکہ صرف اس کی پہچان اور نصرت پر زور دیا ہے۔
     
  6. ‏مارچ 09، 2012 #6
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    مہدی اور مسیح کی پہچان
    قارئین کرام مہدی یا مسیح یا مجدد یا رجل مومن یا دابة الارض کی مذکورہ بالا صفات کی روشنی میں اب تک آپ یہ جان چکے ہوں گے کہ مسیح موعود اور مہدی زمان کون ہیں۔ مولانا وحید الدین خان صاحب کے نزدیک اگر ابھی تک آپ یہ پہیلی نہیں بوجھ سکے ہیں تو آپ اندھا پن میں مبتلا ہیں۔ ایک جگہ خان صاحب لکھتے ہیں:

    خان صاحب کا کہنا یہ بھی ہے کہ آپ سے مطلوب یہ ہے کہ مسیح موعود اور مہدی زمان کو پہچانے کی کوشش کریں اور ان کے مسیحیت یا مہدویت یا مجددیت کے کسی اعلان یا دعوے کا انتظار نہ کریں۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:

    پس اب جبکہ آپ پہچان چکے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی زمان کون ہے؟ اب آپ پر اس کی نصرت اور اعانت واجب ہے۔ ایک جگہ خان صاحب لکھتے ہیں:

    یہ بھی ذہن میں رہے کہ خان صاحب کے بقول مسیح موعود اور مہدی زمان کو پہچاننے کے بعد آپ کی ذمہ داری صرف اس کے حق میں دعا کرنا اور اس کی نصرت کرنا ہے نہ کہ کوئی ایسا نعرہ لگانا '' مسیح موعود و مہدی زمان: وحید الدین خان، وحید الدین خان'' ۔ خان صاحب کے بقول، انہوں نے اپنے مسیح یا مہدی ہونے کا کہیں بھی دعوی نہیں کیا ہے اور ہمارے نزدیک بھی وہ اپنے اس دعوی میں سچے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے تو اصولی بحث کے نتیجے میں مسیح اور مہدی کی علامات، صفات اور پہچان بیان کر دی ہے اور حسن اتفاق سے وہ جمیع صفات خان صاحب میں جمع ہیں جو وہ مسیح اور مہدی اور مجدد آخر کی بیان کرتے ہیں۔ خان صاحب نے معاصرین پر مسیح ومہدی کی پہچان اور نصرت کو واجب قرار دیا ہے۔ خان صاحب لکھتے ہیں:

    ہمیں یہ یقین ہے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب جیسے صاحب بصیرت وفراست، مسیح موعود و مہدی زمان کو یقیناً پہچان چکے ہوں گے ، کیونکہ اگر ایسا نہیں ہے تو خان صاحب کے بقول، وہ اندھے پن میں مبتلا اور تاریخ کے اس آخری امتحان میں بلاشبہ ناکام قرارپائیں گے۔ دعوی اور اعلان غیر ضروری اور لایعنی سہی لیکن مسیح اور مہدی کی پہچان تو ضروری ہے نا۔ ویل ڈین مولانا وحید الدین خان، ویل ڈن۔

    مولانا وحید الدین خان صاحب نے کتاب وسنت کی نصوص میں مضحکہ خیز تاویلات کے ذریعے مہدی و مسیح کا جو ایک غلط تصور قائم کیا ہے، اس کا ایک تفصیلی جائزہ کتاب وسنت ہی کی نصوص کی روشنی میں ہم، ان شاء اللہ، اگلی قسط میں لیں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ کتاب وسنت کی نصوص اور عربی زبان وادب کے معروف ومسلمہ قواعد و اسالیب، خان صاحب کے تصور مہدی ومسیح کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ (جاری ہے)
     
  7. ‏جون 05، 2012 #7
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    قسط دوم


    سابقہ قسط میں ہم نے مولانا وحید الدین خان صاحب کے تصور مہدی ومسیح پر ان کے الفاظ کی روشنی میں مفصل بحث کی تھی۔ اس کا خلاصہ کلام یہ تھا کہ خان صاحب کے نزدیک مہدی، عیسیٰ ابن مریم، رجل مومن اور مجدد آخر الزمان ایک ہی شخصیت کے مختلف نام ہے اور یہ شخصیت قیامت سے پہلے اخوان رسول کی ایک ٹیم یعنی سی۔پی۔ایس کے ساتھ، امت مسلمہ میں ایک مصلح کی حیثیت سے دعوت وامن کا کام عالمی سطح پر کرے گی۔ دجالی فتنے یعنی الحاد کا دلائل کے ساتھ نظریاتی قتل کرے گی۔ فتنہ دہیما یعنی تحریکی فکرکے سبب سے مسلمانوں میں پیدا ہونے والے نظریاتی کنفیوژن کو دور کرے گی۔عصری یعنی سائنسی اسلوب میں اسلام کی تعلیمات پیش کرے گی اور اس میں تجزیاتی صلاحیت کمال درجہ میں ہو گی۔ انقلابی یا سیاسی لیڈر نہیں ہو گی بلکہ عارف باللہ ہو گی۔ وہ اپنے مجدد یا مہدی یا مسیح ہونے کااعلان نہیں کرے گی لہٰذا معاصرمسلمان اس کا انکار کریں گے ۔ اس کے باوجود اس کو پہچان کر اس کی نصرت کرنا ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہو گا۔ اس کے ساتھیوں کو اس کے مہدی یا مسیح ہونے کی نسبت سے اچھے خواب آئیں گے۔ اس کے مجدد یا مہدی یا مسیح ہونے کا یقینی علم آخرت میں حاصل ہو گا وغیرہ ذلک۔
     
  8. ‏جون 05، 2012 #8
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    بدعی تصور مہدی ومسیح کا علمی محاکمہ
    اس قسط میں ہم خان صاحب کے اس بدعی تصور مہدی ومسیح کا احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ایک تجزیہ پیش کریں گے اور ان باطنی تاویلات کا بھی علمی محاکمہ کریں گے جنہیں خان صاحب نے الفاظ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جامہ پہنانے کی آخری حد تک سطحی کوشش کی ہے۔

    خان صاحب نے پہلے مہدی ومسیح کا ایک ایسا تصور قائم کیا جو ان کی شخصیت ہی کے گرد گھومتا تھا تو بعد ازاں نے انہوں نے اس تصور کو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باطنی تاویلات کے ذریعہ ثابت کرنے کی کوشش کی اور اس میں بھی ان کا سلوب تحقیق یہ ہے کہ مہدی ومسیح کے بارے صرف انہی روایات یا ان کے بعض حصوں کو اپنے استدلال کی بنیاد بنایا کہ جن کی تاویلات کی وہ جرات کر سکے اور جن روایات یا ان کے بعض حصوں کی تاویلات انہیں نہ سوجھ سکیں تو انہیں خان صاحب نے یکسر نظر انداز کر دیا۔ پس خان صاحب کا تصور مہدی ومسیح اس بارے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات کے ایک منتخب حصے سے ماخوذ ہے کہ جس میں احادیث کی معتد بہ تعداد اور الفاظ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

    علمی انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ جب آپ نے اپنے تصور مہدی ومسیح کی نسبت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنی ہے تو پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مہدی ومسیح کے بارے مروی جمیع روایات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی کوئی ایسی تشریح پیش کریں کہ جنہیں الفاظ قبول بھی کرتے ہوں۔ پس خان صاحب کے تصور مہدی مسیح میں دو بنیادی خامیاں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی بنیاد مہدی ومسیح کے بارے مروی روایات کا ایک جز ہے نہ کہ کل روایات اور دوسرا اس جز کی بھی ایسی تاویلات کی گئی ہے کہ اس کے الفاظ ان تاویلات کو اُگل دینے کے لیے ادھار کھائے بیٹھے نظر آتے ہیں۔

    ١۔ خان صاحب کا دعوی یہ تھا کہ مہدی اورعیسیٰ بن مریم ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ خان صاحب کا یہ دعوی فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے۔ آپ کا فرمان ہے:
    '' فینزل عیسی بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم، فیقول أمیرھم المھدی تعال صل بنا، فیقول لا، ان بعضھم أمیر بعض، تکرمة اللہ ھذہ الأمة.'' (مسند احمد : ٣٨٤٣، مؤسسة قرطبة، القاھرة)
    امام ابن قیم اور علامہ البانی رحمہما اللہ نے اس روایت کی سند کو 'جید' قرار دیا ہے۔(المنار المنیف فی الصحیح والضعیف : ص١١٤؛ السلسلة الصحیحة : ٢٢٣٦)
    ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
    '' منا الذی یصلی عیسی ابن مریم خلفہ.'' (کنز العمال : ٢٦٦١٤، مؤسسة الرسالة)
    علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔(السلسلة الصحیحة : ٢٢٩٣)
    پس فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مہدی امام اور عیسیٰ علیہ السلام مقتدی ہوں گے اور ایسا امت مسلمہ کو شرف بخشنے کے لیے ہو گا تو دونوں ایک ہی شخصیت کیسے ہو گئے؟فیا للعجب!
    اسی طرح بیسیوں روایات میں مسیح کا نام عیسیٰ بن مریم علیہ السلام منقول ہے جبکہ مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ نقل ہوا ہے۔ پس دونوں ایک ہی شخصیت کیسے ہو سکتے ہیں؟ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
    '' یواطیء اسمہ اسمی واسم أبیہ اسم أبی.'' (سنن أبی داؤد، کتاب المھدی)
    شیخ احمد شاکر اور علامہ البانی رحمہما اللہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ (مسند احمد :١٣٩٦؛ صحیح أبی داؤد : ٤٢٨٢)

    ٢۔ خان صاحب کا کہنا یہ بھی ہے کہ مہدی یا مسیح عام انسانوں جیسا ایک مصلح ہو گا۔ ان کا یہ دعوی بھی فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صریحاً خلاف ہے۔ جہاں تک مسیح کا معاملہ ہے تو اس بارے قطعی الدلالة نصوص موجود ہیں کہ نازل ہونے والے مسیح ، عیسیٰ علیہ السلام، اللہ کے نبی ہوں گے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
    '' الأنبیاء اخوة لعلات أمھاتھم شتی و دینھم واحد وأنا أولی الناس بعیسی بن مریم لأنہ لم یکن بینی وبینہ نبی و انہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجلا مربوعا الی الحمرة والبیاض علیہ ثوبان ممصران کأن رأسہ یقطر ون لم یصبہ بلل.'' (مسند احمد : ٤٠٦٢، مؤسسة قرطبة، القاھرة)
    علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ (السلسلة الصحیحة : ٢١٨٢)۔
    جبکہ مہدی کے بارے مستند روایات کے مطابق ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اہل بیت سے ہوگا، ایک رات میں اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح فرمائیں گے، ملک عرب کا بادشاہ ہو گا، زمین کو عدل وقسط سے بھر دے گا، عیسیٰ علیہ السلام اس کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے وغیرہ ذلک۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
    '' المھدی منا أھل البیت یصلحہ اللہ فی لیلة.'' (مسند احمد : ٨٤١، مؤسسة قرطبة، القاھرة)
    اس روایت کو شیخ احمد شاکر اور علامہ البانی رحمہما اللہ نے صحیح کہا ہے۔(مسند احمد : ٥٨٢ ؛ السلسلة الصحیحة : ٢٣٧١)

    ٣۔ خان صاحب کا کہنا یہ بھی ہے کہ مہدی یا مسیح انقلابی یا سیاسی لیڈر نہیں ہو گا بلکہ عارف باللہ ہو گا۔ خان صاحب کا یہ نقطہ نظر بھی مستند روایات کے خلاف ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
    '' لاتذھب أو لاتنقضی الدنیا حتی یملک العرب رجل من أھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی.'' (سنن أبی داؤد، کتاب المھدی)
    امام ابن تیمیہ ، شیخ احمدشاکر اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔(منھاج السنة :٢٥٥٨؛ مسند احمد : ٧٤٦؛ صحیح أبی داؤد : ٤٢٨٢)
    ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
    '' یملأ الأرض قسطا وعدلا کما ملئت جورا وظلما یملک سبع سنین.''(سنن أبی داؤد، کتاب المھدی)
    امام ابن تیمیہ اور علامہ البانی رحمہما اللہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔(منھاج السنة : ٢٥٥٨ ؛ صحیح أبی داؤد:٤٢٨٥)
    روایت میں'یملک سبع سنین'کے الفاظ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عدل وقسط سے مراد نظریاتی عدل نہیں ہے جیسا کہ خان صاحب کی تاویل ہے بلکہ اس سے مراد قضائی عدل ہے جو حکمرانی اور طاقت کا متقاضی ہے۔ پس مہدی ایک انقلابی حکمران ہو گا۔اسی طرح مسیح کے بارے بھی مستند روایات میں منقول ہے کہ وہ ایک عادل حکمران ہوں گے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
    '' لیوشکن أن ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا، فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ أحد حتی تکون السجدة الواحدة خیرا من الدنیا و ما فیھا ثم یقول أبو ھریرة واقرؤوا ان شئتم و ان من أھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ و یوم القیامة یکون علیھم شھیدا.'' (صحیح بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسی بن مریم)
    ٤۔ خان صاحب کا دعوی یہ بھی ہے کہ مہدی اور مسیح کا معاصر مسلمان انکار کریں گے۔ خان صاحب کا یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ ایک ایسے عادل بادشاہ یا حکمران کا انکار کیسے ممکن ہے کہ جو زمین کو عدل و قسط سے بھر دے ، جس کے ہاتھوں مال و دولت کی منصفانہ تقسیم سے کوئی حاجت مند باقی نہ رہے، اور اس قدر دینداری غالب آ جائے کہ ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر سمجھا جائے جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے یہ واضح ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرة رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق تو مسلمان تو کجا اہل کتاب میں سے بھی کوئی ایسا باقی نہ رہے گا جو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے۔

    ٥۔ خان صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ مہدی ومسیح کے مہدی یا مسیح ہونے کا یقینی علم آخرت میں ہی حاصل ہو گا اور دنیا میں لوگوں کے لیے قطعی طوریہ معلوم کرنا ممکن نہیں ہے کہ مہدی ومسیح کون ہے؟ خان صاحب کا یہ دعوی بھی روایات کے صریح خلاف ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
    '' اذا بعث اللہ المسیح ابن مریم، فینزل عند المنارة البیضاء شرقی دمشق، بین مھرودتین، واضعا کفیہ علی أجنحة ملکین، اذا طأطأ رأسہ قطر، وذا رفعہ تحدر منہ جمان کاللؤلؤ.'' (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب ذکر الدجال وصفتہ وما معہ)
    حضرت عیسیٰ بن مریم کا فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے دمشق کے مشرق میں سفید منارہ پر اترنا، اس حال میں کہ ان کے کپڑوں کا رنگ اوران کی صفات بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر دی ہیں، تو اس کے بعد بھی کیا ان کے مسیح ہونے میں کوئی شک باقی رہ جائے گا؟
    خان صاحب نے اس روایت کے الفاظ 'المنارة البیضاء' کی تاویل یہ ہے کہ اس سے مراد age of aviation ہے اور سفیدمنارہ سے مراد ایئرپورٹ کا سفید ٹاور لیا ہے ۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ حدیث میں صرف سفید منارہ کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ 'المنارة البیضاء شرقی دمشق' دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے الفاظ ہیں اور دمشق یا دمشق کے مشرقی حصہ میں موجود سفیدہ منارہ کا age of aviation سے کیا تعلق بنتا ہے؟ معاصر age of aviation میں دمشق یا اس کے مشرقی حصہ کا کیا کردار رہا ہے؟ علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سر سے موتیوں کی مانند پانی کے قطرے گرنے کا age of aviation سے کیاتعلق بنتا ہے؟ درحقیقت خان صاحب نے اپنی اس تاویل کے ذریعے حضرت عیسیٰ بن مریم کے معجزانہ نزول ، جو ان کی پہچان کی مبرہن دلیل تھی، کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
    ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
    '' فیمکث أربعین سنة ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون.'' (مسند احمد : ٤٠٦٢، مؤسسة قرطبة، القاھرة)
    علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ (السلسلة الصحیحة : ٢١٨٢)
    اگر مہدی ومسیح کی یقینی پہچان دنیا میں ممکن نہیں ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تفصیلی صفات اور احوال نزول اس قدر تفصیل سے متعدد فرامین میں کیوں بیان کیے ہیں؟
     
  9. ‏جون 10، 2012 #9
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    آمد دجال
    مہدی ومسیح کی طرح دجال کے بارے بھی خان صاحب کا نقطہ نظر بہت ہی عجیب ہے۔ ان کے نزدیک دجال سے مراد دھوکے باز ہے جو ذہنی وفکری گمراہی پیدا کرے گا نہ کہ انوکھی صفات کا حامل شخص جو قتل وغارت گری کرے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:
    خان صاحب کے بقول، لوگ دجال کی آمد کے منتظر ہیں حالانکہ وہ آ چکا ہے اور اب اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اس کے انتظار کی۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
    احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے صریح ہیں کہ دجال کا کام ذہنی وفکری کنفیوژن پیدا کرنا نہیں بلکہ اپنی انوکھی صفات کے ساتھ ربوبیت کا دعوی کرنا اور قتل وغارت گری برپا کرتے ہوئے اہل ایمان کو آزمائش میں مبتلا کرنا ہے۔ ایک روایت میں دجال کے الفاظ یوں نقل ہوئے ہیں:
    '' وأوشک أن یؤذن الی فی الخروج فأخرج فأسیر فی الأرض فلا أدع قریة لاھبطتھا فی أربعین لیلة غیر مکة وطیبة فھما محرمتان علی کلتاھما کلما أردت أن أدخل واحدة أو واحدا منھما استقبلنی ملک بیدہ السیف صلتاً یصدنی عنھا وان علی کل نقب منھا ملائکة یحرسونھا.'' (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب قصة الجساسة)
    اگرفتنہ دجال سے مراد اس کا نظریاتی فتنہ ہے تو مکہ اور مدینہ میں اس نظریہ کے داخل ہونے میں کیا ممانعت ہے؟ اور پھر اس نظریے کو مکہ ومدینہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بھی تلوار سونتے فرشتے مقرر کیے گئے ہیں؟ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ جب دجال کا خروج ہو گا اور ایک بندہ مومن اس سے ملاقات کا قصد کرے گا تو اس کے چیلے اس کو روکیں گے اور سوال کریں گے:
    '' فیقولون لہ أین تعمد؟ فیقول أعمد لی ھذا الذی خرج قال فیقولون لہ أوما تؤمن بربنا؟ فیقول ما بربنا خفاء فیقولون اقتلوہ فیقول بعضھم لبعض ألیس قد نھاکم ربکم أن تقتلوا أحدا دونہ، قال فینطلقون بہ الی الدجال.'' (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب فی صفة الدجال وتحریم المدینة علیہ)
    '

    اس روایت سے بھی واضح ہوتا ہے کہ دجال ربوبیت کا دعویدار شخص ہو گا۔ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
    '' ان مسیح الدجال رجل، قصیر، أفحج، جعد، أعور، مطموس العین، لیس بناتئة ولا جحرا، فان ألبس علیکم فاعلموا أن ربکم لیس بأعور.'' (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال)
    اگر تو دجال کے پاس انوکھی صفات نہیں ہوں گی اور وہ ان کی بنا پر رب ہونے کا دعوی بھی نہیں کرے گا تواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں کہا کہ اگر تمہیں اس کے رب ہونے کے بارے شبہ ہو جائے تو جان لو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے؟

    جہاں تک اس بات کا معاملہ ہے کہ دجال سے مقابلہ کرنے والے کے لیے 'حجیج' کا لفظ استعمال ہوا ہے تو اس بارے روایات واضح ہیں کہ جب دجال ربوبیت کا دعوی کرے گا تو بندہ مومن اس کی ربوبیت کو چیلنج کرتے ہوئے اس سے مکالمہ کرے گا اور پھر اس بندہ مومن کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دجال دوٹکڑے کر کے دوبارہ زندہ کرے گالیکن بندہ مومن اس کے رب ہونے کا دوبارہ انکار کرے گا اور اب دجال کا اس پر بس نہیں چلے گا۔ تو بندہ مومن اور دجال کے مابین یہ جو مکالمہ ہے، اس مکالمہ کے سبب سے 'حجیج' لفظ استعمال ہوا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے ہاتھوں بندہ مومن کی اس شہادت کو عظیم شہادت کا نام دیا ہے لیکن خان صاحب نے اس طویل اور مفصل روایت کا بھی صرف آخری جز پکڑتے ہوئے شہادت کے لفظ کو نظریاتی شہادت بنا دیا ہے۔ واللہ المستعان علی ما تصفون۔ (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب فی صفة الدجال وتحریم المدینة علیہ)
     
  10. ‏جون 10، 2012 #10
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    قتل دجال
    مولانا وحید الدین خان صاحب کے نزدیک مہدی اور مسیح کا سب سے بڑا کارنامہ دجال کا قتل ہے اور دجال کے قتل سے مراد دجالی فتنے کا استدلالی رد ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
    '

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات اس بارے واضح ہیں کہ قتل دجال سے مرادکسی نظریہ کا استدلالی قتل نہیں بلکہ ایک شخص کا حقیقی قتل ہے جو رب ہونے کا دعویدار ہو گا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
    '' یخرج الدجال فی امتی فیمکث أربعین لا أدری أربعین یوما أو أربعین شھرا أو أربعین عاما فیبعث اللہ عیسی بن مریم کأنہ عروة بن مسعود، فیطلبہ، فیھلکہ.'' (صحیح مسلم،کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب فی خروج الدجال ومکثہ فی الارض ونزول عیسی وقتلہ یاہ)
    اس روایت میں دجال کو تلاش کر کے ہلاک کرنے کا ذکر ہے جو شخص دجال کے قتل کی صراحت کرتا ہے۔ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
    '' یقتل ابن مریم الدجال بباب لد.'' (سنن الترمذی، کتاب أبواب الفتن، باب ما جاء فی قتل عیسی ابن مریم الدجال)
    علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔(صحیح الترمذی : ٢٢٤٤)
    اس روایت میں دجال کے' باب لُد' پر قتل ہونے کے کیا معنی ہے؟ نظریاتی یا استدلالی قتل کا 'باب لُد' کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے؟ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:
    '' کأنی أشبھہ بعبد العزی بن قطن.'' (صحیح مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعة، باب ذکر الدجال وصفتہ وما معہ)
    اسی طرح بعض روایات میں مذکور ہے کہ مدینہ میں ایک شخص ابن صیاد کے بارے بعض صفات کی بنا پر یہ تاثر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم میں پھیل گیا کہ وہ دجال ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے قتل کی اجازت چاہی:
    '' فقال عمر رضی اللہ عنہ دعنی یا رسول اللہ أضرب عنقہ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان یکنہ فلن تسلط علیہ وان لم یکنہ فلا خیر لک فی قتلہ.'' (صحیح بخاری،کتاب الجنائز، باب ذا أسلم الصبی فمات ھل یصلی علیہ)
    قابل غور نقطہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کو دجال سمجھ کر قتل کرنے کی اجازت کے حوالہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ نہیں فرمایا کہ قتل دجال کا مطلب کسی شخص کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ یہ تو نظریے کا بذریعہ استدلال، ذہنی قتل ہے۔ بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف اشارہ کیا کہ اگر تو یہ وہی دجال ہے جس کا آخری زمانے میں ظہور ہونا ہے تو اس کو قتل کرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقدر ہے۔

    اس کے علاوہ بھی دسیوں روایات ہیں جو دجال سے ، ربوبیت کے دعویدار شخص دجال اور قتل دجال سے اس کے حقیقی قتل پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں لیکن ہم طوالت کے خوف سے انہیں یہاں نقل نہیں کر رہے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب نے مہدی ومسیح اور دجال کے بارے روایات کے الفاظ کی جو سطحی تاویلات پیش کی ہیں ، ان کے سامنے روافض اور باطنیہ کی تاویلات ہیچ ہیں۔
    تاویل کا بھی کوئی قانون اور ضابطہ ہوتا ہے۔ ہر زبان میں تشبیہ وتمثیل اور مجاز واستعارہ موجود ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ مجاز وتمثیل کے نام پر جس کا جو دل چاہے، مفہوم بیان کر دے۔ قرآن کی باطنی تفاسیر بھی مجاز وتمثیل ہی کے قبیل سے ہیں۔ اسماعیلیہ ہوں یا قادیانی، روافض ہوں یا منکرین حدیث، یہ سب حضرات مجاز وتمثیل کے نام پر ہی اپنے باطل افکار قرآن سے ثابت کرتے ہیں۔
    تشبیہ وتمثیل اور مجاز واستعارہ کی حدود کیا ہوں گی؟ اس کے قواعد وضوابط کیا ہوں؟ اہل علم نے تو ان کو طے کر دیا ہے۔ علم اصول فقہ میں 'قواعد لغویہ عربیہ 'کی عظیم الشان بحث اور علم بلاغت میں 'علم بیان' کا موضوع یہی ہے۔ ذیل میں ہم حقیقت ومجاز کی بحث کے حوالہ سے تین ضوابط بطور مثال بیان کرنا چاہیں گے کہ جن سے مجاز وتمثیل مراد لینے کی حدود کا کسی قدر تعین ہوتا ہے۔
    ١۔ کلام میں اصل حقیقت ہے اور یہ ایک یونیورسل اصول ہے یعنی ہر کلام سے مراد اس کا حقیقی معنی ہوتا ہے اور مجاز مراد لینے کے لیے دلیل یا قرینہ چاہیے اور جب تک کوئی دلیل یا ضابطہ یا قرینہ موجود نہ ہو تو مجاز مراد لینا جائز نہیں ہے۔
    ٢۔کسی لفظ کا حقیقی معنی ایک ہی ہوتا ہے جبکہ مجازی معنی تو کئی ایک ہو سکتے ہیں ۔ پس حقیقت مراد لینے کی صورت میں اختلاف رفع ہو جاتا ہے جبکہ مجاز مراد لینے کی صورت میں اختلاف پیدا ہوتا ہے کیونکہ ہر کسی کا مجازی معنی اپنا ہو گا۔ پس حقیقی معنی کو مجازی معنی پر ترجیح حاصل ہے۔
    ٣۔ ایمانیات اور امور غیبیہ کے بارے کلام کا اصول یہ ہے کہ اسے حقیقی معنی پر محمول کیا جائے گا کیونکہ اس میں مجاز مراد لینے کی صورت میں یہ متعین نہیں ہو سکے گا کہ کس کے بارے کیا ایمان لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور جب یہی معاملہ مشتبہ ہو کہ کس پر کیا ایمان لانا ہے تو ایمان لانے کا تقاضا بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

    (جاری ہے۔)​
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں