1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مَردوں کے نام اہم پیغام :

'حقوق زوجیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 17، 2015۔

  1. ‏نومبر 17، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,990
    موصول شکریہ جات:
    6,516
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    12227582_888694414532162_1282428013627080912_n (1).jpg


    مَردوں کے نام اہم پیغام :


    ---------------------------

    لوگو ! اپنی بیویوں (کے حقوق) کے معاملہ میں اللہ تعالی سے ڈرو ، اس لیے کہ تم نے اُنہیں اللہ کی امان کے ساتھ اپنے عقد (نکاح) میں لیا ہے

    (فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)

    ---------------------------------------------

    ( سنن أبي داود : 1905 ، ، ابن ماجه : 3074 ، ،
    صحيح الجامع : 2068 ، ، صحيح ابن حبان : 3944 ، ،1457،،
    صحیح مسلم : 1218 (2803))
     
  2. ‏جون 21، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,990
    موصول شکریہ جات:
    6,516
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کچھ نصیحت مردوں کے لیے .....

    ایک شوھر کو چاھیئے کہ وہ اپنی بیوی کو اھمیت دے.. اسے ایک قیمتی چیز کی طرح سنبھال سنبھال کر رکھے.. اسے بےتوقیر نہ ھونے دے.. نہ خود اولاد کے سامنے اس کی بےعزتی کرے اور نہ کسی کو کرنے دے..

    یاد رکھیے ! اس کی بیوی کی عزت اس کی اپنی عزت ھے اور بیوی کی بےعزتی اس کی ذاتی بے عزتی ھے.. جس عورت کو اس کی اولاد کے سامنے مارا پیٹا جاتا ھے یا گالی گلوچ اور طنز و استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا ھے وہ اپنی اولاد کی نظر مین بےتوقیر اور بےوقار ھو جاتی ھے.. پھر ایسی ماں سے اولاد سنبھالے نہیں سنبھالی جاتی.. وہ بھی ماں کو ھاؤس میڈ کی طرح ٹریٹ کرتے ھیں.. ایسے بچے آگے چل کر اپنی بیویوں کے لئے بھی برے شوھر ثابت ھوتے ھیں.. یا پھر وہ بچے ماں کی محبت میں باپ کو ظالم سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور انکے دل میں باپ کی محبت اور عظمت ختم ہوجاتی ہے ایسے بچے بڑھاپے میں اپنے والد کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے

    میاں بیوی میں ناچاقی یا رنجش ھو بھی جائے جو کہ ایک فطری اور لازمی چیز ھے تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں بہت اچھا انسان ھوں تو میرے گھر میں نہیں ھو سکتی.. عورت بھی انسان ھے اسے بھی غصہ آتا ھے تو وہ غصہ اپنے شوھر پر ھی نکالے گی یا محلے والوں پہ نکالے گی..؟ پھر کپڑا پھٹ بھی جائے تو انسان محلے کو نہیں دکھاتا پھرتا کہ میری شلوار پھٹ گئ ھے..

    میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ھیں.. لباس ستر بھی ڈھانپتا ھے اور خوبصورتی اور زینت بھی بخشتا ھے.. عورت کے بغیر مرد اس حکمران کی طرح ھوتا ھے جس کا تختہ الٹ دیا گیا ھو..

    "پھرتا ھے میر خوار' کوئی پوچھتا نہیں.."
    گھر پھر گھر ھوتا ھے.. کچھ ممالک میں تو اکیلے اور غیر شادی شدہ مرد کو کرائے پہ مکان کوئی نہیں دیتا جبکہ فیملی کے لئے سب لوگ چشم براہ ھوتے ھیں کیونکہ فیملی والا معزز گنا جاتا ھے اور چھڑا بےلباس و بے اعتبار..

    شوھر کو چاھیئے کہ وہ اپنی تنخواہ میں سے ایک معقول رقم بیوی کو دے تاکہ وہ اس میں سے اپنی ضرورت کی چیزیں بھی لے' کچھ صدقہ کرے اور کچھ اپنے والدین کو بھی بھیجے کیونکہ انہوں نے اسے پیدا کیا' پالا پوسا اور پڑھایا اور اس کی خاطر مالی و جذباتی قربانی دی.. اس کے والدین کا بھی اس پر اتنا ھی حق ھے جتنا شوھر کے والدین کا شوھر پر ھے.. کبھی اس کے والدین یا بھائیوں کے لطیفے نہ بنائے.. اپنی اولاد کے سامنے ان کے ننھیال کو تمسخر کا نشانہ نہ بنائے بلکہ انہیں اپنے والدین کی سی عزت دے تاکہ بیوی بھی اس کے والدین کی دل و جان سے خدمت کرے -

    اقتباس فیس بک
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں