1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میانہ روی اور اعتدال اسلامی تعلیمات کا تقاضا

'احوالِ تازہ' میں موضوعات آغاز کردہ از قاری مصطفی راسخ, ‏اپریل 05، 2014۔

  1. ‏اپریل 05، 2014 #1
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    648
    موصول شکریہ جات:
    711
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    میانہ روی اور اعتدال ،اسلامی تعلیمات کا تقاضا
    تاثیر مصطفی​

    مسلمانوں کے عروج وزوال کی داستان غریب وسادہ ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آ موز اور تکلیف دہ بھی ہے۔ خلفائے راشدین کے دور کے بعد زوال کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ عباسی دور کے خاتمے اور سقوط غرناطہ وبغداد کے بعد ہمارا مقدر بن گیا۔ پھر علامتی انداز کی خلافت عثمانیہ کے خاتمے سے مایوسی وناامیدی نے تو گویا ہمارے گھر کا راستہ ہی دیکھ لیا۔جبکہ سقوط ڈھاکہ اور پھر بوسنیا ہر زیگوینیا کے واقعات نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو نڈھال کر کے رکھ دیا۔نتیجتاً 9/11کے بعد سے اب تک مسلمانوں پر الزامات کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہے کہ پر امن امت کو دہشت گرد اور متشدد قرار دے کرپوری دنیا کے مسلمانوں پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔ عراق پر ننگی جارحیت، افغانستان پر فوج کشی اور سوڈان کی تقسیم جیسے واقعات کے باوجود مسلمان تشدد کے حامی اور عدم برداشت کے علمبردار گردانے جاتے رہے ہیں۔ فلسطین میں جمہوری طریقے سے، اکثریت حاصل کرنے والی جماعت 'حماس' کو حکومت نہیں کرنے دی گئی اور مصر میں 52فیصد اکثریت حاصل کرنے والے ڈاکٹر محمد مرسی کی منتخب حکومت کو ہزاروں افراد کے قتل کے بعد ختم کر دیا گیا۔ تیونس اور لیبیا کے بعد اب شام میں آگ اورخون کی ہولی جا ری ہے۔ دنیا کے نقشے پر 52مسلم ممالک میں 3ارب مسلمان بستے ہیں۔ مسلم ممالک تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہیں لیکن مجموعی طور پر سائنس و ٹیکنالوجی کی موجودہ ترقی میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔ شاندار ماضی اتنی بڑی افرادی قوت اور بے پناہ وسائل رکھنے کے باوجودٍ مسلمان پوری دنیا میں مسائل کا شکار ہیں۔ ان مسائل سے نجات کیسے ممکن ہے، یہ وہ سوال ہیں جو طویل عرصہ سے زیربحث ہیں۔
    ان سلگتے مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے گذشتہ دنوں سعودی عرب کے اشتراک سے قائم ہونے والی لاہور انٹرنیشنل یونیورسٹی میں عرب دانشوروں ملک کے ماہرین قانون، علماء حضرات، یونیورسٹی اساتذہ، اور صحافیوں کے منتخب ارکان کا اجتماع ہوا۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی سکالرریاض یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیمان عبد اللہ ابا الخیل نے انتہائی دکھ دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے ترقی کرنی ہے اور آج کی دنیا کا مقابلہ کرناہے تو مسلم سکالروں کو اپنی علمی سطح بلند کرتے ہوئے میانہ روی کو اپنانا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میانہ روی اور اعتدال اسلامی تعلیمات کا تقاضا اور نبی آخر الزماں کی سنت ہے۔ اپنے مؤقف کی وضاحت میںجو دلائل انہوں نے مجلس کے سامنے رکھے اس نے ہر شخص کو اس نکتے پر سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اس مجلس میں ممتاز عالم دین اور اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے سعودی نژاد پریذیڈنٹ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عبد العزیز بن ابراہیم الغدیر ، لاہور انٹرنیشنل یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد جمال عباسی، انٹرنیشنل اسلامک جوڈیشل کونسل کے ڈائریکٹر جنرل جسٹس (ر)منیر اے شیخ، جسٹس (ر)تنویر احمد خان، جسٹس (ر) منیر اے مغل، جسٹس (ر) بشیر بھٹی، تنظیم اساتذہ پاکستان کے صدر پروفیسر میاں محمد اکرم، پروفیسر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، ڈاکٹر خالد حمید، سینئر صحافی اور کالم نگار سید انور قدوائی ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پاکستان ریلوے عبد الرؤف طاہر، ماہر تعلیم عدنان رشید کے علاوہ شہرہ آفاق قاری ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی شریک تھے۔ ڈاکٹر ابا الخیل نے اس موقع پر مسلمانوں کو فرقہ واریت سے بچنے کی بھی تلقین کی۔ سفارتی مجبوری کے باوجود انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان فروعی اختلافات میں اپنی قوت ضائع کرنے بجائے مشترک معاملات کو اپنائیں۔
    ڈاکٹر سلیمان عبد اللہ ابا الخیل نے یہی پیغام تنظیم اساتذہ پاکستان اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مشترکہ تعلیمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ ''تعلیمی ثنویت اور عالم اسلام'' کے موضوع پر ہونے والے اس علمی سیمینارمیں سینکڑوں اساتذہ شریک تھے۔ اس سیمینار کی خوبی یہ تھی کہ اس میں جہاں جدید علوم کے ماہرین نے پاکستان میں دوہرے نظام کے نقصانات پر روشنی ڈالی وہیں دینی مدارس کے منتظمین اور اساتذہ نے بھی اس کی خرابیوں کا تفصیلی ذکر کیا۔ ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل جو عالم اسلام کی 280اسلامی جامعات کے بھی سربراہ ہیں انہوں نے اساتذہ پر زور دیا ہے کہ اسلام تحقیق، تسخیر اور غوروفکرکا دین ہے اس لیے مسلم اساتذہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہیں نہ صرف جدید علوم میں تحقیق کا کام کرناہے بلکہ اسے علمی سظح پر نئی نسل میں منتقل بھی کرنا ہے۔ ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل نے کہا کہ ترقی کی خواہش سب کو ہوتی ہے ۔ مسلم امہ کو اپنی توانائیاں حصول تعلیم پر صرف کرنا ہوں گی۔ مسلم دنیا پر ہونے والی سیاسی، ثقافتی، سفارتی یلغار کا دلائل اور اعتدال کے ساتھ جواب دینا ہو گا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عبد العزیز بن ابراہیم الغدیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو آج جدید دنیا کے سامنے جن الزامات اور مشکلات کا سامنا ہے اس بارے میں جان کر دکھ ہوتا ہے۔ خاص طور پر مغربی میڈیا پاکستان کے بارے میں جو شکوک وشبہات پیدا کر رہا ہے پاکستان کو ان کا زیادہ سائنسی انداز میں جواب دینا چاہیے۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے پریذیڈنٹ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے بھی ان باتوں کی تا ئید کی ۔اس تقریب کے دوران لاہور انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ اور روپڑی خاندان سے وابستہ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی کی دنیوی اور دینی خدمات پر انہیں خرج تحسین پیش کیا گیا۔​
    بشکریہ نوائے وقت 4 اپریل 2014ء​
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں