• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ٢ - حدیث نمبر٨١٤ تا ١٦٥٤

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : اس کے بارے میں کہ جس نے اپنے خدمت گار کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود اپنے ہاتھ سے نہیں دیا

وقال أبو موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هو أحد المتصدقين‏"‏‏. ‏
اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بیان کیا کہ خادم بھی صدقہ دینے والوں میں سمجھا جائے گا۔

حدیث نمبر : 1425
حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن شقيق، عن مسروق، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إذا أنفقت المرأة من طعام بيتها غير مفسدة كان لها أجرها بما أنفقت ولزوجها أجره بما كسب، وللخازن مثل ذلك، لا ينقص بعضهم أجر بعض شيئا‏"‏‏. ‏
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا‘ ان سے منصور نے۔ ان سے شقیق نے‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر عورت اپنے شوہر کے مال سے کچھ خرچ کرے اور اس کی نیت شوہر کی پونجی برباد کرنے کی نہ ہوتو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور شوہر کو بھی اس کا ثواب ملے گا اس نے کمایا ہے اور خزانچی کا بھی یہی حکم ہے۔ ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرتا۔

تشریح : مطلب ظاہر ہے کہ مالک کے مال کی حفاظت کرنے والے اور اس کے حکم کے مطابق اسی میں سے صدقہ خیرات نکالنے والے ملازم خادم خزانچی سب ہی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ثواب کے مستحق ہوں گے۔ حتیٰ کہ بیوی بھی جو شوہر کی اجازت سے اس کے مال سے صدقہ خیرات کرے وہ بھی ثواب کی مستحق ہوگی۔ اس میں ایک طرح سے خرچ کرنے کی ترغیب ہے اور دیانت وامانت کی تعلیم وتلقین ہے۔ آیت شریفہ لَن تَنَالُوا البِرَّ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : صدقہ وہی بہتر ہے جس کے بعد بھی آدمی مالدار ہی رہ جائے ( بالکل خالی ہاتھ نہ ہو بیٹھے )

ومن تصدق وهو محتاج، أو أهله محتاج، أو عليه دين، فالدين أحق أن يقضى من الصدقة والعتق والهبة، وهو رد عليه، ليس له أن يتلف أموال الناس‏.‏ قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ من أخذ أموال الناس يريد إتلافها أتلفه الله‏"‏‏. ‏ إلا أن يكون معروفا بالصبر فيؤثر على نفسه ولو كان به خصاصة كفعل أبي بكر ـ رضى الله عنه ـ حين تصدق بماله، وكذلك آثر الأنصار المهاجرين، ونهى النبي صلى الله عليه وسلم عن إضاعة المال، فليس له أن يضيع أموال الناس بعلة الصدقة‏.‏ وقال كعب ـ رضى الله عنه ـ قلت يا رسول الله إن من توبتي أن أنخلع من مالي صدقة إلى الله وإلى رسوله صلى الله عليه وسلم‏.‏ قال ‏"‏ أمسك عليك بعض مالك، فهو خير لك‏"‏‏. ‏ قلت فإني أمسك سهمي الذي بخيبر‏.‏
اور جو شخص خیرات کرے کہ خود محتاج ہوجائے یا اس کے بال بچے محتاج ہوں ( تو ایسی خیرات درست نہیں ) اسی طرح اگر قرضدار ہوتو صدقہ اور آزادی اور ہبہ پر قرض ادا کرنا مقدم ہوگا اور اس کا صدقہ اس پر پھیر دیا جائے گا اور اس کو یہ درست نہیں کہ ( قرض نہ ادا کرے اور خیرات دے کر ) لوگوں ( قرض خواہوں ) کی رقم تباہ کردے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کا مال ( بطور قرض ) تلف کرنے ( یعنی نہ دینے ) کی نیت سے لے تو اللہ اس کو برباد کردے گا۔ البتہ اگر صبر اور تکلیف اٹھانے میں مشہور ہوتو اپنی خاص حاجت پر ( فقیر کی حاجت کو ) مقدم کرسکتا ہے۔ جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال خیرات میں دے دیا اور اسی طرح انصار نے اپنی ضرورت پر مہاجرین کی ضروریات کو مقدم کیا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو تباہ کرنے سے منع فرمایا ہے تو جب اپنا مال تباہ کرنامنع ہوا تو پرائے لوگوں کا مال تباہ کرنا کسی طرح سے جائز نہ ہوگا۔ اور کعب بن مالک نے ( جو جنگ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ) عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں اپنی توبہ کو اس طرح پورا کرتا ہوں کہ اپنا سارا مال اللہ اور رسول پر تصدق کردوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں کچھ تھوڑا مال رہنے بھی دے وہ تیرے حق میں بہتر ہے۔ کعب نے کہا بہت خوب میں اپنا خیبر کا حصہ رہنے دیتا ہوں۔

حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس باب میں احادیث نبوی اور آثار صحابہ کی روشنی میں بہت سے اہم امور متعلق صدقہ خیرات پر روشنی ڈالی ہے۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کے لیے صدقہ خیرات کرنا اسی وقت بہتر ہے جب کہ وہ شرعی حدود کو مد نظر رکھے۔ اگر ایک شخص کے اہل وعیال خود ہی محتاج ہیں یا وہ خود دوسروں کا مقروض ہے پھر ان حالات میں بھی وہ صدقہ کرے اور نہ یہ اہل وعیال کا خیال رکھے نہ دوسروں کا قرض ادا کرے تو وہ خیرات اس کے لیے باعث اجر نہ ہوگی بلکہ وہ ایک طرح سے دوسروں کی حق تلفی کرنا اور جن کو دینا ضروری تھا ان کی رقم کو تلف کرنا ہوگا۔ ارشاد نبوی من اخذاموال الناس یریدا تلافہا کا یہی منشا ہے۔ ہاں صبر اور ایثار الگ چیز ہے۔ اگر کوئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا صابر وشاکر مسلمان ہو اور انصار جیسا ایثار پیشہ ہو تو اس کے لیے زیادہ سے زیادہ ایثار پیش کرنا جائز ہوگا۔ مگر آج کل ایسی مثالیں تلاش کرنا بے کار ہے۔ جب کہ آج کل ایسے اشخاص ناپید ہوچکے ہیں۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ وہ بزرگ ترین جلیل القدر صحابی ہیں جو جنگ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے بعد میں ان کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنی توبہ کی قبولیت کے لیے اپنا سارا مال فی سبیل اللہ دے دینے کا خیال ظاہر کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے مال کو فی سبیل اللہ دینے سے منع فرمایا تو انہوں نے اپنی جائداد خیبر کو بچالیا‘ باقی کو خیرات کردیا۔ اس سے بھی اندازہ لگانا چاہیے کہ قرآن وحدیث کی یہ غرض ہرگز نہیں کہ کوئی بھی مسلمان اپنے اہل وعیال سے بے نیاز ہوکر اپنی جائداد فی سبیل اللہ بخش دے اور وارثین کو محتاج مفلس کرکے دنیا سے جائے۔ ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ یہ وارثین کی حق تلفی ہوگی۔ امیر المؤمنین فی الحدیث سیدنا حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا یہی منشائے باب ہے۔

حدیث نمبر : 1426
حدثنا عبدان، أخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال أخبرني سعيد بن المسيب، أنه سمع أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى، وابدأ بمن تعول‏"‏‏. ‏

ہم سے عبدان نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں یونس نے، انھیں زہری نے، انہوں نے کہا مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین خیرات وہ ہے جس کے دینے کے بعد آدمی مالدار رہے۔ پھر صدقہ پہلے انہیں دو جو تمہاری زیر پرورش ہیں۔

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ اپنے عزیزو اقرباءجملہ متعلقین اگر وہ مستحق ہیں تو صدقہ خیرات زکوٰۃ میں سب سے پہلے ان ہی کا حق ہے۔ اس لیے ایسے صدقہ کرنے والوں کو دوگنے ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔

حدیث نمبر : 1427
حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا هشام، عن أبيه، عن حكيم بن حزام ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ اليد العليا خير من اليد السفلى، وابدأ بمن تعول، وخير الصدقة عن ظهر غنى، ومن يستعفف يعفه الله، ومن يستغن يغنه الله‏"‏‏. ‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے بیان کیا‘ ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور پہلے انہیں دو جو تمہارے بال بچے اور عزیز ہیں اور بہترین صدقہ وہ ہے جسے دے کر آدمی مالدار رہے اور جو کوئی سوال سے بچنا چاہے گا اسے اللہ تعالیٰ بھی محفوظ رکھتا ہے اور جو دوسروں ( کے مال ) سے بے نیاز رہتا ہے‘ اسے اللہ تعالیٰ بے نیاز ہی بنا دیتا ہے۔

حدیث نمبر : 1428

وعن وهيب، قال أخبرنا هشام، عن أبيه، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ بهذا‏.‏
اور وہیب نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی بیان فرمایا۔

حدیث نمبر : 1429
حدثنا أبو النعمان، قال حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ح‏.‏ وحدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو على المنبر، وذكر الصدقة والتعفف والمسألة ‏"‏ اليد العليا خير من اليد السفلى، فاليد العليا هي المنفقة، والسفلى هي السائلة‏"‏‏. ‏
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا‘ ان سے ایوب نے‘ ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ ( دوسری سند ) اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا‘ ان سے مالک نے‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔

تشریح : حضرت امام بخاری نے باب منعقدہ کے تحت ان احادیث کو لاکر یہ ثابت فرمایا کہ ہر مرد مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صاحب دولت بن کر اور دولت میں سے اللہ کا حق زکوٰۃ ادا کرکے ایسا رہنے کی کوشش کرے کہ اس کا ہاتھ ہمیشہ اوپر کا ہاتھ رہے اور تازیست نیچے والا نہ بنے یعنی دینے والا بن کر رہے نہ کہ لینے والا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا۔ حدیث میں اس کی بھی ترغیب ہے کہ احتیاج کے باوجود بھی لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا چاہیے بلکہ صبرو استقلال سے کام لے کر اپنے توکل علی اللہ اور خود داری کو قائم رکھتے ہوئے اپنی قوت بازو کی محنت پر گزارہ کرناچاہیے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : جودے کر احسان جتائے اس کی مذمت کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

لقوله ‏{‏الذين ينفقون أموالهم في سبيل الله ثم لا يتبعون ما أنفقوا‏}‏ الآية‏.
جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے اس کی وجہ سے نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں باب خیرات کرنے میں جلدی کرنا چاہیے
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا

حدیث نمبر : 1431
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، حدثنا عدي، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم يوم عيد فصلى ركعتين لم يصل قبل ولا بعد، ثم مال على النساء ومعه بلال، فوعظهن وأمرهن أن يتصدقن، فجعلت المرأة تلقي القلب والخرص‏.‏
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے عدی بن ثابت نے بیان کیا‘ ان سے سعید بن جبیر نے‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے۔ پس آپ نے ( عیدگاہ میں ) دو رکعت نماز پڑھائی۔ نہ آپ نے اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ پھر آپ عورتوں کی طرف آئے۔ بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ انہیںآپ نے وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کے لیے حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں کنگن اور بالیاں ( بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ) ڈالنے لگیں۔

باب کی مطابقت ظاہر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو خیرات کرنے کے لیے رغبت دلائی۔ اس سے صدقہ اور خیرات کی اہمیت پر بھی اشارہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ صدقہ اللہ پاک کے غضب اور غصہ کو بجھا دیتا ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ انفاق فی سبیل اللہ کے لیے ترغیبات موجود ہیں۔ فی سبیل اللہ کا مفہوم بہت عام ہے۔

حدیث نمبر : 1432
حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا أبو بردة بن عبد الله بن أبي بردة، حدثنا أبو بردة بن أبي موسى، عن أبيه ـ رضى الله عنه ـ قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جاءه السائل، أو طلبت إليه حاجة قال ‏"‏ اشفعوا تؤجروا، ويقضي الله على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم ما شاء‏"‏‏. ‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے بیان کیا‘ اور ان سے ان کے باپ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مانگنے والا آتا یا آپ کے سامنے کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صحابہ کرام سے فرماتے کہ تم سفارش کرو کہ اس کا ثواب پاؤ گے اور اللہ پاک اپنے نبی کی زبان سے جو فیصلہ چاہے گا وہ دے گا۔

معلوم ہوا کہ حاجت مندوں کی حاجت اور غرض پوری کردینا یا ان کے لیے سعی اور سفارش کردینا بڑا ثواب ہے۔ اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سفارش کرنے کی رغبت دلاتے اور فرماتے کہ اگرچہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تمہاری سفارش ضرور قبول ہوجائے۔ ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے۔ مگر تم کو سفارش کا ثواب ضرور مل جائے گا۔

حدیث نمبر : 1433
حدثنا صدقة بن الفضل، أخبرنا عبدة، عن هشام، عن فاطمة، عن أسماء ـ رضى الله عنها ـ قالت قال لي النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا توكي فيوكى عليك‏"‏‏. حدثنا عثمان بن أبي شيبة، عن عبدة، وقال، ‏"‏ لا تحصي فيحصي الله عليك ‏"‏
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں عبدہ نے ہشام سے خبر دی ’ انہیں ان کی بیوی فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماءرضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیرات کو مت روک ورنہ تیرا رزق بھی روک دیا جائے گا۔ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا‘ اور ان سے عبدہ نے یہی حدیث روایت کی کہ گننے نہ لگ جانا ورنہ پھر اللہ بھی تجھے گن گن کر ہی دے گا۔

مقصد صدقہ کے لیے رغبت دلانا اور بخل سے نفرت دلانا ہے۔ یہ مقصد بھی نہیں ہے کہ سارا گھر لٹاکے کنگال بن جاؤ۔ یہاں تک فرمایا کہ تم اپنے ورثاءکو غنی چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے پھریں۔ لیکن بعض اشخاص کے لیے کچھ استثناءبھی ہوتا ہے جیسے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنہوں نے اپنا تمام ہی اثاثہ فی سبیل اللہ پیش کردیا تھا اور کہا تھا کہ گھر میں صرف اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیاہوں باقی سب کچھ لے آیاہوں یہ صدیق اکبر جیسے متوکل اعظم ہی کی شان ہوسکتی ہے ہر کسی کا یہ مقام نہیں۔ بہر حال اپنی طاقت کے اندر اندر صدقہ خیرات کرنا بہت ہی موجب برکات ہے۔ دوسرا باب اس مضمون کی مزید وضاحت کررہا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : جہاں تک ہوسکے خیرات کرنا

حدیث نمبر : 1434
حدثنا أبو عاصم، عن ابن جريج، وحدثني محمد بن عبد الرحيم، عن حجاج بن محمد، عن ابن جريج، قال أخبرني ابن أبي مليكة، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، أخبره عن أسماء بنت أبي بكر ـ رضى الله عنهما ـ أنها جاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ لا توعي فيوعي الله عليك، ارضخي ما استطعت‏"‏‏. ‏
ہم سے ابوعاصم ( ضحاک ) نے بیان کیا اور ان سے ابن جریج نے بیان کیا۔ ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا‘ ان سے حجاج بن محمد نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ‘ انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( مال کو ) تھیلی میں بند کرکے نہ رکھنا ورنہ اللہ پاک بھی تمہارے لیے اپنے خزانے میں بندش لگادے گا۔ جہاں تک ہوسکے لوگوں میں خیرخیرات تقسیم کرتی رہ۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : صدقہ خیرات سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں

حدیث نمبر : 1435
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن حذيفة ـ رضى الله عنه ـ قال قال عمر ـ رضى الله عنه ـ أيكم يحفظ حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الفتنة قال قلت أنا أحفظه كما قال‏.‏ قال إنك عليه لجريء فكيف قال قلت فتنة الرجل في أهله وولده وجاره تكفرها الصلاة والصدقة والمعروف‏.‏ قال سليمان قد كان يقول ‏"‏ الصلاة والصدقة، والأمر بالمعروف والنهى عن المنكر‏"‏‏. ‏ قال ليس هذه أريد، ولكني أريد التي تموج كموج البحر‏.‏ قال قلت ليس عليك بها يا أمير المؤمنين بأس، بينك وبينها باب مغلق‏.‏ قال فيكسر الباب أو يفتح‏.‏ قال قلت لا‏.‏ بل يكسر‏.‏ قال فإنه إذا كسر لم يغلق أبدا‏.‏ قال قلت أجل‏.‏ فهبنا أن نسأله من الباب فقلنا لمسروق سله‏.‏ قال فسأله‏.‏ فقال عمر ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ قال قلنا فعلم عمر من تعني قال نعم، كما أن دون غد ليلة، وذلك أني حدثته حديثا ليس بالأغاليط‏.‏
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے جریر نے اعمش سے بیان کیا‘ ان سے ابووائل نے‘ انہوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث آپ لوگوں میں کس کو یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا میں اس طرح یاد رکھتا ہوں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیان فرمایا تھا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں اس کے بیان پر جرات ہے۔ اچھا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ میں نے کہا کہ ( آپ نے فرمایا تھا ) انسان کی آزمائش ( فتنہ ) اس کے خاندان‘ اولاد اور پڑوسیوں میں ہوتی ہے اور نماز‘ صدقہ اور اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا اس فتنے کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ اعمش نے کہا ابو وائل کبھی یوں کہتے تھے۔ نماز اور صدقہ اور اچھی باتوں کا حکم دینا بری بات سے روکنا‘ یہ اس فتنے کو مٹا دینے والے نیک کام ہیں۔ پھر اس فتنے کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری مراد اس فتنہ سے نہیں۔ میں اس فتنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا پھیلے گا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا‘ میں نے کہا کہ امیرالمؤمنین آپ اس فتنے کی فکر نہ کیجئے آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا صرف کھولا جائے گا۔ انہوں نے بتلایا نہیں بلکہ وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب دروازہ توڑ دیا جائے گا تو پھر کبھی بھی بند نہ ہوسکے گا ابووائل نے کہا کہ ہاں پھر ہم رعب کی وجہ سے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ نہ پوچھ سکے کہ وہ دروازہ کون ہے؟ اس لیے ہم نے مسروق سے کہا کہ تم پوچھو۔ انہوں نے کہا کہ مسروق رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دروازہ سے مراد خود حضرت عمررضی اللہ عنہ ہی تھے۔ ہم نے پھر پوچھا تو کیا عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ آپ کی مراد کون تھی؟ انہوں نے کہا ہاں جیسے دن کے بعد رات کے آنے کو جانتے ہیں اور یہ اس لیے کہ میں نے جو حدیث بیان کی وہ غلط نہیں تھی۔

تشریح : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بیان کی تعریف کی کیونکہ وہ اکثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں اور فسادوں کے بارے میں جو آپ کے بعد ہونے والے تھے‘ پوچھتے رہا کرتے تھے۔ جب کہ دوسرے لوگوں کو اتنی جرات نہ ہوتی تھی۔ اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ بے شک تو دل کھول کر ان کو بیان کرے گا کیونکہ تو ان کو خوب جانتا ہے۔ اس حدیث کو حضرت امام بخاری یہاں یہ ثابت کرنے کے لیے لائے کہ صدقہ گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : اس بارے میں کہ جس نے شرک کی حالت میں صدقہ دیا اور پھر اسلام لے آیا

حدیث نمبر : 1436
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن حكيم بن حزام ـ رضى الله عنه ـ قال قلت يا رسول الله أرأيت أشياء كنت أتحنث بها في الجاهلية من صدقة أو عتاقة وصلة رحم فهل فيها من أجر فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أسلمت على ما سلف من خير‏"‏‏. ‏
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ‘ انہیں عروہ نے اور ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں سے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صدقہ‘ غلام آزاد کرنے اور صلہ رحمی کی صورت میں کیا کرتا تھا۔ کیا ان کا مجھے ثواب ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی ان تمام نیکیوں کے ساتھ اسلام لائے ہو جو پہلے گزر چکی ہےں۔

تشریح : امام بخاری نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر کافر مسلمان ہوجائے تو کفر کے زمانہ کی نیکیوں کا بھی ثواب ملے گا۔ یہ اللہ پاک کی عنایت ہے۔ اس میں کسی کا کیا اجارہ ہے۔ بادشاہ حقیقی کے پیغمبر نے جو کچھ فرمادیا وہی قانون ہے۔ اس سے زیادہ صراحت دار قطنی کی روایت میں ہے کہ جب کافر اسلام لاتا ہے اور اچھی طرح مسلمان ہوجاتا ہے تو اس کی ہر نیکی جو اس نے اسلام سے پہلے کی تھی‘ لکھ لی جاتی ہے اور ہر برائی جو اسلام سے پہلے کی تھی مٹادی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ملتا رہتا ہے اور ہر برائی کے بدلے ایک برائی لکھی جاتی ہے۔ بلکہ ممکن ہے اللہ پاک اسے بھی معاف کردے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : خادم نوکر کا ثواب‘ جب وہ مالک کے حکم کے مطابق خیرات دے اور کوئی بگاڑ کی نیت نہ ہو

حدیث نمبر : 1437
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن مسروق، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إذا تصدقت المرأة من طعام زوجها غير مفسدة كان لها أجرها، ولزوجها بما كسب، وللخازن مثل ذلك‏"‏‏. ‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے اعمش سے بیان کیا‘ ان سے ابووائل نے‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بیوی اپنے خاوند کے کھانے میں سے کچھ صدقہ کرے اور اس کی نیت اسے برباد کرنے کی نہیں ہوتی تو اسے بھی اس کا ثواب ملتا ہے اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح خزانچی کو بھی اس کا ثواب ملتا ہے۔

تشریح : یعنی بیوی کی خاوند کے مال کو بیکار تباہ کرنے کی نیت نہ ہوتو اس کو بھی ثواب ملے گا۔ خادم کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ مگر بیوی اور خدمتگار میں فرق ہے۔ بیوی بغیر خاوند کی اجازت کے اس کے مال میں سے خیرات کرسکتی ہے لیکن خدمت گار ایسا نہیں کرسکتا۔ اکثر علماءکے نزدیک بیوی کو بھی اس وقت تک خاوند کے مال سے خیرات درست نہیں جب تک اجمالاً یا تفصیلاً اس نے اجازت نہ دی ہو اور امام بخاری کے نزدیک بھی یہی مختار ہے۔ بعضوں نے کہا یہ عرف اور دستور پر موقوف ہے یعنی بیوی پکا ہوا کھانا وغیرہ ایسی تھوڑی چیزیں جن کے دینے سے کوئی ناراض نہیں ہوتا‘ خیرات کرسکتی ہے گو خاوند کی اجازت نہ ملے۔

حدیث نمبر : 1438
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا أبو أسامة، عن بريد بن عبد الله، عن أبي بردة، عن أبي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ الخازن المسلم الأمين الذي ينفذ ـ وربما قال يعطي ـ ما أمر به كاملا موفرا طيب به نفسه، فيدفعه إلى الذي أمر له به، أحد المتصدقين‏"‏‏. ‏
ہم سے محمد بن علاءنے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خازن مسلمان امانتدار جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے اور بعض دفعہ فرمایا وہ چیز پوری طرح دیتا ہے جس کا اسے سرمایہ کے مالک کی طرف سے حکم دیا گیا اور اس کا دل بھی اس سے خوش ہے اور اسی کو دیا ہے جسے دینے کے لیے مالک نے کہا تھا تو وہ دینے والا بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ

باب : عورت کا ثواب جب وہ اپنے شوہر کی چیز میں سے صدقہ دے یا کسی کو کھلائے اور ارادہ گھر بگاڑنے کا نہ ہو

حدیث نمبر : 1439
حدثنا آدم، حدثنا شعبة، حدثنا منصور، والأعمش، عن أبي وائل، عن مسروق، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم تعني إذا تصدقت المرأة من بيت زوجها‏.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے منصور بن معمر اور اعمش دونوں نے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر ( کے مال ) سے صدقہ کرے۔

حدیث نمبر : 1440
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، عن شقيق، عن مسروق، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إذا أطعمت المرأة من بيت زوجها غير مفسدة، لها أجرها، وله مثله، وللخازن مثل ذلك، له بما اكتسب، ولها بما أنفقت‏"‏‏. ‏
( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل شقیق نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بیوی اپنے شوہر کے مال میں سے کسی کو کھلائے اور اس کا ارادہ گھر کو بگاڑنے کا بھی نہ ہو تو اسے اس کا ثواب ملتا ہے اور شوہر کو بھی ویسا ہی ثواب ملتا ہے اور خزانچی کو بھی ویسا ہی ثواب ملتا ہے۔ شوہر کو کمانے کی وجہ سے ثواب ملتا ہے اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے۔

تشریح : حضرت امام بخاری نے اس حدیث کو تین طریقوں سے بیان کیا اور یہ تکرار نہیں ہے کیونکہ ہر ایک باب کے الفاظ جدا ہیں۔ کسی میں اذا تصدقت المراۃ ہے کہ کسی میں اذا اطعمت المراۃ ہے کسی میں من بیت زوجہا ہے کسی میں من طعام بیتہا ہے اور ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ تینوں کو برابر ابرابر ثواب ملے گا۔ دوسری روایت میں ہے کہ عورت کو مرد کا آدھا ثواب ملے گا۔ قسطلانی نے کہ داروغہ کو بھی ثواب ملے گا۔ مگر مالک کی طرح اس کو دوگنا ثواب نہ ہوگا۔ ( وحیدی )

حدیث نمبر : 1441
حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا جرير، عن منصور، عن شقيق، عن مسروق، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ إذا أنفقت المرأة من طعام بيتها غير مفسدة فلها أجرها، وللزوج بما اكتسب، وللخازن مثل ذلك‏"‏‏. ‏
ہم سے یحیٰی بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل شقیق نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عورت اپنے گھر کے کھانے کی چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس کا ارادہ گھر کو بگاڑنے کا نہ ہوتو اسے اس کا ثواب ملے گا اور شوہر کو کمانے کا ثواب ملے گا ‘ اسی طرح خزانچی کو بھی ایسا ہی ثواب ملے گا۔

تشریح : عورت کا خرچ کرنا اس شرط کے ساتھ ہے کہ اس کی نیت گھر برباد کرنے کی نہ ہو۔ بعض دفعہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خاوند کی اجازت حاصل کرے۔ مگر معمولی کھانے پینے کی چیزوں میں ہر وقت اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں خازن یا خادم کے لیے بغیر اجازت کوئی پیسہ اس طرح خرچ کردینا جائز نہیں ہے۔ جب بیوی اور خادم بایں طور خرچ کریں گے تو اصل مالک یعنی خاوند کے ساتھ وہ بھی ثواب میں شریک ہوں گے۔ اگرچہ ان کے ثواب کی حیثیت الگ الگ ہوگی۔ حدیث کامقصد بھی سب کے ثواب کو برابر قرار دینا نہیں ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : ( سورۃ واللیل میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

‏{‏فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى * فسنيسره لليسرى * وأما من بخل واستغنى * وكذب بالحسنى * فسنيسره للعسرى‏}
جس نے ( اللہ کے راستے میں ) دیا اور اس کا خوف اختیار کیا اور اچھائیوں کی ( یعنی اسلام کی ) تصدیق کی تو ہم اس کے لیے آسانی کی جگہ یعنی جنت آسان کردیں گے۔ لیکن جس نے بخل کیا اور بے پروائی برتی اور اچھائیوں ( یعنی اسلام کو ) جھٹلایا تو اسے ہم دشواریوں میں ( یعنی دوزخ میں ) پھنسادیں گے اور فرشتوں کی اس دعا کا بیان کہ اے اللہ! مال خرچ کرنے والے کو اس کا اچھا بدلہ عطا فرما۔


حدیث نمبر : 1442
حدثنا إسماعيل، قال حدثني أخي، عن سليمان، عن معاوية بن أبي مزرد، عن أبي الحباب، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ ما من يوم يصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان فيقول أحدهما اللهم أعط منفقا خلفا، ويقول الآخر اللهم أعط ممسكا تلفا‏"‏‏.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے بھائی ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے معاویہ بن ابی مزرد نے ‘ ان سے ابوالحباب سعید بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! ممسک اور بخیل کے مال کو تلف کردے۔

ابن ابی حاتم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے۔ تب اللہ پاک نے یہ آیت اتاری فاما من اعطی واتقی آخر تک اوراس روایت کو باب میں اس آیت کے تحت ذکر کرنے کی وجہ بھی معلوم ہوگئی۔
 
Top