1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میت کی طرف سے قربانی

'فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏اگست 16، 2018۔

  1. ‏اگست 16، 2018 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,233
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    میت کی طرف سے قربانی کرنا شرعاً کیسا ہے؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    میت کی طرف سے قربانی کرنا شرعاً کیسا ہے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    میت کی طرف سے قربانی کے جواز والی روایت ابو الحسناء راوی کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے جیسا کہ راقم الحروف کی تحقیق ماہنامہ شہادت میں شائع ہوچکی ہے، تاہم صدقہ کے جواز کے عمومی دلائل کی رد سے میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے۔ یہ قربانی صدقہ ہوگی لہٰذا اس کا سارا گوشت غریبوں میں تقسیم کر دینا چاہئے۔
    شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’احب الی ان یتصدق عنه ولا یضحی عنه، وان ضحی فلا یاکل منها شیئا و یتصدق بها کلها‘‘
    میرے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ میت کی طرف سے (مطلقاً) صدقہ کیا جائے اور قربانی نہ کی جائے اور اگر کوئی قربانی کر دے تو اس میں سے کچھ بھی نہ کھائے (بلکہ) سارے گوشت کو صدقہ کر دے۔ (سنن الترمذی ابواب الاضاحی باب ماجاء فی الاضحیۃ عن المیت ح۱۴۹۵)
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب​

    فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) شیخ حافظ زبیر علی زئیؒ


    ج2ص182​


    محدث فتویٰ​
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 17، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,233
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    سوال "
    دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرتے ہیں اور کچھ نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کرتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــ
    مولانا محمد رفیق طاہرصاحب حفظہ اللہ
    الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب ؛
    میت کی طرف سے قربانی کرنے کی کوئی خاص دلیل موجود نہیں۔ بالعموم مندرجہ ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں جو کہ پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔
    ۱۔ ابو رافع رضی اللہ عنہ کی روایت کہ: " ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين موجيين خصيين ، فقال : " أحدهما عمن شهد بالتوحيد ، وله بالبلاغ ، والآخر عنه وعن أهل بيته "
    [[مسند احمد (26649)، 391/6، 392 (23348)، مجمع الزوائد22,21/4، سنن البیہقی268,259/9، معجم الکبیر للطبرانی 311/1 (920)، 312/1 (921)، شعب الایمان474/5، المجروحین4/2باب العین(522)، مسند البزار319/9]]
    (یعنی جناب )رسول اللہ ﷺ نےدوموٹے تازے خصی مینڈھوں کی قربانی کی ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے جنھوں نے اللہ توحید اور آپﷺ کے لیے پیغام پہنچانے کی گواہی دی اور دوسرا اپنی اور اپنی آل کی طرف سے۔

    اس روایت کی تمام ترا سانید عبداللہ بن محمد بن عقیل پر جمع ہوجاتی ہیں جو کہ لین الحدیث ہے اس کے علاوہ مسند احمد والی ایک سند میں زہیر بن محمد سوء الحفظ ہے اور ایک سند میں شریک بن عبداللہ بن ابی شریک کثرت خطا اور سوء حفظ کا شکار ہے۔ لہٰذا یہ روایت قابل احتجاج نہیں ہے۔

    ۲۔ اسی طرح کی ایک اور روایت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ
    سے مروی ہے جسے حاکم نے مستدرک 686/3 (6521)میں اور علامہ ہیثمی مجمع الزوائد 23/4میں ذکر کیاہے ۔ اس کی سند میں یحییٰ بن نصر بن حاجب نامی راوی ضعیف ہے۔

    ۳۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ
    کے بارہ میں روایت ہے کہ :
    " أنه كان يضحي بكبشين أحدهما عن النبي صلى الله عليه وسلم ، والآخر عن نفسه ، فقيل له : فقال : " " أمرني به " " - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - فلا أدعه أبدا" [[جامع الترمذي ، أبواب الأضاحي ،باب ما جاء في الأضحية عن الميت، حديث:1495، سنن أبی داؤد ، کتاب الضحایا، باب الأضحیۃ عن المیت، حدیث: 279]]
    وہ دو مینڈھے ذبح کیا کرتے تھے ، ایک نبیﷺ کی طرف سے اوردوسرا اپنی طرف سے ، جب ان سے پوچھا گیا تو کہنے لگےکہ: مجھے اس کا حکم نبیﷺ نے دیا تھا لہٰذا میں یہ کام کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
    اس کی سند میں شریک بن عبداللہ بن شریک کثیر الخطاء ہونے کی وجہ سے ضعیف اور اس کا شیخ ابوالحسناء حسن کوفی مجہول ہے ۔ لہٰذا یہ روایت بھی قابل احتجاج نہیں ہے۔ لہذا میت کی طرف سے قربانی کرنا درست نہیں ۔


    هذا, والله تعالى أعلم, وعلمه أكمل وأتم, ورد العلم إليه أسلم, والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم, وصلى الله على نبينا محمد وآله وسلم
    وكتبه أبو عبد الرحمن محمد رفيق الطاهر‘ عفا الله عنه


    مصدر: http://www.rafiqtahir.com/ur/play-swal-515.html
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 21، 2018 #3
    عزیر ادونوی

    عزیر ادونوی مبتدی
    جگہ:
    ادونی،، ہند.
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2018
    پیغامات:
    29
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

  4. ‏نومبر 03، 2018 #4
    عزیر ادونوی

    عزیر ادونوی مبتدی
    جگہ:
    ادونی،، ہند.
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2018
    پیغامات:
    29
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں