1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکڑی

'دہریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏فروری 02، 2015۔

  1. ‏فروری 02، 2015 #71
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نظریۂ ارتقاء قیاس پر مبنی دعویٰ ہے جسے کسی بھی سائنسی اصول کی حمایت حاصل نہیں اور نہ ہی یہ کسی معقول دلیل اور ثبوت پر مبنی ہے۔دوسری طرف اس کا یہ دعویٰ کہ ہر جاندار ان گنت اور قطعاً بعید ازامکان اتفاقات کے نتیجے میں نمودار ہوا ہو گا ،ذہانت اور سائنس سے یکسر خالی بنیاد پر مبنی ہے۔
    اس کے باوجود ارتقاء وہ واحدامید ہے جسے بعض نظریاتی حلقوں نے اپنا لیا ہے تاکہ مجموعی معاشرے کو حقیقت سے دور رکھا جا سکے۔اور اسی وجہ سے اس نظریے کے خلاف تمام دلائل کے باوجود یہ ابھی تک ارتقاء کو ایجنڈے میں شامل رکھنے کے لئے کوشاں ہیں۔تاہم نظریۂ ارتقاء مکڑی، جس کا ہم نے کتاب میں جائزہ لیا ہے، کے سامنے اسی طرح بے بس ہے جسطرح فطرت میں تخلیق شدہ ہر ذی حیات شے کے سامنے۔یہ نظریہ اس امر کی وضاحت کرنے سے یکسر قاصر ہے کہ مکڑیوں کی خصوصیات کیسے رونما ہوئی ہوں گی۔
    اگر ہم ارتقاء کے نقطۂ نظر سے مکڑیوں کی خصوصیات پر غور کریں تو یہ بات بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ نظریۂ ارتقاء کس قدربے بنیاد اور مغالطہ آمیزدعویٰ ہے۔آئیے ہم کیڑے کی ایک ایسی نوع زیرِغور لاتے ہیں جسے ہم تمام مکڑیوں کا جدِامجد خیال کریں گے۔ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ کیڑا دورِحاضر کی مکڑیوں کی طرح بہرہ اورتقریباً اندھا ہے۔ ایسی صورت میں یہ کیڑا کسی بھی چیزکا شکار نہیں کر سکے گا اور یوں فوراً بھوک سے مر جائے گا۔لیکن کسی نہ کسی طرح یہ کیڑا ، اتفاق یا کسی دوسری ناقابلِ توضیح قوت کے باعث زندہ رہ جانے میں کامیاب ہو گیا۔
    ایک دن اس اندھے اور بہرے کیڑے کو شکار کرنے کے لئے جالا بنانے کا جودت خیال آیا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ کیڑے کے پاس رہنے کا کوئی ایسا ٹھکانا ہو جو شکار پکڑنے کے لئے دام کا کام بھی دے۔لیکن یہ کیڑا تعمیراتی صلاحیت اور حساب کرنے کی اہلیت کا مالک نہیں جوجالا بنانے کے لئے ضروری ہیں۔مکڑی کو یکے بعددیگرے ہوا اور پھانسے جانے والے شکار کی رفتار ، سارے وزن جو جالا سہتاہے، ان اوزان کے پھیلاؤ ، پودوں اور پتوں وغیرہ کی وزن سہنے کی حد وغیرہ جن پر وہ اپنا جالا بنائے گی اور دوسری بہت سی تفصیلات کا حساب لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس مقام پر یہ سوال ابھرتاہے کہ مکڑی کس طرح حساب و کتاب کر سکتی ہے؟لیکن ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ ارتقا کی بنیادی منطق بھی یہی ہے۔ارتقاء چونکہ تخلیق سے انکار کرتا ہے اس لئے اس کے پاس اس کے سوا کوئی اور جواب نہیں کہ کیڑے نے یہ پیشگی شمار خود ہی سرانجام دیے۔
     
  2. ‏فروری 02، 2015 #72
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تاہم اگر ہم یہ قبول کر بھی لیں کہ کیڑا جالے کی تعمیر کے لئے منصوبہ بندی کرنے کی ذہانت رکھتا ہے تو ایسی صورت میں بھی اس کے لئے موت سے بچنا ممکن نہیں کیونکہ اس کے پاس جالے بنانے کے آلات نہیں۔ایسے آلات جن میں جالے بنانے کے لئے ضروری خصوصیات موجود ہوں فطرت میں پائے نہیں جاتے۔ایسی صورتحال میں اس نے جالا بننے کے لئے خود ہی دھاگا پیدا کرنے کا ارادہ کیا۔لیکن ایک بار پھر اسے ایک بڑی مشکل کا سامنا کرناپڑا۔ وہ یہ دھاگا کس طرح پیدا کرے ؟
    اتنا کہہ دینے کے بعد وہ طاقت جسے اتفاق کہتے ہیں ایک بار پھرمساوات equation میں داخل ہوتی ہے ۔ کیڑے کے جسم کے اندر کئی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں اور اچانک اس کے دھڑ میں مکمل طور پر بالیدہ چھ مختلف غدّے نمودار ہوجاتے ہیں۔یہ غدے کیمیائی سیال مادے خارج کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اور بعد ازاں مساوی دباؤ اور وقت کے نظاموں کے تحت کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ایک بار پھر اتفاق سے ان غدوں کے کیمیائی سیال مادے مخصوص تناسب سے ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں اور مکڑی کے دھاگے کا خام مواد نمودار ہو جاتا ہے۔ٹھیک اسی لمحے ایک اور اتفاق سے اس کی پچھلی ٹانگیں عضوِ تارکش (spinnerets)میں سے ریشے بُنتی ہیں اور کیڑے کے لئے ایک بہترین دھاگا تیار ہو جاتا ہے۔ اتفاق اسقدر مفیدثابت ہوتا ہے کہ نمودار ہونے والا دھاگا فولاد سے پانچ گنا زیادہ مضبوط اور ربڑ سے تیس فیصد زیادہ لچک دار ہوتا ہے۔اس دھاگے اور اس کی مختلف لحمیاتی خصوصیات کی ، جن کی انسان مکمل نقل نہیں بنا سکتا ، منصوبہ بندی ایک ننھے سے کیڑے نے کی ہے۔
    اس کے بعد کیڑے نے کبھی چپچپے اور لچکدار دھاگے استعمال کر کے اور کبھی بے لچک اور مضبوط دھاگے استعمال میں لا کر جالا بُنا۔کیا عجیب حسنِ اتفاق ہے کہ کیڑے کی ٹانگیں بھی سات جوڑ والی ہیں تاکہ وہ جالے پر چلنے کے قابل ہو سکے!اور اس نام نہاد اتفاق کی ایک اور پیداوار پہلے سے ہی اس کے پاؤں پر موجود تھی ۔ایک خاص تہ جو اسے اپنے ہی جالے پر چپک جانے سے بچاتی ہے۔اور یہ اتفاقات یہیں ختم نہیں ہوجاتے۔جس دن جالا بنا گیا اسی دن سے اس بہرے اور تقریباً اندھے کیڑے کا جسم پہلے سے ہی ایسے خاص بالوں سے ڈھکا تھا جو جالے پر خفیف ترین ارتعاش محسوس کر لیتے ہیں۔یوں دورِ حاضر کی مکڑی اتفاق سے حاصل کردہ صلاحیتوں ، جن کی تفصیلات ہم بیان نہیں کر سکے،کے نتیجے میں وجود میں آئی۔
     
  3. ‏فروری 02، 2015 #73
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اس منظرنامے کا بغور مشاہدہ کرنے سے یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ نظریۂ ارتقاء فراست سے محروم تخمینہ ہے۔یہاں ایک اہم نکتہ بیان کرنے کی ضرورت ہے۔اولاً یہ کہ مکڑی جن خصوصیات کی مالک ہے وہ کسی بھی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رونما نہیں ہو سکتی تھیں۔زیرِ بحث صلاحیتیں مکڑی کے اندر لازماً بیک وقت موجود رہی ہوں گی ۔ایسی کسی مکڑی کا وجود نہیں جسے جالا بنانے کا علم تو ہو مگر وہ ریشم پیدا کرنے سے قاصر ہویا جو ریشم توپیدا کر سکے لیکن جالا بنانا نہ جانتی ہو۔جہاں تک ایسی مکڑیوں کا تعلق ہے جو جالا نہیں بناتیں مثلاً چھلانگ لگانے والی مکڑ ی،انھیں کئی زیادہ خصوصیات سمیت تخلیق کیا گیا ،ایسی خصوصیات جنہوں نے ارتقاء کی ہزاروں مرتبہ تغلیط کی ہے۔
    اگر مکڑی خوبصورت ترین جالے تعمیر کر سکتی ہے مگر اس کے پاس وہ چپچپا مادہ نہیں جسے وہ جالے پر پھیلاتی ہے تو یہ جالا کسی کام نہیں آئے گا۔اگر چپچپا مادہ توموجود ہے مگر اس بار چپچپے دھاگوں کو لچک عطا کرنے والے لحمیاتی سالمے موجود نہیں ( جو بالکل ایک عام سی بات ہو گی)تب بھی جالا بالکل بیکار ثابت ہوگا اور مکڑی موت سے دوچار ہو جائے گی۔
    ایک ایسی مکڑی جو ریشم بنانے کے لئے تمام ضروری میکانیکی عملوں کی مالک ہو لیکن اُسے ہضم شدہ غذا سے ایک مادہ جسے ناحل پذیر ترکیبی لحمیہ یا scleroprotein کہتے ہیں حاصل نہ ہوسکے تو اس صورت میں بھی وہ ریشم بُن نہیں سکے گی۔اس کے باوجود بھی اگر مکڑی کو جالا اتفاقاً مل جاتا ہے تو تب بھی اسے اپنے پیروں پر ایک ایسی کیمیائی تہ کی ضرورت ہو گی جو اسے جالے پر چپکنے سے بچا کر چلنے میں مدد دے سکے۔اس کے ساتھ ساتھ جالے میں پیدا ہونے والے ارتعاش کو محسوس کرنے کے لیے ایک حسیائی نظام sensory system) ( کا ہونا بھی ضروری ہے۔ان تمام خصوصیات میں سے کسی ایک کی بھی کمی کی صورت میں مکڑی چند لمحوں میں موت کا شکار ہو جائے گی۔
     
  4. ‏فروری 02، 2015 #74
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مکڑی تنفس،ہضم اور دورانِ خون کے نظاموں کی مالک ہے۔دیگر نظاموں کی طرح یہ نظام بھی بیک وقت نمودار ہوئے ہوں گے۔ہم کسی ایسی مکڑی کا تصور بھی نہیں کر سکتے جس کا پیٹ یا دل نہ ہو۔اس سے نتیجہ یہ نکلتاہے کہ باقی تمام اعضاء جیسے کہ جالے بنانے والے اعضاء کو موجود ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اِن اعضاء کے جینیائی نقشے (genetic codes)ا ان لاکھوں خلیوں میں سے ہر ایک خلیے کے اندر موجود ہوں جن سے مکڑی تشکیل پاتی ہے۔نئے عضو کا مطلب ڈی ان اے DNA کے لاکھوں تدریجی سلسلوں یعنی جینیائی نقشے میں اضافی معلومات کا اندراج ہے۔ان سلسلوں میں سے کسی ایک میں بھی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ نیا عضو بالکل بیکار ثابت ہو گا۔(مفصل معلومات کے لئے ہارون یحيٰ کی کتاب "خلیہ ۔ایک معجزہ"،استنبول، Vural Publishing ملاحظہ کریں).
    ایک اور توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ انڈے سے باہرنکلتے ہی ہر مکڑی ،کسی قسم کی تربیت پائے بغیر جالا بننے کے لئے ضروری علم سے آراستہ ہوتی ہے۔اسی علم کی بناء پر مکڑیوں کی نسلوں پہ نسلیں جالے بننے کی صلاحیت لے کر پیدا ہوتی ہیں۔نومولود مکڑی قطعاًکوئی تربیت حاصل نہیں کرتی اور نہ ہی کوئی کورس پڑھنے جاتی ہے۔
    ایک انجینئر عمارت کھڑی کرنے کا ضروری علم سیکھنے کے لئے یونیورسٹی میں کم از کم چار سا ل علم حاصل کرتا ہے۔ وہ پہلے سے طبع شدہ کئی سو علمی تصانیف ماخذ کے طور پر استعمال کرتا ہے اور کمپیوٹر پر اپنا حساب وکتاب انجام دیتا ہے۔اس کے اساتذہ اسکی رہنمائی کرتے ہیں اور حساب کتاب کرنا سکھاتے ہیں۔مکڑی سے کئی سو گنا بڑا جالا تعمیر کرنے کیلئے اتنا ہی حساب و کتاب درکار ہوتا ہے جتنا کسی عمارت کو تعمیر کرنے کے لئے۔جالا بنانے والے دھاگوں کے تناؤ،جالا جس بنیاد پر تعمیر کیا گیا اس کی مضبوطی،اقلیدسيوضع geometric formکی درستی،ہوا اور شکار کی حرکات کو مدّنظر رکھتے ہوئے جالے کو عطا کی گئی مزاحمت اور لچک ،دھاگے کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات اوردوسری بہت سی جزویات کی، جنہیں فہرست میں درج نہیں کیا جا سکا، منصوبہ بندی اور حساب و کتاب سرانجام دینے کے لئے یونیورسٹی کا ڈگری یافتہ ہونا بھی کافی نہیں۔بہرصورت نومولود مکڑیوں کے لئے کوئی یونیورسٹی موجودنہیں۔دنیا میں آجانے کے تھوڑی دیر بعد ہی وہ دھاگا تیار کرنا،جالے بنانااور شکار کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ارتقاء پسند سائنسدان جو اس امر کی تشریح کرنے سے قاصر ہیں ایک دوسرے قطعاً مضحکہ خیز دعوے کا سہارا لیتے ہیں۔اس منطق کے تحت، جو بنیادی عملِ تخلیق سے انکار کرتا ہے،ایک نامعلوم قوت جسے جبلت instinctکہتے ہیں نومولود مکڑی کو یہ بتاتی ہے کہ اُسے کون سا کام سر انجام دینا ہے۔
     
  5. ‏فروری 02، 2015 #75
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تو یہ ’جبلت ‘کیا ہے؟کیا یہ ایک ایساالہام ہے جس کا منبع غیر واضح ہے اور جو مکڑی کو طبیعیات اور علمِ کیمیا کا پروفیسر، تعمیراتی انجینئر اورماہرِ تعمیرات بنا دیتا ہے؟اس الہام کا ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مکڑی میں موجود ہے اور ازخود نمودار ہوا ہے، مخرج کیا ہے ؟آئیے ہم مکڑی کی ساخت کا جائزہ لے کر اسے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    تمام جانداروں کی طرح مکڑی بھی لحمیات سے مل کر بنتی ہے۔یہ لحمیات امینو ترشوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ امینوترشے باہم مل جانے والے بڑے سالموں سے مل کر بنتے ہیں۔اور سالمے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب جوہر آپس میں جڑ جاتے ہیں۔آئیے یہاں درج بالا سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ مکڑی میں یہ جبلت ٹھیک ٹھیک کہاں پائی جاتی ہے جو مکڑی کو ایسے دھاگے بنانا سکھاتی ہے جن کی انسان نقل نہیں بنا سکااور جو تعمیرات اور انجینئری کے بے مثال نمونے تخلیق کرتی ہے۔کیا یہ( جبلت ) ان لحمیات میں واقع ہے جن سے مکڑی کا جسم بنتا ہے یا امینو ترشوں میں جن سے لحمیات بنتے ہیں؟ یا ان سالموں میں جو امینو ترشے بناتے ہیں؟ یا پھر ان جوہروں میں جو سالمے تشکیل دیتے ہیں ؟ ان میں سے کون اس الہام یا وحی کا منبع ہے جسے ارتقاء پرست ’جبلت ‘ کہہ کر ٹال دیتے ہیں؟
    یقیناً ان میں سے کوئی بھی جبلت کا سر چشمہ نہیں۔تمام جانداروں کی طرح مکڑی بھی تمام جہانوں کے مالک اللہ تعالیٰ کا حکم بجالاتی ہے اور اُسی کی وحی کے مطابق عمل کرتی ہے۔

    تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْ‌ضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورً‌ا ﴿٤٤﴾
    ’ اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اسکی حمد کے ساتھ اسکی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی برد بار اور درگزر کرنے والا ہے۔‘ (سورۃ بنی اسرائیل: ۴۴)
     
  6. ‏فروری 02، 2015 #76
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ارتقاء کا فریب

    کبھی کھبار ننھے جانداروں کے بے مثال نظام ایک عظیم حقیقت کی جانب ہماری آ نکھیں کھول دیتے ہیں: تخلیق کی حقیقت ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے تمام ذی حیات اشیاء کو انکے خدوخال سمیت بے عیب پیدا کیا۔ نظریۂ ارتقاء ،جس کا دعویٰ ہے کہ ہر چیز اتفاق کے نتیجے میں نمودار ہوئی ، جانداروں میں پائی جانے والی جامعیت وا کملیت کے سامنے لاجواب ہے۔جدید سائنسی دریافتوں نے بھی صاف طور سے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ یہ نظریہ ایک دھوکا اور فریب ہے۔

    کائنات کا ہر جزو ایک اعلیٰ و برتر تخلیق کی جانب اشارہ کرتا ہے۔اس کے بر عکس فلسفۂ مادّیت جو کائنات میں تخلیق کی حقیقت سے انکار کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے،ایک غیر سائنسی مغالطہ ہے۔
    ایک مرتبہ مادّیت باطل یا کالعدم قرار پاجائے تو اس فلسفے پر مبنی دیگر تمام نظریات بھی بے اصل و بے بنیادہو جاتے ہیں۔ان میں سب سے اہم نظریہ ’’ڈارونیت‘ ہے یعنی نظریۂ ارتقاء۔یہ نظریہ ،جو اس بات کو زیرِ بحث لاتا ہے کہ زندگی بے جان مادے سے بذریعہ اتفاقات وجود میں آئی، اس اعتراف کے بعد مسترد کر دیا گیا ہے کہ کائنات کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا۔سماوی طبیعیات کے امریکی ماہرہیو راس Hugh Rossاس امر کی یوں تشریح کرتے ہیں۔
    ’الحاد (Atheism) ،ڈارونیت(Darwinism)اور اٹھارویں اور انیسویں صدی کے فلسفوں سے نکلنے والے تقریباً تمام ’ازمز یا نظریے(isms) اس غلط مفروضے پر مبنی ہیں کہ کائنات لامحدود ہے۔اس لا متناہیت (singularity)نے ہمیں کائنات اور اس میں شامل حیات سمیت ہر چیز کے پار، پیچھے اور آگے کارفرما موجب ۔یا بانی۔ کے آمنے سامنے لا کھڑا کر دیا ہے۔ ‘۳۳
    یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے کائنات کو تخلیق کیا اور مہین ترین جزویات تک اُسکی منصوبہ بندی کی۔چنانچہ نظریۂ ارتقاء کو، جس کا موقف یہ ہے کہ جاندار اللہ تعالیٰ کی تخلیق نہیں بلکہ اتفاقات کا نتیجہ ہیں ، سچ تسلیم کر لینا ناممکن ہے۔
    اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ جب ہم نظریۂ ارتقاء پر ایک نگاہ دوڑاتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ سائنسی نتائج اس نظریے کی کھلی مذمت کرتے ہیں۔زندگی کے خدوخال نہایت پیچیدہ اور غیر معمولی ہیں۔مثال کے طور پر بے جان اشیاء میں ہم اس امر کا تفصیلی جائزہ لے سکتے ہیں کہ ایٹمی ذرات کس قدر نازک توازن کے ساتھ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔اس کے علاوہ عالمِ ذی حیات میں بھی اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایٹم کیسے کیسے پیچیدہ انداز میں باہم جوڑے گئے اور ان سے تیار ہونے والے میکانیکی عمل اور ڈھانچے مثلاً لحمیات ،خامرے(enzymes) اور خلیے کسقدر غیر معمولی ہیں۔
    حیات میں پائے گئے اس غیر معمولی ڈیزائن یا نظم و ضبط نے ڈارونیت کوبیسویں صدی کے آخر میں کالعدم قرار دے دیا۔
    ہم نے اس موضوع کو اپنی دیگر تصانیف میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ تاہم ہمارا خیال ہے کہ اس موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر یہاں بھی اس کا مختصر خلاصہ شامل کرنا مفید ثابت ہوگا۔
     
  7. ‏فروری 02، 2015 #77
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ڈارونیت کا سائنسی انہدام

    اگرچہ نظریۂ ارتقاء ایک ایسا عقیدہ ہے جس کی جڑیں قدیم یونان تک جا پہنچتی ہیں مگر اسے وسیع پیمانے پر انیسویں صدی میں پیش کیا گیا۔سب سے اہم پیشِ رفت جس نے اس موضوع کو سائنسی دنیا کا مقبول ترین موضوع بنا دیا چارلس ڈارون کی’ انوع کی ابتداء‘ (The Origin of Species) نامی کتاب تھی جو ۱۸۵۹میں شائع ہوئی۔اس کتاب میں ڈارون نے اس حقیقت کی تردید کی کہ زمین پر مختلف ذی روح انواع اللہ تعالیٰ نے علیحدہ علیحدہ تخلیق کی ہیں۔ڈارون کے مطابق تمام جانداروں کا ایک ہی مشترکہ جدِ امجد تھا اور یہ جاندار وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے نتیجے میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے چلے گئے۔
    ڈارون کا نظریہ کسی ٹھوس سائنسی دریافت یا تجربے پر مبنی نہ تھاجیسا کہ اس نے خود بھی قبول کیا کہ یہ محض ایک ’مفروضہ‘ 'assumption' تھا۔مزید برآں ڈارون نے اپنی کتاب کے طویل باب ’ نظریے کی مشکلات‘ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ نظریہ کئی تنقیدی سوالات کے سامنے ناکامی سے دوچار ہو رہا تھا۔
    ڈارون نے اپنی تمام تر امیدیں مستقبل میں ہونے والی نئی سائنسی دریافتوں سے وابستہ کر لیں۔اُسے توقع تھی کہ یہ دریافتیں نظریے کی مشکلات حل کر دیں گی تا ہم اس کی توقعات کے برعکس سائنسی نتائج نے ان مشکلات کا دائرہ وسیع کر دیا۔
    سائنس کے مقابلے میں ڈارونیت کی شکست کا تین بنیادی عنوانات کے تحت جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
    ۱۔یہ نظریۂ کسی بھی طرح اس بات کی وضاحت نہیں کر سکتا کہ کرۂ ارض پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا۔
    ۲۔ ایسی کوئی سائنسی معلومات دستیاب نہیں جن سے یہ ظاہر ہو کہ نظریے کے تجویز کردہ ’ارتقائی میکانیکی عمل‘(evolutionary mechanisms)ارتقا پذیری کی کوئی طاقت رکھتے ہیں۔
    ۳۔آثارِمتحجریافوسل ریکارڈ نظریۂ ارتقاء کی تجاویز کو غلط ثابت کرتے ہیں۔
    اس حصے میں ہم ان تین بنیادی نقات کا مجملاًجائزہ لیں گے۔
     
  8. ‏فروری 02، 2015 #78
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    پہلا ناقابلِ عبور قدم:
    ابتدائے حیات
    نظریۂ ارتقاء یہ فرض کرتا ہے کہ تمام ذی روح انواع ایک ہی جاندار خلیے سے ،جو ۸.۳ بلین برس قبل قدیم کرۂ ارض پر نمودار ہوا، بذریعہ ارتقاء وجود میں آئیں۔صرف ایک واحد خلیہ لاکھوں پیچیدہ جاندار انواع کو کیسے عالم وجود میں لایا؟ اور اگر واقعی ایسا کوئی ارتقاء وقوع پذیر ہوا توپھر فوسل ریکارڈ میں اس کا کوئی سراغ کیوں نہیں ملتا؟یہ ایسے چند سوالات ہیں جن کا نظریہ ارتقاء جواب پیش کرنے سے قاصر ہے۔تاہم سب سے پہلے ، مبینہ ارتقائی عمل کے اولین مرحلے کے متعلق معلو م کرنا چاہیے کہ ’پہلا خلیہ‘ کس طرح وجود میں آیا؟
    چونکہ نظریۂ ارتقاء تخلیق کی حقیقت سے انکار کرتا ہے او رکسی قسم کی مافوق الفطرت مداخلت کو قبول نہیں کرتااس لئے اس کا خیال ہے کہ ’اولین خلیہ‘ قوانینِ فطرت کے دائرے میں رہتے ہوئے ، بغیر کسی ڈیزائن، منصوبے یا ترتیب کے، اتفاقاً نمودار ہوا۔ اس نظریے کے مطابق بے جان مادے نے ضرور اتفاقات کے نتیجے میں جاندار خلیہ پیدا کر لیا ہوگا۔تاہم یہ دعویٰ حیاتیات کے انتہائی غیر متنازع اور مستحکم اصولوں سے بھی متصادم ہے۔
     
  9. ‏فروری 02، 2015 #79
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    زندگی زندگی سے وجود پاتی ہے۔
    ڈارون نے اپنی کتاب میں کہیں پر بھی زندگی کے آغاز کا ذکر نہیں کیا۔اس کے دور میں سائنس کی قدیم سوجھ بوجھ اِس مفروضے پر مبنی تھی کہ جانداروں کی ساخت نہایت سادہ ہوتی ہے۔قرونِ وسطیٰ کے عہد سے ’خود نو زائدگی ‘ کا نظریہ مقبول عام تھا جس کا دعویٰ ہے کہ بے جان اشیاء یکجا ہو کر جاندارنامیوں کی تخلیق کا سبب بنتی ہیں۔عمومی طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ پس خوردہ یا بچی کچھی غذا سے حشرات الارض اور گندم میں سے چوہے پیدا ہو جاتے ہیں ۔اس نظریے کو سچ ثابت کرنے کے لئے دلچسپ تجربات کیے گئے۔میلے کپڑے پرتھوڑی سی گندم ڈال دی جاتی تھی اور یہ سمجھا جاتا کہ تھوڑی دیر بعداس میں سے چوہے پیدا ہو جائیں گے۔
    اسی طرح گوشت میں کیڑوں کا پیدا ہوجانا ازخود تخلیق کا ثبوت سمجھا جاتا تھا۔تاہم کچھ ہی عرصے بعد یہ معلوم ہو گیا کہ گوشت میں کیڑے فطری طور پر یا خودبخود ہی نہیں پڑ جاتے بلکہ مکھیاں وہا ں لاروے larvae چھوڑ جاتی تھیں جونظر نہیں آتے اور بعد میں کیڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
    جس دور میں ڈارون نے ’ زندگی کی ابتداء‘ لکھی اس وقت بھی دنیائے سائنس میں یہ عقیدہ وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا تھاکہ جر ثومے بے جان مادے سے وجود میں آسکتے ہیں۔
    تاہم، ڈارون کی کتاب کی اشاعت کے پانچ سال بعد لوئی پاسچر Louis Pasteur کی دریافت نے اس عقیدے کو ،جو نظریۂ ارتقاء کی اساس تھا ، غلط ثابت کر دیا۔ مطالعات اور تجربات پرخاصا وقت صرف کرنے کے بعد پاسچرنے اپنے نتیجے کا خلا صہ یوں پیش کیا:
    ’’یہ دعویٰ کہ بے جان مادہ زندگی کو وجود بخش سکتا ہے ہمیشہ کے لئے تاریخ کے صفحات میں دفن ہو گیا ہے۔‘‘۳۴
    نظریۂ ارتقاء کی وکالت کرنے والوں نے طویل عرصے تک پاسچرکی دریافتوں کی مخالفت کی۔تاہم جب سائنسی ترقی نے جاندار شے کے خلیے کی پیچیدہ ساخت دریافت کر لی تو یہ خیال کہ زندگی اتفاقاً وجود میں آسکتی ہے پہلے سے بھی زیادہ شدیدتعطل کا شکار ہو گیا۔
     
  10. ‏فروری 02، 2015 #80
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بیسویں صدی کی غیر فیصلہ کن کوششیں
    پہلا ارتقاء پرست جس نے بیسویں صدی میں زندگی کی ابتداء کے موضوع کو آگے بڑھایا ایک مشہور روسی ماہرِ حیاتیات الیگزینڈر اوپیرن Alexander Oparin تھا۔۱۹۳۰ کے عشرے میں بے شمار مقالے پیش کر کے اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جاندارشے کا خلیہ اتفاق سے وجود میں آسکتا ہے۔تاہم، یہ تحقیقی مطالعے ناکامی سے دوچار ہوئے اور اوپیرن کو درج ذیل اعتراف کرنا پڑا۔
    ’بد قسمتی سے خلیے کی ابتدا ء ایک سوالیہ نشان ہے جو فی الحقیقت پورے نظریۂ ارتقاء کا تاریک ترین پہلو ہے‘۔۳۵
    اوپیرن کے ارتقاء پسند پیروکارو ں نے زندگی کی ابتدا کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے تجربات کرنے کی کوشش کی۔ا ن تجربات میں سب سے مشہور تجربہ امریکی کیمیا دان سٹینلے ملر Stanley Miller نے ۱۹۵۳ میں کیا۔ایک تجرباتی ماحول میں ملر نے ایسی گیسوں کو آپس میں ملایا جو اس کے بقول قدیم کرۂ ارض کی فضا میں پائی جاتی تھیں۔گیسوں کے اس آمیزے میں توانائی داخل کر کے میلر نے لحمیات کی ساخت میں پائے جانے والے کئی نامیاتی سالمے( امینو ترشے) ترکیب دیئے ۔
    بمشکل چند سال گزرے ہوں گے کہ یہ تجربہ جسے ارتقاء کے نام پر ایک اہم قدم کے طور پر پیش کیا گیا تھا، باطل ثابت ہو گیا اور اس میں استعمال ہونے والی فضا بھی اصل ارضی حالات سے بہت مختلف تھی۔۳۶
    ایک طویل خاموشی کے بعد ملر نے یہ تسلیم کر لیا کہ اس نے جو فضائی ماحول استعمال کیا وہ غیر حقیقی تھا۔۳۷
    بیسیوں صدی میں زندگی کے آغاز کی وضاحت پیش کرنے کے لئے ارتقاء پرستوں کی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ San Diego Scripps Instituteسے وابستہ ارضیاتی کیمیا دان جیفری باڈا Jeffrey Bada نے ایک مقالے میں اس حقیقت کا اقرار کیا جو ۱۹۹۸ میں ’زمین‘ Earth میگزین میں شائع ہوا۔
    ’آج جبکہ ہم بیسویں صدی پیچھے چھوڑ رہے ہیں، ہم بدستوراسی عظیم لاینحل مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں جس سے ہم اس وقت بھی دوچار تھے جب ہم بیسویں صدی میں داخل ہوئے تھے کہ کرۂ ارض پر زندگی کی ابتدا کیسے ہوئی؟‘ ۳۸
     

اس صفحے کو مشتہر کریں