1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکر سنکرانتی، اتراین

'ہندوانہ کلچر' میں موضوعات آغاز کردہ از فارقلیط, ‏جنوری 14، 2013۔

  1. ‏جنوری 14، 2013 #1
    فارقلیط

    فارقلیط مبتدی
    جگہ:
    احمدآباد، گجرات ،انڈیا
    شمولیت:
    ‏دسمبر 08، 2012
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    69
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    14جنوری کے روز سورج شمالی نصف کرہ میں داخل ہوتا ہے۔اس قدرتی معمول کو ہندو مذہب کے ماننے والے مکر سنکرانتی یا اُتراین کہتے ہیں اور اسے ایک مذہبی تہوار کی شکل میں مناتے ہیں۔ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں اس تہوار کومنانے کی مختلف شکلیں رائج ہیں۔ صوبہ گجرات(انڈیا) کے ہندو اس روز گایوں کو گھاس چارا ڈالتے ہیں، پوجا کرتے ہیں، دان دکشنا کرتے ہیں اور سارا دِن پتنگ بازی میں مصروف رہتے ہیں۔
    ہر چند کے علمائے اِسلام اور مفتیان کرام نے پتنگ بازی کو ناجائز اور حرام قراردیاہے نیز مکر سنکرانتی کے موقع پر ہندووں کے شعار والے کاموں سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے تاہم کچھ نادان مسلمان پتنگ بازی سے اپنے آپ کو دور نہیں رکھ پاتے بلکہ وہ بھی ساراسارا دِن اپنے اپنے مکانوں کی چھتوں پر سے پتنگ بازی کرتے ہیں، اور’’یہ کاٹا وہ لوٹا‘‘کے شور سے آبادیا ں گونج اٹھتی ہیں۔نوجوان لڑکیاں، عورتیں ، بچے سبھی چھتوں پر نظر آتے ہیں۔ٹیپ ریکارڈ اور بڑے اسپیکرز کے ذریعہ فلمی نغمے اس قدر بلند آواز سے بجائے جاتے ہیں کہ شور کے باعث کان پڑی آواز بھی سُنائی نہیں دیتی۔ آج یہ بندہ بھی اپنے کمرے میں بنداسی عذاب سے جوجھ رہا ہے۔
    اس موقع پر پتنگ بازی کے دوران ہونے والے حادِثات میں سینکڑوں زخمی ہوتے ہیں، ہر سال ایک یا دو آدمیوں کی پتنگ کی ڈور سے گردن کٹ جانے کی بنا پر موت واقع ہوتی ہے اور درجنوں چھت سے گر کر مر جاتے ہیں یا زندگی بھر کے لیے کسی اہم عضو سے محروم ہو جاتے ہیں۔دوسری جانب صوبہ گجرات کی نریندر مودی حکومت ثقافت کے عنوان سے ’’انٹرنیشنل کائٹ فیسٹیول‘‘ کا ہر سال انعقاد کرتی ہے اور اس پرعوام الناس کا اربوں روپیہ صرف کیا جاتا ہے۔جس میں دُنیا بھر کے پتنگ باز اَپنے اَپنے ملکوں کی پتنگیں لے کر پتنگ بازی کے عالمی مقابلے میں شریک ہوتے ہیں۔
     
  2. ‏جنوری 14، 2013 #2
    ابن قاسم

    ابن قاسم مشہور رکن
    جگہ:
    الہند
    شمولیت:
    ‏اگست 07، 2011
    پیغامات:
    253
    موصول شکریہ جات:
    1,073
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم
    معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے شکریہ
    ہمارا خیال ہے اربوں روپیہ بہت زیادہ ہوتے ہیں، اگر اربوں روپیہ سے مراد بہت زیادہ رقم ہے تو لکھنا بجا ہوگا
    ہمیں غلط فہمی ہو تو بلا تامل تصیح کیجیے
     
  3. ‏جنوری 15، 2013 #3
    فارقلیط

    فارقلیط مبتدی
    جگہ:
    احمدآباد، گجرات ،انڈیا
    شمولیت:
    ‏دسمبر 08، 2012
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    69
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جی ہاں ! اربوں روپیہ بہت زیادہ ہوتا ہیں۔

    اربوں روپیہ بہت زیادہ ہوتے ہیں، اگر اربوں روپیہ سے مراد بہت زیادہ رقم ہے تو لکھنا بجا ہوگا
    جی ہاں! اربوں روپیہ بہت زیادہ ہوتے ہیں، ہم نے محاورتا نہیں لکھا۔ اس سے وہی مرادہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ارے جب ہزاروں حریف شریک ہوں گے۔ ہزاروں کا اسٹاف انتظام میں تعینات کیا جائےگا۔ لاکھوں، کروڑوں کے انعامات دِیے جائیں گے تو
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں