1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ١ - (حدیث نمبر ١ تا ٨١٣)

'کتب احادیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جون 26، 2012۔

  1. ‏جولائی 19، 2012 #491
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : نماز میں امام کی طرف دیکھنا

    وقالت عائشة قال النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف ‏"‏ فرأيت جهنم يحطم بعضها بعضا حين رأيتموني تأخرت‏"‏‏. ‏
    اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن کی نماز میں فرمایا کہ میں نے جہنم دیکھی۔ اس کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب تم نے دیکھا کہ میں ( نماز میں ) پیچھے سرک گیا۔

    حدیث نمبر : 746
    حدثنا موسى، قال حدثنا عبد الواحد، قال حدثنا الأعمش، عن عمارة بن عمير، عن أبي معمر، قال قلنا لخباب أكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في الظهر والعصر قال نعم‏.‏ قلنا بم كنتم تعرفون ذاك قال باضطراب لحيته‏.‏
    ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے عمارہ بن عمیر سے بیان کیا، انھوں نے ( عبداللہ بن مخبرہ ) ابومعمر سے، انھوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ صحابی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی رکعتوں میں ( فاتحہ کے سوا ) اور کچھ قرات کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں۔ ہم نے عرض کی کہ آپ لوگ یہ بات کس طرح سمجھ جاتے تھے۔ فرمایا کہ آپ کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔

    تشریح : یہیں سے ترجمہ باب نکلا۔ کیونکہ داڑھی کا ہلناان کو بغیر امام کی طرف دیکھے کیونکر معلوم ہوسکتاتھا۔ بہرحال نماز میں نظرامام پررہے یامقام سجدہ پر رہے ادھر ادھر نہ جھانکنا چاہئیے۔

    حدیث نمبر : 747
    حدثنا حجاج، حدثنا شعبة، قال أنبأنا أبو إسحاق، قال سمعت عبد الله بن يزيد، يخطب قال حدثنا البراء، وكان، غير كذوب أنهم كانوا إذا صلوا مع النبي صلى الله عليه وسلم فرفع رأسه من الركوع قاموا قياما حتى يرونه قد سجد‏.‏
    ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق عمرو بن عبداللہ سبیعی نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے بیان کیا کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور وہ جھوٹے نہیں تھے کہ جب وہ ( صحابہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک دیکھتے کہ آپ سجدہ میں چلے گئے ہیں ( اس وقت وہ بھی سجدے میں جاتے )

    حدیث نمبر : 748
    حدثنا إسماعيل، قال حدثني مالك، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله بن عباس، رضى الله عنهما قال خسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى، قالوا يا رسول الله، رأيناك تناول شيئا في مقامك، ثم رأيناك تكعكعت‏.‏ قال ‏"‏ إني أريت الجنة، فتناولت منها عنقودا، ولو أخذته لأكلتم منه ما بقيت الدنيا‏"‏‏. ‏
    ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ مجھے امام مالک نے زید بن اسلم سے بیان کیا، انھوں نے عطاء بن یسار سے، انھوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گہن ہوا تو آپ نے گہن کی نماز پڑھی۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ ( نماز میں ) آپ اپنی جگہ سے کچھ لینے کو آگے بڑھے تھے پھر ہم نے دیکھا کہ کچھ پیچھے ہٹے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تو اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا اور اگر میں لے لیتا تو اس وقت تک تم اسے کھاتے رہتے جب تک دنیا موجود ہے۔

    وہ کبھی فنا نہ ہوتا کیونکہ بہشت کو خلود ہے۔ ترجمہ باب اس قول سے نکلتا ہے کہ ہم نے آپ کو دیکھا۔

    حدیث نمبر : 749
    حدثنا محمد بن سنان، قال حدثنا فليح، قال حدثنا هلال بن علي، عن أنس بن مالك، قال صلى لنا النبي صلى الله عليه وسلم ثم رقا المنبر، فأشار بيديه قبل قبلة المسجد ثم قال ‏"‏ لقد رأيت الآن منذ صليت لكم الصلاة الجنة والنار ممثلتين في قبلة هذا الجدار، فلم أر كاليوم في الخير والشر ‏"‏ ثلاثا‏.‏
    ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے۔ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے قبلہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ابھی جب میں نماز پڑھا رہا تھا تو جنت اور دوزخ کو اس دیوار پر دیکھا۔ اس کی تصویریں اس دیوار میں قبلہ کی طرف نمودار ہوئیں تو میں نے آج کی طرح خیر اور شر کبھی نہیں دیکھی۔ آپ نے قول مذکور تین بار فرمایا۔

    خیر بہشت اور شر دوزخ مطلب یہ کہ بہشت سے بہتر کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی اور دوزخ سے بری کوئی چیز نہیں دیکھی۔ اس حدیث میں امام کا آگے دیکھنا مذکور ہے اور جب امام کو آگے دیکھنا جائز ہوا تو مقتدی کو بھی اپنے آگے یعنی امام کو دیکھنا جائز ہوگا۔ حدیث اورباب میں یہی مطابقت ہے۔
     
  2. ‏جولائی 19، 2012 #492
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانا کیسا ہے؟

    حدیث نمبر : 750
    حدثنا علي بن عبد الله، قال أخبرنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا ابن أبي عروبة، قال حدثنا قتادة، أن أنس بن مالك، حدثهم قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ما بال أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في صلاتهم‏"‏‏. ‏ فاشتد قوله في ذلك حتى قال ‏"‏ لينتهن عن ذلك أو لتخطفن أبصارهم‏"‏‏. ‏
    ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن مہران ابن ابی عروبہ نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ آپ نے اس سے نہایت سختی سے روکا۔ یہاں تک آپ نے فرمایا کہ لوگ اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ ان کی بینائی اچک لی جائے گی۔

    فرشتے اللہ کے حکم سے اس کی بینائی سلب کرلیں گے۔ حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا یہ کراہت محمول ہے اس حالت پر جب نماز میں دعا کی جائے جیسے مسلم میں عندالدعاء کا لفظ زیادہ ہے۔ عینی نے کہا کہ یہ ممانعت مطلق ہے نماز میں دعاءکے وقت ہو یا اورکسی وقت۔ امام ابن حزم نے کہا ایسا کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔
     
  3. ‏جولائی 19، 2012 #493
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : نماز میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے؟

    حدیث نمبر : 751
    حدثنا مسدد، قال حدثنا أبو الأحوص، قال حدثنا أشعث بن سليم، عن أبيه، عن مسروق، عن عائشة، قالت سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الالتفات في الصلاة فقال ‏"‏ هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد‏"‏‏. ‏
    ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اشعت بن سلیم نے بیان کیا اپنے والد کے واسطے سے، انھوں نے مسروق بن اجدع سے، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تو ڈاکہ ہے جو شیطان بندے کی نماز پر ڈالتا ہے۔

    تشریح : اس کوالتفات کہتے ہیں یعنی بغیر گردن یاسینہ موڑے ادھر ادھر جھانکنا نماز میں یہ سخت منع ہے۔ پہلے صحابہ نماز میں التفات کیا کرتے تھے جب آیت کریمہ قدافلح المؤمنون الذین ہم فی صلاتہم خاشعون ( المومنون: 1 ) نازل ہوئی تووہ اس سے رک گئے اورنظروں کو مقام سجدہ پر رکھنے لگے۔ حدیث میں آیاہے کہ جب نمازی باربار ادھر ادھر دیکھتاہے تواللہ پاک بھی اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتاہے۔ رواہ البزار عن جابر۔

    حدیث نمبر : 752
    حدثنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى في خميصة لها أعلام فقال ‏"‏ شغلتني أعلام هذه، اذهبوا بها إلى أبي جهم وأتوني بأنبجانية‏"‏‏. ‏
    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، انھوں نے عروہ سے، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی۔ پھر فرمایا کہ اس کے نقش و نگار نے مجھے غافل کر دیا۔ اسے لے جا کر ابوجہم کو واپس کر دو اور ان سے ( بجائے اس کے ) سادی چادر مانگ لاؤ۔

    یہ چادر ابوجہم نے آپ کو تحفہ میں دی تھی۔ مگراس کے نقش ونگار آپ کو پسندنہیں آئے کیونکہ ان کی وجہ سے نماز کے خشوع وخضوع میں فرق آرہاتھا۔ اس لیے آپ نے اسے واپس کرادیا۔ معلوم ہوا کہ نماز میں غافل کرنے والی کوئی چیز نہ ہونی چاہئیے۔
     
  4. ‏جولائی 19، 2012 #494
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : اگر نمازی پر کوئی حادثہ ہو یا نمازی کوئی بری چیز دیکھے یا قبلہ کی دیوار پر تھوک دیکھے ( تو التفات میں کوئی قباحت نہیں )

    وقال سهل التفت أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ فرأى النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
    اور سہل بن سعد نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے التفات کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔

    حدیث نمبر : 753
    حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ليث، عن نافع، عن ابن عمر، أنه قال رأى النبي صلى الله عليه وسلم نخامة في قبلة المسجد، وهو يصلي بين يدى الناس، فحتها ثم قال حين انصرف ‏"‏ إن أحدكم إذا كان في الصلاة فإن الله قبل وجهه، فلا يتنخمن أحد قبل وجهه في الصلاة‏"‏‏. ‏ رواه موسى بن عقبة وابن أبي رواد عن نافع‏.‏
    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے نافع سے بیان کیا، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی دیوار پر رینٹ دیکھی۔ آپ اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ نے ( نماز ہی میں ) رینٹ کو کھرچ ڈالا۔ پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا کہ جب کوئی نماز میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے منہ کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص سامنے کی طرف نماز میں نہ تھوکے۔ اس حدیث کی روایت موسیٰ بن عقبہ اور عبدالعزیز ابن ابی رواد نے نافع سے کی۔

    باب اورحدیث میں مطابقت یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت نماز مسجد کی قبلہ رخ دیوارپر بلغم دیکھا اورآپ کو اس کی ناگواری کا بہت سخت احساس ہوا، ایسی حالت میں آپ نے اس کی طرف التفات فرمایا توایسا التفات جائز ہے۔ حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حالت نماز ہی میں آپ نے اس کو صاف کرڈالا تھا۔

    حدیث نمبر : 754
    حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا ليث بن سعد، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال أخبرني أنس، قال بينما المسلمون في صلاة الفجر لم يفجأهم إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم كشف ستر حجرة عائشة فنظر إليهم وهم صفوف، فتبسم يضحك، ونكص أبو بكر رضى الله عنه على عقبيه ليصل له الصف فظن أنه يريد الخروج، وهم المسلمون أن يفتتنوا في صلاتهم، فأشار إليهم أتموا صلاتكم، فأرخى الستر، وتوفي من آخر ذلك اليوم‏.‏
    ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انھوں نے عقیل بن خالد سے بیان کیا، انھوں نے ابن شہاب سے، انھوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ) مسلمان فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے پردہ ہٹایا۔ آپ نے صحابہ کو دیکھا۔ سب لوگ صفیں باندھے ہوئے تھے۔ آپ ( خوشی سے ) خوب کھل کر مسکرائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( آپ کو دیکھ کر ) پیچھے ہٹنا چاہا تاکہ صف میں مل جائیں۔ آپ نے سمجھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔ صحابہ ( آپ کو دیکھ کر خوشی سے اس قدر بےقرار ہوئے کہ گویا ) نماز ہی چھوڑ دیں گے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کر لو اور پردہ ڈال لیا۔ اسی دن چاشت کو آپ نے وفات پائی۔

    تشریح : ترجمہ باب یوں نکلا کہ صحابہ نے عین نماز میں التفات کیا۔ کیونکہ اگروہ التفات نہ کرتے تو آپ کا پردہ اٹھانا کیونکر دیکھتے اور ان کااشارہ کیسے سمجھتے۔ بلکہ خوشی کے مارے حال یہ ہوا کہ قریب تھا کہ وہ نماز کو بھول جائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کے لیے دوڑیں۔ اسی حالت کو ان لفظوں سے تعبیر کیاگیا ہے کہ مسلمانوں نے یہ قصد کیا کہ وہ فتنے میں پڑجائیں۔ بہرحال یہ مخصوص حالات ہیں۔ ورنہ عام طور پر نماز میں التفات جائز نہیں جیسا کہ حدیث سابقہ میں گزرا۔ قرآن مجید میں ارشاد باری ہے وقوموا للہ قٰنتین ( البقرۃ: 238 ) یعنی نماز میں اللہ کے لیے دلی توجہ کے ساتھ فرماں بردار بندے بن کر کھڑے ہوا کرو۔ نماز کی روح یہی ہے کہ اللہ کو حاضر ناظر یقین کرکے اس سے دل لگایاجائے۔ آیت شریفہ الذین ہم فی صلاتہم خاشعون ( المومنون: 2 ) کا یہی تقاضا ہے۔
     
  5. ‏جولائی 19، 2012 #495
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : امام اور مقتدی کے لیے قرات کا واجب ہونا، حضر اور سفر ہر حالت میں، سری اور جہری سب نمازوں میں

    قرات سے سورۃ فاتحہ کا پڑھنا مراد ہے۔ جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے بغیرنماز نہیں ہوتی۔

    حدیث نمبر : 755
    حدثنا موسى، قال حدثنا أبو عوانة، قال حدثنا عبد الملك بن عمير، عن جابر بن سمرة، قال شكا أهل الكوفة سعدا إلى عمر ـ رضى الله عنه ـ فعزله واستعمل عليهم عمارا، فشكوا حتى ذكروا أنه لا يحسن يصلي، فأرسل إليه فقال يا أبا إسحاق إن هؤلاء يزعمون أنك لا تحسن تصلي قال أبو إسحاق أما أنا والله فإني كنت أصلي بهم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أخرم عنها، أصلي صلاة العشاء فأركد في الأوليين وأخف في الأخريين‏.‏ قال ذاك الظن بك يا أبا إسحاق‏.‏ فأرسل معه رجلا أو رجالا إلى الكوفة، فسأل عنه أهل الكوفة، ولم يدع مسجدا إلا سأل عنه، ويثنون معروفا، حتى دخل مسجدا لبني عبس، فقام رجل منهم يقال له أسامة بن قتادة يكنى أبا سعدة قال أما إذ نشدتنا فإن سعدا كان لا يسير بالسرية، ولا يقسم بالسوية، ولا يعدل في القضية‏.‏ قال سعد أما والله لأدعون بثلاث، اللهم إن كان عبدك هذا كاذبا، قام رياء وسمعة فأطل عمره، وأطل فقره، وعرضه بالفتن، وكان بعد إذا سئل يقول شيخ كبير مفتون، أصابتني دعوة سعد‏.‏ قال عبد الملك فأنا رأيته بعد قد سقط حاجباه على عينيه من الكبر، وإنه ليتعرض للجواري في الطرق يغمزهن‏.‏
    ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالملک بن عمیر نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، کہا کہ اہل کوفہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے شکایت کی۔ اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو علیحدہ کر کے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو کوفہ والوں نے سعد کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ وہ تو اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بلا بھیجا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسحاق! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو۔ اس پر آپ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں تو انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا، اس میں کوتاہی نہیں کرتا عشاء کی نماز پڑھاتا تو اس کی دو پہلی رکعات میں ( قرآت ) لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے ابواسحاق! مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی۔ پھر آپ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا۔ سب نے آپ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے۔ تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابوسعدہ تھی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ جب آپ نے خدا کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو ( سنئیے کہ ) سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ( یہ سن کر ) فرمایا کہ خدا کی قسم میں ( تمہاری اس بات پر ) تین دعائیں کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر دراز کر اور اسے خوب محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔ اس کے بعد ( وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ ) جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا کہ ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا لگ گئی۔ عبدالملک نے بیان کیا کہ میں نے اسے دیکھا اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آ گئی تھی۔ لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا۔

    تشریح : حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے نماز کی جوتفصیل بیان کی اوراس کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیااسی سے باب کے جملہ مقاصد ثابت ہوگئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، یہ مستجاب الدعوات تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی تھی۔ عہدفاروقی میں یہ کوفہ کے گورنر تھے۔ مگرکوفہ والوں کی بے وفائی مشہور ہے۔ انھوں نے حضرت سعدرضی اللہ عنہ کے خلاف جھوٹی شکایتیں کیں۔ آخرحضرت عمررضی اللہ عنہ نے وہاں کے حالات کا اندازہ فرماکر حضرت عماررضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بیت المال کی حفاظت کے لیے مقرر فرمایا۔ حضرت سعدرضی اللہ عنہ کی فضیلت کے لیے یہ کافی ہے کہ جنگ احد میں انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کے لیے بے نظیر جرات کا ثبوت دیا۔ جس سے خوش ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے سعد! تیرچلا، تجھ پر میرے ماںباپ فداہوں۔ یہ فضیلت کسی اورصحابی کو نصیب نہیں ہوئی۔ جنگ ایران میں انھوں نے شجاعت کے وہ جوہر دکھلائے جن سے اسلامی تاریخ بھرپورہے۔ سارے ایران پر اسلامی پرچم لہرایا۔ رستم ثانی کو میدان کارزار میں بڑی آسانی سے مارلیا۔ جواکیلا ہزار آدمیوں کے مقابلہ پربھاری سمجھا جاتا تھا۔

    حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے اسامہ بن قتادہ کوفی کے حق میں بددعا کی جس نے آپ پرالزامات لگائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سعدرضی اللہ عنہ کی دعا قبول کی اور وہ نتیجہ ہوا جس کا یہاں ذکر موجود ہے۔
    معلوم ہوا کہ کسی پرناحق کوئی الزام لگانابہت بڑا گناہ ہے۔ ایسی حالت میں مظلوم کی بددعا سے ڈرنا ایمان کی خاصیت ہے۔

    حدیث نمبر : 756
    حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا الزهري، عن محمود بن الربيع، عن عبادة بن الصامت، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب‏"‏‏. ‏
    ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا محمود بن ربیع سے، انھوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔

    تشریح : امام کے پیچھے جہری اور سری نمازوں میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا اثبات بہت سی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ باوجود اس حقیقت کے پھر یہ ایک معرکہ آراءبحث چلی آرہی ہے۔ جس پر بہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ جو حضرات اس کے قائل نہیں ہیں۔ ان میں بعض کا توغلویہاں تک بڑھاہواہے کہ وہ اسے حرام مطلق قراردیتے ہیں اورامام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے والوں کے بارے میں یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کے منہ میں آگ کے انگارے بھرے جائیں گے۔ نعوذباللہ منہ۔ اسی لیے مناسب ہوا کہ اس مسئلہ کی کچھ وضاحت کردی جائے تاکہ قائلین اورمانعین کے درمیان نفاق کی خلیج کچھ نہ کچھ کم ہوسکے۔

    یہاں حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جو حدیث لائے ہیں اس کے ذیل میں حضرت مولانا عبیداللہ صاحب شیخ الحدیث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    وسمیت فاتحۃ الکتاب لانہ یبدا بکتابتہا فی المصاحف ویبدا بقراتہا فی الصلوٰۃ و فاتحۃ کل شئی مبداہ الذی یفتح بہ مابعد افتتح فلان کذا ابتدا بہ قال ابن جریر فی تفسیرہ۔ ( ج1، ص: 25 ) و سمیت فاتحۃ الکتاب لانہا یفتتح بکتابتہا المصاحف ویقرابہا فی الصلوٰۃ فہی فواتح لما یتلوہا من سورالقرآن فی الکتابۃ واالقراۃ وسمیت ام القرآن لتقدمہا علی سائرسورالقرآن غیرہا وتاخرماسواہا فی القراۃ والکتابۃ الخ۔ ( مرعاۃ، ج1، ص: 583 ) خلاصہ اس عبارت کا یہ کہ سورۃ الحمد شریف کا نام فاتحۃ الکتاب اس لیے رکھا گیاکہ قرآن مجید کی کتابت اسی سے شروع ہوتی ہے اورنماز میں قرات کی ابتدا بھی اسی سے کی جاتی ہے۔ علامہ ابن جریر نے بھی اپنی تفسیر میں یہی لکھاہے۔ اس کو ام القرآن اس لیے کہا گیا کہ کتابت اورقرات میں یہ اس کی تمام سورتوں پر مقدم ہے۔ اورجملہ سورتیں اس کے بعد ہیں۔ یہ حدیث اس امر پر دلیل ہے کہ نمازمیں قرات سورۃ فاتحہ فرض ہے اوریہ نماز کے ارکان میں سے ہے۔ جو اسے نہ پڑھے اس کی نماز صحیح نہ ہوگی۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی اپنی مشہورکتاب حجۃ اللہ البالغۃ، جلد2، ص: 4 پر اسے نماز کا اہم رکن تسلیم کیاہے۔ اس لیے کہ یہ حدیث عام ہے۔ نماز چاہے فرض ہو چاہے نفل، اوروہ شخص امام ہو یا مقتدی، یااکیلا۔ یعنی کسی شخص کی کوئی نماز بھی بغیرفاتحہ پڑھے نہیں ہوگی۔

    چنانچہ مشہورشارح بخاری حضرت علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح بخاری، جلد2، ص: 439 میں اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ای فی کل رکعۃ منفردا اواماما اوماموما سواءاسرالامام اوجہر یعنی اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ ہر رکعت میں ہرنماز کو خواہ اکیلا ہو یاامام ہو، یامقتدی، خواہ امام آہستہ پڑھے یا بلند آواز سے سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔

    نیز اسی طرح علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    وفی الحدیث ( ای حدیث عبادۃ ) دلیل علی ان قراۃ الفاتحۃ واجبۃ علی الامام والمنفرد والماموم فی الصلوٰت کلہا۔ ( عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد3، ص: 63 ) یعنی حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اس امر پر صاف دلیل ہے کہ سورۃ فاتحہ کا پڑھنا امام اور اکیلے اورمقتدی سب کے لیے تمام نمازوں میں واجب ہے۔ نیز عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، ج3، ص: 84 ) میں لکھتے ہیں: حنفیوں کے مشہور شارح بخاری امام محمود احمدعینی التوفی 855ھ
    استدل بہذاالحدیث عبداللہ بن المبارک والاوزاعی ومالک و الشافعی واحمد واسحاق وابوثور وداؤد علی وجوب قراۃ الفاتحۃ خلف الامام فی جمیع الصلوٰت یعنی اس حدیث ( حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ ) سے امام عبداللہ بن مبارک، امام اوزاعی، امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق، امام ابوثور، امام داؤد رحمۃ اللہ علیہم نے ( مقتدی کے لیے ) امام کے پیچھے تمام نمازوں میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کے وجوب پر دلیل پکڑی ہے۔

    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ المجموع شرح مہذب، جلد3، ص: 326 مصری میں فرماتے ہیں:
    وقرا ۃ الفاتحۃ للقادر علیہا فرض من فروض الصلوٰۃ ورکن من ارکانہا ومتعینۃ لایقوم ترجمتہا بغیرالعربیۃ ولاقراۃ غیرہا من القرآن ویستوی فی تعینہا جمیع الصلوٰت فرضہا ونفلہا جہرہا و سرہا والرجل المراۃ والمسافر والصبی والقائم والقاعد والمضظجع وفی حال الخوف وغیرہا سواءفی تعینہا الامام والماموم والمنفرد یعنی جو شخص سورۃ فاتحہ پڑھ سکتاہے ( یعنی اس کو یہ سورہ یاد ہے ) اس کے لیے اس کا پڑھنا نماز کے فرائض میں سے ایک فرض اورنماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اوریہ سورۃ فاتحہ نماز میں ایسی معین ہے کہ نہ تو اس کی بجائے غیرعربی میں اس کا ترجمہ قائم مقام ہوسکتاہے اورنہ ہی قرآن مجید کی دیگر آیت۔ اوراس تعین فاتحہ میں تمام نمازیں برابر ہیں فرض ہوں یا نفل، جہری ہوں یاسری اور مردعورت، مسافر، لڑکا ( نابالغ ) اورکھڑا ہوکر نماز پڑھنے والااوربیٹھ کر یالیٹ کر نماز پڑھنے والا سب اس حکم میں برابر ہیں اور اس تعین فاتحہ میں امام، مقتدی اوراکیلا نماز پڑھنے والا ( سبھی ) برابر ہیں۔

    حدیث اورشارحین حدیث کی اس قدر کھلی ہوئی وضاحت کے باوجود کچھ حضرات کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس حدیث میں امام یا مقتدی یامنفرد کا ذکر نہیں۔ اس لیے اس سے مقتدی کے لیے سورۃ فاتحہ کی فرضیت ثابت نہیں ہوگی۔ اس کے جواب کے لیے حدیث ذیل ملاحظہ ہو۔ جس میں صاف لفظوں میں مقتدیوں کا ذکر موجود ہے۔
    عن عبادۃ بن الصامت قال کنا خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی صلوٰۃ الفجر فقرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فثقلت علیہ القراۃ فلما فرغ قال لعلکم تقرءون خلف امامکم قلنا نعم ہذا یارسول اللہ قال لا تفعلوا الابفاتحۃ الکتاب فانہ لا صلوٰۃ لمن لم یقرا ءبھا۔ ( ابوداؤد، ج1، ص: 119، ترمذی، ج1، ص: 41 وقال حسن ) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فجر کی نماز میں ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے آپ نے جب قرآن شریف پڑھا توآپ پر پڑھنا مشکل ہوگیا۔ جب آپ ( نمازسے ) فارغ ہوئے تو فرمایا کہ شاید تم اپنے امام کے پیچھے ( قرآن پاک سے کچھ ) پڑھتے رہتے ہو۔ ہم نے کہا، ہاں یا رسول اللہ! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں آپ نے فرمایا کہ یادرکھو سورۃ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو۔ کیونکہ جو شخص سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی اور حضرت امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو حسن کہاہے۔

    اس حدیث کے ذیل میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: والعمل علی ہذا الحدیث فی القراءۃ خلف الامام عند اکثر اہل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم والتابعین وہو قول مالک ابن انس وابن المبارک والشافعی واحمد واسحاق یرون القراءۃ خلف الامام۔ ( ترمذی، ج1، ص:41 )
    یعنی امام کے پیچھے ( سورۃ فاتحہ ) پڑھنے کے بارے میں اکثراہل علم، صحابہ کرام اورتابعین کا اسی حدیث ( عبادہ رضی اللہ عنہ ) پر عمل ہے اور امام مالک، امام عبداللہ بن مبارک ( شاگرد امام ابوحنیفہ ) ، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق ( بھی ) امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کے قائل تھے۔
    امام خطابی معالم السنن شرح ابوداؤد، ج1، ص: 205میں لکھتے ہیں: ہذاالحدیث نص صریح بان قراۃ الفاتحۃ واجبۃ علی من صلی خلف الامام سواءجہرالامام باالقراۃ اوخافت بہا و اسنادہ جید لا طعن فیہ۔ ( مرعاۃ، ج1، ص: 619 )
    یعنی یہ حدیث نص صریح ہے کہ مقتدی کے لیے سورۃ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔ خواہ امام قرات بلند آواز سے کرے یا آہستہ سے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص مقتدیوں کو خطاب کرکے سورۃ فاتحہ پڑھنے کاحکم دیااوراس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ سورۃ فاتحہ پڑھے بغیرکسی کی نماز ہی نہیں ہوتی۔ اس حدیث کی سند بہت ہی پختہ ہے۔ جس میں طعن کی کوئی گنجائش نہیں۔

    اس بارے میں دوسری دلیل یہ حدیث ہے۔
    عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من صلی صلوٰۃ ولم یقرا فیہا بام القرآن فہی خداج ثلاثا غیرتمام فقیل لابی ہریرۃ انا نکون وراءالامام فقال اقرابہا فی نفسک فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول قال اللہ تعالیٰ قسمت الصلوٰۃ بینی وبین عبدی نصفین الحدیث۔ ( صحیح مسلم، ج1، ص:169 ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے تووہ نماز ناقص ہے ( مردہ ) ناقص ہے ( مردہ ) ناقص ہے ( مردہ ) پوری نہیں ہے۔ جضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ لوگ امام کے پیچھے ہوتے ہیں۔ ( تب بھی پڑھیں ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ( ہاں ) اس کو آہستہ پڑھاکرو، کیونکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ میں نے نماز کو اپنے اوربندے کے درمیان دوحصوں میں تقسیم کردیاہے۔ ( آخر تک )

    اس حدیث میں سورۃ فاتحہ ہی کو نماز کہا گیاہے۔ کیونکہ نماز کی اصل روح سورۃ فاتحہ ہی ہے۔ دوحصوں میں بانٹنے کا مطلب یہ کہ شروع سورت سے ایاک نستعین تک مختلف طریقوں سے اللہ کی حمد وثناہے۔ پھر آخر سورت تک دعائیں ہیں جو بندہ خدا کے سامنے پیش کررہاہے۔ اس طرح یہ سورت شریفہ دوحصوں میں منقسم ہے۔

    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح مسلم، جلد1، ص: 170میں لکھتے ہیں:
    ففیہ وجوب قراۃ الفاتحۃ وانہا متعینۃ لایجزی غیرھا الالعاجزعنہا وہذا مذہب مالک والشافعی وجمہور العلماءمن الصحابۃ والتابعین فمن بعدہم۔
    یعنی اس حدیث ( ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ) میں سورۃ فاتحہ کے فرض ہونے کا ثبوت ہے اورعاجز کے سوا سورۃ فاتحہ نماز میں متعین ہے۔ کوئی دوسری آیت اس کی جگہ کفایت نہیں کرسکتی اور یہی مذہب امام مالک اورامام شافعی اور جمہورصحابہ کرام اورتابعین اوران کے بعد علماءوائمہ عظام کاہے۔

    اس حدیث میں سورۃ فاتحہ پڑھے بغیرنماز کے لیے لفظ خداج کا استعمال کیاگیاہے۔ چنانچہ امام خطابی معالم السنن شرح ابوداؤد، جلد1، ص: 203 پر فہی خداج کا معنی لکھتے ہیں: معناہ ناقصۃ نقص فساد وبطلان یقول العرب اخدجت الناقۃ اذا القت ولدہا وہو دم لم یستبن خلقہ فہی مخدج والخداج اسم مبنی عنہ۔ ( مرعاۃ، ج1، ص: 588 )
    حاصل اس کا یہ ہے کہ جس نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے، وہ فاسداور باطل ہے۔ اہل عرب اخدجت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی اپنے بچے کو اس وقت گرادے کہ وہ خون ہو اور اس کی خلقت وپیدائش ظاہر نہ ہوئی ہو۔ اوراسی سے لفظ خداج لیا گیاہے۔ ثابت ہوا کہ خداج وہ نقصان ہے جس سے نماز نہیں ہوتی اوراس کی مثال اونٹنی کے مردہ بچہ جیسی ہے۔

    اقرابہا فی نفسک اس کا معنی دل میں تدبر وتفکر اورغورکرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زبان کے ساتھ آہستہ آہستہ سورۃ فاتحہ پڑھا کر۔
    امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    والمراد بقولہ اقرابہا فی نفسک ان یتلفظ بہا سرا دون الجہر بہا ولایجوز حملہ علی ذکرہا بقلبہ دون التلفظ بہا لاجماع اہل اللسان علی ان ذلک لایسمی قراۃ ولاجماع اہل العلم علی ان ذکرہا بقلبہ دون التلفظ بہا لیس بشرط ولامسنون ولایجوز حمل الخبر علی مالا یقول بہ احد ولایساعدہ لسان العرب۔ ( کتاب القرات، ص: 17 )
    یعنی اس قول ( اقرابہا فی نفسک ) سے مراد یہ ہے کہ زبان سے آہستہ آہستہ پڑھ اور اس کو ذکر قلب یعنی تدبر و تفکر و غور پر محمول کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ اہل لغت کا اس پراجماع ہے کہ اس کو قراۃ نہیں کہتے اوراہل علم کا اس پر بھی اجماع ہے کہ زبان سے تلفظ کئے بغیر صرف دل سے ذکر کرنا نماز کی صحت کے لیے نہ شرط ہے اورنہ ہی سنت۔ لہٰذا حدیث کو ایسے معنی پر حمل کرنا جس کا کوئی بھی قائل نہیں اورنہ ہی لغت عرب اس کی تائید کرے جائز نہیں۔

    تفسیرجلالین، جلد1، ص: 148مصری میں واذکر ربک فی نفسک کا معنی لکھاہے: ای سرا یعنی اللہ تعالیٰ کو زبان سے آہستہ یادکر۔

    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح مسلم، جلد1، ص: 170 اقرابہا فی نفسک کا معنی لکھتے ہیں:
    فمعناہ اقراہا سرا بحیث تسمع نفسک واما ماحملہ علیہ بعض المالکیۃ وغیرہم ان المراد تدبر ذلک فلایقبل لان القراۃ لاتطلق الاعلی حرکۃ اللسان بحیث یسمع نفسہ۔
    اورحدیث میں قرات ( پڑھنے ) کا حکم ہے۔ لہٰذا جب تک مقتدی فاتحہ کو زبان سے نہیں پڑھے گا، اس وقت تک حدیث پر عمل نہیں ہوگا۔
    ہدایہ، جلد1، ص: 98 میں ہے: لان القراۃ فعل اللسان کیونکہ قراۃ ( پڑھنا ) زبان کا کام ہے۔
    کفایہ، جلد1، ص: 64 میں ہے: فیصلی السامع فی نفسہ ای یصلی بلسانہ خفیا یعنی جب خطیب آیت یآیہا الذین آمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما ( الاحزاب: 56 ) پڑھے توسامعین کو چاہئیے کہ اپنی زبان سے آہستہ درود پڑھ لیں۔ یعنی فی نفسہ کا معنی زبان سے آہستہ اورپوشیدہ پڑھنا ہے۔ ان حوالہ جات سے واضح ہوگیا کہ فی نفسک کا معنی دل میں تدبر اور غوروفکر کرنا، لغت اوراہل علم اور خودفقہاءکی تصریحات کے خلاف ہے اورصحیح معنی یہ ہے کہ زبان سے آہستہ پڑھا کراوریہی حدیث کا مقصود ہے۔

    تیسری حدیث یہ ہے:
    عن عائشہ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من صلی صلوٰۃ لم یقرافیہا بفاتحۃ الکتاب فہی خداج غیر تمام۔ ( جزءالقرات، ص: 8، دہلی، کتاب القرات، ص: 31 ) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی وہ نماز ناقص ہے پوری۔ ” خداج کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے۔

    اس بارے میں چوتھی حدیث یہ ہے:
    عن انس رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی باصحابہ فلما قضی صلوٰتہ اقبل علیہم بوجہہ فقال اتقرءون فی صلوٰتکم خلف الامام والامام یقرا فسکتوا فقال لہا ثلاث مرات فقال قائل اوقائلون انا لنفعل قال فلا تفعلوا ولیقرا احدکم فاتحۃ الکتاب فی نفسہ۔ ( کتاب القرات، ص: 48، 49، 50، 55، جزءالقراۃ دہلی، ص: 28 )

    حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی۔ نماز پوری کرنے کے بعد آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔ جب امام پڑھ رہا ہو توتم بھی اپنی نماز میں امام کے پیچھے پڑھتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش ہوگئے۔ تین بار آپ نے یہی فرمایا۔ پھر ایک سے زیادہ لوگوں نے کہا، ہاں! ہم ایسا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو۔ تم میں سے ہر ایک صرف سورۃ فاتحہ آہستہ پڑھا کرے۔

    اس حدیث سے امام کے پیچھے مقتدی کے لیے سورۃ فاتحہ پڑھنے کی فرضیت صاف ثابت ہے۔ اس بارے میں مزیدوضاحت کے لیے پانچویں حدیث یہ ہے:
    عن ابی قلابۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لعل احدکم یقرا خلف الامام والامام یقرافقال رجل انالنفعل ذلک قال فلا تفعلوا ولکن لیقرا احدکم بفاتحۃ الکتاب۔ ( کتاب القراۃ، ص: 50 )
    ابوقلابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شایدجب امام پڑھ رہا ہو تو ہر ایک تمہارا امام کے پیچھے پڑھتاہے۔ ایک آدمی نے کہا بے شک ہم ایسا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کرو اورلیکن ہر ایک تمہارا ( امام کے پیچھے ) سورۃ فاتحہ پڑھا کرے۔

    ان احادیث سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ مقتدی کے لیے سورۃ فاتحہ ضروری ہے۔ کیونکہ ان احادیث میں خاص لفظ فاتحہ اورخلف امام موجود ہے اورمزید وضاحت کے لیے چھٹی حدیث یہ ہے:
    عن عبداللہ بن سوادۃ القشیری عن رجل من اہل البادیۃ عن ابیہ وکان ابوہ اسیرا عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال سمعت محمدا صلی اللہ علیہ وسلم قال لاصحابہ تقرؤن خلفی القرآن فقالوا یارسول اللہ نہذہ ہذا قال لا تقروا الابفاتحۃ الکتاب۔ ( کتاب القراۃ، ص: 53 ) عبداللہ بن سوادۃ ایک دیہاتی سے، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور اس کا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسیر تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو فرماتے ہوئے سنا۔ کیا تم نماز میں میرے پیچھے قرآن پڑھتے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا سوائے سورۃ فاتحہ کے کچھ نہ پڑھا کرو۔

    امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    وتواترالخبرعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاصلوٰۃ الابقراۃ ام القرآن۔ ( جزءالقراۃ، ص: 4، دہلی )
    یعنی اس بارے میں کہ بغیرسورۃ فاتحہ پڑھے نماز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر ( یعنی جم غفیر روایت کرتے ہیں ) کے ساتھ احادیث مروی ہیں۔

    امام عبدالوہاب شعرانی میزان کبریٰ، جلد1، ص: 166، طبع دہلی میں فرماتے ہیں:
    من قال بتعین الفاتحۃ وانہ لایجزی قراۃ غیرہا قددار مع ظاہرالاحادیث التی کادت تبلغ حدالتواتر مع تائید ذلک بعمل السلف والخلف۔
    یعنی جن علماءنے سورۃ فاتحہ کو نماز میںمتعین کیاہے اورکہاکہ سورۃ فاتحہ کے سوا کچھ اورپڑھنا کفایت نہیں کرسکتا۔ اولاً توان کے پاس احادیث نبویہ اس کثرت سے ہیں کہ تواتر کو پہنچنے والی ہیں۔ ثانیاً سلف وخلف ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وتابعین وتبع تابعین وائمہ عظام ) کا عمل بھی تعین فاتحہ درنماز کی تائید کرتاہے۔

    مسک الختام شرح بلوغ المرام، جلد1، ص: 219 مطبع نظامی میں ہے۔ “ وایں حدیث راشواہد بسیاراست۔ ” یعنی قراۃ فاتحہ خلف الامام کی حدیث کے شواہد بہت زیادہ ہیں۔

    تفسیر ابن کثیر، ص: 12 میں ہے: والاحادیث فی ہذا الباب کثیرۃ یعنی قراۃ فاتحہ کی احادیث بکثرت ہیں۔
    ان ہی احادیث کثیرہ کی بناپر بہت سے محققین علمائے احناف بھی قراۃ خلف الامام کے قائل ہیں، جس کی تفصیل کے سلسلہ میں المحدث الکبیر حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب مبارک پوری مرحوم فرماتے ہیں:
    علامہ شعرانی نے لکھاہے کہ امام ابوحنیفہ اورامام محمدرحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول کہ مقتدی کو الحمدنہیں پڑھنا چاہئیے ان کا پرانا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اورامام محمدرحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پرانے قول سے رجوع کرلیا ہے اورمقتدی کے لیے الحمد پڑھنے کو سری نماز میں مستحسن اورمستحب بتایاہے۔ چنانچہ علامہ موصوف لکھتے ہیں:
    لابی حنیفۃ ومحمد قولان احدھما عدم وجوبہا علی الماموم بل ولاتسن وہذا قولہما القدیم وادخلہ محمد فی تصانیفہ القدیمۃ وانتشرت النسخ الی الاطراف وثانیہا استحسانہا علی سبیل الاحتیاط وعدم کراہتہا عندالمخالفۃ الحدیث المرفوع لاتفعلوا الابام القرآن وفی روایۃ لاتقروا بشئی اذا جہرت الابام القرآن وقال عطاءکانوا یرون علی الماموم القراۃ فی ما یجہر فیہ الامام وفی مایسرفرجعا من قولہما الاول الی الثانی احتیاطا انتہیٰ کذا فی غیث الغمام، ص: 156 حاشیۃ امام الکلام۔

    خلاصہ ترجمہ: اس عبارت کا یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اورامام محمدرحمۃ اللہ علیہ کے دوقول ہیں۔ ایک یہ کہ مقتدی کوالحمد پڑھنا نہ واجب ہے اورنہ سنت اوران دونوں اماموں کا یہ قول پرانا ہے اورامام محمدرحمۃ اللہ علیہ نے اپنی قدیم تصنیفات میں اسی قول کو درج کیاہے اور ان کے نسخے اطراف وجوانب میں منتشر ہوگئے اور دوسرا قول یہ ہے کہ مقتدی کونماز سری میں الحمد پڑھنا مستحسن ہے علی سبیل الاحتیاط۔ اس واسطے کہ حدیث مرفوع میں وارد ہواہے کہ نہ پڑھو مگرسورۃ فاتحہ اور ایک روایت میں ہے کہ جب میں باآوازبلند قرات کروں توتم لوگ کچھ نہ پڑھو مگرسورۃ فاتحہ اور عطاءرحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ لوگ ( یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین رحمۃ اللہ علیہم ) کہتے تھے کہ نماز سری وجہری دونوں میں مقتدی کوپڑھنا چاہئیے۔ پس امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اورامام محمدرحمۃ اللہ علیہ نے احتیاطاً اپنے پہلے قول سے دوسرے قول کی طرف رجوع کیا۔
    لواب بقول علامہ شعرانی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی امام کے پیچھے الحمد پڑھنا جائز ہوا بلکہ مستحسن ومستحب۔

    اے ناظرین:
    جس حدیث کو علامہ شعرانی نے ذکرکیاہے اورجس کی وجہ سے امام ابوحنیفہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے قول سے رجوع کرنا لکھاہے۔ اسی حدیث اوراس کے مثل اوراحادیث صحیحہ کو دیکھ کرخود مذہب حنفی کے بڑے بڑے فقہاءوعلماءامام ابوحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول قدیم کو چھوڑ کر امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کے قائل وفاعل ہوگئے۔ بعض تونماز سری اور جہری دونوں میں اور بعض فقط نماز سری میں۔
    علامہ عینی شرح بخاری میں لکھتے ہیں: بعض اصحابنا یستحسنون ذلک علی سبیل الاحتیاط فی جمیع الصلوات وبعضہم فی السریۃ فقط وعلیہ فقہاءالحجاز والشام ( کذا فی غیث الغمام، ص: 156 ) یعنی بعض فقہائے حنفیہ ہرنماز میں خواہ سری ہو خواہ جہری امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کواحتیاطاً مستحسن بتاتے ہیں اوربعض فقہاءفقط نماز سری میں اورمکہ اورمدینہ اورملک شام کے فقہاءکا اسی پر عمل ہے۔

    عمدۃ القاری، ص: 173میں مولانا عبدالحئی صاحب لکھتے ہیں:
    وروی عن محمدانہ استحسن قراءۃ الفاتحۃ خلف الامام فی السریۃ و روی مثلہ عن ابی حنیفۃ صریح بہ فی الہدایۃ والمجتبیٰ شرح مختصر القدروی وغیرہما وہذا ہو مختار کثیرمن مشائخنا یعنی امام محمدرحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ انھوں نے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کو نماز سری میں مستحسن بتایاہے اوراسی طرح امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیاگیاہے۔ اوراسی کو ہمارے بہت سے مشائخ نے اختیارکیاہے۔

    ہدایہ میں ہے
    ویستحسن علی سبیل الاحتیاط فی مایروی عن محمد
    یعنی امام محمدرحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ امام کے پیچھے الحمد پڑھنا احتیاطاً مستحسن ہے۔

    مولوی عبدالحی صاحب امام الکلام میں لکھتے ہیں: وہو وان کان ضعیفاً روایۃ لکنہ قوی درایۃ ومن المعلوم المصرح فی غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی وغیرہ انہ لایعدل عن الروایۃ اذا وافقتہا درایۃ یعنی امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول کہ ” امام کے پیچھے الحمد پڑھنا مستحسن ہے “ اگرچہ روایتاً ضعیف ہے لیکن دلیل کے اعتبار سے قوی ہے۔ اور غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ جب روایت دلیل کے موافق ہو تواس سے عدول نہیں کرناچاہئیے اورعلامہ شعرانی کے کلام سے اوپر معلوم ہوچکاہے کہ امام محمدرحمۃ اللہ علیہ نیز امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کابھی اخیرقول ہے۔ اور ان دونوں اماموں نے اپنے پہلے قول سے رجوع کرلیاہے۔

    اورشیخ الاسلام نظام الملۃ والدین مولانا عبدالرحیم جوشیخ التسلیم کے لقب سے مشہور ہیں اوررئیس اہل تحقیق کے نام سے بھی آپ یادکئے گئے ہیں اورباتفاق علماءماوراءالنہر وخراسان مذہب حنفی کے ایک مجتہد ہیں۔ آپ باوجود حنفی المذہب ہونے کے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک قدیم کو چھوڑکر امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کو مستحب کہتے ہیں اورخود بھی پڑھتے اور فرماتے تھے: لوکان فی فمی یوم القیامۃ جمرۃ احب الی من ان یقال لاصلوٰۃ لک یعنی اگرقیامت کے روز میرے منہ میں انگارا ہو تومیرے نزدیک یہ بہتر ہے اس سے کہ کہا جائے کہ تیری تونماز ہی نہیں ہوئی۔ ( امام الکلام، ص: 20 )

    اے ناظرین!
    یہ حدیث کہ جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی نہایت صحیح ہے اوریہ حدیث جو شخص امام کے پیچھے پڑھے اس کے منہ میں قیامت کے روز انگارا ہوگا موضوع اورجھوٹی ہے۔ شیخ التسلیم نے اپنے قول میں پہلی حدیث کے صحیح ہونے اوردوسری حدیث کے موضوع اورجھوٹی ہونے کی طرف اشارہ کیاہے۔
    اورامام ابوحفص کبیر رحمۃ اللہ علیہ جومذہب حنفی کے ایک بہت بڑے مشہور فقیہ ہیں اورامام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ کبار میں سے ہیں۔ آپ نے بھی اسی مسلک کو اختیار کیا ہے۔ یعنی یہ بھی نماز سری میں امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کے قائل تھے اوران کے سوا اور بہت سے فقہاءنے بھی اسی مسلک کو اختیار کیاہے۔ جیسا کہ گزر چکاہے اورمشائخ حنفیہ اورجماعت صوفیہ کے نزدیک بھی یہی مسلک مختار ہے۔
    ملاجیون نے تفسیراحمدی میں لکھاہے:
    فان رایت الطائفۃ الصوفیۃ والمشائخین تراہم یستحسنون قراۃ الفاتحۃ للموتم کما استحسنہ محمد ایضا احتیاطاً فیماروی عنہ انتہیٰ یعنی اگرجماعت صوفیہ اورمشائخین حنفیہ کو دیکھوگے توتمھیں معلوم ہوگا کہ یہ لوگ امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کو مستحسن بتاتے تھے۔ جیساکہ امام محمدرحمۃ اللہ علیہ احتیاطاً استحسان کے قائل تھے۔

    اورمولانا شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ دہلوی نے بھی باوجود حنفی المذہب ہونے کے امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کو اولیٰ الاقوال بتایاہے۔ دیکھو حجۃ اللہ البالغۃ اور جناب شاہ صاحب کے والدماجد مولاناشاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کے قائل تھے۔ چنانچہ شاہ صاحب ” انفاس العارفین “ میں اپنے والد ماجد کے حال میں لکھتے ہیں کہ وہ ( یعنی مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ ) اکثرمسائل فروعیہ میں مذہب حنفی کے موافق تھے۔ لیکن کسی مسئلہ میں حدیث سے یاوجدان سے مذہب حنفی کے سوا کسی اورمذہب کی ترجیح اورقوت ظاہر ہوتی تو اس صورت میں حنفی مذہب کا مسئلہ چھوڑدیتے۔ ازاں جملہ ایک یہ ہے کہ امام کے پیچھے الحمد پڑھتے تھے اورنماز جنازہ میں بھی سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے۔ ( غیث الغمام، ص: 174 )
    اورمولانا شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کی فرضیت کوترجیح دی ہے۔ چنانچہ آپ ایک استفتا کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ مقتدی کو امام کے پیچھے الحمد پڑھنا امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک منع ہے اورامام محمدرحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جس وقت امام آہستہ پڑھے جائز ہے۔ اورامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بغیر پڑھے الحمد کے نماز جائز نہیں۔ اورنزدیک اس فقیر کے بھی قول امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا ترجیح رکھتاہے اور بہترہے کیونکہ اس حدیث کے لحاظ سے نہیں نماز ہوتی مگر سورۃ فاتحہ سے نماز کا بطلان ثابت ہوتا ہے۔ اورقول امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی جابجا وارد ہے کہ جس جگہ حدیث صحیح وارد ہو اورمیرا قول اس کے خلاف پڑے تومیرے قول کو چھوڑدینا چاہئیے اورحدیث پر عمل کرناچاہئیے۔ انتہیٰ مترجماً بقدرالحاجۃ۔

    اورمولوی عبدالحئی صاحب لکھنوی نے اس مسئلہ میں خاص ایک رسالہ تصنیف کیاہے جس کا نام امام الکلام ہے اس رسالہ میں آپ نے باوجود حنفی ہونے کے یہ فیصلہ کیاہے کہ امام کے پیچھے الحمد پڑھنا نماز سری میں مستحسن ومستحب ہے اور نماز جہری میں بھی سکتات امام کے وقت۔ چنانچہ رسالہ مذکورہ ص: 156میں لکھتے ہیں: فاذن ظہرحق الظہور ان اقوی المسالک سلک علیہا اصحابنا ہومسلک استحسان القراۃ فی السریۃ کما ہو روایۃ عن محمد بن الحسن واختارہا جمع من فقہاءالزمن وارجورجاءموثقا ان محمدالما جوز القراۃ فی السریۃ واستحسنہا لابد ان یجوز القراۃ فی الجہریۃ فی السکتات عند وجدانہا لعدم الفرق بینہ و بینہ انتہیٰ مختصرا یعنی اب نہایت اچھی طرح ظاہرہوگیا کہ جن مسلکوں کو ہمارے فقہائے حنفیہ نے اختیارکیاہے، ان سب میں زیادہ قوی یہی مسلک ہے کہ امام کے پیچھے الحمد پڑھنا نماز سری میں مستحسن ہے۔ جیسا کہ روایت ہے امام محمدرحمۃ اللہ علیہ سے اوراسی مسلک کو فقہائے زمانہ کی ایک جماعت نے اختیار کیاہے اورمیں ( یعنی مولوی عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ) امید واثق رکھتاہوں کہ امام محمدرحمۃ اللہ علیہ نے جب نماز سری میں امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کو مستحسن کہا ہے توضرور جہری میں بھی سکتات امام کے وقت مستحسن ہونے کے قائل ہوں گے۔ کیونکہ نماز جہری میں سکتات امام کی حالت میں اورنماز سری میں کچھ فرق نہیں ہے اورمولوی صاحب موصوف نے اپنا یہی فیصلہ سعایہ شرح وقایہ میں بھی لکھاہے۔

    ملاعلی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں یہ لکھاہے کہ
    نماز سری میں امام کے پیچھے الحمد پڑھنا جائز ہے، اورنماز جہری میں منع ہے۔ مولوی عبدالحئی صاحب نے ملاصاحب کے اس قول کورد کردیاہے۔ چنانچہ سعایہ میں لکھتے ہیں کہ ملاعلی قاری کا یہ قول ضعیف ہے، کیاملا علی قاری کو یہ نہیں معلوم ہے کہ عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے نماز جہری میں امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کا جواز صراحتاً ثابت ہے۔
    فتح القدیر وغیرہ کتب فقہ میں لکھاہے کہ
    منع کی دلیلوں کے لینے میں زیادہ احتیاط ہے۔ مولوی عبدالحئی صاحب نے اس کو بھی رد کردیاہے۔ چنانچہ سعایہ، ص: 304 میں لکھتے ہیں: وکذا ضعف ما فی فتح القدیر وغیرہ ان الاخذ بالمنع احوط فانہ لامنع ہہنا عند تدقیق النظر یعنی فتح القدیر وغیرہ میں جو یہ لکھاہے کہ منع کی دلیلوں کے لینے میں زیادہ احتیاط ہے، سویہ ضعیف ہے۔ کیونکہ دقیق نظر سے دیکھا جائے تویہاں منع کی کوئی روایت ہی نہیں ہے اورمولوی صاحب موصوف تعلیق الممجد، ص: 101 میں لکھتے ہیں: لم یرد فی حدیث مرفوع صحیح النہی عن قراۃ الفاتحۃ خلف الامام وکل ماذکروہ مرفوعا فیہ اما لااصل لہ واما لا یصح انتہی۔ یعنی امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کی ممانعت کسی حدیث مرفوع صحیح میں وارد نہیں ہوئی اور ممانعت کے بارے میں علمائے حنفیہ جس قدر مرفوع حدیثیں بیان کرتے ہیں یاتو ان کی کچھ اصل ہی نہیں ہے یاوہ صحیح نہیں ہیں۔

    اے ناظرین!
    دیکھو اورتو اورخودمذہب حنفی کے بڑے فقہاءوعلماءنے قرات فاتحہ خلف الامام کی حدیثوں کو دیکھ کر امام ابوحنیفہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک مشہور کو چھوڑ کر امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کو مستحسن ومستحب بتایاہے اورخود بھی پڑھاہے۔ بعض فقہاءنے ہرنماز میں سری ہو یا جہری اور بعض نے فقط سری میں۔ اوربقول علامہ شعرانی خودامام ابوحنیفہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اورامام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان ہی حدیثوں کی وجہ سے اپنے پہلے قول سے رجوع کرکے نماز سری میں امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کو مستحب ومستحسن بتایاہے اور مولوی عبدالحئی صاحب لکھنوی حنفی نے اس مسئلہ میں جو کچھ فیصلہ کیااور لکھاہے۔ آپ لوگوں نے اس کو بھی سن لیا۔

    مگربااین ہمہ ابھی تک بعض حنفیہ کا یہی خیال ہے کہ امام کے پیچھے الحمد پڑھنا ہرنماز میں سری ہو خواہ جہری ناجائز وحرام ہے۔ اور امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے اسی مسلک مشہور کو ( جس کی کیفیت مذکورہوچکی ہے ) شاہ راہ سمجھ کر اسی پر چلے جاتے ہیں۔ خیراگر اسی مسلک کو شاہ راہ سمجھتے تھے اور اسی پر چپ چاپ چلے جاتے۔ لیکن حیرت تویہ ہے کہ ساتھ اس کے قرات فاتحہ خلف الامام کی ان حدیثوں کا بھی صاف انکار کیاجاتاہے ۔ جن کی وجہ سے اورتو اورخودمذہب حنفی کے ائمہ وفقہاءوعلماءنے امام کے پیچھے الحمد پڑھنے کو اختیار کرلیا۔ یااگر انکارنہیں کیاجاتاہے توان کی مہمل اورناجائز تاویلیں کی جاتی ہیں۔ اورزیادہ حیرت تو ان علمائے حنفیہ سے ہے جوروایات موضوعہ وکاذبہ اورآثار مختلفہ وباطلہ کو اپنی تصنیفات میں درج کرکے اوربیان کرکے اپنے عوام اورجاہل لوگوں کو فتنے میں ڈالتے ہیں اوران کی زبان سے اورتواور خود اپنے ائمہ وفقہاءکی شان میں کلمات ناشائستہ اورالفاظ ناگفتہ بہ نکلواتے ہیں۔ کوئی جاہل بکتاہے کہ امام کے پیچھے جوالحمد پڑھے گا وہ گنہگار ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم ( الکہف: 5 ) ۔

    اگرچہ غور سے دیکھاجائے تو ان جاہلوں کا یہ قصورنمبردوم میں ہے اور نمبراول کا قصور انھیں علماءحنفیہ کا ہے، جو روایات کاذبہ و موضوعہ کو ذکرکرکے ان جاہلوں کو فتنے میں ڈالتے اوران کی زبان سے اپنے بزرگان دین کے منہ میں آگ وپتھر بھرواتے ہیں اورجو چاہتے ہیں ان سے کہلواتے ہیں۔ اگریہ روایات کاذبہ وموضوعہ کو بیان نہ کرتے یابیان کرتے مگران کا کذب وموضوع ہونا بھی صاف صاف ظاہر کرتے اورساتھ اس کے اس ضمن کو بھی واضح طور پر بیان کرتے جو اوپر ہم نے بیان کیا ہے توان جاہلوں کی زبان سے ایسے ناگفتہ بہ کلمات نہ نکلتے۔

    آنچہ مے پرسی کہ خسرو را کہ کشت
    غمزئہ تو چشم تو ابروئے تو



    ( تحقیق الکلام، حصہ اول، ص: 7 )


    ہمارے محترم علمائے احناف کے پاس بھی کچھ دلائل ہیں جن کی تفصیلی حقیقت معلوم کرنے کے لیے محدث کبیر حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب مبارک پوری کی مشہور کتاب تحقیق الکلام کا مطالعہ کیا جاسکتاہے۔ یہاں ہم اجمالی طور پر ان دلائل کی حقیقت حضرت مولاناعبدالحئی حنفی لکھنوی مرحوم کے لفظوں میں پیش کردینا چاہتے ہیں۔ موصوف علمائے احناف کے چوٹی کے عالم ہیں۔ مگراللہ پاک نے آپ کوجو بصیرت عطا فرمائی وہ قابل صدتعریف ہے۔ چنانچہ آپ نے مندرجہ ذیل بیان میں اس بحث کا بالکل خاتمہ کردیاہے۔ آپ فرماتے ہیں : لم یرد فی حدیث مرفوع صحیح النہی عن قراۃ الفاتحۃ خلف الامام وکل ماذکروہ فیہ امالااصل لہ واما لایصح۔ ( تعلیق الممجد علی موطا امام مالک، ص: 101، طبع یوسفی ) یعنی کسی مرفوع حدیث میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کی نہی ( منع ) وارد نہیں ہوئی اور اس کے بارے میں علمائے حنیفہ جس قدردلائل ذکر کرتے ہیں یاتو وہ بالکل بے اصل اورمن گھڑت ہیں، یا وہ صحیح نہیں۔

    فظہر انہ لایوجد معارض لاحادیث تجویزالقراۃ خلف الامام مرفوعا۔ ( تعلیق الممجد، ص: 101 طبع یوسفی ) یعنی امام کے پیچھے ( سورہ فاتحہ ) پڑھنے کی احادیث کے معارض ومخالف کوئی مرفوع حدیث نہیں پائی جاتی۔

    حنفیہ کے دلائل کے جواب ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وبالجملۃ لایظہر لاحادیث تجویزالقراۃ خلف الامام معارض یساویہا فی الدرجۃ ویدل علی المنع۔ ( تعلیق الممجد، ص: 101 ) یعنی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ امام کے پیچھے ( سورۃ فاتحہ ) پڑھنے کی احادیث کے درجہ کی کوئی معارض ومخالف حدیث نہیں ہے اورنہ ہی ( امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کے ) منع پر کوئی حدیث دلالت کرتی ہے۔

    امید ہے کہ ناظرین کرام کے اطمینان خاطرکے لیے اسی قدرکافی ہوگا۔ اپنا مقصد صرف یہی ہے کہ سورۃ فاتحہ خلف الامام پڑھنے والوں سے حسد بغض رکھنا، ان کو غیرمقلد، لامذہب کہنا یہ کسی طرح بھی زیبانہیں ہے۔ ضروری ہے کہ ایسے فروعی مباحث میں وسعت قلبی سے کام لے کر باہمی اتفاق کے لیے کوشش کی جائے جس کی آج اشد ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق۔
    نوٹ: کچھ لوگ آیت شریفہ واذاقری القرآن سے سورۃ فاتحہ نہ پڑھنے کی دلیل پکڑتے ہیں حالانکہ یہ آیت مکہ شریف میں نازل ہوئی جب کہ نماز باجماعت کا سلسلہ بھی نہ تھا، لہٰذا استدلال باطل ہے۔ تفصیل مزید کے لیے ثنائی ترجمہ والے قرآن مجید کے آخر میں مقالہ ثنائی کا مطالعہ کیاجائے۔ ( راز )

    حدیث نمبر : 757
    حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد، فدخل رجل فصلى فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فرد وقال ‏"‏ ارجع فصل، فإنك لم تصل‏"‏‏. ‏ فرجع يصلي كما صلى ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ ارجع فصل فإنك لم تصل ‏"‏ ثلاثا‏.‏ فقال والذي بعثك بالحق ما أحسن غيره فعلمني‏.‏ فقال ‏"‏ إذا قمت إلى الصلاة فكبر، ثم اقرأ ما تيسر معك من القرآن، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى تعتدل قائما، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تطمئن جالسا، وافعل ذلك في صلاتك كلها‏"‏‏. ‏
    ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے باپ ابوسعید مقبری سے بیان کیا، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اس کے بعد ایک اور شخص آیا۔ اس نے نماز پڑھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جاؤ اور پھر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی اور پھر آ کر سلام کیا۔ لیکن آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے اس طرح تین مرتبہ کیا۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں اس کے علاوہ اور کوئی اچھا طریقہ نہیں جانتا، اس لیے آپ مجھے نماز سکھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو پہلے تکبیر تحریمہ کہہ۔ پھر آسانی کے ساتھ جتنا قرآن تجھ کو یاد ہو اس کی تلاوت کر۔ اس کے بعد رکوع کر، اچھی طرح سے رکوع ہو لے تو پھر سر اٹھا کر پوری طرح کھڑا ہو جا۔ اس کے بعد سجدہ کر پورے اطمینان کے ساتھ۔ پھر سر اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا۔ اسی طرح اپنی تمام نماز پوری کر۔

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر باریہ امیدرہی کہ وہ خود درست کرلے گا۔ مگرتین باردیکھ کر آپ نے اسے تعلیم فرمائی۔ ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ تکبیر کہہ پھر سورۃ فاتحہ پڑھ۔ امام احمد وابن حبان کی روایات میں یوں ہے کہ جو توچاہے وہ پڑھ۔ یعنی قرآن میں سے کوئی سورۃ۔ یہیں سے ترجمہ با ب نکلا کہ آپ نے اس کو قرات کا حکم فرمایا۔ قرآن مجید میں سب سے زیادہ آسانی کے ساتھ یاد ہونے والی سورۃ فاتحہ ہے۔ اسی کے پڑھنے کا آپ نے حکم فرمایا اورآیت قرآن فاقروا ماتیسر منہ ( المزمل: 20 ) میں بھی سورۃ فاتحہ ہی کا پڑھنا مراد ہے۔
     
  6. ‏جولائی 19، 2012 #496
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)
    باب : نماز ظہر میں قرات کا بیان

    حدیث نمبر : 758
    حدثنا أبو النعمان، حدثنا أبو عوانة، عن عبد الملك بن عمير، عن جابر بن سمرة، قال قال سعد كنت أصلي بهم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاتى العشي لا أخرم عنها، أركد في الأوليين وأحذف في الأخريين‏.‏ فقال عمر ـ رضى الله عنه ـ ذلك الظن بك‏.‏
    ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے عبدالملک بن عمیر سے بیان کیا، انھوں نے جابر بن سمرہ سے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا میں ان ( کوفہ والوں ) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاتا تھا۔ ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں، کسی قسم کا نقص ان میں نہیں چھوڑتا تھا۔ پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی۔

    حدیث نمبر : 759
    حدثنا أبو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في الركعتين الأوليين من صلاة الظهر بفاتحة الكتاب وسورتين، يطول في الأولى، ويقصر في الثانية، ويسمع الآية أحيانا، وكان يقرأ في العصر بفاتحة الكتاب وسورتين، وكان يطول في الأولى، وكان يطول في الركعة الأولى من صلاة الصبح، ويقصر في الثانية‏.‏
    ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انھوں نے اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور ہر رکعت میں ایک ایک سورت پڑھتے تھے، ان میں بھی قرآت کرتے تھے لیکن آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتے تھے کبھی کبھی ہم کو بھی کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے۔ عصر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ فاتحہ اور سورتیں پڑھتے تھے، اس کی بھی پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتے۔ اسی طرح صبح کی نماز کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری ہلکی۔

    حدیث نمبر : 760
    حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا أبي قال، حدثنا الأعمش، حدثني عمارة، عن أبي معمر، قال سألنا خبابا أكان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في الظهر والعصر قال نعم‏.‏ قلنا بأى شىء كنتم تعرفون قال باضطراب لحيته‏.‏
    ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد نے، انھوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن مہران اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ بن عمیر نے بیان کیا ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کیا کرتے تھے؟ تو انھوں نے بتلایا کہ ہاں، ہم نے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس طرح معلوم ہوتا تھا؟ فرمایا کہ آپ کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔
     
  7. ‏جولائی 19، 2012 #497
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)
    باب : نماز مغرب میں قرات کا بیان

    حدیث نمبر : 763
    حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ أنه قال إن أم الفضل سمعته وهو يقرأ ‏{‏والمرسلات عرفا‏}‏ فقالت يا بنى والله لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة، إنها لآخر ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ بها في المغرب‏.‏
    ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے بیان کیا، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ام فضل رضی اللہ عنہما ( ان کی ماں ) نے انھیں والمرسلات عرفا پڑھتے ہوئے سنا۔ پھر کہا کہ اے بیٹے! تم نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلایا۔ میں آخر عمر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں یہی سورت پڑھتے ہوئے سنتی تھی۔

    حدیث نمبر : 764
    حدثنا أبو عاصم، عن ابن جريج، عن ابن أبي مليكة، عن عروة بن الزبير، عن مروان بن الحكم، قال قال لي زيد بن ثابت ما لك تقرأ في المغرب بقصار، وقد سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ بطول الطوليين
    ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انھوں نے عبدالملک ابن جریج سے، انھوں نے ابن ابی ملیکہ ( زہیر بن عبداللہ ) سے، انھوں نے عروہ بن زبیر سے، انھوں نے مروان بن حکم سے، اس نے کہا زید بن ثابت نے مجھے ٹوکا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو لمبی سورتوں میں سے ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا۔
     
  8. ‏جولائی 19، 2012 #498
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : نماز مغرب میں بلند آواز سے قرآن پڑھنا ( چاہیے )

    حدیث نمبر : 765
    حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن أبيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قرأ في المغرب بالطور‏.‏
    ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، انھوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، انھوں نے اپنے باپ سے، انھوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورہ طور پڑھتے ہوئے سنا تھا۔

    تشریح : مغرب کی نماز کا وقت تھوڑا ہوتاہے، اس لیے اس میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھی جاتی ہیں۔ لیکن اگر کبھی کوئی بڑی سورت بھی پڑھ دی جائے تویہ بھی مسنون طریقہ ہے۔ خاص طور پر سورۃ طور پڑھنا کبھی سورۃ مرسلات۔
     
  9. ‏جولائی 19، 2012 #499
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : نماز عشاء میں بلند آواز سے قرآن پڑھنا

    حدیث نمبر : 766
    حدثنا أبو النعمان، قال حدثنا معتمر، عن أبيه، عن بكر، عن أبي رافع، قال صليت مع أبي هريرة العتمة فقرأ ‏{‏إذا السماء انشقت‏}‏ فسجد فقلت له قال سجدت خلف أبي القاسم صلى الله عليه وسلم فلا أزال أسجد بها حتى ألقاه‏.‏
    ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا اپنے باپ سے، انھوں نے بکر بن عبداللہ سے، انھوں نے ابورافع سے، انھوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ اس میں آپ نے اذا السماء انشقت پڑھی اور سجدہ ( تلاوت ) کیا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق معلوم کیا تو بتلایا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی ( اس آیت میں تلاوت کا ) سجدہ کیا ہے اور زندگی بھر میں اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ میں آپ سے مل جاؤں۔

    حدیث نمبر : 767
    حدثنا أبو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن عدي، قال سمعت البراء، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان في سفر فقرأ في العشاء في إحدى الركعتين بالتين والزيتون‏.‏
    ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا عدی بن ثابت سے، انھوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب سے سنا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ سفر میں تھے کہ عشاء کی دو پہلی رکعات میں سے کسی ایک رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے والتین والزیتون پڑھی۔
     
  10. ‏جولائی 19، 2012 #500
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : نماز عشاء میں سجدہ کی سورۃ پڑھنا

    حدیث نمبر : 767
    حدثنا مسدد، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثني التيمي، عن بكر، عن أبي رافع، قال صليت مع أبي هريرة العتمة فقرأ ‏{‏إذا السماء انشقت‏}‏ فسجد فقلت ما هذه قال سجدت بها خلف أبي القاسم صلى الله عليه وسلم فلا أزال أسجد بها حتى ألقاه‏.‏
    ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے تیمی نے ابوبکر سے، انھوں نے ابورافع سے، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے اذا السماء انشقت پڑھی اور سجدہ کیا۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ سجدہ کیسا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس سورت میں میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا تھا۔ اس لیے میں بھی ہمیشہ اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں