1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ١ - (حدیث نمبر ١ تا ٨١٣)

'کتب احادیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جون 26، 2012۔

  1. ‏جولائی 19، 2012 #531
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : سات ہڈیوں پر سجدے کرنا

    حدیث نمبر : 809
    حدثنا قبيصة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يسجد على سبعة أعضاء، ولا يكف شعرا ولا ثوبا الجبهة واليدين والركبتين والرجلين‏.‏
    ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کا حکم دیا گیا۔ اس طرح کہ نہ بالوں کو اپنے سمیٹتے نہ کپڑے کو ( وہ سات اعضاء یہ ہیں ) پیشانی ( مع ناک ) دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔

    حدیث نمبر : 810
    حدثنا مسلم بن إبراهيم، قال حدثنا شعبة، عن عمرو، عن طاوس، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أمرنا أن نسجد على سبعة أعظم ولا نكف ثوبا ولا شعرا‏"‏‏.
    ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے عمرو سے، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا کہ ہمیں سات اعضاء پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ ہم نہ بال سمیٹیں نہ کپڑے۔

    حدیث نمبر : 811
    حدثنا آدم، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن يزيد الخطمي، حدثنا البراء بن عازب ـ وهو غير كذوب ـ قال كنا نصلي خلف النبي صلى الله عليه وسلم فإذا قال سمع الله لمن حمده‏.‏ لم يحن أحد منا ظهره حتى يضع النبي صلى الله عليه وسلم جبهته على الأرض‏.‏
    ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے کہا کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ( یعنی رکوع سے سر اٹھاتے ) تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک آپ اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔

    تشریح : اصل میں پیشانی ہی زمین پر رکھنا سجدہ کرنا ہے اور ناک بھی پیشانی ہی میں داخل ہے۔ اس لیے ناک اور پیشانی ہر دو کا زمین سے لگانا واجب ہے۔ پھر دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں کا زمین پر ٹیکنا اور دونوں پیروں کی انگلیوں کو قبلہ رخ موڑ کر رکھنا یہ کل سات اعضاءہوئے جن میں سجدہ ہوتا ہے۔
     
  2. ‏جولائی 19، 2012 #532
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    [​IMG]صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)
    باب : سجدہ میں ناک بھی زمین سے لگانا

    حدیث نمبر : 812
    حدثنا معلى بن أسد، قال حدثنا وهيب، عن عبد الله بن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أمرت أن أسجد على سبعة أعظم على الجبهة ـ وأشار بيده على أنفه ـ واليدين، والركبتين وأطراف القدمين، ولا نكفت الثياب والشعر‏"‏‏. ‏
    ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن طاؤس سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طر ف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
     
  3. ‏جولائی 19، 2012 #533
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)
    باب : سجدہ کرتے ہوئے کیچڑ میں بھی ناک زمین پر لگانا

    حدیث نمبر : 813
    حدثنا موسى، قال حدثنا همام، عن يحيى، عن أبي سلمة، قال انطلقت إلى أبي سعيد الخدري فقلت ألا تخرج بنا إلى النخل نتحدث فخرج‏.‏ فقال قلت حدثني ما، سمعت من النبي، صلى الله عليه وسلم في ليلة القدر‏.‏ قال اعتكف رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر الأول من رمضان، واعتكفنا معه، فأتاه جبريل فقال إن الذي تطلب أمامك‏.‏ فاعتكف العشر الأوسط، فاعتكفنا معه، فأتاه جبريل فقال إن الذي تطلب أمامك‏.‏ فقام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا صبيحة عشرين من رمضان فقال ‏"‏ من كان اعتكف مع النبي صلى الله عليه وسلم فليرجع، فإني أريت ليلة القدر، وإني نسيتها، وإنها في العشر الأواخر في وتر، وإني رأيت كأني أسجد في طين وماء‏"‏‏. ‏ وكان سقف المسجد جريد النخل وما نرى في السماء شيئا، فجاءت قزعة فأمطرنا، فصلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم حتى رأيت أثر الطين والماء على جبهة رسول الله صلى الله عليه وسلم وأرنبته تصديق رؤياه‏.‏
    ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی کہ فلاں نخلستان میں کیوں نہ چلیں سیر بھی کریں گے اور کچھ باتیں بھی کریں گے۔ چنانچہ آپ تشریف لے چلے۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے راہ میں کہا کہ شب قدر سے متعلق آپ نے اگر کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا اور ہم بھی آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھ گئے، لیکن جبریل علیہ السلام نے آکر بتایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں ( شب قدر ) وہ آگے ہے۔ چنانچہ آپ نے دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف کیا اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی۔ جبریل علیہ السلام دوبارہ آئے اور فرمایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں وہ ( رات ) آگے ہے۔ پھر آپ نے بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ دوبارہ کرے۔ کیوں کہ شب قدر مجھے معلوم ہوگئی لیکن میں بھول گیا اور وہ آخری عشر ہ کی طاق راتوں میں ہے اور میں نے خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا۔ مسجد کی چھت کھجور کی ڈالیوں کی تھی۔ مطلع بالکل صاف تھا کہ اتنے میں ایک پتلا سا بادل کا ٹکڑا آیا اور برسنے لگا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا اثر دیکھا۔ آپ کا خواب سچا ہوگیا۔

    کہ میں اس شب پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ ترجمہ باب یہیں سے نکلتا ہے کہ آپ نے پیشانی اور ناک پر سجدہ کیا۔ حمیدی نے اس حدیث سے دلیل لی کہ پیشانی اور ناک میں اگر مٹی لگ جائے تو نماز میں نہ پونچھے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد باب یہ ہے کہ سجدے میں ناک کو زمین پر رکھنا ضروری ہے کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین تر ہونے کے باوجود ناک زمین پر لگائی اور کیچڑ کی کچھ پرواہ نہ کی۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم
     
  4. ‏جولائی 19، 2012 #534
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    ----------------------------------------------------------------------------------------
    ----------------------------------------------------------------------------------------
    الحمدللہ پہلی جلد پر کام پورا ہوا.
    ----------------------------------------------------------------------------------------
    ----------------------------------------------------------------------------------------


    اگلی جلدیں دیکھئے :

    مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ٢ - حدیث نمبر٨١٤ تا ١٦٥٤
    مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ٣ - حدیث نمبر١٦٥٥ تا ٢٤٩٠
    مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد٤- حدیث نمبر٢٤٩١ تا ٣٤٦٤
    مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد٥- حدیث نمبر٣٤٦٥ تا ٤٣٩٤
    مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ٦- حدیث نمبر٤٣٩٥ تا ٥٢٤٤
    مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد٧ - حدیث نمبر٥٢٤٥ تا ٦٥١٦

    مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد٨ - حدیث نمبر٦٥١٧ تا ٧٥٨٣
     
  5. ‏جولائی 19، 2012 #535
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ خیراً فی الدارین۔۔۔
    اللہ تعالیٰ آپ کی محنت کو قبول فرمائیں۔ آمین۔ یقیناً یہ بہت طویل اور صبر آزما کام تھا، جس کو آپ نے بہت کم وقت میں تکمیل تک پہنچا دیا۔
     
  6. ‏جولائی 19، 2012 #536
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    آمین یا رب العالمین
    آپ نے بالکل صحیح کہا شاکر بھائی جان، یہ کام سر دکھانے والا ہے لیکن ان شاء الله آخرت میں اسکا بدلہ الله مجھے جنت الفردوس سے نواز دے.

    یا الله میری اس کوشش کو قبول فرما اور اسکے بدلے ہمارے گھر والوں کو اور اس فورم پر موجود تمام موحد مسلمانوں کو بخش دے اور ہم سب کے درجات بلند فرما. آمین یا رب العالمین
     
  7. ‏جولائی 19، 2012 #537
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    جزاکم اللہ احسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ
     
  8. ‏جولائی 21، 2012 #538
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    عامر بھائی! آپ بہت عظیم کام سر انجام دے رہے ہیں۔
    اس کی جزا آپ کو اللہ ہی دے سکتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ آپ کے اور ہمارے لئے دنیا وآخرت کی ہر مشکل آسان فرمائے۔
    اور ہمیں اور آپ کو جنت الفردوس میں اپنا دیدار اور نبی کریمﷺ کی رفاقت نصیب فرمائے۔
     
  9. ‏جولائی 21، 2012 #539
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین
     
  10. ‏جولائی 23، 2012 #540
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں