1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مومن کی فراست اور ایک مقلد مولوی کی کرامت

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از غرباء, ‏ستمبر 20، 2019۔

  1. ‏ستمبر 20، 2019 #1
    غرباء

    غرباء مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 11، 2019
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    *اولادوں / نسلوں کو بخت لگانے والی - کامیاب کرنے والی مسنون دُعا*

    حضرت احمد علی لاہوری صاحب ؒ کے بیٹے مولانا حبیب صاحب وہ حجاز میں رہتے تھے، وہ اپنے والد کی بالکل کاپی تھے اور ان کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ تھرمامیٹر ہیں حرام حلال کو ایک پل میں بتا دیتے۔
    کسی نے حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ حضرت آپ کی اولاد اتنی نیک، درویش اس کی وجہ؟
    فرمایا:
    *حلال کھایا* اور
    *ہر نماز کی التحیات میں رب اجعلنی کے بعد* یہ دُعا پڑھی:

    *رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اٍمَامًا*
    (سورہ الفرقان، آیت 74)

    یہ دُعا اس یقین کے ساتھ پڑھیں کہ مولا اگر میرے بیٹے کی، بیٹی کی میرے گھر کے کسی فرد پر کوئی آفت آئے یا کوئی پریشانی آزمائش، اللہ میری آنکھوں کو ٹھنڈک تو نہ پہنچی۔ تو مولا ایسا فرمادے کہ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچادے، آمین۔
    ہمیشہ مزدور کو مزدوری پہلے ملتی ہے یا آخر میں ملتی ہے۔۔؟ ظاہر ہے آخر میں دی جاتی ہے اور التحیات یہ آخری لمحہ ہوتا ہے عبادت کا۔ اور اللہ پاک نے فرمایا اب التحیات میں بیٹھا ہے یوں سلام پھیرے گا اور اس کامجھ سے گفتگو کا جو سلسلہ ہے ختم ہوجائے گا اور یہ دُنیا میں گم ہوجائے یا کسی کام میں گم ہوجائے، چلو اس کو مزدوری دے دو۔
    یہ التحیات آخری لمحہ ہے مزدوری پانے کا۔ کتنا بڑا نکتہ ہے، التحیات میں دعاؤں کااہتمام کیاکریں۔
    *اس دعاسے آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں،* اس دعا سے *نسلوں میں صالحیت* پیداہوتی ہے اور اللہ *غیب کے خزانوں سے صالح اور صالحیت پیدا کرتا ہے* اور ایمان پیدا کرتا ہے۔ اور نسلوں میں اللہ پاک *ایسی نعمتیں دیتا ہے کہ نسلیں اٹکتی نہیں، بھٹکتی نہیں، اور دلوں میں کھٹکھتی نہیں زندگی کے مسائل میں۔۔*
    کیوں؟ اللہ نے اس دعا میں وعدہ کیا ہے کہ میں تمہاری بیوی اور اولادوں کو تمہارے لیے ٹھنڈک بناؤں گا۔ ٹھنڈک اس وقت بنے گی جب یہ مسائل نہیں ہوں گے۔
    میرے پاس کئی کیس آئے کہ میاں بیوی کی ازواجی زندگی میں مسائل ہیں، محبت کی کمی ہے ان کی شکایت تھی میں نے کہا اس دعا کا اہتمام کرو اور کثرت سے پڑھو۔ *جب پڑھا تو ازواجی زندگی کی شکایت دُور ہوگئی، تلخیاں محبت میں تبدیل ہوگئیں۔* اس دعا میں یہ بھی تاثیر ہے انوکھی تاثیر ہے۔

    میرے ایک استاد فرمانے لگے کہ:
    بھائی *اس دعا کو ہر نماز کے بعد بھی اہتمام سے 3 مرتبہ اللہ سے مانگا کرو*۔ مانگتے وقت گھر والی / بچوں کا تصور کیا کرو۔ *یہی بات اپنی گھر والی کو بھی بتاو کہ وہ بھی ہر نماز بعد یہ کام کیا کرے، پھر دیکھو گھر کی زندگی کیسے بدلتی ہے۔*

    اس بات کی تحقیق چاہیئے کے اس میں جو بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کے اسکو مزدوری دے دو۔۔ کیا یہ بات ثابت ہے
    جزاک اللہ خیراً
     
  2. ‏ستمبر 21، 2019 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ مولانا کی اپنی توجیہ ہے، اور انہوں نے اس بات کو اسی انداز میں بیان کیا ہے۔ جو صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔
    حدیث کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔
    حدیث میں اتنا ہے کہ نماز میں یا نماز کے فورا بعد کا وقت قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔
    عن أبي أمامة " قيل يا رسول الله أي الدعاء أسمع؟ قال جوف الليل الآخر ، ودبر الصلوات المكتوبات" رواه الترمذي (3499) وحسنه الألباني في صحيح الترمذي .
    وقد اختلف في دبر الصلوات - هل هو قبل السلام أو بعده ؟.
    واختار شيخ الإسلام ابن تيمية وتلميذه ابن القيم أنه قبل السلام ، قال ابن تيمية : " دبر كل شيء منه كدبر الحيوان " زاد المعاد(1/305) ، وقال الشيخ ابن عثمين : " ما ورد من الدعاء مقيداً بدبر الصلاة فهو قبل السلام وما ورد من الذكر مقيداً بدبر الصلاة ، فهو بعد الصلاة ؛ لقوله تعالى : " فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ" انظر كتاب الدعاء للشيخ محمد الحمد ص (54).
    ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: "کونسی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟" آپ نے فرمایا: (رات کے آخری حصے میں، اور فرض نمازوں کے آخر میں)" ترمذی: (3499)، اس حدیث کو البانی نے "صحیح ترمذی" میں حسن قرار دیا ہے۔
    یہاں اس بات میں مختلف آراء ہیں کہ عربی الفاظ"دبر الصلوات المكتوبات"سے کیا مراد ہے؟ سلام سے پہلے یا بعد میں؟
    اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ سلام سے پہلے ہے، چنانچہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ: "ہر چیز کی "دُبُر" اسی چیز کا حصہ ہوتی ہے، جیسے "دبر الحیوان" یعنی حیوان کا پچھلا حصہ" زاد المعاد(1/305)
    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    جن دعاؤں کا تذکرہ "دبر الصلاۃ" کی قید کے ساتھ آیا ہے، ان سب کا وقت سلام سے پہلے ہے، اور جن اذکار کا تذکرہ " دبر الصلاۃ " کی قید کے ساتھ آیا ہے، تو یہ سب سلام کے بعد کے اذکار ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ
    چنانچہ جب تم نماز مکمل کر لو؛ تو اللہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے، اور پہلو کے بل کرو۔ [النساء : 103]
    مزید کیلئے دیکھیں : "كتاب الدعاء "از شیخ محمد الحمد :صفحہ: (54)
     
    • علمی علمی x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 21، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ بات بالکل غلط اور جھوٹ ہے ،
    مولوی احمد علی لاہوری کے متعلق یہ جھوٹ تقلیدی پارٹی نے پھیلایا ہے ،
    جس کا مقصد انہیں "غیب دان ولی اللہ " منوانا ہے ،
    یہ افسانہ کچھ یوں ہے کہ مولوی احمد علی لاہوری کے ایک مرید ان کی خدمت میں کچھ سیب لے کر گئے ،جو آدھے حلال اور آدھے حرام کے پیسوں سے خریدے گئے تھے ،سیب لے جانے والے کو ان حلال و حرام کے سیبوں کی پہچان تھی ،
    یہ حلال و حرام کے سیب جب مولوی صاحب کو پیش کئے گئے تو انہوں نے کمال غیب دانی سے ان مخلوط سیبوں میں سےحلال مال سے خریدے گئے سیبوں کو یہ کہہ کررکھ لیا کہ مجھے یہ کافی ہیں اور حرام کے مال سے خریدے گئے سیب یہ کہہ کر واپس لوٹا دیئے کہ تم اپنے لئے لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جبکہ اس امت کے سب سے بڑے ولی اور خلیفہ بلا فصل سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کو ان کے غلام نے ایک دفعہ ایسا کھانا کھلادیا جو اس غلام نے کسی سے دھوکہ کرکے حاصل کیا تھا ،
    سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب یہ کھانا کھا چکے تو اس غلام نے انہیں بتایا کہ یہ کھانا کس ذریعہ سے حاصل کیا گیا تھا ،تو انہوں نے یہ کھایا ہواکھانا قے کرکے نکال دیا ۔
    یہ واقعہ صحیح بخاری جیسی معتبر ترین کتاب میں مروی ہے :
    عن القاسم بن محمد، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: " كان لأبي بكر غلام يخرج له الخراج، وكان أبو بكر يأكل من خراجه، فجاء يوما بشيء فأكل منه أبو بكر، فقال له الغلام: أتدري ما هذا؟ فقال أبو بكر: وما هو؟ قال: كنت تكهنت لإنسان في الجاهلية، وما أحسن الكهانة، إلا أني خدعته، فلقيني فأعطاني بذلك، فهذا الذي أكلت منه، فأدخل أبو بكر يده، فقاء كل شيء في بطنه "
    ترجمہ :
    ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو روزانہ انہیں کچھ (خراج ) کمائی دیا کرتا تھا اور سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ اسے اپنی ضرورت میں استعمال کیا کرتے تھے ۔ ایک دن وہ غلام کوئی کھانے کی چیز لایا اورسیدناابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھالیا ۔ پھر غلام نے کہا آپ کو معلوم ہے ؟ یہ کیسی کمائی سے ہے ؟ آپ نے دریافت فرمایا کیسی ہے ؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شحص کے لیے کہا نت کی تھی حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی ، میں نے اسے صرف دھوکہ دیا تھالیکن اتفاق سے وہ مجھے مل گیا اور اس نے اس کی اجرت میں مجھ کو یہ چیز دی تھی ، آپ کھا بھی چکے ہیں ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور پیٹ کی تمام چیزیں قے کر کے نکال ڈالیں ۔
    (صحیح بخاری ،کتاب مناقب الانصار ،باب ایام الجاہلیۃ ،حدیث 3842 )

    یہی واقعہ مشہور محدث امام ابو نعیم اصفہانیؒ نے اپنی کتاب "معرفۃ الصحابہ" میں اس طرح بیان کیا ہے :
    عن عبد الرحمن بن القاسم، عن عائشة، قالت: " كان لأبي بكر غلام يخرج له الخراج، فكان أبو بكر يأكل من خراجه، فجاء يوما بشيء فأكل منه فقال الغلام: تدرون ما هذا؟ فقال أبو بكر: لا وما هو؟ قال: كنت تكهنت لإنسان في الجاهلية وما أحسن الكهانة إلا أني خدعته فلقيني فأعطاني بذلك فهذا الذي أكلت منه، فأدخل يده فقاء كل شيء في بطنه "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کا ولی خواہ کتنا ہی کامل کیوں نہ ہو اسے اپنے کھانے کے غیبی ذرائع و وسائل کا علم نہیں ہوتا جب تک کوئی باخبر اسے نہ بتائے ۔
    تو جب سیدنا ابوبکر جیسے عظیم صحابی کو اپنے غلام کے دیئے گئے کھانے کی حقیقت معلوم نہ ہوسکی تو چودہویں صدی کا ایک مولوی کیسے جان سکتا ہے ۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 22، 2019
  4. ‏ستمبر 21، 2019 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اسحاق سلفی صاحب آپ نے اس بات کو جو رخ دیا ہے، اگر اس طرح دیکھا جائے تو یہ واقعتا غلط بات ہے۔ لیکن اگر ایسی باتوں کو مومن کی فراست سمجھا جائے، تو یہ اللہ کی نعمت ہے، جو اللہ اپنے بندوں کو عطا کرسکتا ہے۔
     
  5. ‏ستمبر 22، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جی میں نے مسئولہ مسئلہ کو ہرگز کوئی رخ نہیں دیا ،بلکہ اس کی جو صورت مسئولہ تھی عین اسی صورت کا شرعی حکم پیش کردیا ،
    مسئلہ یہ تھا کہ ایک مولوی صاحب کے متعلق یہ جھوٹ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ "نامعلوم وسائل و ذرائع سے حاصل شدہ رزق میں سے حلال حصہ یا حلال اشیاء پہچان کر نکال لیا کرتے تھے "
    اوراس وصف و صفت میں حضرت صاحب ایک "تھرما میٹر " کی حیثیت رکھتے تھے ،گویا جس طرح تھرما میٹر سے انسانی جسم کی حرارت کا اتار چڑھاؤ کسی بھی وقت دیکھا جاسکتا ہے اسی طرح مولوی صاحب مستقل حلال و حرام کی تمییز و پہچان اور پرکھ کرسکتے تھے ،
    دوسروں کیلئےاس رزق کے غیبی اور نامعلوم ذرائع ان کو "معلوم " تھے ،اسی کو علم غیب کہتے ہیں ،
    لیکن حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اسباب و ذرائع کو متعین ذرائع سے جانے بغیر کسی چیز کے حلال و حرام ہونے کا علم اور پہچان نہیں ہوسکتی ،جس کی مثال سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں واضح ہے ؛

    اور قرآن عزیز میں اللہ تبارک وتعالی کا ارشادہے :
    (وَ مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ ) (پارہ ۱۱، رکوع۳)
    ’’یعنی اہل مدینہ سے کئی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں (اے محبوب ) آپ ان کو نہیں جانتے ،انہیں صرف ہم جانتے ہیں "
    اس آیت کا مطلب روز روشن کی طرح واضح ہے کہ : نبی مکرم ﷺ اپنے ہی اردگرد موجود کچھ جعلی مسلمانوں کی پہچان اس وقت تک نہیں کرسکتے جب تک ان کے نفاق کی کچھ ظاہری علامات نہ جان لیں ،حالانکہ آپ سیدالانبیاء ہیں تاہم امور غیبیہ پر مطلع نہیں ہوسکتے ،

    بالکل اسی طرح زہر آلود گوشت کھانے کا واقعہ بھی اس عقیدہ پر دلیل ہے ؛
    ٍصحیح بخاری (4428) میں حدیث ہے کہ :​
    قالت عائشة رضي الله عنها: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول في مرضه الذي مات فيه: «يا عائشة ما أزال أجد ألم الطعام الذي أكلت بخيبر، فهذا أوان وجدت انقطاع أبهري من ذلك السم»
    ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں فرماتے تھے کہ خیبر میں ( زہر آلود ) کھاناجو میں نے کھالیا تھا ، اس کی تکلیف آج بھی میں محسوس کرتاہوں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری شہ رگ اس زہر کی تکلیف سے کٹ جائے گی ۔ "

    یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ سامنے موجود کھانے کے متعلق بغیر اسباب کے کوئی بھی نہیں جانتا کہ حلال ہے یا حرام اور نقصان دہ ہے یا مفید و نافع "​
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رہی فراست کی بات ۔۔۔۔۔۔۔ تو واضح رہے کہ متصوفین کے ہاں فراست سے مراد "غیب دانی" یعنی بلا اسباب مخفی امور کا معلوم ہوجانا ہے ؛ جیسا کہ یہاں مذکور مولوی صاحب کے تھرما میٹر کے قصہ میں بیان کیا گیا ،جبکہ اہل حق اس عقیدہ و نظریہ کے قائل نہیں ،

    اور فراست سے مراد اگر وہ روایت ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ( اتقوا فراسۃ المومن ۔۔ الخ ) مومن کی فراست سے ڈرو ۔۔۔
    تو وہ روایت قابل استدلال نہیں ،اس روایت کی اسنادی حالت پر مشہور سلفی محقق شیخ غازی عزیر کا ایک سو صفحات کا مقالہ دو قسطوں میں "محدث میگزین " میں 1992 میں شائع ہوچکا ہے ، اس مقالہ میں بڑی عرق ریزی سے اس کی تحقیق پیش کی گئی ہے ،

    اور اگر فراست سے مراد "ایمانی سوجھ بوجھ ،اور بصیرت و دانائی " ہے تو اس فراست کا میدان امور غیبیہ نہیں ، بلکہ شرعی احکام و مصالح کی سوجھ بوجھ اور اصلاح نفس کےلئے مطلوب بصیرت ہے ،
    اس صورت میں عربی اصطلاح "فراست " کا معنی حسب ذیل ہوگا :
    فِرَاسَتِي في فُلانٍ الصَّلأَحُ (فلاں کے بارے میں میری رائے ہے کہ وہ صالح ہے ۔)
    یعنی فراست لفظ کا مطلب دانائی، تیز فہم، دانشمندی، سمجھداری اور ایمانی بصیرت ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر مولوی صاحب مذکور واقعی صاحب "فراست " بزرگ تھے ،تو تصوف و تقلید کے اندھیروں میں کیوں بھٹکتے رہے ،اپنی خدا داد فراست کو بروئے کار لا کر خالص قرآن و سنت کی شاہراہ پر چلتے ،
    وہ فراست کس کام کی جس سے ٹماٹر اور سیب شناسی کا ملکہ تو حاصل ہوجائے لیکن حق شناسی کے اہم ترین کام میں یہی فراست کار آمد نہ ہو ؟
    واللہ یقول الحق وہو یھدی السبیل​
     
    Last edited: ‏ستمبر 22، 2019
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 22، 2019 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    فرض یا نفل نماز کے آخری قعدہ میں تشہد اور درود پڑھنے کے بعدقرآن وحدیث میں موجود دعاؤں میں سے کوئی بھی دعاء پڑھ سکتا ہے ؛
    رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ؛

    ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنْ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو
    اس کے بعد دعا کا اختیار ہے جو اسے پسند ہو کرے۔(صحیح بخاری 835 )
    تشریح: یہ لفظ عام ہے دین اور دنیا کے متعلق ہر ایک قسم کی دعا مانگ سکتا ہے ،

    رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اللہم إنی ظلمت الخ کے الفاظ سے نماز میں دعا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ عن أبي بکر الصدیق أنہ قال لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علمني دعاء أدعو بہ في صلاتي قال قل: اللہم أنی ظلمت نفسي ظلما کثیرا ولا یغفر الذنوب إلا أنت فاغفرلي مغفرة من عندک وارحمني إنک أنت الغفور الرحیم (بخاری شریف) اسی وجہ سے اس دعا کے پڑھنے کا معمول ہے۔
    اس کے علاوہ قرآنی دعا جیسے "ربنا اتنا فی الدنیا"، "ربنا ظلمنا انفسنا"، "رب اغفر و الرحم" , "ربنا ھب لنا من ذریتنا" اور "رب الرحمہما کما " یا احادیث میں آنے والی استغفار، عافیت و رحمت والی دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں ؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. ‏ستمبر 22، 2019 #7
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اسلام آباد(قدرت روزنامہ29جنوری2018) مولانا امین صفدرصاحب رحمتہ اللہ نے حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ سے اپنی بیعت کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ایک دن میں ’’خدام الدین‘‘ میں حضرت لاہوری رحمتہ اللہ کی مجلس ذکر کی تقریر پڑھ رہا تھا، جس میں آپ کا فرمان تھا کہ جسمانی آنکھیں تو اللہ تعالیٰ نے گدھوں اور کتوں کو بھی دی ہیں، آنکھیں تو اصل دل کی ہیں،اگر یہ روشن ہو جائیں تو انسان کو حرام حلال کا امتیاز ہو جاتا ہے اور اگر وہ قبر کے پاس سے گزرے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ قبر جنت کا باغ ہے یا دوزخ کا گڑھا، میں یہ پڑھ ہی رہا تھا کہ ایک ماسٹر صاحب جن کا نام رشید احمد تھا، وہ ہال کمرے میں داخل ہوئے، ان کے ہاتھ میں پانچ روپے کا نوٹ تھا اور کہتے آرہے تھے کہ کسی نے حرام نوٹ لینا ہے، یہ حرام ہے حرام، میں نے کہا مجھے دے دو، وہ مجھ سے پوچھنے لگے تم کیا کرو گے؟ میں نے حضرت لاہوری رحمتہ اللہ کی مجلس ذکر کی وہ تقریر سنائی اور کہا لاہور چلتے ہیں اور امتحان لیتے ہیں کہ خود حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کو حلال حرام کی تمیز ہے یا نہیں؟ اس پر چار پانچ ٹیچر اور تیار ہو گئے، ہم سب نے ایک ایک روپیہ اپنے پاس سے لے لیا، ایک روپے کے سیب اپنے روپے سے اور ایک کے حرام روپے سے خریدے، اس طرح پانچ پھل ہم نے خرید لئے اور ہر پھل پر کوئی ایک نشانی لگا دی کہ یہ سیب حرام روپے کا ہے اور وہ حلال روپے کا ہے، یہ کینو حرام روپے کا ہے وہ حلال کا . غرضیکہ ہم پھل لے کر لاہور پہنچ گئے اور حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں جا پیش کئے حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے پھلوں کی طرف دیکھا، پھر ہماری طرف دیکھا اور فرمایا ’’بھئی یہ کیا لائے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا حضرت! زیارت کیلئے حاضر ہوئے ہیں، یہ کچھ ہدیہ ہے، فرمایا ہدیہ لائے ہو یا میرا امتحان لینے آئے ہو؟یہ فرما کر آپ نے ان مختلف پھلوں کو الگ الگ کر دیا اور فرمایا یہ حلال ہیں ، یہ حرام ہیں، اب ہم نے بیعت کی درخواست کی تو حضرت نے سختی سے فرمایا ’’چلے جاؤ، تم بیعت کے لئے تھوڑا آئے ہو، تم تو امتحان کے لئے آئے تھے؟‘‘ اور ہمیں اٹھا دیا ہم واپس سٹیشن پر آگئے، گاڑی آئی، باقی چاروں ساتھی سوار ہوگئے مگر میرا دل سوار ہونے کو نہ چاہا میں ٹکٹ واپس کر کے شاہدرہ اپنے ہم زلف کے ہاں چلا گیا،اور اگلے دن فجر کی نماز مسجد شیرانوالا میں حضرت کی اقتداء میں ادا کی، نماز کے بعد درس کی جگہ پر حضرت نے درس قرآن ارشاد فرمایا، درس کے بعد چند ساتھی بیعت کے لئے بڑھے، میں بھی ساتھ بیٹھ گیا، دیکھ کر مسکرا کر فرمایا، اچھا اب بیعت کیلئے آگئے ہو؟ میں نے عرض کیا حضرت! حاضر ہو گیا ہوں، حضرت رحمہ اللہ نے بیعت فرمایا اور اسم ذات، استغفار اور درود شریف کی تسبیحات کی تعلیم فرمائی .
    منقول از روزنامہ قدرت

    ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 53 – 54 جلد 01 تجلیات صفدر – مرتبہ: نعیم احمد – مکتبہ امدادیہ، ملتان

    اس باب میں اور بھی بہت کچھ منقول ہے؛
    شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے حیرت انگیز واقعات از حاکم علی خلیفہ مجاز حضرت مولانا عبد المجید رحیم یار خانی – بیت العلم، کراچی
     
    Last edited: ‏اکتوبر 05، 2019
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 22، 2019 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جزاکم اللہ تعالی خیراً
    گذشتہ روز سے ذہن پر زور دے رہا ہوں ،غالباً یہ قصہ فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ہمیں ماسٹر امین صفدر اوکاڑوی کی کسی کتاب سے دکھایا تھا ،
    لیکن اب یاد نہیں آرہا کہ کتاب کون سی تھی ،اوپر اپنی پوسٹ میں میں نے اسی دھندلی یاداشت سے اس قصہ کو لکھا ہے ؛
     
  9. ‏ستمبر 22، 2019 #9
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اگر معاملہ اتنا ہوتا کہ ''پھل لانے والے'' کے حالات و آثار کے سبب اندازہ لگایا جاتا کہ یہ حرام کا مال لایا ہوگا، اور اس سے اجتناب کیا ہوتا، تو ہم اسے ''فراست'' سمجھ سکتے تھے، لیکن حرام مال سے خریدے سیب کو حلال مال کے خریدے سیب سے الگ الگ کرنے کو فراست قرار دینا مشکل ہے، اور وہ بھی اس سیاق میں، کہ جب احمد علی لاہور صاحب کا یہ فرمان نقل کیا جائے کہ انہوں نے فرمایا:
    '' کہ جسمانی آنکھیں تو اللہ تعالیٰ نے گدھوں اور کتوں کو بھی دی ہیں، آنکھیں تو اصل دل کی ہیں،اگر یہ روشن ہو جائیں تو انسان کو حرام حلال کا امتیاز ہو جاتا ہے اور اگر وہ قبر کے پاس سے گزرے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ قبر جنت کا باغ ہے یا دوزخ کا گڑھا،
    ''
    سیب والے قصے میں تو میں احمد علی لاہوری صاحب کو نہیں، بلکہ اسے بیان کرنے والے کو متہم سمجھتا ہوں!
    اور اس قصے کو بیان کرنے والے نے اس ''کرامت'' سے علم غیب ہی ثابت کیا ہے!
     
  10. ‏ستمبر 23، 2019 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعين الرضا عن كل عيب كليلة
    وعين السخط تبدي المساويا


    قسَّم ابن الأثير الفراسة إلى قسمين:
    - الأول: ما دل ظاهر هذا الحديث عليه: " اتقوا فراسة المؤمن"، وهو ما يوقعه الله تعالى في قلوب أوليائه؛ فيعلمون أحوال بعض الناس بنوع من الكرامات, وإصابة الظن والحدس.
    - الثاني نوع يتعلم بالدلائل, والتجارب, والخلق, والأخلاق, فتعرف به أحوال الناس.أ.هـ.
    وقال المناوي: "اتقوا فراسة المؤمن، أي اطلاعه على ما في الضمائر بسواطع أنوار أشرقت في قلبه؛ فتجلت له بها الحقائق، فإنه ينظر بنور الله؛ أي يبصر بعين قلبه المشرق بنور الله تعالى".
    ومن القصص المشهورة في الفراسة ما ذكره الحاكم عن قتيبة قال: رأيت محمد بن الحسن والشافعي قاعدين بفناء الكعبة؛ فمر رجل فقال أحدهما لصاحبه: تعال حتى نزكن -أي نتفرس- على هذا الآتي؛ أي حرفة معه؟ فقال أحدهما: خياط، وقال الآخر: نجار، فبعثا إليه فسألاه؛ فقال: كنت خياطاً وأنا اليوم نجار!!
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 23، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں