1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میاں بیوی کیلئے آپس میں تنہائی میں ہنسی مذاق کے حدود

'حقوق زوجیت' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏دسمبر 09، 2018۔

  1. ‏دسمبر 09، 2018 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محترم بھائی @anonymous user نے پروفائل سوال کیا ہے کہ :
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جواب :
    میاں ،بیوی اپنی پرائیویسی اور تنہائی میں ہر وہ کام کرسکتے ہیں ،جو شریعت اسلامیہ میں منع نہیں ،اور اخلاق حسنہ کے منافی نہ ہو۔
    ہنسی مذاق اور دل بہلانے کی ہر صورت جو دونوں کیلئے خوشی اور مسرت کا باعث بنے وہ مباح ہے بشرطیکہ ہنسی مذاق کی وہ صورت شرعاً ممنوع نہ ہو ،
    میاں بیوی کے درمیان محبت و مودت تو اللہ تعالی نے فطری طور پر ودیعت کی ہے
    آپ اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور فرمائیں:
    ( وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ )
    ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جانوں سے جوڑے بنائے تا کہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے مابین مودت اور شفقت پیدا کی، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والی قوم کیلیے نشانیاں ہیں۔[الروم:21]
    اور اس محبت و مودت کو بڑھانے اور اس کے اظہار کیلئے ہنسی ومذاق اور کھیل وغیرہ کی اسلام نے ترغیب دی ہے ؛
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے شادی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ
    قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فقَالَ: " أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا؟ "، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا، وَتُلَاعِبُكَ "، .
    " میری نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کنواری سے یا ثیبہ سے؟“ میں نے کہا: ثیبہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باکرہ سے کیوں نہ کی ، تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ (یا فرمایا تم اس سے دل لگی کرتے وہ تم سے دل لگی کرتی )“
    صحیح مسلم کتاب الرضاع
    وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ: تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ،
    ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا : تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ وہ تجھ سے ہنستی کھیلتی اور تم اس کے ساتھ ہنستے کھیلتے ۔(صحیح مسلم الرضاع )

    اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :​
    كان يوم عيد يلعب السودان بالدرق والحراب فإما سالت النبي صلى الله عليه وسلم وإما قال:‏‏‏‏ تشتهين تنظرين فقلت:‏‏‏‏ نعم، ‏‏‏‏‏‏فاقامني وراءه خدي على خده وهو يقول:‏‏‏‏ دونكم يا بني ارفدة حتى إذا مللت، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حسبك، ‏‏‏‏‏‏قلت:‏‏‏‏ نعم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فاذهبي".
    اور یہ عید کا دن تھا۔ حبشہ کے کچھ لوگ ڈھالوں اور برچھوں سے کھیل رہے تھے۔ اب خود میں نے کہا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم یہ کھیل دیکھو گی؟ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا۔ میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کھیلو کھیلو اے بنی ارفدہ یہ حبشہ کے لوگوں کا لقب تھا پھر جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بس!“ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ۔
    صحیح بخاری (حدیث نمبر 950 )
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اسلام میں گانا بجانا منع ہے ،یعنی آلات موسیقی کے ساتھ منظوم کلام سننا ،سنانا حرام ہے ،
    اور میاں بیوی کا میں تنہائی آپس میں ایک دوسرے کو اشعار و منظوم کلام کو ترنم سے سنانا اگر آلات موسیقی کے بغیر ہو ،اور اس میں خلاف شرع کوئی بات نہ ہو تو جائز ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جید علماء کا فتوی ہے کہ :
    کہ اگر کلام میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو تو کسی برائی ترغیب نہ پائی جاتی ہو تو ایسا کلام سننا سنانا یعنی ترنم کے ساتھ منظوم کلام پڑھنا مباح ہے ،​
    فإذا كان الغناء بدون آلة، ولا موسيقى ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فينظر في نوع الكلام، فإن كان بكلام حسن فهو مباح, وإن كان بكلام قبيح يدعو إلى الرذيلة، ويرغب في المنكر، فهو محرم كما لا يخفى،
    وحكم استماع الأغاني مبني على حكم الأغاني نفسها، فما كان منها محرماً فالإستماع إليه محرم، وما كان مباحاً فالاستماع إليه مباح، والإكثار منه غير محمود.

    قال ابن عثيمين: الغناء المجرد عن الموسيقى، وآلات العزف الأخرى مثل الربابة، وشبهها، يجوز استماعه بشرط أن لا يكون مشتملاً على أشياء توجب الفتنة، وبشرط أن لا يصد الإنسان عما يجب عليه من إقامة الصلاة مع الجماعة أو غير ذلك.

    وراجع للفائدة الفتوى رقم: 139730 ، والفتوى رقم: 7248 .
    والله أعلم.

    http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=208630
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں